• صفحہ اول
  • /
  • خبریں
  • /
  • بعداز کورونا تھکاوٹ: کیا ہے، کیوں ہوتی ہے اور اس سے کیسے چھٹکارہ حاصل ہو؟

بعداز کورونا تھکاوٹ: کیا ہے، کیوں ہوتی ہے اور اس سے کیسے چھٹکارہ حاصل ہو؟

(نامہ نگار/مترجم:نسرین غوری)آپ کو کورونا پازیٹو ہونے کے بعد آئسولیشن میں دس روز ہوچکے ہیں اور آپ بے چینی سے اپنی نارمل زندگی کی طرف لوٹنے کے منتظر ہیں۔ لیکن آپ مسلسل تھکن ، چڑچڑاہٹ اور کمزوری کا شکار ہیں تو اس بات کا شدید امکان ہے کہ آپ بعد از کورونا تھکاوٹ کا شکار ہیں۔ بعض افراد کے لیے کوویڈ 19 کی علامات بہت ہی ہلکی اور مختصر عرصے کے لیے ظاہر ہوتی ہیں جبکہ دیگر افراد مسلسل تھکن، درد اور مسلسل رہنے والی کھانسی کی شکایت کرتے ہیں۔ امارات کے معالجوں نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ بعد از کورونا تھکاوٹ بہت سارے افراد میں پائی گئی ہے۔
ڈاکٹر سندیب پرگی جو استر ہسپتال منخول میں سانس کے امراض کے ماہر ہیں نے کہا کہ بعد از کورونا تھکاوٹ قدرتی اور متوقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ لاکھوں افراد SARS-CoV -2 سے متاثر ہوئے ہیں اور ایک بہت بڑی تعدادصحت یاب ہونے کے مہینوں بعد بھی سانس لینے میں پریشانی اور تھکاوٹ کی شکایت کر رہی ہے ۔ یہ غیر معمولی مظہر پوسٹ کوویڈ فٹیگ سنڈروم یا بعد از کورونا تھکاوٹ کہلاتا ہے۔ کوویڈ 19 سے متاثر ہونے والوں کی اکثریت چند ہفتوں میں مکمل صحت یاب ہوجاتی ہے لیکن کچھ افراد جن میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جن میں بیماری کی معمولی علامات ظاہر ہوئی تھیں انہیں ابتدائی صحت یابی کے بعد لمبے عرصے تک ان علامات سے دوچار ہونا پڑ ا ہے۔

بعد از کورونا تھکاوٹ کی بیماری کیا ہے؟
ڈاکٹر مہا شان کلپاکا محمد جو برج رائل ہسپتال العین میں پھیپھڑوں کےامراض کے ماہر ہیں کہتے ہیں کہ قوت مدافعت سے لڑنے والے کسی بھی وائرل انفیکشن کا نتیجہ تھکاوٹ ہوتا ہے ۔ کسی بھی انفیکشن کے لیے قوت مدافعت بہت اہم ہے خاص کر کوویڈ 19 میں۔ نتیجے میں کورونا کے بعد تھکاوٹ عام ہے تھکاوٹ کی شدت بیماری کی شدت پر منحصر ہے۔ ڈاکٹر محمد کے مطابق جب کوئی انفیکشن اوسط سے شدید بیماری کی طرف بڑھتا ہے تو انفیکشن کے بعد صحت یابی کی کیفیت متاثر ہوتی ہے بعد از کورونا تھکاوٹ اور اس سے نجات پر نفسیاتی دباؤ  کا بھی اثر ہوتا ہے۔

FaceLore Pakistan Social Media Site
پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com

ڈاکٹر پرگی نے کہا کہ یہ بیماری جسمانی سوزش اور دماغی تناؤ  کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے اور جسم اور دماغ میں سوزش بڑھانے والے کیمیکلز اور دیگر عوامل کو مزید مہمیز دیتی ہے۔ کچھ معالجوں کا کہنا ہے کہ ہسپتالوں کے او پی ڈی میں کورونا سےصحت یاب ہونے والے افراد کے دوبارہ معائنے میں بعد از کورونا تھکاوٹ ایک اہم شکایت ہے۔ اور یہ شکایت ہر طرح کے مریضوں میں ہے بشمول وہ مریض جن میں کورونا کی علامات ظاہر بھی نہیں ہوئیں اور جنہیں ویکسین لگ چکی تھی ان میں بھی یہ شکایت پائی گئی ہے۔ ڈاکٹر پرگی کا کہنا ہے کہ یہ شکایت زیادہ تر ان مریضوں میں ہے جنہیں کورونا کی علامات ظاہر ہوئی تھیں۔ علامات ظاہر نہ ہونے والے افراد میں اس شکایت کی بڑی وجہ کوویڈ 19 سے منسلک تشویس، خوف اور ڈپریشن ہیں۔

ڈاکٹر برجیش بھردواج این ایم سی رائل ہاسپٹل دبئی کے انٹرنل میڈیسن کے ماہر اور ہیڈ آف دی ڈپارٹمنٹ نے کہا کہ یہ بیمار ی ہر دو طرح کے افراد میں نظر آرہی ہے ان میں بھی جو کورونا کو بھگت چکے ہیں اور ان میں بھی جنہیں اب تک کورونا نہیں ہوا ہے۔ کچھ لوگ اس لیے بھی تھکاوٹ کا شکار ہیں کہ وہ مسلسل دو سال سے ماسک استعمال کر رہے ہیں۔ انہوں نےواضح کیاکہ کیونکہ ہم بہت لمبے عرصے سے ماسک پہن رہے ہیں تو ہم بہت سارے معمول کے انفیکشنز اور ایسے عوامل سے دوچار نہیں ہورہے جو ہماری قوت مدافعت میں اضافے کا باعث بنتے ہیں لہذہ اس کی وجہ سے روز مرہ انفیکشن کے خلاف ہماری قوت مدافعت میں کمی واقع ہوئی ہے۔ اور چونکہ کوویڈ سے ہونے والے نمونیہ میں پھیپھڑے متاثر ہوتے ہیں جس کی وجہ سے ہماری ورزش برداشت کرنے اور آکسیجن لینے کی صلاحیتیں بھی متاثر ہوئی ہیں۔

بعد از کورونا تھکاوٹ کی علامات کیا ہیں؟
• کورونا میں سب سے زیادہ پھیپھڑے متاثر ہوتےہیں ڈاکٹر محمد کے مطابق دوران مشقت سانس لینے میں پریشانی جسے عام طور پر سوزش بھی کہا جاتا ہے اس بیماری کا ایک اہم جز ہے، کورونا کے بعد سانس کی نالیوں کی سوزشی کھانسی بھی بہت عام ہے۔ دیگر علامات یہ ہیں:
• تھکاوٹ
• عضلاتی کمزوری
• ڈپریشن
• نیند میں خلل
• بو یا ذائقہ محسوس نہ ہونا
• عضلات میں درد یا اینٹھن
• سردرد یا دماغ سن ہوجانا

یہ علامات کسے محسوس ہوتی ہیں؟
زیادی تر عمر رسیدہ افراد اور وہ افراد جن کو پہلے ہی کوئی شدید بیماری ہو ان میں کورونا کی علامات زیادہ دیر تک نظر آتی ہیں لیکن نوجوان اور صحتمند افراد بھی انفیکشن کے ہفتوں بلکہ مہینوں بعد بھی بیمار محسوس کرسکتے ہیں۔

بعد از کورونا تھکاوٹ سے کیسے نجات حاصل کی جائے؟
نارمل زندگی کی طرف آہستہ آہستہ رجوع کیجیے ۔
صحت بخش غذا لیجیے جس میں پھل اور سبزیاں شامل ہوں
اپنے نظام ہضم پر رحم کیجیے اور جنک فوڈ اور الکحل سے پرہیز کیجیے۔
دوران بیماری اور بیماری کے بعد اسٹریس مینجمنٹ بہت ضروری ہے
ایسی غذا استعمال کیجیے جن میں غذائی اجزا اور ملٹی وٹامنز زیادہ ملیں۔
ورزش بہت ضروری ہے لیکن بیماری کے بعدزیادہ مشقت والی ورزش کی طرف درجہ بدرجہ آئیے۔
قوت مدافعت میں وٹامن سی بہت اہم ہے۔ ایک اور اہم جز اینٹی آکسی ڈینٹ ہیں۔
سانس روکنے کی مشقیں پھیپھڑوں کی صحت کے لیے بہت اہم ہیں خصوصاً عمر رسیدہ افراد اور اوسط سے شدید علامات ظاہر ہونے والے مریضوں کے لیے ۔

کورونا کے بعد ذہنی صحت کی بہتری کے لیے کیا کیِا جائے؟
ہاسپٹل یا قرنطینہ سے چھٹی کے وقت ڈاکٹر سے ضرور ملیے۔
کوویڈ سے صحت یاب ہونے کے بعد دوبارہ چیک اپ ضرور کرائیے ۔
اپنے تمام سوالوں کے جواب ڈاکٹر سے لیجیے۔
ایک بار جب آپ کو یہ یقین ہوجائےکہ اب کورونا کے کوئی جسمانی اثرات باقی نہیں رہے تو یہ آپ کی ذہنی صحت کے لیے بہت اچھا رہتا ہے۔
اکیلے نہ رہیے ، خود کو مصروف رکھیے۔
اپنے خوف اور پریشانی کے بارے میں اپنے خاندان کے افراد اور دوستوں سے بات کیجیے۔
اگر اس سے بھی فرق نہ پرے تو اپنے ڈاکٹر سے بات کریں اور اگر ضروری سمجھیں تو اپنے ماہر نفسیات سے بھی۔
یہ کیفیت عارضی ہے اور آپ صحت یاب ہوجائیں گے۔

Advertisements
julia rana solicitors london

 خلیج ٹائمز

  • julia rana solicitors london
  • merkit.pk
  • julia rana solicitors
  • FaceLore Pakistan Social Media Site
    پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com

خبریں
مکالمہ پر لگنے والی خبریں دیگر زرائع سے لی جاتی ہیں اور مکمل غیرجانبداری سے شائع کی جاتی ہیں۔ کسی خبر کی غلطی کی نشاندہی فورا ایڈیٹر سے کیجئے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply