• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • مسئلہ کشمیر اور پاکستان کے بلنڈرز (حصّہ دوم)۔۔۔عامر کاکازئی

مسئلہ کشمیر اور پاکستان کے بلنڈرز (حصّہ دوم)۔۔۔عامر کاکازئی

نان سٹیٹ ایکٹرز (دہشتگرد) کا کشمیر میں رول
جب کشمیر کے حالات خراب ہونے لگے تو کشمیری مسلمان مردوں اورعورتوں کے خون  آلود کپڑے صوبہ سرحد کے قبائلی علاقوں میں پشتونوں کو دکھا کر ان کو کشمیر کے جہاد کے لیے تیار کیا گیا۔صوبہ سرحد کا وزیر ِ اعلیٰ  عبدل قیوم خان جو کہ خود بھی کشمیری نسل سے تھے، اس عمل کے پیچھےتھا۔  سکندر مرزا اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ  یہ سب کچھ بہت غلط انداز سے ہوا، قبائلیوں کو بتایا گیا کہ یہ کافروں کے خلاف جہاد ہے۔ انہیں یہ چھوٹ بھی دی گئی کہ وہ کشمیری دیہاتوں میں لوٹ مار بھی کر سکتے ہیں

مسئلہ کشمیر اور پاکستان کے بلنڈرز (حصہ اوّل)۔۔عامر کاکازئی

دوسری طرف پاکستان نے ملک بنتے ہی نان سٹیٹ ایکٹرز (دہشتگرد) کا آئیڈیا فلوٹ کردیا، جس سے ہم  آج تک جان نہیں چھڑا سکے۔ نان سٹیٹ ایکٹرز کے موجد کرنل اکبر خان , جن کا تعلق چارسدہ سے تھا، کا کہنا تھا کہ ” قبائلی مجاہدین ہمارافائر بھی ہے اور حرکت بھی” قبائلی مجاہدین ہمارا عظیم فوجی اثاثہ ہیں۔ اس ایک جملے سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ صوبہ سرحد کے پٹھان شروع ہی سے پاکستان کے شہری نہیں بلکہ عظیم قومی اثاثہ تھے اور ہیں۔

مصنف:عامر کاکازئی

کرنل اکبر اور خان قیوم خان نے لیاقت علی خان اور قائد اعظم سے مشورہ کر کے صوبہ سرحد کے قبائلی جوانوں کو اکھٹا کیا،ان میں ہتھیار تقسیم کیے۔ قبائلیوں کو کھلی چھٹی دی  گئی،کہ  وہ لوٹ مار کر سکتے ہیں۔ اور ان سے کشمیر پر حملہ کروا دیا۔ مہاراجہ نے مجبور ہو کر الحاق کے کاغذات پر سائین کیے کہ کہیں پاکستان اس کی ریاست پر قبضہ نہ کر لے۔ دوسری طرف سری نگر کے ائیرپورٹ پر قبضہ کرنا تھا کہ انڈین نہ  آسکیں، مگر قبائیلی لوٹ مار میں مصروف ہو گئے اور انڈین پہلے پہنچ گئے۔ ( یہ تفصیلات جنرل سکندر مرزا کی کتاب سے پڑھ سکتے ہیں) اصغر خان کے ایک انٹرویو کے مطابق مہاراجہ کشمیر نے لیاقت علی خان کو الحاق کا پیغام بھیجا تھا مگر لیاقت علی خان صاحب کی حکومت نے ٹال مٹول میں وقت ضائع کیا۔ اس طرح یہ المیہ وجود میں آیا۔ بعد میں سیاست دانوں اور اسٹیبلشمنٹ نے اپنی بقا کے لیے اس کو ایک ایشو بنا لیا۔ اور ہم پاکستانی اس گھن چکر میں پھنس گئے۔

قبائلیوں نے پنڈی سے سفر شروع کیا ، راستہ میں بارہ مولہ کے ایک مشنری ہسپتال پر حملہ کیا اور ہسپتال کی ایکسرے مشین ، بیڈ اور دوسرے آلات کو توڑ دیا۔ دو مریض ، دو نن اور دو انگریز میاں بیوی کو ہلاک کر دیا۔ بادشاہ گل جو کہ مہمند قبیلہ سےتھا، ان قبائلیوں کی قیادت کررہا تھا
کرنل اکبر خان کے پلان کے مطابق ایک ہزار پنجابی رضاکار پنجاب حکومت یعنی پنجاب مسلم لیگ نے بھیجنے  تھے ، جبکہ چار ہزار قبائلیوں کو بھیجنا تھا۔انہوں نے مری اور سیالکوٹ کے پاس ان پنجابی رضاکاروں کی تربیت بھی کی۔ کرنل اکبر خان اور عبدل قیوم خان کے ساتھ ایک نام اور بھی ہے جس نے اس منصوبے پر کام کیا، وہ ہے، میجر خورشید انور۔ میجر خورشید انور کی کمانڈ میں ہی ان قبائلیوں نے کشمیر پر حملہ کیا۔ ستمبر میں لاہور میں ایک کانفرنس ہوتی ہے جس میں کرنل اکبر خان اپنا پلان لیاقت علی خان صاحب اور دوسرے مسلم لیگیوں کے سامنے رکھتا ہے، شاید اسی لیے لیاقت علی خان صاحب نے انڈیا کی ساری پیشکش کو رد کر دیا تھا کہ کشمیر تو پاکستان جہاد سے فتح کر لے گا تو بارگین کی کیا ضرورت ہے۔

رچرڈ سائمنگ نے اپنی کتاب میکنگ  آف پاکستان میں لکھا کہ شمالی وزیر ستان کے جرگہ ، قائد اعظم سے ملا اور ان سے کشمیر میں جہاد کی اجازت مانگی۔ مطلب کہ کشمیر کے جہاد میں قائد سے لے کر پوری مسلم لیگ شامل تھی۔ اکتوبر انیس ۴۷ کو بٹراسی کے مقام پر سب قبائلی اکھٹے ہوۓ، ان میں نو سو محسود، داور، بھٹائی ، آفریدی، سواتی اور دیر کے پشتون بھی شامل ہوئے۔ افغانستان سے سلیمان خیال اور غلزئی  قبیلے کے بھی پشتون  آۓ تھے۔ مردان سے خوشدل خان نے پانچ ہزار پشتونوں کا بندوبست کیا۔یہ سب ملا کر کوئی دس ہزار قبائل کشمیر پر حملے کے لیے تیار ہو گئے۔
کرنل اکبر خان نے مسلم لیگ حکومت کو یہ تجویز بھی دی تھی کہ سادہ کپڑوں میں پاکستانی فوجیوں کو کشمیر جنگ کے لیے بھیجتے ہیں، مگر راجہ غضنفر علی، برگیڈئیر شیر خان ، میجر ارباب نے اس تجویز کو کلی طور پر ریجیکٹ کر دیا تھا کہ یہ تو کھلی جنگ چھیڑنے کے مترادف ہوتا۔

قبائلی جب سری نگر سے فرار ہو کر واپسی کے لیے پلٹے تو راستے میں بارہ مولا سے لے کر مظفر  آباد تک ہر جگہ لوٹ مار کی۔ اس لوٹ مار میں ہندو، سکھ مسلمان غرض کہ ہر ایک کو لوٹا اور انہیں مارا۔

حوالہ جات
a  memoir   by sikander Mirza
چوہدری محمد علی کی کتاب ظہور پاکستان 1967
تصویر کشمیر ۔پرتھوی ناتھ کول
جہاد کشمیر – 1947-48 میجر ریٹارڈ امیر افضل خان
مسلہ کشمیر کا آغاز – زاہد چودھری
Understanding kashmir and kashmiris by Christopher senedden
Interview of asghar khan with khyber TV
We have learnt nothing from the history by asghar khan
Defending kashmir
The nation that lost its soul by Sardar shaukat hayat khan
Emergence of Pakistan by choudry Muhammad Ali
Halfway to freedom by margarte bourke white
Making of pakistan by richard cayman
Beyond the Lines – An Autobiography
by Kuldip Nayar

عامر کاکازئی
عامر کاکازئی
پشاور پختونخواہ سے تعلق ۔ پڑھنے کا جنون کی حد تک شوق اور تحقیق کی بنیاد پر متنازعہ موضوعات پر تحاریر لکھنی پسند ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *