اچھا ہوا میں استاد نہ رہا۔۔سید عارف مصطفٰی

کوئی تھپڑ رسید کررہا ہے ، کوئی جوتا سر پہ مار رہا ہے ، کوئی ٹھڈے لگا رہا ہے تو کوئی ڈنڈے سے پیٹ رہا ہے ۔۔۔ تقریباً چھ سات نوجوان ایک ویڈیو میں یہ سب ایک ایسے شخص کے ساتھ برسرعام کرتے دکھائی دے رہے ہیں کہ جو ملتان کے ایک کالج میں پروفیسر ہے اور اور اسکا جرم یہ ہے کہ اس نے کالج میں چند طلباء کو ان کے بُرے طرز عمل پہ ڈانٹا تھا ۔۔

میں اس منظر کو دیکھ کر سناٹے میں ہوں اور اس پہ ان نہایت منطقی سوالات کے جوابات تلاش کررہا ہوں کہ کیا معاشرے کی طرف سے بھی ان مجرموں اور انکے غافل والدین کی تذلیل کی گئی اور کیا انکا سوشل بائیکاٹ بھی کیا گیا ۔۔۔ کئی برس قبل خود میں بھی ایک بڑے نامور تعلیمی ادارے میں پڑھاتا رہا ہوں اور اب خدا کا لاکھ لاکھ شکر ادا کرتا ہوں کہ اس جان جوکھوں کے کام سے نکل آیا کیونکہ جس طرح کا میں بندہ ہوں ، اورچونکہ مجھے کسی زور آور اور سرکش کے سامنے سے ہٹ جانا بھی نہیں آتا تو مجھے تو کسی نہ کسی روز چند منہ زور بدقماش طلباء کے ہاتھوں اسی طرح دھویا جانا تھا
یقینی طور پہ ضرورت اس امر کی بھی ہے کہ ان دولت اور طاقت کے نشے میں مبتلاء گھرانوں کو بھی لگام دی جائے کہ جو اپنے بے راہ رو نوجوانوں کو پڑھنے کے نام پہ تعلیمی ادارے کو اپنی  ” بڑائی”ظاہر کرنے اور نجی راجواڑہ قائم کرنے کے لیے بھیج دیتے ہیں ۔۔۔

ہمارے شہر میں بھی تین دہائیوں تک اس خباثت کا راج رہا ہے اورایم کیوایم نے اپنے بدمعاشوں کے ذریعے علم، طالب  علم اور معلم سبھی کو یرغمال بنائے رکھا تھا اور اپنی منڈلی میں شامل ہوجانے والوں کے لیے نہایت اعلیٰ نمبروں میں کامیاب کروانے کا نظام بناکے پڑھنے اور پڑھانے کی ضرورت ہی سے بے نیاز کردیا تھا اور اس وقت میں قاسم پیرزادہ جیسے معلمین نے اپنی وائس چانسلری کے لالچ میں متاع علم کی آبرو ہی فروخت کردی تھی اور نائن زیرو کے کھونٹے سے بندھی گائے بن جانے ہی کو زریں موقع جانا تھا اور شہر کو خون کا غسل دلانے والی اس قربان گاہ پہ آئے روز جا کر وہاں خوشامدانہ حاضری اور الطافی قصیدے پڑھنے ہی پہ اپنی ساری علمیت صرف کردی تھی اور منظر ایوبی جیسے بیشمار ‘اہل نقد و نظر’ محض اہل نقدی بن کے راگ درباری گانے تک ہی رہ گئے تھے اور یوں ان جیسے لوگوں کے بل پہ ایک خونی قاتل و بھتہ خورکودیوتا و مسیحا بنا کے دکھایا جاسکا ۔۔۔ ضرورت اس امر کی تھی کہ ان جیسے ‘ناسوروں’ کا بھی سماجی مقاطعہ کیا جاتا تاکہ آئندہ کوئی صاحب قلم آبروئے علم کے دام لگانے سے پہلے ہزار بار سوچتا اور پھر بھی ایسی جرآت نہ کرتا

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *