کائنات کا سفر ۔۔۔محمد شاہ زیب صدیقی

عموماً ہم سنتے ہیں کہ ہماری خوبصورت کائنات لامتناہی طور پر وسیع ہے۔ سائنسدانوں نے اب تھوڑا بہت اندازہ لگایا ہے کہ کائنات 93 ارب نوری سال تک وسیع ہوسکتی ہے، لیکن یہ نوری سالوں کا کھیل عام شخص نہیں سمجھ پاتا۔ میں جب بھی لیکچرز کے دوران طلباء کو بتاتا ہوں کہ ہماری کہکشاں1 لاکھ نوری سال وسیع ہے تو ان کو اتنی حیرانگی نہیں ہوتی جتنا انہیں یہ سن کر حیرانگی ہوتی ہے کہ چاند ہم سے 3 لاکھ کلومیٹر دُور ہے۔اس کی وجہ یہی ہے کہ ایک نوری سال کتنا زیادہ فاصلہ ہے اس کا ادراک عام شخص نہیں کرپاتا۔اسی خاطر آج ہم اپنی کائنات میں ڈوب کر اسکی وسعتوں کے متعلق سمجھنے کی کوشش کریں گے۔

یاد رہے کہ یہ وسعتیں ہی دراصل کائنات کے پرسرار ہونے کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ ہم جس سیارے پر زندگی گزار رہے ہیں اس کو زمین کہا جاتا ہےاور یہ زمین سورج نامی ستارے کے گرد چکر لگانے میں مصروف ہے۔اب تک کی تحقیق کے مطابق ہمارے سورج کے گرد 8 بڑے اور 5 چھوٹے سیارے محو گردش ہیں، اور زیادہ تر سیاروں کے گرد ان کے کئی چاند بھی گردش کررہے ہیں، ہمارے نظام شمسی میں دیگر آوارہ دیوہیکل پتھر ان کے علاوہ ہیں جو اربوں کی تعداد میں ہیں۔

خیال کیا جاتا ہے کہ ہمارا سورج آج سے 4.6 ارب سال قبل وجود میں آیا اور شروع کے ادوار میں سیاروں کی تعداد بہت زیادہ تھی ، ابھی بھی کچھ سیارے ہمارے نظام شمسی میں ایسے ہیں جو ہماری نظروں سے اوجھل ہیں اوردیگر سیاروں پر اثر انداز ہوکر اپنی موجودگی کا پتہ دے رہے ہیں۔ یہ سارا کھیل ہمارے سورج کے گرد جاری ہے جو ہماری کہکشاں میں ایک ننھے سے ستارے کی حیثیت رکھتا ہے۔ستارے ملکر کہکشاں بناتے ہیں۔ہماری کہکشاں کا نام ملکی وے ہے جو ایک لاکھ نوری سال تک لمبی اور 1 ہزار نوری سال تک موٹی ہے۔ اس ایک لاکھ نوری سال کے علاقے میں سے ہمارے پورے نظام شمسی نے صرف3 نوری سال کے علاقے تک اپنی حکومت قائم کر رکھی ہے۔ سورج سے نزدیک ترین ستارے کا نامProxima Centuari ہے، جو ہم سے 4.2 نوری سال دُور ہے۔ اس کی دُوری کا اندازہ ہم چھوٹے اسکیل پر لگاتےہیں۔

فرض کیجئے اگر ہمارا سورج ایک انگور کے دانے جتنا چھوٹا ہوجائے تو قریب ترین انگور کا دانہ(Proxima Centuari) تقریباً 4 ہزار کلومیٹر دُور موجود ہوگا ، ہماری کہکشاں میں ستاروں کے درمیان اتنا زیادہ فاصلہ ہے!، اگر ہم تیز ترین راکٹ بنا لیں جس کی رفتار 17 کلومیٹر فی سیکنڈ ہو،اس کو بھی ہم سے قریب ترین ستارے تک پہنچنے کے لئے 72 ہزار سال کا عرصہ درکار ہوگا۔ہماری کہکشاں میں قدیم ترین سے لے کر جدید ترین یعنی ہر طرح کے ستارے موجود ہیں۔

یہ ہماری خوش قسمتی ہے کہ ہم اپنی کہکشاں کے کنارے پرOrion Armنامی پٹی پر موجودہیں جہاں سے ہم ٹیلی سکوپ کی مدد سے اپنی کہکشاں کے باہر بھی دیکھ سکتے ہیں۔ اگر ہمارا ٹھکانہ کہکشاں کا مرکز ہوتا تو ہمارے لئے کائنات کو سمجھنے میں بہت مشکلات ہوتیں۔رات کو اگر آپ شہر سے باہر ہوں اور گرمیوں کا موسم ہوتو ہماری کہکشاں کا وسط باآسانی دیکھ سکتےہیں۔ہماری کہکشاں کی وسعت کا اندازہ آپ ایسے لگاسکتے ہیں کہ

فرض کیجئے آپ اپنی فیملی کے ساتھ مل کر ملکی وے کی سیر کا پروگرام بناتے ہیں اور راکٹ میں بیٹھ جاتے ہیں۔ آپ کو موجود ہ جدید ترین راکٹ میں بیٹھ کر ملکی وے کے کنارے تک پہنچنے کے لئے 2.3 ارب سال لگیں گے، یہ اُس کہکشاں کی وسعت کا عالم ہے جس کاشمار کائنات میں چھوٹی کہکشاؤں میں ہوتا ہے۔اپنی کہکشاں سے باہر نکلیں تو معلوم پڑتا ہےکہ ہماری پڑوسی کہکشاں “اینڈرومیڈا”ہماری کہکشاں “ملکی وے”سے دُگنی وسیع ہے اس کے علاوہ اینڈرومیڈا کا ہم سے فاصلہ25 لاکھ نوری سال ہے(اگر ہم جدید ترین راکٹ میں بیٹھ کر اینڈرومیڈا کی جانب سفر کرنا چاہیں تو اِس تک پہنچنے کے لئے ہمیں 40 ارب سال درکار ہونگے)۔

جیسے ستارے ملکر کہکشاں بناتے ہیں ویسے کہکشائیں مل کر لوکل گروپ یا کلسٹرز بناتی ہیں۔ ہمارے لوکل گروپ میں اینڈرومیڈا اور ملکی وے کی طرح54کہکشائیں موجود ہیں۔ ان تمام کہکشاؤں کی کشش ثقل نے ایک دوسرے کو جکڑاہواہے، سائنسدانوں کا اندازہ ہے کہ آنے والے 100 ارب سالوں میں ان تمام کہکشاؤں کا ٹکراؤ ہوجائے گا اور یہ مل کر ایک کہکشاں بن جائیں گی۔ یاد رہےکشش ثقل کی وجہ سے ہی اینڈرومیڈا اور ملکی وے کا آنے والے وقت میں شدید تصادم بھی ہونے والا ہے

اس حوالے سے تفصیلی مضمون اس لنک پر پڑھا جاسکتا ہے https://www.mukaalma.com/25847

بہرحال ہمارے لوکل گروپ کا نام”Local Galactic Group”ہےاوریہ ایک کروڑ نوری سال وسیع ہے۔جس طرح کہکشائیں مل کر لوکل گروپ /کلسڑزبناتی ہیں اُسی طرح کلسٹرز مل کر سپر کلسٹر بناتے ہیں۔ ہمارا لوکل گروپ جس سپر کلسٹر کا حصہ ہے اسے “Virgo Supercluster” کہاجاتا ہے۔ وِرگو سپر کلسٹر میں تقریباً 100 لوکل گروپس شامل ہیں اور یہ سپرکلسٹر11 کروڑ نوری سال تک پھیلا ہوا ہے۔ سائنسدانوں کو یقین ہے کہ ہماری کائنات میں 1 کروڑ سپر کلسٹرز موجود ہیں!

ابھی 2014ء میں جدید تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ وِرگو سپر کلسٹر بھی دراصل ایک عظیم سپر کلسٹرکے کنارے پر واقع ہے۔اس عظیم سپر کلسٹر کو “Laniakea” نام دیا گیا اور یہ 52 کروڑ نوری سال کے علاقے تک پھیلا ہواہے!۔ سو اگر آپ سے کوئی آپ کا “ایڈریس”پوچھے تو آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ ہم کائنات میں موجود 1 کروڑ سپرکلسٹرز میں سےLaniakeaنامی دیوہیکل سپر کلسٹر کے کنارے پر موجود Virgo Supercluster میں رہتے ہیں، Virgo supercluster میں پہنچ کر اس کے درمیان میں ہمارا لوکل گروپ موجود ہے، لوکل گروپ میں داخل ہونے کے بعد اس کے درمیان میں ہماری کہکشاں ملکی وے واقع ہے، ملکی وے میں داخل ہونے کے بعد اس کے کنارے پر موجود Orion Arm نامی پٹی پر ہمارا ننھا سورج موجود ہےجسے ہم نظام شمسی کہتے ہیں، نظام شمسی میں داخل ہونے کے بعد تیسرے نمبر پر موجود سیارہ زمین پر ہم پاکستان نامی ملک میں موجودہیں۔

کتنی حیرت انگیز بات ہے کہ جب رات کو ہم آسمان کی جانب سر اٹھاتے ہیں تو ہم عام آنکھ سےصرف5 ہزا رکے قریب ستارے دیکھ پاتے ہیں جو کہ سب کے سب ہماری کہکشاں ملکی وے کا حصہ ہیں، ہم سمجھتے ہیں کہ یہی سب کائنات ہے وقت کے ساتھ ساتھ ہمیں ادراک ہوتا جارہا ہے کہ ہم کائنات کو شاید بہت چھوٹا سمجھتے رہے ہیں، یہ ہماری سوچ سے بھی زیادہ وسیع ہے۔لیکن زیادہ حیرت اس وقت ہوتی ہے جب ہمیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ سب ستارے،کہکشائیں، لوکل گروپس،کلسٹرز اور سپر کلسٹرز تو محض کائنات کا 4 فیصد ہیں، جس کامطلب ہے کہ آنے والے وقت میں کائنات کے متعلق ہمیں ایسے حقائق دیکھنے کو ملیں گے جن کو دیکھ کر ہم پلکیں جھپکانا تک بھول جائیں گے۔

کائنات کو جاننے کی جستجو ایک خوبصورت احساس ہے، اس کو محسوس کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اصل رنگینیاں تو آسمان میں بکھری پڑی ہیں جنہیں ہم نظر انداز کردیتے ہیں۔زندگی کے جھمیلوں میں کبھی پریشانی کااحساس ہو تو یاد کرلیا کریں کہ اتنی وسیع کائنات میں ہماری حیثیت ایک نقطے جتنی بھی نہیں، شاید یہ سوچ کر پریشانیاں چھوٹی لگنا شروع ہوجائیں!اسی خاطر کارل ساگان نے کتنی خوبصورت بات کہی کہ اس چھوٹے سے سیارہ زمین کے علاوہ آپ کو پوری کائنات میں کہیں انسان نہیں ملیں گے، ہم ایک نایاب اور خطرے سے دوچار نوع (Endangered species) ہیں۔ کائناتی اعتبار سے ہم میں سے ہر کوئی بیش قیمت ہے۔اگرآپ کسی سے اختلاف رکھتے ہیں، تو اسے کم از کم زندہ رہنے کا حق ضرور دیں، کیونکہ اربوں کھربوں کہکشاؤں میں بھی آپ کو اس جیسا کوئی دوسرا نہیں ملے گا!

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *