جامع مسجد تھل-ایک شاہکار۔۔آصف محمود

دریائے پنجکوڑہ کے پُل کے اُس پار کمراٹ ہے اوراِس پار تھل ہے۔ تھل کی طرف دریا کے کنارے ایک شاندار مسجد ہے جو کمراٹ جاتے سیاحوں کو سرشار کر دیتی ہے۔لکڑی سے بنی صدیوں پرانی یہ مسجد طرز تعمیر کا ایک شاہکار ہے۔اس وادی کے غریب باسیوں نے اس مسجد کی تعمیر میں محبت یوں گوندھ دی ہے گویا اپنی ساری محرومیوں کاازالہ کر دیا ہے۔ لکڑی کے بوسیدہ اور سادہ گھروں میں رہنے والوں نے اپنی مسجد کو ایسے تعمیر کیا ہے کہ اپنے سارے چائو ہی اتار دیے ہیں۔ اپنے کچے مکانوں کی تعمیر میں غریب کوہستانیوں کی جو جو حسرتیں رہ گئی ہوں گی یوں لگتا ہے انہوں نے وہ ساری حسرتیں اللہ کے گھر کی تعمیر میں پوری کر دی ہیں۔ریاست کی دولت کو بے رحمی سے اجاڑ کر تاج محل بنانا کون سی دلاوری ہے ،دلاوری تو یہ ہے کہ جنہیں پیاس بجھانے کے لیے ہر پہر کنواں کھودنا پڑے وہ اپنی غربت اور نارسائی کے موسموں میں ایک شاہکار تخلیق کر دیں۔ ایک ایسا شاہکار کہ جسے دیکھنے والا مبہوت ہو جائے۔ دریائے پنجکوڑا عبور کرتے ہوئے اچانک میری نظر اس مسجد پر پڑی اور میں پھٹی آنکھوں سے اسے دیکھتا ہی رہ گیا۔ سفر کی تھکاوٹ بھی تھی اور سر بھی بوجھل ہو رہا تھا لیکن اس مسجد پر نظر پڑی تو وہیں جم کر رہ گئی۔ وفورِ شوق نے آ لیا ۔ میں نے گاڑی سڑک پر کھڑی کی اور مسجد میں داخل ہو گیا۔لکڑی کی بنی یہ مسجد محض ایک عمارت نہیں ، یہ کاری گروں کے دست ہنر نے ایک معجزہ تراش رکھا ہے۔ خیر اس دور افتادہ بستی میں کاری گر بھی کون ہو گا اور دست ہنر بھی کیسا؟ مسجد کو جب میں دیکھ چکا تو ایک ہی عنوان تھاجو سمجھ میں آ رہا تھا اور وہ تھا : محبت۔یہ طرز تعمیر کے شاہکار سے زیادہ محبت کا شاہکار ہے۔دور پہاڑوں میں سادہ سے لوگوں نے اپنی محبت کو اس والہانہ رنگ سے مجسم کیا ہے کہ کمال ہی کر دیا ہے۔ اگر کوئی سیاح کمراٹ جاتا ہے اور اس مسجد کو نہیں دیکھتا تو اسے معلوم ہونا چاہیے اس نے کچھ نہیں دیکھا۔ لکڑی سے بنی یہ مسجد جن ستونوں پر کھڑی ہے وہ بھی لکڑی کے ہیں۔ ان کی چوڑائی اتنی ہے کہ ایک آدمی بازو وا کر کے انہیں گرفت میں لینا چاہے تو یہ ممکن نہیں۔ خدا جانے اتنے بڑے اور اس موٹائی کے درخت لوگوں کو کہاں سے ملے۔ اس مسجد کے بارے مختلف روایات ہیں۔ ایک روایت یہ ہے کہ یہ انیسویں صدی میں تعمیر ہوئی اور بعض روایات میں یہ چار سو سال قدیم مسجد ہے۔ یہ دونوں ادوار وہ ہیں جب اس علاقے میں مال برداری کی سہولیات نہ ہونے کے برابر تھیں۔ اس وقت جو ٹوٹی پھوٹی ایک سڑک ہے ، یہ بھی نہیں تھی۔ چنانچہ لوگ بتاتے ہیں کہ مقامی لوگ ان دیو ہیکل ستونوں کو جنگل سے کاٹ کر کندھے پر رکھ کر لائے۔ مسجد میں دو بوڑھے بیٹھے تھے، ایک سے میں نے پوچھا اتنے بڑے ستون کیا انسان اٹھا سکتا ہے؟ ایک بزرگ نے دسرے کی طرف دیکھا ، وہ مسکرائے اوران میں سے ایک کہنے لگا: میں اکیلا ہی اٹھا لوں۔ بزرگ مزے کے تھے۔ بات چیت چل نکلی تو انہوں نے بتایا کہ لوگ قطار میں کندھوں پر رکھ کر ان ستونوں کو جنگل سے یہاں تک لائے۔ اس کے علاوہ یہاں اور کوئی سہولت نہیں تھی۔ بزرگوں کی اس بات کی مقامی روایات بھی تصدیق کرتی ہیں کہ لوگ ان ستونوں کو کندھے پر رکھ کر لائے۔ مسجد کی کشیدہ کاری اس سے بھی غیر معمولی کام ہے۔ پوری مسجد میں دیواروں سے لے کر چھت کر ایسی حسین کشیدہ کاری ہوئی ہے کہ آدمی دیکھے تو دیکھتا ہی رہ جائے۔ کہیں دائرے بنے ہیں ، کہیں پھول منقش ہیں ، کہیں صراحی ہے ، کچھ ایسے نقش ہیں جو سمجھ سے باہر ہیں ۔ مسجد کی محراب میں کلمہ لکھا ہے ، اس کے اوپر فطرت کے مظاہر منقش ہیں۔ خطاطی کسی ماہر خطاط کی نہیں ، حتی کہ کسی خطاط کی بھی نہیں لگتی، لیکن اس میں جو وارفتگی اور اور والہانہ پن ہے وہ گداز پیدا کر دیتا ہے۔ محرابوں سے دیواروں تک اور دیواروں سے ستونوں تک ، رنگوں کی ایک کہکشاں ہے۔مسجد میں داخل ہوں تو لگتا ہے قوس قزح اتری پڑی ہے۔چھت سے فانوس لٹکے ہیں اور کچھ لالٹین۔ فانوس پرانے وقتوں کے ہیں ۔ کچھ یاد سا پڑ رہا ہے کہ نانی اماں کے گھر وجھوکہ میں کچھ ایسی چیزیں میں نے دیکھ رکھی ہیں۔ مسجد کی دیواروں پر بیل بوٹے ہیں ، پھول ہیں، پانیوں کے نقش ہیں، گلدان ہیں ، صراحی ہے ، اہتمام ہے ، محبت ہے اور عشق جھانک رہا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ نقش ونگار جن زمانوں میں بنائے گئے ، یہاں کسی کے پاس کوئی اوزار نہ تھا۔ صرف کلہاڑی تھی اور لوگوں نے جتنی بھی کشیدہ کاری کی کلہاڑی سے کی۔ ایک مقامی عبدالقادر صاحب بتاتے ہیں کہ مسجد میں بنائے گئے دائرے ہمیں نورستان ، کنڑ اور چترال اباسین کے علاقوں میں بھی قدیم عمارتوں میں ملتے ہیں۔اور یہ سب کچھ بغیر کسی مشین اور آری کے بنایا گیا ہے۔ صرف کلہاڑی کی مدد سے ۔ مسجد کے دو حصے ہیں ، ایک قدیمی اور دوسرا مسجد میں ہونے والی آتشزدگی کے بعد بنایا گیا حصہ جو پون صدی پرانا ہے۔ یہ اوپر والا حصہ ہے۔ جب کہ نچلی منزل قدیمی ہے۔ اس منزل کے پھر دو حصے ہیں۔ اگلا حصہ ایسا ہے جیسے آپ پہاڑ کی آغوش میں چلے جاتے ہیں۔ عبد القادر صاحب کے مطابق یہ سردیوں میں کام آتا ہے کیونکہ یہاں برف پڑتی ہے اور شدید سردی میں اس حصے میں حدت سی ہوتی ہے ۔ پھر یہاں بخارا بھی لگا ہے جو سردی سے لوگوں کو محفوظ رکھتا ہے۔ یہاں کے بابے میں وسیع النظر ہیں۔ ہماری مساجد پر قابض ریٹائرڈ کوتوالوں جیسے نہیں۔ نرم دل اور مزے کے لوگ ہیں۔ میں نے جھجھکتے ہوئے پوچھا : تصویر بنا لوں۔ اپنی دنیا میں مست ایک بزرگ نے مسکرا کر کہا : بنا لو۔ میں تصویریں بنانے لگا اور یہ بزرگ پھر سے آپس میں محو گفتگو ہو گئے۔ ان کے انداز میں ایسا ٹھہرائو تھا کہ اقبال یاد آگئے ۔فطرت کے مقاصد کی نگہبانی واقعی کسی کوہستانی ہی کے بس کی بات ہے۔ مسجد سے نکلا تو مجھے اس مچھیرے کی کہانی یاد آگئی جو ساحل پر دھوپ سینک رہا تھا۔کسی سیانے نے کہا مزید مچھلی پکڑو وقت نہ ضائع کرو۔مچھیرے نے پوچھا پھر کیا ہو گا۔ اس نے کہا پھر تم ایک اپنے جہاز کے مالک ہو گے۔ مچھیرے نے کہا پھر کیا ہوگا ۔ سیانے نے کہا پھر تمہارے ملازم ہوں گے اور تم دولت مند ہو جائو گے۔ مچھیرے نے کہا پھر کیا ہو گا۔ سیانے نے کہا پھر تم ساحل پر آرام سے لیٹ کر مزے کرنا ۔ مچھیرے نے کہا: تمہارے خیال میں ، میں اب کیا کر رہا ہوں۔دریائے پنجکوڑہ کے کنارے یہ بابے بھی بہت مزے میں تھے۔ یہ مسجد ایک قومی ورثہ ہے ۔ یہ محبت اور عشق کا ایک شاہکار ہے جو صدیوں پہلے کوہستانیوں نے تخلیق رکھا ہے۔ کیا ہی بہتر ہو حکومت اسے قومی ورثہ قرار دے اور اس کی ایسے حفاظت کرے جیسے محبت کی یادگاروں کی حفاظت کرنے کا حق ہے۔

  • julia rana solicitors
  • merkit.pk
  • julia rana solicitors london
  • FaceLore Pakistan Social Media Site
    پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com

آصف محمود
حق کی تلاش میں سرگرداں صحافی

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply