مارینا آئی ، مایا ملی/ڈاکٹر مجاہد مرزا

“مثل برگ آوارہ”سے

 

 

 

 

 ظفر میرے دفتر میں ہی مکین تھا۔ وہ صبح کو نکل جاتا   اور شام کو آتا تھا۔ اس نے میرے ساتھ کام کرنے کی کبھی بات نہیں کی تھی۔ پھر وہ پاکستان گیا تھا اور وہاں ندیم سے ملا تھا۔ ظفر کے رویے گرگٹ کی مانند تھے یعنی رنگ بدلتے ہوئے۔ وہ شخص شخص کو دیکھ کر اور موقع و محل کی مناسبت سے لجاجت کی حد تک میٹھا، جھک کر ملنے والا بن جاتا تھا، کسی سے یکسر بے رخی برتتا تھا۔ مفت مشورے دینے میں طاق تھا۔ بظاہر کوئی مفاد نہیں اٹھاتا تھا اور اسی انداز میں اس کا زیادہ بڑا مفاد مضمر ہوتا تھا۔ کسی پر ضرورت کے وقت خرچ کر دیتا تھا اور اس سے غیر متوقع طور پر کچھ بڑھ کر وصول بھی کر لیا کرتا تھا۔ میں اس کی ایسی متغیر مستحکم شخصیت سے شناسا ہونے کے باوجود اس کے ساتھ مناسب رویہ رکھتا تھا۔

جب عاصم نے ایک ٹیلیکس میں ظفر کا ذکر کیا اور مجھے اس کی صلاحیت سے فائدہ اٹھانے کی ہدایت کی تو میں فقط مسکرا دیا تھا کیونکہ مجھے یقین تھا کہ ظفر نے ندیم کو گرویدہ بنا لیا ہوگا کہ وہ اس کا بہت زیادہ خیر خواہ ہے، مجھے بھی ظفر یہی باور کرایا کرتا تھا۔ پاکستان سے لوٹنے کے بعد اس نے مجھے بتایا تھا کہ وہ وہاں ندیم سے ملا تھا اور اپنی خدمات بلا معاوضہ پیش کی تھیں۔

میں نے اس سے کہا تھا کہ وہ اگر مارکیٹنگ کر سکتا ہے تو کرے۔ اس نے “سیل” لگانے کا مشورہ دیا تھا جس کی میں نے اجازت دے دی تھی۔ نزدیک کی عمارتوں میں اشتہار لگانے اور خواتین کو مال دیکھنے اور سستے داموں خرید کرنے پر قائل کرنے کا کام اس نے اپنے ذمے لے لیا تھا یوں اس عمل سے کچھ نہ کچھ مال نکلنے لگا تھا۔ وہ کیا چیز کس بھاؤ بیچتا تھا، کتنا مال بیچتا تھا، اس کی پڑتال کرنے کا میں نے کبھی تردد نہیں کیا تھا۔ وہ شام کو جتنے پیسے اور جو حساب مجھے پیش کرتا تھا میں اسے من و عن قبول کر لیا کرتا تھا۔

اب ظفر کہیں نہیں جاتا تھا۔ میری بڑھ چڑھ کر خدمت کرتا تھا۔ الیکٹرک ہیٹر پر کبھی آلو کے چپس تل کر دے رہا ہے تو کبھی کھانا بنا رہا ہے۔ کھانا لذیذ بناتا تھا۔ یوں اس کی رہائش کے ساتھ ساتھ اس کے کھانے پینے کا بندوبست بھی دفتر کی جانب سے ہو گیا تھا کیونکہ کھانے پینے کی اشیاء کی خریداری کی مد میں جو وہ مانگتا میں اسے دے دیا کرتا تھا بلکہ کچھ عرصے کے بعد تو نوبت یہاں تک آ گئی تھی کہ میں نے اس کو حساب کتاب اپنے پاس ہی رکھنے کا کہہ دیا تھا، جب ضرورت پڑتی تو میں ظفر سے کچھ لے لیا کرتا تھا۔

ان ہی دنوں ایک روز مظہر نے بتایا تھا کہ اسے سرراہ کوئی ذہین لڑکی ملی تھی جس کو فلسفے سے شغف تھا۔ مارینا نام کی اس لڑکی کو مظہر نے رابطے کی خاطر میرے دفتر کا نمبر دے دیا تھا۔ اس نے مجھ سے درخواست کی تھی کہ اگر اس کی غیر موجودگی میں وہ فون کرے تو آپ اس سے خود ہی مناسب طریقے سے نمٹ لیجیے گا۔ ایک روز کسی کا فون آیا تھا، میں مارینا نام کی کسی لڑکی کے بارے میں بھول چکا تھا لیکن جب اس نے مظہر کا حوالہ دیا تو میں سمجھ گیا تھا۔ مارینا نے مدد کی درخواست کی تھی۔ استفسار پر اس نے بتایا تھا کہ اسے عارضی طور پر رہائش درکار ہے۔ میں اس کا کیا جواب دیتا، یہی کہا کہ دفتر میں بہت سے کمرے ہیں۔ ایک میں تم بھی عارضی طور پر شب بسری کر سکتی ہو۔ اس دوران ظفر نے دفتر کے قریب ہی ایک بوڑھی کے کوارٹر کا ایک کمرہ کرائے پر لے لیا تھا اور ازبکستان سے اپنی دوست نرگس کو واپس بلا لیا تھا جسے بہت ماہ پہلے اپنا   مکان چھن جانے اور میرے دفتر میں منتقل ہونے پر ازبکستان بھیج دیا تھا۔

میں ایک بار پھر مارینا نام کی اس لڑکی کو بھول گیا تھا۔ میں کہیں کسی  کام سے نکلا ہوا تھا جب دفتر لوٹا تو دفتر کا عملہ جا چکا تھا۔ میں حسب معمول داخل ہوتے ہی راہداری کو عبور کرتے ہوئے اپنے دفتر میں چلا گیا تھا البتہ مجھے جاتے ہوئے دکھائی دیا تھا کہ ظفر حسب معمول کھانا تیار کر رہا ہے اور بکھرے بکھرے گھنے بالوں والی کوئی لڑکی اس کے نزدیک کھڑی ہوئی ہے۔ تھوڑی دیر میں ظفر نے آ کر بتایا تھا کہ کوئی لڑکی ملنے آئی ہے۔ “لڑکی؟” میں نے تحیر سے کہا تھا کیونکہ میں تو سمجھا تھا کہ یہ بھی کوئی ہمسائی ہوگی جسے ظفر نے گھیرا ہوگا، پھر کہا تھا، “اچھا میں وہیں آتا ہوں”۔

یہ وہی لڑکی تھی مارینا نام کی جو مظہر کی واقف ہوئی تھی۔ سنجیدہ اور ڈری ہوئی سی لگتی تھی۔ ہر جانب بکھرے ہوئے گھنے خاکستری بال تھے جن میں کہیں کہیں چاندی کی سی چمکتی تاریں تھیں۔

آنکھیں بڑی بڑی اور ہر جانب دیکھتی ہوئیں۔ قد بوٹا سا اور چہرہ بالوں کی رنگت سے بہت جوان، ظاہر ہے مظہر کے بقول یونیورسٹی کی لڑکی تھی۔ اس نے بتایا تھا کہ وہ جارجیا کے شہر تبلسی سے ہے اور پڑھنے کے لیے ماسکو آئی ہے۔

ایک عمومی تاثّر یہی ہوتا تھا کہ جو لڑکی ایک غیر مرد کے پاس رہنے کے لیے آ گئی ہے، اسے اس مرد کے ساتھ سونے پر بھی اعتراض نہیں ہوگا۔ کھانے سے پہلے ظفر اور میں نے بیئر پی تھی مگر اس لڑکی نے بیئر پینے سے معذرت کر لی تھی۔ ظفر سونے کی خاطر اپنے کرائے کے کمرے میں چلا گیا تھا۔ میں نے زمین پر ایک بستر لگا دیا تھا جس میں دو تکیے تھے۔ وقت گذرے جا رہا تھا مگر مارینا ٹانگیں سکیڑے کرسی پر بیٹھی اٹھنے کا نام نہیں لے رہی تھی۔ مجھے تھوڑا سا اضطراب ہوا تھا لیکن میں نے سوچا کہ صبر کر لینے میں کیا حرج ہے۔ اب میں ایسا وحشی بھی نہیں تھا چنانچہ میں نے مارینا سے پوچھ ہی لیا تھا کہ کیا وہ علیحدہ سونا چاہتی ہے؟ اس نے اثبات میں سر ہلا دیا تھا۔ میں اسے خدا حافظ کہہ کر اپنے دفتر میں سونے چلا گیا تھا۔ میرے نکلتے ہی لڑکی نے کمرہ اندر سے چٹخنی چڑھا کر بند کر لیا تھا۔

چونکہ لڑکی مجبوری کے عالم میں رہنے آئی تھی اس لیے میں اس کے ساتھ دست درازی سے گریز کر رہا تھا۔ ظفر نے بتایا بھی تھا کہ مارینا عجیب سی لڑکی ہے۔ کمرے کے دروازے کی چٹخنی چڑھانے کے علاوہ دروازے کے آگے میز کرسیاں بھی رکاوٹ ڈالنے کی خاطر رکھ چھوڑتی ہے۔ مجھے نفسیات سے شغف تھا، میں نے کہا تھا کہ ٹھیک ہے اس کا ذاتی معاملہ ہے۔ پھر سوچتا تھا کہ اس کا نفسیاتی مسئلہ کوئی الجھا ہوا مسئلہ تھا۔

مارینا سے میری اچھی گپ شپ تھی۔ اس نے مایا نام کی اپنی کسی جارجیائی سہیلی کے گن گانے شروع کیے تھے اور خیال ظاہر کیا تھا کہ مجھے اس سے متعارف کروا دیا جائے۔ اس نے اس کی عمر 29 برس بتائی تھی لیکن جس طرح اس کی عادات کا ذکر کرتی تھی اس سے یہی لگتا تھا جیسے اس کی سہیلی “پرنسس آف ونڈسر” ہوگی۔ مثال کے طور پر یہ کہ جب مایا آئے گی تو اسے میٹرو سے لانے کے لیے گاڑی بھیجنی ہوگی، میں نے ہنس کر کہا تھا کہ ایک کی بجائے دو گاڑیاں بھیج دی جائیں گی۔ اس نے کہا تھا کہ وہ اعلیٰ  قسم کی کونیاک پینا پسند کرے گی۔ میں نے کہا تھا کہ ایسا ہی ہوگا۔ پھر مارینا نے ظفر کو کھانے کے سودوں کی فہرست دی تھی۔ ظفر میرے پاس آیا تھا اور کہا تھا ،”سر یہ تو کوئی ڈیڑھ سو ڈالر کے مساوی رقم بنتی ہے”۔ میں نے کہا تھا،”دگنی بھی مانگے تو دے دو۔ پتا نہیں شاید کوئی ملکہ آ رہی ہو”۔

اس عرصے میں امتیاز چانڈیو اپنے انسٹیٹیوٹ کی سہیلیوں کو لے کر آ جایا کرتا تھا۔ ایک بار وہ اپنے ساتھ ایک اور جوان شخص کو لے کر آیا تھا جس کا تعارف اس نے مقرب تاجک کے نام سے کروایا تھا۔ اس نووارد نے مجھے یاد کرانے کی کوشش کی تھی کہ وہ ایک بار پشاور میں ہوئے سیاسی جلسے کے موقع پر اسے مل چکا تھا۔ مجھے یاد نہیں تھا لیکن میں نے باور کر لیا تھا کہ ملا ہوگا۔ معلوم یہ ہوا کہ وہ جوان شخص بیروزگار ہے۔ چونکہ پاکستانی تھا، بقول امتیاز کے میرا سیاسی ہم خیال تھا اور اردو بھی جانتا تھا، دانشوری سے بھی کچھ علاقہ تھا۔ اس لیے میں نے اسے بطور اضافی منیجر دفتر میں کام کرنے کی پیشکش کی تھی اور مشاہرہ ڈھائی سو ڈالر مقرر کیا تھا۔ اس وقت تک سرگئی منیجر ساڑھے تین سو لے رہا تھا جبکہ باقی دو ملازمین کی تنخواہ بھی اتنی ہی تھی اور ڈرائیور پونے دو سو ڈالر کے مساوی لیا کرتا تھا۔

مایا کو لانے کے لیے مقرب کو بھیجا گیا تھا۔ مایا آ گئی تھی۔ میں آفس چیئر کی بجائے صوفے پر بیٹھا تھا اور میرےے سامنے میز پر اعلیٰ  کونیاک، وادکا، وسکی ، پھل اور ہورز دیورے پڑے ہوئے تھے۔ مایا کو دیکھ کر مجھے خاصی مایوسی ہوئی تھی۔ وہ خوبصورت نہیں تھی۔ اس کے جوان چہرے پر ہنستے ہوئے بہت جھریاں پڑتی تھیں مگر وہ مزاج کی شہزادی بالکل نہیں تھی بلکہ سادہ طبیعت خاتون تھی۔

چند روز پیشتر ہی امتیاز اپنی ایک سہیلی کو لے کر آیا تھا۔ مارینا اور ظفر کو شرارت سوجھی تھی۔ مارینا نے ” آئی لو یو” قسم کی کوئی تحریر لکھ کر دفتر کے نمبر کے ساتھ رقعہ کسی طرح سے اس لڑکی کی جیب میں ڈال دیا تھا۔ مایا کو آئے ہوئے پندرہ بیس منٹ ہوئے تھے۔ میں نے دو ایک پیگ لیے تھے کہ امتیاز کا فون آ گیا تھا جو اول فول بک رہا تھا، اسے لگا تھا کہ یہ کارستانی میری تھی جو خاصی معیوب تھی۔ میں اپنی صفائی دے رہا تھا لیکن امتیاز سن ہی نہیں رہا تھا۔ میرا پارہ چڑھ گیا تھا اور میں نے امتیاز کو بے نقط سنا کر فون بند کر دیا تھا۔ ساتھ ہی مایا سے کہا تھا میرے ساتھ آؤ، مجھے تم سے کچھ بات کرنی ہے۔ وہ شرافت سے اٹھ کر میرے ساتھ برآمدے سے گذر کر دوسرے کمرے میں چلی گئی تھی۔ ظاہر ہے دفتر کا وقت تمام ہو چکا تھا، اس کمرے میں کوئی نہیں تھا۔ مارینا بتا ہی چکی تھی کہ مایا انگریزی بول لیتی ہے۔ گفتگو انگریزی میں ہی ہوئی تھی۔ میں نے برملا اس سے کہا تھا ” کیا میں چھو سکتا ہوں” میں نے اس کے بہت ابھرے ہوئے جوبن کی جانب انگلی سے اشارہ کرکے کہا تھا۔ مایا مسکرا دی تھی اور اثبات میں گردن خم کر دی تھی۔ میں نے دونوں ہتھیلیوں سے وہ ابھار جونہی چھوئے میرے اندر شرارہ پھوٹ پڑا تھا اور میں اسے یہ کہہ کر ” آؤ  میرے ساتھ ” راہداری کے دوسری جانب اس کمرے میں لے گیا تھا جو بند رہا کرتا تھا اور جسے ظفر نے اپنی چرب زبانی سے کام لے کر منتظمین سے کھلوا لیا تھا جہاں وہ میرے عارضی قیام کا بندوبست کرنے میں جٹا ہوا تھا، ساتھ ہی اس نے باتھ روم میں ایک غسل خانہ بنوانے کی داغ بیل بھی ڈالی ہوئی تھی۔ مایا اور میں جونہی اس کمرے میں داخل ہوئے اور میں نے دروازہ بند کیا تو مایا نے انگریزی زبان میں ہی کہا تھا،” کیا مجھے سب کچھ اتارنا ہوگا؟” زمین پر ایک شیٹ بچھی ہوئی تھی۔ میں نے اسی پر مایا کو دوزانو کر دیا تھا۔ اختتام پر جس میں کچھ زیادہ دیر نہیں لگی تھی، مایا نے گردن گھما کر مسکرا کر میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال دی تھیں جبکہ مجھے بالکل ایسے لگا تھا جیسے صحرا میں کسی انتہائی پیاسے کو ٹھنڈے یخ پانی کا گلاس دے کر اس کا حلق تر ہونے سے پہلے گلاس چھین لیا گیا ہو۔ مجھے لگا تھا جیسے میں پہلی بار کسی عورت کی بجائے کسی انسان سے ملا ہوں جس کے ساتھ ایک ہو جانے کی خواہش نہ کبھی پوری ہوگی اور نہ ہی کبھی مرے گی۔

Advertisements
julia rana solicitors london

جاری ہے

Facebook Comments

ڈاکٹر مجاہد مرزا
ڈاکٹر مجاہد مرزا معروف مصنف اور تجزیہ نگار ہیں۔ آپ وائس آف رشیا اور روس کی بین الاقوامی اطلاعاتی ایجنسی "سپتنک" سے وابستہ رہے۔ سماج اور تاریخ آپکے پسندیدہ موضوع ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply