اے ہم نشین بہشت بہ داماں ہے شام عید۔۔۔زاہد احمد ڈار

اے ہم نشین بہشت بہ داماں ہے شام عید
آؤ ہم بھی دل کے داغ جلائے بنام عید
پلکوں پہ آنسوؤں کے ستارے سجا لئے
اس دھج سے حسرتوں نے کیا اہتمام عید

تعارف عیدین ۔

یوں تو انسان کی زندگی میں ڈھیر ساری خوشیاں آتی رہتی ہیں جن کی بدولت انسان دائمی تو نہیں پر کچھ  پل کے لئے خوشی و شادمانی پا لیتا ہے ۔ انسان کی فطرت کے عین موافق دین اسلام ایک مسلمان کو سال میں صرف دو بار کی خوشیاں منانے کی اجازت دیتا ہے ۔ ایک عید الفطر، جس کو صرف اس لئے چھوٹی عید کے نام سے بھی موسوم کیا جاتا ہے کہ یہ ایک ہی دن پر محیط ہوتی ہے اور دوسری عیدالاضحٰی ،جو تین روز پر مشتمل ہوتی ہے جس کی وجہ سے اسے بڑی عید بھی کہا جاتا ہے ۔ عید الفطر یکم شوال کو عالم اسلام کی جانب سے منایا جانے والا مذہبی تہوار ہے ، جو اسلامی یا قمری سال کا دسواں مہینہ ہے ۔

معنی و مفہوم عید الفطر ۔

عید عربی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی خوشی و شادمانی کے ہیں جبکہ فطر کے معنی روزہ کھولنے،توڑنے یا ختم کرنے کے ہیں ۔ یعنی عید الفطر کے دن روزوں کا سلسلہ ختم ہوجاتا ہے اور اس روز اللہ بندوں کو روزہ اور عبادات رمضان کا اجر عطا فرماتے ہیں ،اسی وجہ سے اس تہوار کو عید الفطر قرار دیا گیا ہے ۔

رضائے الہی اصل مقصود ۔

عید تو ہر ایک فرد بشر ہوتی ہے ۔ کافر کی بھی اور مومن کی بھی۔ اور ہر کوئی اسے اپنے اپنے انداز میں مناتا ہے ۔ مومن اپنی عید خالص اللہ وحدہ لا شریك کی رضا مندی کے لئے مناتا ہے جبکہ کافر اپنی عید رضائے شیطان کے لئے مناتا ہے ۔ بالیقین کامیاب وہی لوگ ہیں جو اپنی ہر سانس اور اپنی زندگی کے تمام شعبہ جات میں اسی رب کی عطا کردہ ہدایات پر عمل پیرا ہوتے ہیں ۔ اللہ کے احکام کی پیروی کرتے ہوئے صرف اسی کی رضا کے طلبگار ہوکر شکر گزار بندہ ہونے کا عملی ثبوت دیں ۔ کیونکہ ہر عمل ،جو اللہ تعالٰی کی رضا کو صرف نظر کرتے ہوئے کسی اور کی رضا کے لئے کی جائے، رائیگاں ہے ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عید کے دن اپنے لخت جگر کو پرانی قمیص پہنے دیکھا تو آب دیدہ ہوگئے ، بیٹے سے استفسار کرتے ہوئے فرمایا کہ بیٹے مجھے اندیشہ ہے کہ آج عید کے دن جب باقی لڑکے تجھے پھٹی پرانی قمیض  میں دیکھیں گے تو تیرا دل ٹوٹ جائےگا ۔ بیٹے نے جواب میں عرض کیا کہ ایک انسان کا دل تو اس وقت ٹوٹے گا جب وہ اپنے والدین کی نافرمانی کی وجہ سے رضائے الہی کو نہ پاسکے گا اور مجھے امید ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ کی رضامندی کے بدولت اللہ مجھہ سے راضی ہوگا ۔ یہ جواب سن کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بیٹے کو گلے لگا لیا اور اس کے لئے اللہ سے دعا فرمائی۔

بندہ رحمتؤں کے سائے میں ۔

عید الفطر کے دن حقیقی بندہ اپنے مالک حقیقی کی بے پناہ رحمتوں کے سائے میں ہوتا ہے کیونکہ اس نے صرف اسی رب کے لئے رمضان  کی  عبادات کی  ہوتی ہیں ۔ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ جب عید الفطر کی مبارک رات تشریف لاتی ہے تو اسے جزا کی رات کے نام سے پکارا جاتا ہے اور جب عید الفطر کی صبح ہوتی ہے تو رب قدوس اپنے فرشتوں کو تمام شہروں میں بھیجتا ہے اور وہ فرشتے زمین پر تشریف لاکر سب گلیوں اور راستوں کے کناروں پر کھڑے ہوجاتے ہیں ۔ اور اس طرح ندا دیتے ہیں کہ اے امت محمد صلی اللہ علیہ و سلم اس رب کریم کی بارگاہ مقدس کی طرف چلو ، جو بہت ہی زیادہ عطا کرنے والا ہے اور بڑے سے بڑا گناہ معاف کرنے والا ہے ۔ پھر اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے مخاطب ہوکر انھیں اپنی نظر کرم کرتے ہیں اور انکے دعاؤں کو قبولیت کا شرف بخشتے ہیں ۔ ۔ ۔ اور بندہ نمازعید کی ادائیگی کے بعد حقیقتا خوشی کا حقدار بن جاتا ہے ۔

عید کے دن شیطان کا رویہ ۔

جب عید کا دن آتا ہے تو شیطان چلا چلا کر روتا ہے ، اس کی ناکامی اور رونا دیکھ کر تمام شیاطین اسکے ارد گرد جمع ہوجاتے ہیں اور پوچھتے ہیں کہ اے ہمارے آقا تجھے کس چیز نے نمناک اور اداس کردیا ؟ شیطان کہتا ہے کہ ہائے افسوس اللہ نے آج کے دن امت محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی بخشش فرمادی ہے ،لہذا تم انہیں لذتوں اور نفسانی خواہشات میں مشغول کردو۔

اصل عید کس کی ؟؟

یہ عید کا دن بھی ہے اور وعید کا دن بھی ۔ آج جس کے نماز ،روزے اور دیگر  رمضان المبارک کی عبادات  قبول ہوگئیں ، جس کی خطائیں معاف کردی گئیں ، جس کی کوششوں کو سراہا گیا ،بلا شبہ اس کے لئے آج کا دن عید کا دن ہے ۔آج بھی عید ہے ،کل بھی عید ہوگی اور جس جس روز ہم اللہ کی نافرمانی نہیں کریں گے اس اس روز ہماری عید ہوگی ۔ پر افسوس صد افسوس اس انسان پر جس کی عبادات قبول نہیں ہوئیں ، اس کے لئے آج کا دن وعید کا دن ہے ۔

عید کے دن کی مستحب اعمال
غسل کرنا
امام ابن قدامہ المغنی میں عید کے دن غسل کرنے کو مستحب کہتے ہے جبکہ امام مالک نے حضرت نافع سے روایت نقل کی کہ عبد اللہ بن عمر عید الفطر کے دن عید گاہ جانے سے پہلے غسل کیا کرتے تھے ( موطا کتاب العیدین ) ۔
مسواک کرنا
خوشبو  لگانا
ابن ماجہ کی حسن درجہ کی حدیث میں ہے رسول اللہ نے فرمایا اس ( جمعہ کے دن )کو اللہ نے مسلمانوں کے لیے  عید بنائی پس جو جمعہ کے لیے آئے  اس کو چاہیے کہ وہ غسل کرے خوشبو  ہوتو استعمال کرے اور مسواک کو لازم کرو۔ابن قدامی المغنی میں لکھتے ہے کہ ان تین اعمال کو جمعہ کے دن کرنے کا سبب حدیث میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ جمعہ اہل اسلام کے لیے  عید ہے لہذا اصل عیدوں میں ان کا اہتمام کرنا زیادہ ہی ضروری اور پسند یدہ ہوگا۔

بہترین اور عمدہ لباس پہننا
ابن قدامہ نے اسے مستحب کہا امام ابن قیم فرماتے ہیں ، رسول اللہ عید کے دن اپنا سب سے زیادہ خوبصورت لباس پہنتے تھے امام طبرانی نے الوسط میں ابن عباس سے ایک روایت نقل کی ہے جس کو امام ظہبی نے اس کے روایت کرنے والوں کو ثقہ کہا ہے جبکہ امام البانی نے اس حدیث کو سلسلۃ الاحادیث الصحیحۃ میں نقل کیا ہے جس میں ابن عباس کہتے ہے رسول اللہ عید کے دن سرخ دھاریوں والی چادر زیب تن کرتے تھے۔

 عید ین میں کھانا کھانا
عید الفطر میں روانگی سے پہلے طاق کھجوریں کھانا سنت ہے جسکی دلیل امام بخاری کی وہ حدیث جو حضرت انس سے مروی ہے کہ رسول اللہ عید الفطر کے دن کھجوریں تناول کیے بغیر نہ نکلتے تھے۔ امام حاکم نے حضرت انس سے روایت بیان کی کہ رسول اللہ کبھی بھی عید الفطر کے دن کجھوریں کھائے بغیر نہ نکلے ۔ کھجوریں ہر حال میں طاق تین پانچ سات یا اس سے زیادہ ہوتی تھی۔امام حاکم نے اس حدیث کو مسلم کی شرط پر قرار دیا اور امام  ظہبی نے اس پر سکوت کیا ۔ اس کے علاوہ امام ابن حبان نے بھی اسکو نقل کیا ہے۔

عید گاہ میں نماز عید ادا کرنا
سنت یہ ہی ہے کہ عید نماز عید گاہ میں ادا کی جائے جس پر متعدد روایات دلالت کرتی ہیں ۔امام بخاری نے ابو سعید خدری سے روایت نقل کی کہ رسول اللہ عید الفطر اور عید الاضحیٰ کو عید گاہ تشریف لے جاتے تھے ۔امام بغوی فرماتے ہیں سنت یہی ہے کہ عید نماز عید گاہ میں ادا کی جائے تاہم کسی عذر کے سبب نماز مسجد میں بھی ادا کی جاسکتی ہے۔
تکبیرات پکارتے عید گاہ جانا مردوں کو چاہیے کہ عید گاہ جاتے ہوئے اونچی آواز میں تکبیر پڑھیں  ۔سنن ابن ابی شیبہ کی روایت میں ہے کہ جب رسول اللہ عید الفطر کے دن عید گاہ جاتے تو تکبیرات پڑھتے ہوئے روانہ ہوتے۔ نماز ادا کرنے تک تکبیرات کا سلسلہ جاری رہتا تھا ۔ نماز ادا کرتے تو تکبیرات ترک کرتے تھے ۔اس روایت شیخ البانی نے سلسلۃ الصحیحۃ میں نقل کیا ہے۔

عید سے پہلے کوئی  نماز نہیں البتہ نماز کے بعد گھر میں دو رکعت ادا کرنی سنت ہے۔ابن ماجہ کی روایت میں ہےکہ  رسول اللہ عید سے پہلے کوئی  نماز نہیں پڑھتے تھے اور جب گھر تشریف لاتے تو دورکعت ادا کرتے تھے۔ ابن حجر نے اسکو حسن کہا ہے۔البتہ یہ بات یاد رکھیں کہ اگر نماز مسجد میں ہوتو دو رکعت نماز عید سے پہلے تحیۃ المسجد ادا کرنی چاہیے۔

راستہ بدل کر آئیں اور جائیں
صحیح بخاری کی روایت جابر سے مروی ہے کہ رسول اللہ عید کے دن جاتےو قت ایک راستہ اختیار کرتے تھے اور واپسی کے وقت دوسرا راستہ۔
عید کی مبارک باد
محمد بن زیاد کہتے ہے کہ میں ابو امامہ اور دیگر رسول اللہ کےصحابہ کے ساتھ تھا وہ عید سے واپس آنے پر ایک دوسرے کو کہتے تھے
تقبل اللہ منا ومنکم۔اسکو ابن قدامہ نے المغنی میں نقل کیا اور امام احمد نے اسکی سند کو جید کہا ہے۔اللہ ہم پر اور ہمارے والدین پر اپنی رحمت و مغفرت کے خزانے  برسائے۔

یوم عید یوم تشکر ہے ۔

عید دو رکعت نماز ادا کرنے کے ساتھ  ساتھ  خوشی و مسرت کا دن بھی ہے اور اللہ سے انعامات حاصل کرنے کا دن بھی ۔ محبتیں اور خوشیاں بانٹنے کا دن بھی ہے ،گلے شکوے دور کرکے روٹھے دوست و احباب کومنانے کا دن بھی اور بالخصوص یہ یوم تشکر بھی ہے کیونکہ اللہ نے رمضان میں روزے رکھنے، نماز پنجگانہ کی ادائیگی ، نماز تراویح کا اہتمام کرنے ، قرآن پاک کی تلاوت کرنے ، راتوں کو اٹھ  کر نوافل ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائی اور حق بھی یہی ہے کہ عید کے اس مقدس دن پروردگار عالم کا بے پناہ شکر ادا کرتے ہوئے ، حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کی مدح سرائی کرتے ہوئے ، غرباء ، مساکین اور یتیم بچوں کے سرپر دست شفقت رکھتے ہوئے یوم عید کا یوم تشکر کے طور پر منایا جائے۔ فضول خرچی اور اپنی پیٹ پوجا کرنے کا نام عید نہیں ۔ عید اس طرح منائی جائے کہ آپ کے پاس میں بیٹھے غمزدہ فرد یا خاندان کو اپنے اخلاق سے ، اپنے عادات و اطوار سے اور مالی معاونت سے اس خوشی میں شریک کیا جائے ۔ یہ اللہ کی شان کریمی ہے کہ ہمیں ہر لمحہ نیکیاں حاصل کرنے کے بے شمار مواقع فراہم کرتا ہے ،اب اگر ہم اللہ کی رضا حاصل نہ کرسکیں ، قرب الہی حاصل نہ کرسے تو یہ ہماری بد قسمتی ہوگی ۔ اللہ تعالٰی ہمیں عید کے اصل تقاضوں کو سمجھنے اور ان پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائیں ۔۔۔ آمین ۔

آخر پر سنت کے مطابق اس دعا کے  ساتھ آپ سب کو عید مبارک تقبل اللہ منا و منکم۔

عید کی ہر بہار دیکھو تم
عیش لیل و نہار دیکھو تم
اس عید پر ہے کیا موقوف؟
ایسی عیدیں ہزار دیکھو تم

زاہد احمد ڈار
زاہد احمد ڈار
ساکنہ سیتھر سنگم. ریسرچ اسکالر کشمیر یونیورسٹی

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *