• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • کیا سوشلزم ناکام یا پرانا ہو گیا ہے؟۔۔۔ شاداب مرتضی

کیا سوشلزم ناکام یا پرانا ہو گیا ہے؟۔۔۔ شاداب مرتضی

مارکس اور اینگلز نے اپنا سوشلسٹ نظریہ (سائنسی سوشلزم) اس زمانے میں پیش کیا جب یورپ سرمایہ دارانہ انقلابوں کے دور سے گزر رہا تھا اور سوشلسٹ انقلاب ابھی دور کی بات تھی۔ پہلے انہوں نے اپنا انقلابی نظریہ قائم کیا اور پھر اس کے مطابق سوشلسٹ انقلاب کی جدوجہد کے میدان میں اتر گئے۔ اپنے انقلابی نظریے کے تحت انہوں نے مزدوروں کو منظم کیا اور خیالی سوشلزم اور سرمایہ دارانہ نظریات کے خلاف زبردست نظریاتی جدوجہد کی۔ گویا وہ اس وقت بھی اپنے انقلابی نظریے پر قائم تھے اور اسے حقیقت میں بدلنے کی جدوجہد کر رہے تھے جب دنیا میں سوشلسٹ نظام کا وجود نہیں تھا اور سوشلسٹ انقلاب دور پرے کی بات تھی۔ ان سے یہ بات کہنا بہت آسان تھا کہ سوشلزم ناممکن ہے اور کہیں نہیں ہے اس لیے سوشلزم کی بات کرنا بیکار ہے۔

دنیا کے پہلے مزدور انقلاب یعنی فرانس میں پیرس کمیون کے انقلاب سے پہلے ہی مارکسی سوشلزم سرمایہ داری کے خلاف مزدور انقلاب کی جدوجہد کا بین الاقوامی نظریہ بن چکا تھا۔ یورپ میں مختلف ملکوں کے مارکسی سوشلسٹوں اور مزدوروں کی بین الاقوامی کمیونسٹ انجمن قائم ہو چکی تھی اور اس کے تحت یورپی ملکوں میں سرمایہ داری کے خلاف مزدور طبقے کی سیاسی جدوجہد شروع ہوچکی تھی۔ مارکسی سوشلزم نے تاریخ کے پہلے مزدور انقلاب، پیرس کمیون، سے قریبا ًربع صدی, 23 سال، پہلے “کمیونسٹ پارٹی کا مینی فیسٹو (منشور)” لکھ کر پوری دنیا کے سامنے اپنے انقلابی فلسفے، نظریے اور حکمت عملی کے اصول واضح کر دیے تھے۔ مارکس اور اینگلز اپنی زندگی میں صرف ایک مزدور انقلاب، پیرس کمیون کا انقلاب، دیکھ سکے لیکن اس کی ناکامی پر انہوں نے اپنے انقلابی نظریے میں ترمیم کرنے کے بجائے اس کا تجزیہ کر کے مستقبل کے مزدور انقلاب کی کامیابی کے لیے نتائج اور اسباق اخذ کیے۔

مصنف:شاداب مرتضٰی

پیرس کمیون کے مزدور انقلاب کی ناکامی کے قریبا نصف صدی بعد روس کے بالشویک سوشلسٹوں نے مارکسی نظریے کے تحت روس میں سوشلسٹ انقلاب برپا کیا۔ پیرس کمیون کا انقلاب صرف تین دن قائم رہا تھا مگر روسی انقلاب 74 سال قائم رہا۔ روس کے سوشلسٹ انقلاب نے مارکسی سوشلزم کی ناکامی اور بیکاری کے بارے میں تمام خام خیالیوں کو ہمیشہ کے لیے تاریخ کے کوڑے دان میں پھینک دیا۔ روس کا سوشلسٹ انقلاب اس قدر توانا تھا کہ اس نے سرمایہ داری نظام کو عالمی سطح پر بقاء کے خطرے سے دوچار کردیا۔ یہ اس لیے ناکام ہوا کیونکہ روسی (سوویت) کمیونسٹ پارٹی نے مارکسی سوشلزم میں جمہوریت اور طبقاتی مصالحت کے نام پر ترمیم کی اور اس کی بنیاد یعنی طبقاتی جدوجہد اور مزدور طبقے کی آمریت کو فراموش کر دیا۔ سوویت یونین کو قائم رکھا جائے یا ختم کر دیا جائے اس معاملے پر ہونے والے ریفرنڈم میں 73 فیصد شہریوں نے سوویت یونین کو قائم رکھنے کی حق میں رائے دی لیکن جمہوری اکثریت کے اس فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے سوویت یونین کو جبرا ًختم کر دیا گیا۔ اس عمل کی مزاحمت کرنے پر روس کی سپریم سوویت کی پارلیمنٹ پر گولہ باری کی گئی اور مظاہرین کے خلاف وحشیانہ فوجی تشدد استعمال کیا گیا۔ سوویت یونین کی تحلیل کے بعد صرف 9 سال میں روس میں 30 لاکھ افراد غربت، بیروزگاری، لاعلاجی اور بھوک سے غیر طبعی موت مرے۔

پیرس کمیون کے مزدور انقلاب کی ناکامی کے باوجود مارکسی سوشلزم نہ صرف روس میں حقیقت میں ڈھلا بلکہ دنیا کے درجنوں ملکوں میں سوشلسٹ انقلابات رونما ہوئے اور ان انقلابوں کی مدد سے دنیا بھر کے ملکوں میں سرمایہ دارانہ استحصال سے آزادی کی عظیم تحریک نے جنم لیا۔ یہ سوویت سوشلزم ہی تھا جس نے دوسری عالمی جنگ میں فاشزم کے عفریت کو تہہ تیغ کر کے دنیا کو سرمایہ دارانہ فاشزم سے بچایا۔ ان سوشلسٹ انقلابوں نے اور ان سے پیدا ہونے والی عالمی سوشلسٹ تحریک نے تاریخ کا رخ موڑ دیا۔ تب سے اب تک دنیا کی تاریخ سرمایہ داری اور مارکسی سوشلزم کے درمیان جدوجہد کی تاریخ ہے۔ روسی مزدور انقلاب کی کامیابی کی ایک اہم وجہ پیرس کمیون کے مزدور انقلاب کی ناکامی سے سیکھے گئے سبق تھے جنہیں روسی مارکسی سوشلسٹوں نے اپنی انقلابی جدوجہد میں پیش نظر رکھا۔ پاکستان کے “نئے” سوشلسٹ روسی انقلاب کی ناکامی سے مستقبل کے مزدور انقلاب کی کامیابی کے لیے ضروری اسباق اخذ کرنے کے بجائے الٹا مارکسی سوشلزم کے نظریے میں ترمیم کی تجویز دیتے ہیں۔

سوشلزم کے مخالف اور خصوصاً مارکسی سوشلزم کے مخالف ہر جگہ ہر سوشلسٹ انقلاب سے پہلے، اس کے دوران اور اس کے بعد بھی کسی نہ کسی طرح اس کی مخالفت کرتے رہے، کرتے رہتے ہیں اور کرتے رہیں گے۔ یہ ان کی طبقاتی فطرت کا تقاضا ہے۔ وہ لوگ ہمیشہ اور ہر طرح، کبھی کھلم کھلا اور کبھی ڈھکے چھپے انداز سے، سوشلزم کی اور خصوصا ًسوشلزم کے مارکسی نظریے کی مخالفت کریں گے جن کی بقاء کا دارومدار طبقاتی نظام پر ہے اور جو سرمایہ دارانہ طبقاتی نظام کے جبر و استحصال سے اپنا طبقاتی فائدہ اور مراعات حاصل کرتے ہیں۔ انہوں نے پیرس کمیون کے انقلاب کی بھی مخالفت کی تھی اور روسی انقلاب کی بھی۔ یہ کیوبن انقلاب کے بھی مخالف ہیں اور شمالی کوریا کے انقلاب کے بھی۔ ان مخالفوں کا سب سے بڑا طبقہ پیٹی بورژوا طبقہ یا درمیانہ طبقہ ہوتا ہے۔ انقلاب اور اس کی کامیابی پر اس کا یقین ہمیشہ متزلزل رہتا ہے اور اسی لیے یہ طبقہ ہمیشہ سرمایہ داری اور سوشلزم کے بیچ اپنی بقاء کا کوئی نہ کوئی “درمیانی” راستہ تلاش کرتا رہتا ہے۔

پیرس کمیون کے انقلاب سے پہلے سوشلزم کے مخالف مزدور انقلاب کو ناممکن سمجھتے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ مزدور ان پڑھ اور غریب ہوتے ہیں اس لیے وہ کبھی تعلیم یافتہ اور دولت مند سرمایہ داروں کو سیاسی شکست دے کر ریاستی اقتدار حاصل نہیں کر سکتے۔ لیکن فرانس کے مزدوروں نے پیرس کمیون کے انقلاب سے حکمران طبقوں کی اس خام خیالی کو غلط ثابت کردیا۔ پیرس کمیون کے انقلاب کی شکست نے مزدور طبقے کے دشمنوں اور مخالفوں کو پھر سے یہ کہنے کا موقع فراہم کر دیا کہ مزدور انقلاب ناممکن ہے۔ اگر مزدور انقلاب لانے میں کامیاب ہو بھی جائیں تو اسے برقرار نہیں رکھ سکتے۔ لیکن نصف صدی بعد روس کے سوشلسٹ انقلاب نے اس خام خیالی کو بھی غلط ثابت کر دیا۔
روس میں مارکسزم اور سوشلسٹ انقلاب کی تحریک کے دوران بھی سوشلزم کے مارکسی نظریے کو ہر جانب سے طرح طرح کی تنقید، مخالفت اور دشنام طرازی کا سامنا رہا۔ کسی نے کہا پیرس کمیون کے مزدور انقلاب کی ناکامی نے مارکسی سوشلزم کی ناکامی ثابت کردی ہے۔ روس میں سوشلسٹ انقلاب نہیں آسکتا۔ کسی نے کہا روس میں سرمایہ داری نظام اتنا ترقی یافتہ نہیں ہوا کہ مزدور طبقہ سوشلسٹ انقلاب کے لیے تیار ہو سکے۔ کسی نے کہا کہ روس میں سوشلسٹ انقلاب کے لیے ترقی یافتہ یورپی ملکوں میں سوشلسٹ انقلاب کا انتظار کرنا چاہیے۔ جب تک وہاں انقلاب نہیں آئے گا تب تک روسی انقلاب کی کامیابی کا امکان پیدا نہیں ہوسکتا۔ لیکن روسی انقلابیوں (بالشویک کمیونسٹوں) نے مارکسی سوشلزم کے نظریے کے زریعے روس میں سوشلزم قائم کر کے اور اس کے زریعے پوری دنیا میں سوشلسٹ انقلابوں کو جنم دے کر سوشلزم کی مخالفت کرنے والے تمام رجحانوں کو نظریاتی اور عملی طور پر غلط ثابت کیا۔

ٹراٹسکائی جو عام طور پر خود کو سرمایہ داری نظام کا سب سے بڑا دشمن اور سوشلسٹ انقلابی کہتے ہیں روسی انقلاب اور عالمی سوشلسٹ تحریک میں ان کا کردار ہمیشہ سوشلزم کے مخالف اور سرمایہ داروں کے اتحادی کا رہا ہے۔ روسی انقلاب سے پہلے، اس کے دوران اور اس کی ترقی کے زمانے میں ٹراٹسکی اور اس کے ہمنواؤں نے روس کے اندر اور بین الاقوامی سطح پر روسی سوشلزم اور عالمی سوشلسٹ تحریک کی سخت مخالفت کی۔ روسی انقلاب سے تین ماہ پہلے تک ٹراٹسکی، جسے اس کے جنونی اور شخصیت پرست مقلد بالشویک پارٹی کا قائد اور روسی انقلاب کا معمار سمجھتے ہیں، وہ روسی انقلاب کی روح رواں، بالشویک پارٹی اور اس کے قائد لینن کا کٹر مخالف تھا اور ان کے خلاف دائیں اور بائیں بازو کے گروہوں سے اتحاد بناتا پھرتا تھا۔ لیکن اپنے پیٹی بورژوا رجحان کی منطق کے عین مطابق جب اس نے بالشویک پارٹی کے جلو میں روس میں انقلاب کو آتے دیکھا تو بالشویک پارٹی میں شامل ہوگیا۔ پارٹی میں شامل ہونے کے بعد بھی اس نے حزب اختلاف بنا کر بالشویک پارٹی کی انقلابی پالیسیوں اور اقدامات کی مخالفت جاری رکھی۔ پارٹی سے نکالے جانے اور پھر سوویت یونین سے خارج کیے جانے کے بعد اس نے سوویت یونین اور عالمی سوشلسٹ تحریک کے خلاف رد انقلاب کو اپنا مقصد حیات بنا لیا اور اس حد تک گر گیا کہ امریکی، جرمن اور جاپانی سامراجیوں کے ساتھ مل کر سوویت یونین اور کمیونسٹ انٹرنیشنل کے خاتمے کی کوششیں کرتا رہا۔ سوویت یونین کی ترمیم پسند کمیونسٹ پارٹی نے سوویت یونین میں سوشلزم کی جگہ سرمایہ داری کو بحال کرنے میں ٹراٹسکی ازم سے خوب استفادہ کیا۔ سامراجی طاقتوں نے سوویت یونین اور سوشلزم کی مخالفت کے لیے ٹراٹسکی کی تحریروں کو خوب استعمال کیا۔

روسی میں سوشلزم کی کامیابی اور عالمی پیمانے پر سوشلسٹ تحریک کی وسعت اور تقویت نے سوشلزم کے مخالفوں کو مجبور کیا کہ وہ اس کی مخالفت کے لیے نت نئے خیالات و نظریات تراشیں اور اس کی کھلے عام مخالفت کے بجائے مخالفت کے ڈھکے چھپے راستے اختیار کریں۔ چنانچہ روسی انقلاب اور سوشلزم کی مخالفت کے لیے اس کے مخالفوں نے سوشلزم کا نقاب اوڑھ لیا۔ خود کو مارکسی اور سوشلسٹ ظاہر کرنے والے ان مخالفوں نے کبھی یہ کہا کہ روسی انقلاب کی سمت درست نہیں اس لیے یہ جلد ہی ناکام ہوجائے گا۔ کبھی یہ کہا گیا کہ روسی انقلاب مارکسی نظریے پر مشتمل انقلاب نہیں ہے اور کبھی یہ کہا گیا کہ روسی انقلاب دراصل روسی مزدوروں اور محنت کشوں پر جبر کا ایک نیا نظام ہے۔ سوشلزم کی مخالفت کے ان نئے طریقوں کی خاصیت یہ تھی کہ ان میں صرف سوشلزم پر تنقید کرنے کے بجائے سرمایہ دارانہ نظام اور خصوصا روسی سوشلزم دونوں پر تنقید کی جاتی تھی اور دونوں کے اندر خامیوں کی نشاندہی کی جاتی تھی جس سے یہ تاثر پیدا ہوتا تھا کہ تنقید کرنے والا “غیر جانبدار” ہے، وہ سوشلزم کا مخالف نہیں کیونکہ وہ سرمایہ داری پر بھی تنقید کرتا ہے اور کٹر، عقیدہ پرست سوشلسٹ بھی نہیں کیونکہ وہ روسی سوشلزم کی خرابیوں کا زکر بھی کرتا ہے۔ لیکن سرمایہ داری کے ناقد سمجھے جانے والے ان دانشوروں کے خیالات سرمایہ داری نظام کے خلاف خطرہ تو کبھی نہ بنے البتہ سوشلزم کے بارے میں لوگوں کو کنفیوز اور گمراہ کرنے کا باعث ضرور رہے۔

روسی انقلاب (سوویت یونین) کے زوال کے بعد ایک بار پھر سے پوری دنیا میں مارکسی سوشلزم کی ناکامی کے ڈھول پیٹنے جانے لگے اور اس موقع کا فائدہ اٹھا کر مارکسی سوشلزم کے خلاف طرح طرح کی تنقید کی جانے لگی۔ کبھی کہا گیا کہ تاریخی ارتقاء کا اختتام ہوگیا ہے اور سرمایہ داری نظام ہی دنیا کا آخری نظام ہے۔ سماجی نابرابری اور استحصال کا خاتمہ کرنے کے لیے اس میں اصلاحات کرنے کے سوا سماجی ترقی کا کوئی اور راستہ نہیں۔ کبھی کہا گیا کہ مارکسی سوشلزم پرانا ہوگیا ہے۔ اس میں ترمیم کر کے ایک نئے سوشلسٹ نظریے کو سامنے لانے کی ضرورت ہے۔ کبھی کہا گیا کہ ایک نئے سماجی نظام کی ضرورت ہے جو سرمایہ داری اور سوشلزم دونوں کے مثبت پہلوؤں پر مشتمل ہو۔ لیکن اس دوران تاریخ نے یہ دکھایا کہ روسی سوشلزم کی ناکامی اور عالمی سوشلسٹ تحریک کی پسپائی کے نتیجے میں سرمایہ دارانہ استحصال میں شدت اور تیزی پیدا ہوگئی۔ روسی انقلاب اور عالمی سوشلسٹ تحریک کی کامیابیوں سے خوفزدہ ہو کر سرمایہ دارانہ نظام نے اپنی بقاء کی خاطر عوام کو جو حقوق اور مراعات دی تھیں وہ واپس لی جانے لگیں اور سرمائے کا ارتکاز تیزی سے بڑھتا چلا گیا۔

سوویت یونین اور عالمی سوشلسٹ تحریک کے زوال کے اس پورے تاریخی دور نے پھر سے مارکسی سوشلزم کے اس دعوے کو درست ثابت کیا کہ سرمایہ دارانہ نظام کے ظلم، جبر اور استحصال کو اصلاحات یا طبقاتی مصالحت سے نہیں بلکہ صرف اور صرف طبقاتی جدوجہد اور مزدور آمریت کے زریعے ہی ختم کیا جا سکتا ہے۔ لیکن نیم دل پیٹی بورژوا انقلابی جو ہمیشہ سرمایہ داری اور سوشلزم کے درمیان جاری ناقابل مصالحت طبقاتی جدوجہد کے درمیان اپنی طبقاتی بقاء کے لیے طبقاتی مصالحت کا کوئی نہ کوئی درمیانی راستہ تلاش کرنے کی جستجو کرتے رہتے ہیں ان کی رائے یہ ہے کہ مزدور آمریت کے نظریے پر استوار حقیقی مارکسی سوشلزم پرانا ہوچکا ہے۔ اس سوشلزم کے بجائے سوشلزم کا کوئی ایسا نیا “جمہوری” نظریہ تشکیل دیاجانا چاہیے جس میں سماجی تنوع اور رنگارنگی ہو یعنی بین الطبقاتی آمیزش ہو اور کسی ایک طبقے کی آمریت کا زکر نہ ہو۔

الغرض، یہ احباب طبقاتی اتحاد پر مبنی سیاسی جدوجہد کے ذریعے طبقاتی نظام کے خاتمے کی باہم متضاد خواہش رکھتے ہیں۔ مارکسزم مزدور طبقے کی طبقاتی جدوجہد کے زریعے سرمایہ دارانہ نظام کے خاتمے اور سوشلزم کے قیام کا نظریہ ہے۔ مارکسی سوشلزم میں طبقاتی اتحاد کے نظریے کی آمیزش مارکسزم کے سائنسی خزانے میں کوئی اضافہ نہیں بلکہ اس کی سائنسی بنیاد کو غیر سائنسی، سطحی، یوٹوپیائی تصورات سے آلودہ کرنے کے مترادف ہے۔ یہ “مارکسزم سائنس ہے”، “مارکس حرف آخر نہیں” جیسے نعروں کی آڑ میں مارکسزم کی سائنسی بنیاد پر حملہ اور اس میں ترمیم کی کوشش کے سوا کچھ نہیں۔

Avatar
شاداب مرتضی
قاری اور لکھاری

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *