• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • علمی دنیا کا چیلنج اور فرقہ واریت کا حل/ڈاکٹر طفیل ہاشمی

علمی دنیا کا چیلنج اور فرقہ واریت کا حل/ڈاکٹر طفیل ہاشمی

علمی دنیا کا چیلنج
اور
فرقہ واریت کا حل. طفیل ہاشمی

Advertisements
julia rana solicitors

کبھی آپ نے سوچا کہ نئے نبی کے آنے سے انسانیت امتوں میں بٹ جاتی ہے. ابراھیم علیہ السلام کے آنے سے امت نوح علیہ السلام کا ایک حصہ امت ابراھیم ہوگیا، پھر موسی علیہ السلام آگئے اور امت ابراھیم تقسیم ہو گئی. پھر عیسی علیہ السلام کے آنے سے امت موسی کے دو گروہ ہو گئے پھر پیغمبر اسلام آگئے اور انسانیت دو امتوں میں بٹ گئی. نبوت تو اللہ کی نعمت تھی. جس کے بارے میں اللہ نے ابتدائے آفرینش میں ہی آدم کو بتایا تھا کہ
تمہارے پاس میری طرف سے ہدایت آتی رہے گی
پھر یہ کیسی نعمت تھی جو انسانوں کو امتوں، گروہوں اور جماعتوں میں تقسیم کرتی چلی گئی. گویا ہر نئے نبی کے آنے سے پچھلی اجتماعیت باقی نہیں رہی.
لیکن
اللہ نے اس سبب سے انسانیت کی تقسیم کو روکنے کا مکمل لائحہ عمل دیا ہے اور وہ یہ کہ قرآن نے بتایا ہے کہ
دین ہمیشہ ایک ہی رہا ہے اور وہ اسلام ہے،(آل عمران)
نیز آخری رسول کو جو دین دیا گیا وہی نوح، ابراھیم، موسی اور عیسی کو دیا گیا (الشوریٰ)
سورہ البقرہ، آل عمران، النساء اور الانعام میں بہت سے انبیاء کا نام بہ نام ذکر کر کے یہ بتایا کہ ان کی تعلیمات یکساں تھیں اور جو کوئی ان کی تعلیمات سے ہٹ کر کوئی دین اختیار کرے گا وہ قابل قبول نہیں ہوگا. اس ضمن میں یہ ضروری قرار دیا گیا کہ تمام انبیاء پر ایمان لایا جائے اور کسی نبی کو خاندان نبوت سے نکالا نہ جائے.
لا نفرق بین احد من رسلہ
قرآن نے جا بجا اساسیات دین بھی گنوائی ہیں جو چند عقائد اور کچھ اخلاقی تعلیمات ہیں. دستیاب الہامی لٹریچر میں تورات میں اور قرآن حکیم میں لگ بھگ یکساں ترتیب سے ان کی فہرست موجود ہے. گویا اللہ نے اس امر کا اہتمام کیا ہے کہ دین کی سطح پر انبیاء کی شخصیات کے اختلاف کے باعث کوئی اختلاف پیدا نہ ہو. البتہ شریعت کا اختلاف بنیادی اختلاف نہیں بلکہ وہ محض تطبیقی اختلاف ہوتا ہے اور اس کا سبب قوموں کے مزاج اور تمدن کا اختلاف ہے، حالات اور زمانے کے تغير پر مبنی اختلاف ہے لیکن اس میں بھی حضرت ابراہیم علیہ السلام کو تعلیمات کا ایک پیکج دیا گیا جسے ملت ابراھیم کا عنوان دیا گیا. اس میں تمدنی زندگی سے متعلق تقریباً تین درجن امور ہیں انہیں برقرار رکھنے کی کوشش کی گئی اور جب بھی کوئی قوم، ملک یا تمدن اس میں تبدیلی کی راہ پر چل پڑا تو کوئی نبی بھیج کر اسے واپس ملت ابراھیم کی شاہراہ پر ڈال دیا گیا. وہی ملت ابراھیم ہے جو رسول اکرم کو دے کر آپ کی امت کو ہی نہیں بلکہ پوری انسانیت سے کہا گیا کہ
فاتبعوا ملۃ ابراھیم حنیفا
پوری انسانیت کو ایک راہ پر لانے کے لیے آپ کو ایک ایسی کتاب دی گئی جو پچھلی تمام الہامی کتابوں کا آخری اور مکمل ایڈیشن ہے اور آپ پر دین مکمل کر کے اعلان کر دیا گیا کہ اب کوئی نبی اور رسول نہیں آئے گا.آپ پر نازل ہونے والی کتاب سابقہ تمام کتب کی تصدیق کنندہ بھی ہے اور اگر ان کتب کی تفسیر و تشریح میں انسانی دراندازی ہوئی ہے تو اس کی درست کنندہ بھی، اسی لئے سورہ شوری میں انبیاء کے اختلاف کی بنا پر فرقہ بندی کی ممانعت کرتے ہوئے فرمایا:
اقیموا الدین ولا تتفرقوا فیہ
قرآن حکیم اپنی عملی تبیین یعنی سنت کے ساتھ، بالعموم کلیات پر مشتمل ہے کیوں کہ ایک محدود کتاب میں زندگی کے لامحدود حوادث و نوازل کا استقصا نہیں کیا جا سکتا اس لیے قرآن و سنت نے زندگی کے غیر مبدل پہلوؤں کے لیے تفصیلی ہدایات دیں لیکن تغير پذیر پہلوؤں کے لیے اصول، کلیات اور ضوابط بیان کر کے تفصیلات کا تعین ان اہل علم پر چھوڑ دیا جو ان حالات کا سامنا کریں گے.
اسلام کو ہر دور، ہر زمانے اور ہر جگہ کے لئے قابل عمل رکھنے اور ہر طرح کے حالات میں up to date رکھنے کے لیے اس میں اجتہاد کی گنجائش in built رکھ دی گئی. جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ عہد صحابہ سے ہی اجتہاد شروع ہو گیا اور اجتہاد میں اختلاف اور تنوع ایک فطری شے ہے جس کا آغاز عہد صحابہ سے ہی ہو گیا تھا.
رسول اللہ صل اللہ علیہ و آلہ و سلم کے اجتہاد کے سوا کسی کے اجتہاد کو تحفظ اور عصمت حاصل نہیں اس لئے رسول اکرم نے یہ بتا دیا تھا کہ جو کوئی نیک نیتی سے اجتہاد کرے گا اگر وہ درست نتیجے پر پہنچا تو دوگنا ثواب کا مستحق ہو گا اور اگر نتیجہ غلط ہو گیا تب بھی اسے ایک ثواب ضرور ملے گا جس کا مطلب یہ ہے کہ کسی مجتہد کو دوسرے مجتہد کے اجتہاد پر یہ تنقید کرنا درست نہیں کہ اس کے مطابق کیا ہوا عمل باطل یا فاسد ہے.
اس کے بعد تمدن کے ارتقاء کے ساتھ ساتھ مختلف علوم میں اجتہادی ارتقاء شروع ہو گیا چنانچہ علم کلام، تفسیر، حدیث ،علوم حدیث، اصول تفسیر، فقہ اور اصول فقہ میں ہزارہا علماء کرام نے اپنی زندگیاں وقف کر دیں اور مختلف مکاتب فکر وجود میں آگئے. ان سب مکاتب فکر کی اساس کتاب و سنت ہے. ان کے اختلافات اساسیات اور مآخذ کے اختلافات نہیں بلکہ فہم مآخذ یا تعبیر دین کے اختلافات ہیں. مثلاً علم کلام میں معتزلہ، اشاعرہ اور ماتریدیہ کے اختلافات، فقہاء اور محدثین کے اختلافات، فقہ میں مذاہب ثمانیہ کے اختلافات، اصول فقہ میں متکلمین اور حنفیہ کے اختلافات ٹھیک اسی طرح ہیں جیسے مختلف انبیاء کی شرائع مختلف ہونے کے باوجود اصل دین میں ایک تھیں اسی طرح یہ تمام مذاہب اپنے داخلی اختلافات کے باوجود اپنی اصل اور مآخذ میں ایک ہیں.
اگر انسانی بدن کے مختلف نظام، ایک ہاتھ کی مختلف انگلیاں اور ایک درخت کی مختلف جڑیں ایک دوسرے سے برسرپیکار ہو جائیں تو اس کے نتیجے میں تباہی کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آتا.
آج ہمیں اپنی اپنی مسندوں پر بیٹھ کر کہیں بخاری اور مسلم کی احادیث کی بنا پر دوسروں کی نمازوں کو غلط قرار دینے اور فقہ مالکی یا حنفی کی اساس پر عمل بالحدیث پر تنقید کرکے فرقہ بندی کرنے کے بجائے اس حوالے سے دیکھنا چاہئے کہ
ہماری خوش قسمتی ہے کہ ہمارے سامنے اتنا وسیع، متنوع اور مستند لٹریچر موجود ہے جو اب سے پہلے کسی بڑے سے بڑے مجتہد کو بھی میسر نہیں تھا، دوسری طرف ہمارے سامنے ساری انسانی برادری بڑے بڑے اور گھمبیر مسائل کے حل کے لیے گوش بر آواز ہے. مختلف مسائل کے حل کے لیے ہمارے سامنے دو طرح کی سہولتیں موجود ہیں :
ایک یہ کہ ماضی میں اس نوع کے واقعات اور مسائل میں مختلف مجتہدین نے جو حل دیئے ہیں ان میں سے کسی ایسے حل کو اختیار کرنا جو ہماری مشکل کا واقعی اور آسان حل ہو.
دوسرا یہ کہ ماضی کے مجتہدین کے مناھج اجتہاد کے مطابق پیش آمدہ مسئلہ میں نیا اجتہاد کر کے سماج کو کوئی قابل عمل حل دینا. ہم جانتے ہیں کہ نیچرل سائنسز کے طلبہ اپنی تطبیقی تحقیقات میں یہی دو طریقے اختیار کرتے ہیں. حیرت ہے کہ مذہبی طبقات ایسا کیوں نہیں کر سکتے جبکہ ماضی میں ایسا کرتے رہے ہیں مثلاً کلامی مباحث میں ماتریدیہ نے معتزلہ اور اشاعرہ کی تحقیقات کے امتزاج سے ایک ایسے کلامی منھج کی تشکیل کی جو زیادہ قابل قبول ٹھہرا. حنفیہ نے بہت سے مسائل میں محدثین کی تحقیقات سے استفادہ کر کے اپنی تحقیقات میں تبدیلی کر لی. صرف شاطبی نے ہی نہیں متعدد دوسرے اہل علم نے مختلف مکاتب فقہ کے اصول فقہ کے امتزاج سے جدید شاہراہیں کھولی ہیں.
یاد رہے کہ اگر آپ بخاری اور مسلم کی احادیث کی بنا پر یا سرخسی اور عالمگیری کے حوالے سے لوگوں کی عبادات، عقائد، معاملات کو باطل یا فاسد قرار دیں گے تو آپ ایک طرف خود کو کسی مثبت خدمت کے بجائے منفی سرگرمیوں میں ملوث کر لیں گے اور دوسری طرف فرقہ واریت کو ہوا دے کر اللہ کے غضب کے مستحق ٹھہریں گے.
آئیے اپنے تمام علمی اور فکری اثاثے سے کام لے کر علمی روایت کو آگے بڑھائیں. اس طرح آپ اللہ کے ہاں سرخرو ہو جائیں گے البتہ دنیا میں آپ کوئی عصبیت پیدا کر کے اپنا فرقہ نہیں بنا سکیں گے
اگر آپ اپنی آخرت کے لیے یہ قربانی دینے کو تیار ہوں تو اللہ آپ کی واپسی کا منتظر ہے.

Facebook Comments

ڈاکٹر طفیل ہاشمی
استاد، ماہر علوم اسلامی، محبتوںکا امین

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply