مظلوم مزدور اور “قومی جدوجہد”۔۔۔ شاداب مرتضٰی

ایک بار پھر یہ ثابت ہو گیا کہ کم از کم پاکستان کا مزدور طبقہ مظلوم نسل پرستوں سے زیادہ مظلوم ہے۔ جس پر مظلوم ظلم کرے، جو مظلوموں کے ہاتھوں ظلم سے مارا جائے اس سے زیادہ مظلوم اور کون ہو گا؟ نسل پرستوں کی بندوق کو ریاست کی بندوق کا سامنا ہے اور پاکستان کے مزدور طبقے کو اپنا پیٹ بھرنے کے لیے ان دونوں کی بندوقوں کا سامنا ہے۔ اگر وہ گولی سے بچے تو بھوکا مرے اور اگر روٹی کمانے کے لیے کام کرے تو گولی کا نشانہ بنے۔ اس کے دونوں طرف موت اس کی منتظر ہے۔ اسے بس یہ انتخاب کرنا ہے کہ وہ بھوکا مرنا پسند کرے گا یا گولی کھا کر مرنا! اگر نسل پرستوں کو اندرونی ریاستی جبر کے ساتھ ساتھ بیرونی ریاستی جبر کا سامنا ہوتا، اگر وہ بیک وقت دو ریاستوں کے جبر کے نشانے پر ہوتے تو ان کی حالت بھی وہی ہوتی جو اس وقت پاکستانی مزدور طبقے کی ہے۔ لیکن پاکستان کا مزدور تب بھی مظلوم نسل پرستوں سے زیادہ مظلوم ہوتا۔ تب یہ تینوں کی بندوقوں کا نشانہ ہوتا۔

بلوچستان میں نسل پرستوں کے ہاتھوں قتل ہونے والے مزدور پنجابی نہیں تھے بلکہ صرف مزدور تھے۔ اگر پنجاب پرستوں کو ان کی موت کا اتنا ہی دکھ ہے تو انہیں چاہیے کہ پنجاب میں پنجابی اشرافیہ کے ہاتھوں پنجابی مزدوروں کے استحصال کے خلاف آواز اٹھائیں۔ اس بات کے خلاف آواز اٹھائیں کہ پنجاب کا مزدور پنجاب میں روٹی کے لیے کیوں ترستا ہے؟ اسے روزگار کے لیے دوسرے صوبوں میں کیوں جانا پڑتا ہے؟ انہیں چاہیے کہ وہ پنجابی اشرافیہ اور بالادست طبقے کی سستی اجرت پر کام کرا کر زیادہ منافع کمانے کے لیے دوسرے علاقوں سے مزدوروں کو لانے اور اپنے علاقے کے مزدوروں کو روزگار نہ دینے کی مزدور دشمن پالیسی کے خلاف آواز اٹھائیں۔ اگر پنجابی مزدور کو واقعی قومی بھائی اور پنجابی قوم کا مساوی حصہ سمجھا جاتا تو پنجابی مزدور اپنے قومی صوبے میں بھوکوں نہ مرتا اور روزگار کے لیے دوسرے علاقوں میں گولیاں نہ کھاتا۔ مزدوروں کی لاشوں پر قوم پرستی کے جھنڈے بلند کرنا حکمران طبقے اور اس کی کاسہ لیس مڈل کلاس کی طبقاتی منافقت سے زیادہ کچھ نہیں۔ مزدور کی کوئی قوم نہیں ہوتی کیونکہ مزدور کا استحصال سب سے پہلے اس کی قوم کا ملکیتی طبقہ، اس کا نام نہاد قومی بھائی کرتا ہے۔ یہ ایک قطعی منافقانہ دلیل ہے کہ چونکہ یہ اعلان کردیا گیا ہے کہ بلوچستان حالتِ جنگ میں ہے اس لیے مزدور بلوچستان میں فوجی تعمیراتی منصوبوں میں کام نہ کریں ورنہ انہیں قتل کر دیا جائے گا، اور سو، اس وجہ سے، بلوچستان میں مزدوروں کا قتل اگرچہ غلط ہے مگر جائز ہے! عجیب بات ہے کہ ایک چیز غلط بھی ہے اور جائز بھی! یہ محض منافقت ہے اور کچھ نہیں۔ یا تو یہ کہیں کہ یہ غلط ہے یا یہ کہیں کہ یہ صحیح ہے۔

جذباتی طور پر مقتول مزدوروں سے ہمدردی کا اظہار کرنا لیکن فکری طور پر ان کے قتل کا دفاع کرنا منافقانہ رویہ ہے۔ کیا مزدوروں کے لیے یہ اعلان کرنے والوں نے اس بات کو یقینی بنا دیا ہے کہ کوئی بھی بلوچ نہ بلوچستان سے باہر کسی صوبے اور علاقے میں کام کرے اور نہ بلوچستان میں فوجی تعمیراتی منصوبوں میں کام کرے؟ اور کیا بلوچستان سے باہر پاکستان کے دوسرے صوبوں اور علاقوں میں کام کرنے والے، رہنے بسنے والے، کاروبار کرنے والے، تعلیم حاصل کرنے والے، وفاقی و صوبائی سطح پر سرکاری یا غیر سرکاری ملازمتیں کرنے والے سب بلوچ باشندوں کو واپس بلوچستان بلا لیا گیا ہے؟ اگر نہیں تو پھر دوسرے صوبوں اور علاقوں کے غیر بلوچ مزدوروں کو بلوچستان میں کام کرنے کا حق کیوں نہیں ہے؟ یہ اعلان کرنے والوں، یہ حق لینے اور دینے والوں کو ایسا کرنے کا حق کس جواز سے ملتا ہے؟ مزدوروں کے لیے یہ اعلان اگر صرف FWO کے تعمیراتی منصوبوں کی حد تک ہے اور بلا تخصیص سب مزدوروں کے لیے ہے تو پھر پرائیوٹ اداروں کے مزدوروں کو اور صرف غیر بلوچ مزدوروں کو کیوں نشانہ بنایا جاتا ہے؟ لسبیلہ میں 2014 میں نیشنل پارٹی کے لیڈر رجب علی رند کے بھائی کے پولٹری فارم پر کام کرنے والے 11 افراد کو اغواء کرنے کے بعد ان میں سے 8 کو جو غیر بلوچ تھے، قتل کردیا گیا۔

مئی میں پیشگان میں بھی صرف غیر بلوچ مزدوروں کو قتل کیا گیا تھا جو پرائیوٹ کمپنی کے لیے صوبائی حکومت کے منصوبے پر کام کر رہے تھے۔ قومی آزادی اور خود مختاری کی جنگیں اس قسم کے دہشت گردانہ، بچکانہ اور احمقانہ نظریوں سے نہیں لڑی جا سکتیں۔ اس قسم کے نظریات و اقدامات سے قوم پرستانہ نرگسیت کی معمولی سی تسکین تو ہو سکتی ہے لیکن اس کے حقیقی اور دور رس نتائج اپنے پیروں پر کلہاڑی مارنے کے مترادف ہیں۔ ظلم سے لڑائی ظالم کے خلاف کی جاتی ہے اور اس میں سب مظلوموں کو ظالم کے خلاف متحد کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس میں مظلوموں کے خون سے اپنی انا کی رجعت پرستانہ تسکین نہیں کی جاتی۔ بلوچستان کی خود مختاری سے مخلص تمام لوگوں کو ان نظریات اور اقدامات کو سختی سے مسترد کردینا چاہیے تاکہ بلوچستان کی خودمختادی کی تحریک توانا ہو، نسل پرستی کے ہاتھوں کمزور نہیں۔

Avatar
شاداب مرتضی
قاری اور لکھاری

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *