انٹارکٹیکا پر کون رہتا ہے؟/ڈاکٹر حفیظ الحسن

زمین کے جنوبی قطب پر موجود چھٹا برِ اعظم انٹارکٹیکا جہاں سارا سال برف رہتی ہے اور درجہ حرارت منفی 60 ڈگری سینٹی گریڈ سے بھی نیچے چلا جاتا ہے وہاں کون رہتا ہے؟

اسکا جواب ہے وہاں مختلف ممالک کے تحقیق کرنے والے اداروں کا عملہ اور سائنسدان رہتے ہیں۔ انٹارکٹیکا پر اس وقت مختلف ممالک کے تقریباً 90 ریسرچ سٹیشن قائم ہیں۔ ان میں انٹارکٹیکا کی گرمیوں میں (یعنی دسمبر میں) کم سے کم 4 ہزار افراد رہتے ہیں جبکہ سردیوں میں (جون میں) یہ تعدا 1 ہزار تک رہ جاتی ہے۔ اسکے علاوہ یہاں سیاحت کے لیے بھی گنے چنے لوگ آتے ہیں(یہاں سیاحت کے لیے جانے کے لئے جیب میں ہزاروں ڈالرز ہونا ضروری ہیں).

FaceLore Pakistan Social Media Site
پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com

انٹارکٹیکا پر دنیا کے قریب 46 ممالک کے سٹیشنز موجود ہیں۔ ان تمام ممالک نے “انٹارکٹکا ٹریٹی” پر دستخط کیے ہوئے ہیں۔ ان میں دنیا کے تمام بڑے ممالک جیسے کہ امریکہ، چین، روس، جرمنی وغیرہ کے علاوہ بھارت اور پاکستان بھی شامل ہیں۔

انٹارکٹیکا پر بھارت کے ریسرچ سٹیشن کا نام ہے “بھارتی” جبکہ پاکستان کے رہسرچ سٹیشن کا نام ہے “جناح”. بھارتی سٹیشن 2012 میں قائم کیا گیا اور پورا سال فعال رہتا ہے جبکہ پاکستانی سٹیشن محض گرمیوں میں ہی کام کرنے کے قابل ہے۔ یہ 1991 میں قائم کیا گیا تھا۔ اسکے علاوہ پاکستان کی طرف سے انٹارکٹیکا پر ایک موسمیاتی سٹیشن بھی قائم کیا گیا جسے اقبال آبزرویٹری کا نام دیا گیا۔

Advertisements
julia rana solicitors london

1993 کے بعد یہاں پاکستان کا کوئی عملہ، سائنسدان یا محقق انٹارکٹیکا نہیں گیا کیونکہ حکومت کی طرف سے کوئی فنڈنگ مہیا نہیں کی گئی۔۔2020 میں پاکستان کی سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت جسکے ماتحت یہ ریسرچ سینٹر ہے، نے ارادہ ظاہر کیا کہ پاکستان دوبارہ انٹارکٹیکا پر اپنی تحقیق شروع کرے گا مگر فی الوقت اس پر کوئی پیش رفت سامنے نہیں آ سکی۔

  • FaceLore Pakistan Social Media Site
    پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com
  • julia rana solicitors
  • julia rana solicitors london
  • merkit.pk

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply