جازان میں سعودی محنت کش خاتون کا نجی عجائب گھر۔۔منصور ندیم

SHOPPING
SHOPPING

اُم یحییٰ ایک محنت کش خاتون ہیں، ان کا تعلق سعودی عرب کے جنوب مغرب صوبہ جازان  سےہے، یہاں کے ایک علاقے ھروب سے تعلق رکھنے والی سعودی خاتون ’ام یحییٰ‘ تقریبا 20 برس سے خواتین کا میوزیم جو انہوں نے ذاتی شوق میں قائم کیا ہوا ہے۔ ام یحییٰ نے میوزیم میں اپنے مقامی علاقے کی خواتین کے تاریخی ملبوسات اور آرائش کا سامان نمائش کے لیے رکھا ہواہے۔

ماضی میں ھروب کی خواتین پرانے طرز کے کپڑے اور روایتی انداز کا میک اپ کیا کرتی تھیں۔ جدید ملبوسات اور میک اپ کی نئی پرکشش اشیا کے رواج کے بعد یہ سب کچھ یہاں بھی ماضی کا قصہ بن گیا ہے۔ ام یحیی نے 20 برس سے اپنے گھر کے ایک کمرے میں زنانہ تاریخی اشیا جمع کرنی شروع کی تھیں بالآخر کئی سال بعد وہ اسے ایک لیڈیز میوزیم کی شکل دے پائی اور اب میوزیم بنانے ہوئے تقریبا ً چھ سال ہو گئے ہیں۔

ام یحیی نے میوزیم میں قدیم زنانہ ملبوسات اور آرائشی اشیا اور ماضی میں گھریلو خواتین مختلف اشیا جیسے ماضی میں کھانے محفوظ کرنے والا نعمت خانہ، خوشبویات اور بخور والا سامان، ماضی قدیم میں وہاں کی خواتین قہوہ، چھوٹی الائچی، ادرک اور مصالحہ جات خاص قسم کے برتنوں میں محفوظ کیا کرتی تھیں۔ باورچی خانے میں پکوان کے مختلف برتن تھے جو اب وقت کی جدت کی وجہ سے استعمال نہیں ہوتے ہیں۔ یہ اپنے گھر میں جمع کر لیے اور انہیں میوزیم کی شکل دے دی۔

اُم یحیی کا اپنا پیشہ کھالیں صاف کرنے کا ہے۔ انہوں نے کھالیں صاف کرکے  بھی کئی تاریخی تحفے تیار کیے اور انہیں بھی اپنے عجائب گھر کی زینت بنایا ہے۔اُم یحیی خود کھال سے گوشت ہٹا کرکھال کی صفائی کرتی ہیں اور یہ کام ایک تا دو ماہ میں مکمل ہوتا ہے۔ کھال میں نمک ملایا جاتا ہے۔ایک عرصے سے ھروب میں ’الحذق‘ نامی پودے کا پھل صفائی میں استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ پھل لیموں جیسا ہوتا ہے اسے پیسنے کے بعد کھال پر ڈالا جاتا ہے۔ اس سے کھال کی صفائی میں بڑی مدد ملتی ہے۔

SHOPPING

ام یحییٰ کی آج یہ کامیابی ہے کہ ان کے عجائب گھر کو دیکھنے کے لیے نہ صرف یہ کہ سعودی عرب کے باشندے آتے ہیں بلکہ غیرملکی سیاح بھی اس کا رخ کررہے ہیں۔ ان کی آرزو ہے کہ آگے چل کر یہ مزید وسیع ہوجائے۔ ہر گزرتے دن کے بعد آنے والے سیاحوں کی تعداد   بڑھ رہی ہے۔

SHOPPING

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *