زینب فاروق کو اِس دنیا میں خوش آمدید۔ کامریڈ فاروق بلوچ

ہمارے ہاں پہلی اولاد بیٹی ہوئی. جس کا نام ہم نے قرآن کی سورہ ضحٰی کی  نسبت سے زوہا فاروق رکھا. یہ ایک شاندار بچی ہے. بلا کی ذہین اور سمجھدار لڑکی، بات کو آسانی سے سمجھتی ہے اور یادداشت بہت تیز ہے. ہمارے لیے خوشیاں اور مسرتیں لانے والی زوہا کی پیدائش پہ مَیں نے اُس کی ماں کو جنابِ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی حدیث سنائی کہ “مبارک ہے وہ ماں جس کے بطن سے پہلی اولاد بیٹی پیدا ہوتی ہے”. جب زوہا فاروق پیدا ہوئی تو اُس وقت میری والدہ حیات تھیں. میری والدہ نے ساری عمر تمام انسانیت سے بلاغرض محبت کا عملی درس دیا تھا. جب ہم زوہا فاروق اور اُس کی ماں کو ہسپتال سے گھر لائے تھے تو میری والدہ نے گھر میں چراغاں کیا اور گلاب کی پتیاں نچھاور کرکے زوہا فاروق کا استقبال کیا. سارے خاندان کو دعوت پہ بلایا تھا.

یعنی ہمارے لیے بیٹی کی پیدائش بہت مسرت بخش معاملہ ہے. ہم نے ہمیشہ اپنی اکلوتی بہن کو بھی  باقی بھائیوں کے برابر توقیر دی ہے. حتی کہ ہم نے اپنی بہن کی شادی کو بھی ایسے ہی گرم جوشی سے منعقد کیا جیسے بھائیوں کی شادی کی جاتی ہے. یقیناً ہماری بہن کی شادی ہمارے خاندان کی بہترین شادیوں میں سے ایک تھی. ہمارے لیے بہن اور بیٹی کی وقعت کسی طور پہ کمتر نہیں ہے. یہ ہمارا وطیرہ ہے، ہماری  طرز ہے اور ہماری شعوری شخصی جہت ہے.

پھر جب میری پہلی پیاری بیٹی زوہا فاروق دو سال سے زائد ہوئی تو ہمیں دوسری خوشخبری موصول ہوئی. جب حمل نمایاں ہوا تو رواجاً دوسری خواتین میری بیوی سے بچے کی جنس متعلق دریافت کرتی تھیں. میری بیوی نے جواباً بتایا کہ دوسری مرتبہ بھی بیٹی کی امید ہے تو اُن پوچھنے والی خواتین کا رویہ بہت تکلیف دہ تھا. ایک بزرگ خاتون نے سرائیکی میں تبصرہ کیا کہ “ہاااااااا وَت دِھی ہے پائی”(افسوس پھر سے بیٹی ہو گی). میرے لیے یہ تبصرہ بہت دل شکن تھا. آخر یہ رویہ کیوں؟ کیا بیٹی کی پیدائش کوئی افسوس ناک خبر ہے؟ کیا بیٹیاں گھروں اور خاندانوں کے لئے باعثِ افتخار نہیں ہو سکتی ہیں؟ کیا بیٹے اپنے والدین کو اوج اور ثریا کے رتبے کا سبب بنتے ہیں؟ اور کیا بیٹیاں والدین کے لئے زوال کا سبب ہیں؟

اِسی طرح میرے ایک بزرگ نے مجھے دعا دیتے ہوئے کہا کہ “اچھا خیر ہے اللہ پتر وی ڈیسی”(اچھا خیر ہے اللہ بیٹا بھی دے گا). میں نے اُن کو بتایا کہ میں فیصلہ کر چکا ہوں کہ ہم صرف دو  بچے ہی پیدا کریں گے کیونکہ کثرتِ اولاد کی ذمہ داری میرے لیے بہت بھاری ہے تو اُن بزرگ نے مجھے سمجھایا کہ اپنی نسل کی بڑھوتری کے لئے بیٹا لازمی پیدا کرنا. میں حیران ہوں کہ یہ نفسیات آخر ختم کیوں نہیں ہو رہی ؟  کیا نسل کی بڑھوتری لازمی امر ہے؟   نسل کی بڑھوتری فقط مذکر کے  ذریعے ہی کیوں؟ جن لوگوں کی نسل اُن کے خیال میں آگے نہیں بڑھی تو کیا آسمان ٹوٹ پڑا ہے؟ اور جنہوں نے اپنے تئیں اپنی نسل آگے بڑھا لی ہے تو کون سے نسلِ انسانی پہ احسان کر دیا ہے؟ میں نے اُن بزرگ سے پوچھا کہ آپ اگر گارنٹی دے دیں کہ اگلی اولاد بیٹا ہو گا تو میں تیسرے بچے کی منصوبہ بندی کرنے کو تیار ہوں. بزرگ نے کہا کہ اللہ پہ توکل کرو اللہ بیٹا ضرور دے گا. میں نے بزرگ کو جواباً عرض کی کہ “اللہ پہ یہ توکل بھی کیجیے کہ بیٹیاں بیٹوں سے بڑھ کر باعثِ فخر ہو سکتی ہیں.”

ہم نے اُسی دن یہ فیصلہ کیا کہ اپنی دوسری بیٹی کا نام زینب فاروق رکھیں گے. یکم دسمبر کو ہمارے گھر زینب فاروق کی پیدائش ہوئی ہے. ہم نے زوہا فاروق کی پیدائش کے موقع پہ منائے گئے جشن کی یاد تازہ کی ہے. یقیناً زینب فاروق کی آمد ہمارے لیے باعثِ شادمانی ہے. ہم بہت خوش ہیں اور اِس خوشی کی کوئی حد نہیں ہے. میں فیصلہ کر چکا ہوں کہ پاکستان کے پدرسری سماج میں دو بیٹیوں کا باپ اپنا سر اونچا رکھے گا اور میری زوہا و زینب یقیناً اِس سماج میں میرے لیے فخر کا سامان پیدا کریں گی. نتکانی خاندان کی اولین آزاد اور مختار لڑکیوں میں شمار ہوں گی. میں بالکل ایسا نہیں کہوں گا کہ زوہا و زینب لڑکوں سے کم نہیں ہوں گی، بلکہ یہ لڑکیاں ہیں اور رہیں گی. بلکہ بطور لڑکیاں اپنا نام روشن کریں گی.   بطور لڑکیاں اِس پدرسری سماج میں اپنا لوہا منائیں گی. یہ میرے اِس دعوے کو سچ ثابت کریں گی کہ لڑکیاں اپنے والدین کے لئے باعثِ فخر ہوتی ہیں.

تاریخِ اسلام میں تین خطبے بہت اہمیت کے حامل ہیں. اولاً  خطبہ حجتہ الوداع، دوم حسین ابنِ علی رضی اللہ عنہ کا خطبہِ کربلا اور شاید انسانی تاریخ کے چند دلیرانہ خطبوں میں سے ایک جنابِ زینب بنتِ علی رضی اللہ عنہا کا دربارِ یزید میں خطبہ ہے. یزید کے فخریہ کلمات کے بعد بی بی زینب نے فرمایا کہ:
“اے یزید ! یہ گردش ایام اور حوادث روزگار کا اثر ہے کہ مجھے تجھ جیسے بدنہاد اور برے انسان سے ہمکلام ہونا پڑا ہے اور میں تجھ جیسے ظالم و ستمگر سے گفتگو کر رہی ہوں. لیکن یاد رکھ میری نظر میں تو ایک نہایت پست اور گھٹیا شخص ہے جس سے کلام کرنا بھی شریفوں کی توہین ہے. میری اس جرات سخن پر تو مجھے اپنے ستم کا نشانہ ہی کیوں نہ بنا دے لیکن میں اسے ایک عظیم امتحان اور آزمائش سمجھتے ہوئے صبر و استقامت اختیار کروں گی اور تیری بد کلامی و بدسلوکی میرے عزم و استقامت پر اثر انداز نہیں ہو سکتی”.
میں نے بی بی زینب کی جرات، استقامت اور دلیری کی نسبت سے ہی اپنی دوسری بیٹی کا نام زینب فاروق رکھا ہے. میری خواہش اور کوشش یہی ہو گی کہ میری بیٹیاں بھی اِس مردانہ سماج میں بی بی زینب کی مانند باوقار، دلیر اور جراتمند ہوں گی. میں اپنی بیٹی زینب فاروق کو اِس دنیا میں خوش آمدید کہتا ہوں.

فاروق بلوچ
فاروق بلوچ
مارکسی کیمونسٹ، سوشلسٹ انقلاب کا داعی اور سیاسی کارکن. پیشہ کے اعتبار سے کاشتکار.

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *