وہی اصل وارث تھی۔۔حمزہ حنیف مساعد

اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ بھٹو کی وارث تھی  بے نظیر بھٹو نہ اچانک آئیں اور نہ اچانک چھاگئیں۔ جہد مسلسل اور قربانیوں کی ایک ایسی داستان ہے جس پر بے نظیر بھٹو کو جتنا خراج تحسین پیش کیاجائے کم ہے۔
محترمہ بے نظیر بھٹو پاکستان کا شاندار چہرہ تھی اور ہمارے ملک کے لئے ایک روشن مستقبل کے لئے ایک ذریعہ تھی. وہ دنیا کے کسی بھی مسلمان ملک میں ریاست کے سربراہ کے طور پر کام کرنے والی پہلی خاتون تھیں.

پاکستان کی واحد سیاست دان خاتون جو چاروں صوبوں میں یکساں مقبول اور بجا طور پر چاروں صوبوں کی زنجیر کہلانے کی مستحق تھیں۔ نہ صرف پاکستان بلکہ اسلامی ممالک کی سیاست میں جو نام اور مقام بے نظیر بھٹو نے حاصل کیا وہ کسی اور خاتون کے حصے میں نہیں آیا۔ بے نظیر وہ واحد خاتون ہیں جنہوں نے جدید تاریخ میں بذریعہ انتخابات کسی اسلامی ملک کی سربراہ مملکت ہونے کا اعزاز حاصل کیا۔ صرف ایک مرتبہ نہیں بلکہ دو مرتبہ عوام نے ان پر اعتماد کرتے ہوئے انہیں اس تفخر کا مستحق ٹھہرایا۔
27 دسمبر 2007 پاکستان کی تاریخ کا ایک ایسا دن جس نے پاکستان کی بنیادوں کوہلا کر رکھ دیا۔ لیاقت باغ کے کامیاب جلسے کے بعد واپسی پر پاکستان کے دشمنوں نے بے نظیر بھٹو کو شہید کر دیا ۔پورے پاکستان میں کہرام مچ گیا۔ قیامت کا سماں تھا بے نظیر بھٹو نے جان تو دے دی مگر رہتی دنیا تک اپنے نظیریات اور شخصیت کو زندہ کر گئیں۔

اکتوبر1993 میں ہونے والے انتخابات میں بے نظیر کی پارٹی نے ایک وفعہ پھر اکثریت حاصل کی اور بے نظیر دوسری مرتبہ پاکستان کی وزیر اعظم کے طور پر سامنے آئیں۔
بے نظیر کے پہلے دور حکومت کی طرح ان کا دوسرا دور حکومت بھی سیاسی عدم اطمینان اور تنازعات سے بھر پور تھا۔ اگرچہ کئی شعبہ جات میں بہتری بھی نظرآئی مثلاََ امریکہ کی طرف سے پاکستان کو بلیک لسٹ سے خارج کر دیا گیا۔ پاکستان اور ہانگ کانگ کے درمیان شعبہ توانائی میں دنیا کے سب سے بڑے معاہدے پر دستخط ہوئے جس کی مالیت ساڑھے سات ارب ڈالر تھی اور فرانس کی طرف سے ایٹمی بجلی گھر فراہم کرنے کاوعدہ کیا گیا۔
ان سب کے باوجود حالات کی کشیدگی برقرار رہی اور یہ کشیدگی اس وقت عروج پر پہنچ گئی جب بے نظیر کے چھوٹے بھائی میر مرتضیٰ بھٹو کو ان کی اپنی بہن کے عہد حکومت میں ایک انتہائی مشکوک پولیس مقابلے میں سات ساتھیوں سمیت ہلاک کر دیا گیا۔مرتضیٰ بھٹو کی ہلاکت کو سرکاری قتل قرار دیا گیا اور آصف زرداری کو اس کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا۔

5 نومبر1996 میں صدر فاروق احمد خان لغاری نے مختلف الزامات کے تحت بے نظیر کو ان کے عہدے سے معزول کر دیا اور اسمبلیاں توڑ دیں۔
1997 کے انتخابات میں پیپلز پارٹی حیرت انگیز طور پر ناکام رہی اور قومی اسمبلی میں صرف 18نشستیں حاصل کر سکی۔ بے نظیر پر مختلف مقدمات قائم کر کے عدالتی کارروائی کی گئی لیکن اسی دوران وہ ملک سے باہر چلی گئیں۔
18 اکتوبر 2007 کو جب بے نظیر پاکستان آئیں تو وہ ایک بدلی ہوئی اور بہت معتبر اور پختہ سیاست دان کا روپ اختیار کر چکی تھیں۔ پاکستان کی سیاست میں ایک تبدیلی کی فضاء قائم ہو چکی تھی یہ سب بے نظیر بھٹو نے ماضی کے تجربات سے سیکھا تھا۔
نواز شریف جیسے روایتی حریف بے نظیر بھٹو کی ذہانت اور نظریات کے قائل ہو چکے تھے۔ ملک کی فضاء میں بامقصد سیاست کا رجحان پروان چڑھ رہا تھا۔یہ سب بے نظیر بھٹو کی قربانیوں اور محنت کا صلہ تھا۔

پاکستان کی تاریخ اور سیاست میں ہمیشہ ان کو ایک بہادر اور کامیاب خاتون کے نام سے جانا جاتا رہے گا
بقول: ( جہاں آراء وٹو)
میں اکثر سوچا کرتی ہوں
وہ بھٹو کی وارث کیسے بنی
کیا نام ہی کافی ہوتا ہے
کب نام کے بل بوتے پہ کوئی
مر کر بھی زندہ رہتا ہے
کب قبر مزار بنتی ہے
کب انساں صوفی بنتا ہے
میں اکثر سوچا کرتی ہوں
وہ بھٹو کی وارث ایسے بنی
جب حالات کی تپتی بھٹی میں
نازک تن کندن بنتا ہے
جب ظلم اور خوف کے سایوں سے
اِک جوالا مُکھی سلگتا ہے
جب مردوں کی اِس دنیا میں
اِک راکھ کا ڈھیر اُبھرتا ہے
اور تھام کے پرچم سچ والا
وہ جنگ کا طبل بجاتی ہے
ہر آمر‘ غاصب‘ مُلا کو
اپنی اپنی پڑ جاتی ہے
میں اکثر سوچا کرتی ہوں
جو اپنے جیسی لاکھوں کو
اِک سفر نیا سکھاتی ہے
جو ہر کم سن لڑکی کے اندر
اِک بے نظیر جگاتی ہے
اور سر پر باندھ کے کفن اپنا
اِک باب نیا لکھاتی ہے
جو ہار کے بازی خوں والی
شہید رانی بن جاتی ہے
میں اکثر سوچا کرتی ہوں
وہ بھٹو کی وارث ایسے بنی

حمزہ حنیف مساعد
حمزہ حنیف مساعد
مکالمے پر یقین رکهنے والا ایک عام سا انسان

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *