• صفحہ اول
  • /
  • خبریں
  • /
  • پراسرار مقام جہاں بھاری بھرکم پتھر خود حرکت کرتے ہیں

پراسرار مقام جہاں بھاری بھرکم پتھر خود حرکت کرتے ہیں

لاس اینجلس: امریکی ریاست کیلیفورنیا میں ایک ایسا مقام بھی ہے جہاں پتھر خود بخود حرکت کرتے ہوئے آگے بڑھتے ہیں۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق کیلیفورنیا میں ایک ایسی جگہ بھی ہے جس کا نام ڈیتھ ویلی نیشنل پارک رکھا گیا ہے جہاں پتھر اپنی جگہ سے خود بخود سرکتے ہوئے نظر آتے ہیں۔

tripako tours pakistan

دنیا کے اس خشک ترین مقام میں ایک جھیل کی خشک تہہ میں ایسا ہوتا ہے جسے ریس ٹریک پلایا کا نام بھی دیا گیا ہے۔ ریس ٹریک کی خشک سطح پہ بے جان پتھر خود بخود سرکتے ہیں جس سے ان کے پیچھے ایک ٹریک بن جاتا ہے۔

ان چٹانی پتھروں کا وزن کئی بار 200 کلو گرام سے بھی زیادہ ہوتا ہے اور یہ ایک منٹ میں 15 فٹ سے زیادہ سرک سکتے ہیں، اکثر یہ اپنی جگہ سے کئی کلومیٹر دور تک چلے جاتے ہیں۔ مگر سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ کسی انسان نے ان پتھروں کو حرکت کرتے نہیں دیکھا یعنی اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا البتہ انہیں 2014 میں ٹائم لیپس فوٹوگرافی کی مدد سے ضرور حرکت کرتے ہوئے پکڑا گیا ہے اور اس وقت اس حیران کن معمے کی ممکنہ وجہ بھی سامنے آئی۔

2014 میں 2 سائنسدانوں نے بتایا تھا کہ کئی بار یہ بھاری اور بڑے پتھر برف کی پتلی مگر شفاف تہہ میں سورج والے دنوں میں سرکتے ہیں، جسے انہوں نے آئس شوو کا نام دیا۔

سائنسدان جیمز نورس نے اس موقع پر بتایا تھا کہ ہم یہ دیکھ کر دنگ رہ گئے تھے کہ دنیا کا وہ مقام جہاں سال بھر میں اوسطاً محض 2 انچ بارش ہوتی ہے، چٹانی پتھر اس طرح سرکتے ہیں جیسے عموماً آرکٹک کے خطے میں نظر آتا ہے۔

انہوں نے یہ دریافت حادثاتی طور پر کی تھی، ویسے یہ ان پتھروں کی حرکت کی ہی جانچ پڑتال کررہے تھے مگر انہوں نے ان چٹانوں کو دسمبر میں اس وقت متحرک دیکھا جب وہ وہاں موجود اپنے ٹائم لیپس کیمروں کو چیک کرنے گئے۔

Advertisements
merkit.pk

انہوں نے 60 چٹانی پتھروں کو آہستگی سے سرکتے دیکھا، یہ چٹانیں اکثر بے جان ہی رہتی ہیں اور سرکنے پر بھی یہ عمل چند منٹ تک ہی جاری رہتا ہے ، جس کی وجہ سے اکثر افراد پہلے اس کا نوٹس نہیں لے سکے۔

  • merkit.pk
  • merkit.pk

خبریں
مکالمہ پر لگنے والی خبریں دیگر زرائع سے لی جاتی ہیں اور مکمل غیرجانبداری سے شائع کی جاتی ہیں۔ کسی خبر کی غلطی کی نشاندہی فورا ایڈیٹر سے کیجئے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply