ذرا غور کیجیے/چوہدری عامر عباس ایڈووکیٹ

ویسے تو وطن عزیز میں ویڈیوز لیکس کا سلسلہ گزشتہ دو تین سال سے جاری تھا مگر کچھ دنوں سے نامعلوم ہیکروں نے مختلف سیاسی شخصیات کی ٹیلی فون پر کی گئی گفتگو کی ریکارڈنگز آڈیوز کی صورت جاری کی ہیں جن میں وزیراعظم شہباز شریف, مریم نواز اور عمران خان کی آڈیوز قابل ذکر ہیں۔ شنید ہے کہ آنے والے چند روز میں مزید تہلکہ خیز آڈیوز جاری ہو سکتی ہیں۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ابھی تک کسی ایک سیاستدان نے بھی ان آڈیوز کی تردید نہیں کی۔

مبینہ طور پر ایک سیاسی جماعت یا ہیکرز کی طرف سے جاری کی گئی عمران خان کی آڈیو میں واضح سنائی دے رہا ہے عمران خان نے کہا کہ امریکہ کا نام لئے بغیر کھیلنا ہے۔ عمران خان کی مارچ کے مہینے میں کی گئی شروع والی اکثر تقاریر آپ دیکھ لیجئے وہ امریکہ کا نام لئے بغیر کہتا رہا ہے کہ ایک ملک نے پاکستان کے ریاستی معاملات میں سازش کی جس کے تحت تحریک عدم اعتماد لائی جا رہی ہے اور اسکی چلتی چلاتی حکومت کو گرایا جا رہا ہے۔

ایک جلسہ میں اس نے وہ خط بھی ہوا میں لہرا کر دکھایا۔ مصلحتاً اس نے امریکہ کا نام نہیں لیا اس وقت بھی ہر ایک جانتا تھا کہ عمران خان جان بوجھ کر اس ملک کا نام نہیں لے رہا مگر چند ہی دنوں کے بعد اس نے اپنے انٹرویوز اور جلسوں میں کھل کر امریکہ کا نام لینا شروع کر دیا۔ اب “کھیلنے” کے لفظ کو لیکر کچھ دانشور اپنی دانشوری جھاڑ رہے ہیں کہ آڈیو سے عمران خان کا بیانیہ ختم ہو گیا۔ کیسی مضحکہ خیز منطق ہے یہ۔ بھئی اس آڈیو سے تو عمران خان کے سازش والے بیانیہ کی تصدیق ہو گئی ہے۔ اس آڈیو میں واضح طور پر ایک سائفر کا بار بار تذکرہ کیا گیا ہے۔ مجھے بھی “کھیلنے” والے لفظ سے اعتراض ہے۔ یہاں یہ نہیں کہنا چاہیے تھا حالانکہ اپنی تقاریر میں عمران خان کو کرکٹ کی لینگویج استعمال کرتے ہوئے ہم سب نے اکثر سنا ہے ۔ جیسا کہ اکثر وہ کہتے ہیں کہ فلاں بیٹسمین کو میں باؤنسر ماروں گا، اتنی وکٹیں گرا دوں گا، فلاں کی وکٹ میں یارکر مار کر گرا دوں گا وغیرہ وغیرہ۔ اس میں مجھے تو کوئی حیرت والی بات نہیں لگی ہے۔

جہاں تک سازش اور مداخلت والے عمران خان کے بیانئے کا تعلق ہے تو سلامتی کمیٹی باقاعدہ طور پر اس سازشی خط کو پڑھ کر اسکی تصدیق کر چکی ہے کہ پاکستان کو ایک غیر ملکی خط کے ذریعے دھمکی دی گئی ہے جس سے پاکستان کے اندرونی معاملات میں سازش/ مداخلت ہوئی ہے پھر اس کے بعد تو کسی قسم کے شک و شبہ کی بات ہی نہیں رہ جاتی۔

آپ کو یاد ہو گا کہ بعدازاں ملکی اداروں کے ترجمان کی طرف سے کی گئی ایک پریس کانفرنس میں یہ کہا گیا کہ اس خط کے ذریعے سازش نہیں بلکہ ملکی معاملات میں بیرونی مداخلت ہوئی۔ اب اس بات کی تو دوبارہ تصدیق ہو گئی کہ ایک عدد خط تو موجود ہے جس کے ذریعے سازش یا مداخلت ہوئی۔ کسی بہکاوے میں آئے بغیر یہی پوائنٹ آج سوچنے اور سمجھنے کی ضرورت ہے۔

اگر کسی کو شک ہے اور اسے لگتا ہے کہ یہ سائفر جھوٹ ہے تو اسکی مکمل تحقیقات کروائیں۔ اگر یہ سائفر ایک من گھڑت خط ہے تو عمران خان نے واقعی قوم کو بے وقوف بنایا ہے لیکن یہ خط کیسے جھوٹ ہو سکتا ہے جب اس خط کی تصدیق ملکی ادارے پہلے سے کر چکے ہیں یہی عمران خان کا بیانیہ پہلے دن سے ہے جس میں آج تک رتی برابر بھی فرق نہیں آیا۔

Advertisements
julia rana solicitors london

حالات کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے کسی آڈیو ویڈیو کے جھانسے میں آئے بغیر آپ دل و دماغ سے اس ساری صورتحال کے اصل نقطہ کو دیکھیں اور عمران خان کے بیانیہ کو دلیل و منطق کی کسوٹی پر پرکھیں۔

Facebook Comments

چوہدری عامر عباس
کالم نگار چوہدری عامر عباس نے ایف سی کالج سے گریچوائشن کیا. پنجاب یونیورسٹی سے ایل ایل بی کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد ماس کمیونیکیشن میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی. آج کل ہائی کورٹ لاہور میں وکالت کے شعبہ سے وابستہ ہیں. سماجی موضوعات اور حالات حاضرہ پر لکھتے ہیں".

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply