• صفحہ اول
  • /
  • ناول
  • /
  • گنگا میّا۔۔بھیرو پرسادگپت(1)۔۔ہندی سے ترجمہ :عامر صدیقی

گنگا میّا۔۔بھیرو پرسادگپت(1)۔۔ہندی سے ترجمہ :عامر صدیقی

ایک

اس دن صبح گوپی چندکی بیوہ بھابھی گھر سے لاپتہ ہو گئی، تو محلے کے لوگوں نے مل کر یہی فیصلہ کیا کہ یہ بات اپنوں میں ہی دبا دی جائے، کسی کو کانوں کان خبر نہ ہو۔ ان لوگوں نے ایسا کیا بھی، لیکن نجانے کیسے کیا ہوا کہ گوپی چندکے دروازے پرحلقے کا داروغہ، ایک پولیس والے اور چوکیدار کے ساتھ نتھنے پھلاتا، آنکھوں میں شک بھرکر کے آن دھمکا۔ اس وقت ان لوگوں کی حالت کچھ ویسی ہی ہو گئی، جیسی ایک چور کی نقب پر ہی پکڑے جانے پر ہوتی ہے۔

julia rana solicitors

داروغہ نے تیکھی نظروں سے اکٹھے ہوئے محلے کے لوگوں کو دیکھ کر ایک تاؤ کھایا اور پیترا بدلا اور پولیس والے کی طرف اشارہ کرکے گرج دار آواز میں بولا،’’سب کے ہاتھوں میں ہتھکڑیاں کس دو!‘‘ پھر چوکیدار کی طرف مڑکر کہا،’’تم ذرا مکھیا کو تو خبر کر دو۔‘‘یہ کہہ کر وہ آگ اُگلتی آنکھوں سے ایک بار لوگوں کی طرف دیکھ کر چارپائی پر دھم سے بیٹھ گیا۔ اس وقت اس کی ڈنک سی مونچھیں کانپ رہی تھیں۔

لوگوں کو تو جیسے لقوہ مار گیا ہو۔ سب کے سب سر جھکائے ہوئے ،لکڑی کے پتلوں کی طرح گم صم کھڑے رہے۔ کسی کے منہ سے ایک لفظ نہ پھوٹا۔ پھوٹتا بھی کیسے؟ پولیس والے نے باری باری سب کے ہاتھوں میں ہتھکڑیاں کس کر، انہیں داروغہ کے سامنے لا کر زمین پرجو بٹھایاتھا۔

گاؤں کے لوگوں کی بھیڑ وہاں جمع ہو گئی۔ گوپی چندکی بوڑھی ماں جو اب تک مصلحتاً چپ سادھے ہوئے تھی، دروازے پر ہی بیٹھ کر زور زور سے چیخیں مارکر رو نے لگی۔ پتہ نہیں کہاں سے اس کے دل میں اپنی بیوہ بہو کے لئے اچانک محبت اُمڈ پڑی۔ گوپی چندکا بوڑھا باپ جو برسوں سے گٹھیا کا دائمی مریض ہونے کی وجہ سے چلنے پھرنے سے قطعی مجبور تھا اوربرآمدے کے ایک کونے میں پڑا پڑا کراہ رہا تھا، باہر مچے شور شرابے اور اپنی عورت کا رونا سن کر اٹھ بیٹھا اور کھانسنے کھنکھارنے لگا کہ کوئی اس اپاہج کے پاس بھی آکر بتا جائے کہ آخر معاملہ کیا ہے۔

گوپی چندگاؤں کا ایک معتبر کسان تھا۔ بھگوان نے اسے جسم بھی خوب دیا تھا۔ تیس سال کا یہ کڑیل جوان اپنے سامنے کسی کو کچھ نہیں سمجھتا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ اتنا کچھ ہونے پر بھی جمع ہوئی بھیڑ میں سے کوئی اس کے خلاف کچھ کہنے کی ہمت نہ کر رہا تھا۔ اسے ہتھکڑی پہنے، سر جھکائے، خاموشی سے بیٹھے دیکھ کر لوگوں کو حیرانگی ہو رہی تھی کہ وہ کچھ کیوں نہیں بول رہا ہے؟ آخر اس میں اس کا دوش ہی کیا ہو سکتا ہے؟ کسی بیوہ کے لئے راجپوتوں کے اس گاؤں میں یہ کوئی نئی بات تو ہے نہیں۔ کتنی ہی بیواؤں کے نام ان کے ہونٹوں پر ہیں، جو یا توبگڑکر منہ کالا کر گئیں، یا کسی دن اچانک لاپتہ ہو گئیں، یا کسی کنوئیں،تالاب کی نذرہو گئیں۔ لیکن جو بھی ہو، اس کے گھر کی بہو تھی، عزت تھی، اس طرح لاپتہ ہوکر اس نے برادری کی عزت پر تو بٹہ لگا ہی دیا۔ شاید اسی شرمندگی کے دکھ کی وجہ سے وہ اس طرح خاموش ہے۔ ہونا بھی چاہیے، عزت دار آدمی جو ٹھہرا!

عام اور غریب آدمیوں سے الجھنا پولیس اہلکار ناپسند کرتے ہیں۔ بہت ہوا تو اس طرح کی وارداتوں پر ایک آدھ تھپڑ لگا دیا، کچھ ڈانٹ پھٹکار دیا یا گالی گفتار کی ایک بوچھاڑ چھوڑ دی۔ وہ جانتے ہیں کہ ان سے الجھنا اپنا وقت برباد کرنا ہے، ہاتھ تو کچھ لگے گا نہیں۔ پھر گناہ بے لذت کا عذاب سر پر کیوں لیں؟ جان بوجھ کر معمولی سے معمولی بہانے پر بھی الجھنا انہیں پیسے والے عزت د اروں سے پسند ہے۔ داروغہ جی نے گوپی چندکے اس معاملے میں جو اتنی پھرتی، پریشانی اورفرض شناسی کا ثبوت دیا، تو انہیں کسی کتے نے تو کاٹا نہیں تھا۔

مکھیا کے آتے ہی داروغہ آگ کے بھبھوکے کی طرح پھٹ پڑا۔ پھر اس نے کیا کیا کہا، کیسی کیسی آنکھیں دکھائیں، کیا کیا  پینترے  بدلے اور کیا کچھ کر ڈالنے کی دھمکیاں ہی نہیں دیں، بلکہ کر دکھانے کے فتوے بھی دے ڈالے، اس کا کوئی حساب نہیں۔ مکھیا ہونٹوں میں  ہی مسکرایا، پھر سنجیدہ ہوکر اس نے وہ سب مکمل کر ڈالا، جو داروغہ نے بھول سے نامکمل چھوڑ دیا تھا۔ پھر گوپی چنداور اس محلے کے ملزم لوگوں کو کچھ کھری کھوٹی سنا کر آپ ہی ان کا وکیل بھی بن گیا اور ان کی جانب سے معافی مانگنے کے ساتھ ساتھ کچھ پان پھول بھینٹ کرنے کی بات چلا کر کہا،’’داروغہ جی،یہ گوپی چندنہ تو ایک بار جیل کی ہوا کھا کر بھی جیسے کچھ نہیں سیکھا! یہ ایک بار پھر جیل جائے گا، داروغہ جی، آخر ہم کب تک اسے بچائے رکھیں گے؟ اسے یہ بھی معلوم نہیں کہ ایک بار داغ لگ جانے کے بعد پھر گواہی شہادت کی بھی ضرورت نہیں رہ جاتی!‘‘ پھر دوسرے لوگوں کی طرف ہاتھ اٹھا کر کہا،’’اور ان کو میں کہتا ہوں کہ اس کے ساتھ ساتھ انہیں بھی بڑے گھر کی سیر کا شوق چرایا ہے!‘‘

اسی درمیان داروغہ اپنا نیا داؤ پھینکنے کیلئے اپنے تاثرات اسکے موافق بنانے میں کافی کامیاب رہا۔ مکھیا کے خاموش ہوتے ہی وہ برس پڑا،’’نہیں، صاحب، نہیں! یہ ایسی ویسی کوئی واردات ہوتی تو کوئی بات نہ تھی۔ مگر یہ سنگین معاملہ ہے! آخر مجھے بھی تو کسی کے سامنے جوابدہ ہونا پڑتا ہے!‘‘ یہ کہہ کر وہ اینٹھ گیا۔

مکھیا سمجھ گیا،’’ کھگ جانے کھگ ہی کی بھاشا‘‘ہاتھ بڑھا کر اس نے داروغہ کا ہاتھ پکڑا اور اسے لے کر ایک طرف ہو گیا۔

دس منٹ کے بعد وہ واپس آئے، تو داروغہ نے نوٹ بک اور پنسل جیب سے نکال کر کہا،’’ گوپی چند، تم اپنا بیان تو دو۔‘‘پھر بھیڑ کی طرف دیکھ کر پولیس والے کی طرف اشارہ کیا۔

بھیڑ بھگا دی گئی۔ پھر گوپی چندکے بیان دیے بغیر ہی داروغہ نے خود ہی خانہ پری کرلی، واردات میں لاپتہ بیوہ کے ایک ہاتھ میں رسی اور دوسرے ہاتھ گھڑا تھماکرکنویں پر بھیج دیا گیا اور اس کا پاؤں کائی جمے کنوئیں کی منڈیر پر پھسلاکر، کنویں میں گرا کر، اسے مار ڈالا گیا۔ ادھر گوپی چندکی تھیلی کا منہ کھلا، ادھر قانون کا منہ بند ہو گیا۔

کہانی ختم ہو گئی۔

گاؤں میں طرح طرح کی باتیں اٹھیں۔ پھر’’بہت سی خوبیاں تھیں مرنے والے میں‘‘ کے مصداق لوگوں نے اسکے بارے میں کوئی بحث ومباحثہ کرکے اس کی روح کو بیکار تکلیف پہنچانا غیر مناسب سمجھا اور اپنے منہ بند کر دیئے۔ بات آئی گئی ہو گئی۔ لیکن ۔۔۔

دو

گوپی چنددو بھائی تھے۔ بڑے بھائی مانک چنداور اس کی عمر میں مشکل سے دو سال کا فرق تھا۔ پِتا دو بیلوں کی کھیتی کراتے تھے۔ گھر کی بھینس تھی۔ مانک چنداور گوپی چندبھینس کا دودھ پیتے اور گھنٹوں اکھاڑے میں جمے رہتے۔ پِتا نے انہیں سانڈو ں کی طرح آزاد اور بے فکر چھوڑ دیا تھا۔ کھیلنے کھانے کے یہی تو دن ہیں، پھر زندگی کابوجھ کندھے پر پڑنے کے بعد کسے فرصت ملتی ہے جسم بنانے کی؟ اسی وقت کابنا بدن تو زندگی بھر کام آئے گا۔

بڑھتے ہوئے جوانوں کو آزادی، بے فکری، دودھ اور اکھاڑے کی کسرت ملی تو ان کے بدن سانچے میں ڈھلنے لگے۔ ان کی جوڑی جب اکھاڑے میں اترتی تو لوگ تماشا دیکھتے اور بڑائی کرتے نہ تھکتے۔ جب اکھاڑے سے اپنے سڈول، خوبصورت جسم میں دھول رمائے وہ شیروں کی طرح مست چالوں سے جھومتے ہوئے گھر لوٹتے تو اپنی رام لکشمن کی جوڑی کو دیکھ ماں باپ کی چھاتی پھول اٹھتی، چہرے خوشی کے مارے دمک اٹھتے اور ان کی آنکھوں سے جیسے فخر کے دودیپ جل اٹھتے۔ ماں اس کی بلائیں لیتی، باپ دل ہی دل میں ان کیلئے جانے کتنی شبھ کامنائیں کرتے!

بڑائی جتنی مدھر ہے، اس کا چسکا لگ جانا اتنا ہی برا ہے۔ وہ آدمی کو اندھا بنا دیتی ہے! دونوں بھائیوں کے گھڑے بنے بدن اور ان کی قوت کی بڑائی گاؤں اور آس پاس کے علاقے میں جو شروع ہوئی، تو ان پر جیسے ایک نشہ سا چھا گیا۔ کھیل کھیل میں جو کسرت انہوں نے شروع کی تھی، وہ آہستہ آہستہ ان کا شوق بن گئی۔ پھر تو جیسے جسم بنانے اور طاقت بڑھانے کی زبردست دھن ان کے سر پر چڑھ گئی۔ ماں باپ اور گاؤں کے لوگوں کا بڑھاوا ملا۔ مانک اور گوپی کی جوڑی گاؤں کا نام جوار میں اجاگر کرے گی! اور حقیقاً مانک اور گوپی گاؤں کی شہرت میں چار چاند لگانے کو جی جان سے پابندِ عہد ہو گئے۔ بادام گھوٹے جانے لگے، بکرے کٹنے لگے، گھی میں تر حلوے کی خوشبو محلے میں صبح شام چھائی رہنے لگی۔ پِتا اپنی گاڑھی کمائی ان پر نچھاور کرنے لگے۔ ایک اور دودھ دینے والے بھینس کھونٹے پر آ بندھی۔

نتیجہ یہ ہوا کہ عمر سے دوگنی اور تگنی رفتار سے ان کے جسم مزیدزور سے  بڑھنے لگا اور پچیس کا ماتھا چھوتے چھوتے تو ان کا جسم اورزور اچھاخاصا ہاتھی کی طرح ہو گیا۔ اب جو وہ اکھاڑے میں اترتے، تو ان کی سانسوں کی پھنکار کی آواز بیگھوں تک سنائی پڑتی، جیسے دو سانڈ لڑ رہے ہوں۔ جہاں ان کا پاؤں پڑ جاتا، اکھاڑے کی زمین بالشت بالشت بھر دھنس جاتی اور جو کوئی اپنی ران یا بازو پر تال ٹھونکتا، تو معلوم ہوتا، جیسے کوئی بادل کا ٹکڑا دوسرے بادل کے ٹکڑے سے ٹکراکر گرج اٹھا ہو۔ گھنٹوں وہ دو پہاڑوں کی طرح ایک دوسرے سے ٹکر لیتے اور اکھاڑے میں جمے رہتے۔ اکھاڑے کی مٹی کھد جاتی، پسینے کی دھاریں بہنے لگتیں، تب کہیں وہ باہر نکلنے کا نام لیتے۔ باہر آکر وہ ہاتھیوں کی طرح پھیل جاتے اور ان کے دو دو، تین تین شاگرد ہاتھوں میں مٹی لے لے کر ان کے جسم سے بہتے پسینے کی دھارو ں کو مل مل کر گھنٹوں میں سکھا پاتے۔

اب حال یہ تھا کہ جسم بے قابو ہوا جا رہا تھا، بے پناہ طاقت کی کرنیں انکے روم روم میں پھوٹ رہی تھیں، موٹی رگیں حد درجے تک صحت مند خون سے پھول پھول کر ابھی پھٹیں کہ تب پھٹیں کی مصداق ہو رہی تھیں اورسرخ چہرے سے جیسے خون ٹپکا پڑ رہا ہو۔ بلندپیشانیاں، رعب دار، خون اگلتی سی آنکھیں، بانکی مونچھیں، سڈول گردنیں، اونچی، چوڑی چکلی، میدان کی طرح کی چھاتیاں، مضبوط بازو،کسرتی رانیں، گٹھیلی پنڈلیاں لئے، احتیاط سے جسم کو جانچتے، طاقت اور فخر کے نشے میں مست ہاتھی کی طرح جھومتے، جب وہ چلتے، تو لگتا، جیسے ان کے ہر قدم کے ساتھ زلزلہ چلا آ رہا ہے، ان کی ہرحرکت پرراستے جھکے جا رہے ہیں، ان کی ہرتیوری میں طاقت کی بجلیاں کوند اٹھتی ہیں۔ ماں باپ نے جب انہیں ایسے اعلی درجے کی حالت میں دیکھا، تو فخر اور خوشی سے پھولے نہ سمائے۔ گاؤں والوں نے دیکھا، تو آنکھوں میں خوشی کی چمک اور ہونٹوں پر کامیابی کی مسکراہٹ لا کر کہا،’’ہاں، اب وہ وقت آ گیا، جس کا انتظار ہمیں برسوں سے تھا۔ اب دیکھیں، کون مائی کا لال ہمارے گاؤں کے ان شیروں کے جوڑے کے سامنے سے سر اٹھا کر چلا جاتا ہے۔‘‘

باپ سے رائے لی گئی، تو انہوں نے لاپرواہی سے کہا،’’ارے، ابھی تو یہ بچے ہیں!‘‘

لوگوں نے سمجھایا،’’تم باپ ہو۔ باپ کے لئے تو بیٹا بوڑھا بھی ہو جائے، تب بھی بچہ ہی رہتا ہے۔ مگر سچ تو یہ ہے کہ چڑھتی جوانی کی عمر ہی کچھ کر گزرنے کی ہوتی ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ان کی قوت، زور اور کشتی کا ڈنکا گاؤں کی حدود میں ہی بندھا نہ رہ جائے بلکہ پورے جوار، تحصیل اور ضلع میں ہی نہ بجے، بلکہ پورے صوبے اور ملک میں بھی ان کا نام چمک اٹھے۔تم اگر اس وقت کسی طرح کی کمزوری دکھائو گے ، تو ان کے حوصلے پست ہو جائیں گے۔ تم انہیں خوشی سے حکم دو کہ یہ اپنے نام اورسب کی مان پر چار چاند لگانے کے ساتھ ہی گاؤں کا نام بھی روشن کریں!‘‘

باپ کو اپنے بیٹوں کی طاقت کا اندازہ نہ ہو، ایسی بات نہ تھی۔ لیکن ان کے پدری دل میں جہاں بیٹوں کوکامیاب دیکھنے کی غالب خواہش اور امنگ تھی، وہیں ممتا اور پیار کی فراوانی کی وجہ سے ذرا شک اور خوف بھی تھا کہ کہیں ۔۔۔لوگوں کی بات سن کر ان کے ہونٹوں پر ایک گریزاں سی مسکراہٹ پھیل گئی، جیسے انہیں اپنے نام اورمان کی قطعی فکر نہ ہو۔ نام، مان،شہرت، شان کی خواہش کسے نہیں ہوتی! لیکن یہ خواہش دوسروں پر ظاہر کرکے ان نایاب درجوں کی عظمت کو کم کر کے کوئی ذہین خود کو لالچی ثابت کرکے مضحکہ خیز نہیں بننا چاہتا۔ باپ تجربہ کار آدمی تھے۔ انہوں نے دل کی اٹھتی امنگوں کو دباکر کسی متاسف انسان کی طرح کہا،’’اگر تم لوگ ایسا ہی سمجھتے ہو، تو میں اس میں کسی طرح کی رکاوٹ ڈالنا نہیں چاہتا۔ آخر ان پر گاؤں کا بھی تو وہی حق ہے، جو میرا ہے۔ گاؤں کی ہی مٹی، پانی،ہوا سے تو ان کا بدن بنا ہے۔ تم لوگ انہی سے کہو۔ اب تک وہ ہر طرح سے آزاد رہے۔ آج بھی وہ جیسا چاہیں، کرنے کوخود مختار ہیں۔‘‘

لوگ خوشی خوشی دونوں بھائیوں کے پاس پہنچے اور انکے پِتا کی اجازت کی بات بتا کر انہوں نے کہا،’’اب تم لوگ بتاؤ، تم میں سے کون پہلے کشتی میں اترنا چاہتا ہے؟‘‘

وہ دونوں اکھاڑے میں ایک دوسرے کے دشمن بن کر اترتے تھے، لیکن اکھاڑے کے باہر ان کا باہمی برتاؤ اتنا محبت بھرا تھا کہ بس رام لکشمن کی ہی مثال دی جا سکتی تھی۔ گوپی نے کہا،’’میرے ہوتے بھیا کو کشتی میں نہیں اترنا پڑے گا۔ بابوجی اور بھیا کی شبھ کامنائیں اور آشیرواد کی طاقت حاصل کرنے کا حق مجھے ہی تو بھگوان کی جانب سے ملا ہے!‘‘

مان، گوپی سے عمر میں بڑا تھا، لیکن جسم اور طاقت میں گوپی ،مانک ے کہیں زیادہ تھا، یہ خود مانک بھی جانتا تھا اور گاؤں کے لوگ بھی۔ ایک طرح سے گوپی کے پہلے اترنے کی بات سے لوگوں کو بھی خوشی ہی ہوئی۔

بہترین ساعت دیکھ کربرہمن اور نائی کے ساتھ للکار کا پان،جوار کے نامی گرامی پہلوانوں کے پاس بھیج دیا گیا۔ ادھر گوپی کی تیاریاں مزید زور پکڑ گئیں۔

مانک اور گوپی کے بارے میں جوار کے پہلوان بہت کچھ سن ہی نہیں چکے تھے، بلکہ انہیں اپنی آنکھوں سے دیکھ بھی چکے تھے۔ ان میں سے کسی کو بھی ان سے بھڑنے کی ہمت نہیں رہ گئی تھی۔ برہمن اور نائی ایک ایک کر کے تمام پہلوانوں کے یہاں پہنچے۔ لیکن سب کوئی نہ کوئی بہانہ کرکے ٹال گئے۔ آخر وہ جوار کے سب سے نامی بوڑھے جوکھو پہلوان کے اکھاڑے میں پہنچے۔ جوکھو کو جب ان سے معلوم ہوا کہ جوار کا کوئی بھی پہلوان پان کو ہاتھ لگانے کی ہمت نہ کر سکا، تو اس کے حیرت کا ٹھکانا نہ رہا۔ زیادہ تر نامی پہلوان جوکھو کا لوہا ماننے والے یا اسکے شاگرد تھے۔ اپنی جوانی کے دنوں میں اس نے ایک بار جو اپنا سکہ جما لیا تھا، وہ آج کے دن تک ویسا ہی جما رہا تھا۔ کسی نے اس سے بھڑنے کی ہمت نہیں کی تھی۔ اسی کی طوطی جوار میں آج تک بولتی رہی۔ آج اب وہ جوانی کے دن نہ رہے۔ جوکھو بوڑھا ہو چکا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ گوپی کے مقابلے میں اٹھ کر وہ اپنی عمر بھر کی ساری کمائی کیرتی ہمیشہ کے لئے کھو دے گا۔ لیکن اب چارہ ہی کیا تھا؟ برہمن اور نائی سبھی نامی گرامی پہلوانوں کے یہاں سے، شیام کرن گھوڑے کی طرح، گوپی کی کیرتی کا پھریرا لہراتے ہوئے چلے آئے تھے۔ جوکھو کے یہاں سے بھی اگر اسی طرح چلے جائیں گے، تو لوگ کیا سمجھیں گے؟ بوڑھا شیر اس بے عزتی کی بات سوچ کر تمتما اٹھا! اس کی مردانگی کو یہ کیسے گوارا ہوتا کہ کوئی للکار کر اس کے سامنے سے نکل جائے؟ جوکھو بوڑھا ہو گیا ہے۔ اب وہ جسم اورزور نہیں رہ گیا۔ پھر بھی پرانے خون کا وہ مرد ہے، سچا مرد! یوں للکار کو قبول کئے بغیر ہی بزدلوں کی طرح پہلے ہی وہ کیسے سر جھکا دیتا؟ اس نے پان اٹھا لیا اور گرج کر، بجرنگ بلی کی جے ہو،بول کر اسے منہ میں ڈال لیا۔

لوگوں نے جب یہ سنا تو حیرت کے ساتھ ہی وہ بوڑھے جوکھو کی مردانگی اور ہمت کی داد دیئے بغیر نہیں رہ سکے۔ ان کے منہ سے اچانک ہی نکل پڑا کہ جوار کے جوان پہلوانوں کو چلو بھر پانی میں ڈوب مرنا چاہئے! گوپی نے جب یہ سنا، تو جیسے چھوٹا ہو گیا۔ اپنے باپ کی عمر کے پہلوان سے لڑنا اسے کچھ جچا نہیں۔ وہ تو اپنی عمرکے کسی پہلوان سے بھڑنا چاہتا تھا۔ لیکن اب ہو ہی کیا سکتا تھا؟ ایک بار بدکر کچھ اور کیا ہی کیسے جا سکتا تھا۔

مقررہ تاریخ پر گاؤں کا اکھاڑہ، نواڑ اشوک کے پتوں کے پھاٹکوں اور رنگ برنگی کاغذ کی جھنڈیوں سے خوب سجایا گیا۔ وقت سے بہت پہلے ہی سے جوار اور دور دور کے گاؤں کے لوگوں کی بھیڑ جمنے لگی۔

ماں باپ کی آشیرواد لے کر پھولوں کے ہاروں سے لدے ہوئے دونوں بھائی ،باجے گاجے کے ساتھ اپنے گاؤں کے لوگوں کے ہجوم کے آگے آگے اکھاڑے کی طرف چل پڑے۔ بھیڑ جوش میں بائولی ہوکر بجرنگ بلی کی جے جے کار سے آسمان سر پر اٹھائے ہوئے تھی۔ لیکن گوپی کے دل میں وہ خوشی، جوش ،جذبہ اور امنگ نہ تھی، جس کی اس نے کبھی ایسا موقع آنے پر خواہش کی تھی۔ پھر بھی دل کی بات دبائے وہ اوپری جوش سے بھیڑ کی خوشی میں حصہ لے رہا تھا۔

Advertisements
julia rana solicitors london

جاری ہے

  • julia rana solicitors
  • merkit.pk
  • julia rana solicitors london

عامر صدیقی
لکھاری،ترجمہ نگار،افسانہ نگار،محقق۔۔۔ / مائکرو فکشنسٹ / مترجم/شاعر۔ پیدائش ۲۰ نومبر ۱۹۷۱ ؁ ء بمقام سکھر ، سندھ۔تعلیمی قابلیت ماسٹر، ابتدائی تعلیم سینٹ سیوئر سکھر،بعد ازاں کراچی سے حاصل کی، ادبی سفر کا آغاز ۱۹۹۲ ء ؁ میں اپنے ہی جاری کردہ رسالے سے کیا۔ ہندوپاک کے بیشتر رسائل میں تخلیقات کی اشاعت۔ آپ کا افسانوی مجموعہ اور شعری مجموعہ زیر ترتیب ہیں۔ علاوہ ازیں دیگرتراجم و مرتبہ نگارشات کی فہرست مندرجہ ذیل ہے : ۱۔ فرار (ہندی ناولٹ)۔۔۔رنجن گوسوامی ۲ ۔ ناٹ ایکیول ٹو لو(ہندی تجرباتی ناول)۔۔۔ سورج پرکاش ۳۔عباس سارنگ کی مختصرسندھی کہانیاں۔۔۔ ترجمہ: س ب کھوسو، (انتخاب و ترتیب) ۴۔کوکلا شاستر (ہندی کہانیوں کا مجموعہ ) ۔۔۔ سندیپ میل ۵۔آخری گیت اور دیگر افسانے۔۔۔ نینا پال۔۔۔۔ (انتخاب و ترجمہ) ۶ ۔ دیوی نانگرانی کی منتخب غزلیں۔۔۔( انتخاب/ اسکرپٹ کی تبدیلی) ۷۔ لالٹین(ہندی ناولٹ)۔۔۔ رام پرکاش اننت ۸۔دوڑ (ہندی ناولٹ)۔۔۔ ممتا کالیا ۹۔ دوجی میرا (ہندی کہانیوں کا مجموعہ ) ۔۔۔ سندیپ میل ۱۰ ۔سترہ رانڈے روڈ (ہندی ناول)۔۔۔ رویندر کالیا ۱۱۔ پچاس کی دہائی کی بہترین ہندی کہانیاں(۱۹۵۰ء تا ۱۹۶۰ء) ۔۔۔۔(انتخاب و ترجمہ) ۱۲۔ ساٹھ کی دہائی کی بہترین ہندی کہانیاں(۱۹۶۰ء تا ۱۹۷۰ء) ۔۔۔۔(انتخاب و ترجمہ) ۱۳۔ موہن راکیش کی بہترین کہانیاں (انتخاب و ترجمہ) ۱۴۔ دس سندھی کہانیاں۔۔۔۔ (انتخاب و ترجمہ) ۱۵۔ قصہ کوتاہ(ہندی ناول)۔۔۔اشوک اسفل ۱۶۔ ہند کہانی ۔۔۔۔جلد ایک ۔۔۔۔ (انتخاب و ترجمہ) ۱۷۔ ہند کہانی ۔۔۔۔جلد دوم۔۔۔۔ (انتخاب و ترجمہ) ۱۸۔ ہند کہانی ۔۔۔۔جلد سوم ۔۔۔۔ (انتخاب و ترجمہ) ۱۹۔ہند کہانی ۔۔۔۔جلد چہارم ۔۔۔۔ (انتخاب و ترجمہ) ۲۰۔ گنگا میا (ہندی ناول)۔۔۔ بھیرو پرساد گپتا ۲۱۔ پہچان (ہندی ناول)۔۔۔ انور سہیل ۲۲۔ سورج کا ساتواں گھوڑا(مختصرہندی ناول)۔۔۔ دھرم ویر بھارتی ۳۲ ۔بہترین سندھی کہانیاں۔۔۔ حصہ اول۔۔۔۔ (انتخاب و ترجمہ) ۲۴۔بہترین سندھی کہانیاں ۔۔۔ حصہ دوم۔۔۔۔ (انتخاب و ترجمہ) ۲۵۔سب رنگ۔۔۔۔ حصہ اول۔۔۔۔(مختلف زبانوں کی منتخب کہانیاں) ۲۶۔ سب رنگ۔۔۔۔ حصہ دوم۔۔۔۔(مختلف زبانوں کی منتخب کہانیاں) ۲۷۔ سب رنگ۔۔۔۔ حصہ سوم۔۔۔۔(مختلف زبانوں کی منتخب کہانیاں) ۲۸۔ دیس بیرانا(ہندی ناول)۔۔۔ سورج پرکاش ۲۹۔انورسہیل کی منتخب کہانیاں۔۔۔۔ (انتخاب و ترجمہ) ۳۰۔ تقسیم کہانی۔۔۔۔حصہ اول۔۔۔۔(انتخاب و ترجمہ) ۳۱۔سورج پرکاش کی کہانیاں۔۔۔۔(انتخاب و ترجمہ) ۳۲۔ذکیہ زبیری کی بہترین کہانیاں(انتخاب و ترجمہ) ۳۳۔سوشانت سپریہ کی کہانیاں۔۔۔۔(انتخاب و ترجمہ) ۳۴۔منتخب پنجابی کہانیاں ۔۔۔۔حصہ اول۔۔۔۔(انتخاب و ترجمہ) ۳۵۔منتخب پنجابی کہانیاں ۔۔۔۔حصہ دوم۔۔۔۔(انتخاب و ترجمہ) ۳۶۔ سوال ابھی باقی ہے (کہانی مجموعہ)۔۔۔راکیش بھرامر ۳۷۔شوکت حسین شورو کی سندھی کہانیاں۔حصہ اول۔۔۔۔(انتخاب و ترجمہ) ۳۸۔شوکت حسین شورو کی سندھی کہانیاں۔حصہ دوم۔۔۔۔(انتخاب و ترجمہ) ۳۹۔شوکت حسین شورو کی سندھی کہانیاں۔حصہ سوم۔۔۔۔(انتخاب و ترجمہ) تقسیم کہانی۔ حصہ دوم(زیرترتیب ) گناہوں کا دیوتا(زیرترتیب ) منتخب پنجابی کہانیاں حصہ سوم(زیرترتیب ) منتخب سندھی کہانیاں حصہ سوم(زیرترتیب ) کبیر کی کہانیاں(زیرترتیب )

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply