کوہ پیمائی میں ڈبل ہیڈر کیا ہے؟۔۔عمران حیدر تھہیم

اِن سے مِلیے یہ ہیں بیلجیئم نژاد کوہ پیما نیلس جیسپر اور زیرِ نظر تصویر 28 جولائی 2021 کو شہنشاہ پہاڑ K2 کی چوٹی پر لی گئی جب جیسپر نے پاکستانی وقت کے مطابق صُبح 9:30 بجے K2 کی چوٹی کو تسخیر کیا۔ نیلس جیسپر کے ہمراہ شُمالی امریکہ کے مُلک بولیویا کے کوہ پیما ہوگو آیاویری بھی تھے۔ ان دونوں کوہ پیماؤں کو یہ اعزاز بھی حاصل ہوا ہے کہ اس سال جن 48 کوہ پیماؤں نے K2 کو سر کیا ہے اُن میں سے صرف یہی 2 کوہ پیما ایسے ہیں جنہوں نے K2 کو بغیر مصنوعی آکسیجن اور بغیر کسی شرپا یا ہائی آلٹیٹیوڈ پورٹر کی مدد سے سر کیا اور یُوں وہ K2 کو سر کرنے والے اُن چند کوہ پیماؤں کی فہرست میں شامل ہو گئے ہیں جنہوں نے K2 کو بغیر مصنوعی آکسیجن کے سر کیا۔ K2 پر کوہ پیمائی کی تاریخ میں آج تک کُل تقریباً 450 کے قریب کوہ پیما ہی اسے سر کر پائے ہیں اُن میں سے 1 فیصد سے بھی کم کوہ پیما ایسے تھے جنہوں نے مصنوعی آکسیجن کا استعمال نہیں کیا۔ یعنی 99 فیصد کوہ پیما ایسے ہیں جو مصنوعی آکسیجن کا استعمال کر کے ہی K2 کو تسخیر کر پائے۔ کوہ پیمائی میں مصنوعی آکسیجن کے استعمال پر بھی عالمی سطح پر کچھ عرصہ سے ایک بحث چلتی آرہی ہے اور وہ یہ کہ کیا اس کے استعمال کیساتھ کوہ پیمائی کرنا خالص کوہ پیمائی یعنی Pure Alpinsim کہلائی جاسکتی ہے؟

Advertisements
merkit.pk

عالمی سطح پر بڑے نام کے مغربی کوہ پیما جن میں لیجنڈ رائنہولڈ میسنر کا نام سرِ فہرست ہے وہ اسے doping کا نام دیتے ہیں اور اسے اصل کوہ پیمائی نہیں سمجھتے کہ مصنوعی آکسیجن کا استعمال کیا جائے۔ لیکن چونکہ نیپال نے اپنے مُلک میں سیاحت اور کوہ پیمائی کے فروغ کےلیے کمرشل ماؤنٹینیئرنگ کو متعارف کروا رکھا ہے لہٰذا حالیہ وقتوں میں اس بات کی زیادہ پروا نہیں کی جاتی کہ آپ مصنوعی آکسیجن کے ساتھ یا اُس کے بغیر پہاڑ کی چوٹی پر پہنچے۔ تاہم بڑے نام کے تقریباً سارے ہی مغربی اور روسی کوہ پیما اس بات پر بضد ہیں کہ اسے اصل کوہ پیمائی نہ کہا جائے، اُن کے نزدیک الپائن سٹائل اور بغیر مصنوعی آکسیجن کے استعمال کے کوہ پیمائی کرنے والا ہی Alpinist یا True Mountaineer ہے باقیوں کو وہ Mountain Touist کا نام دیتے ہیں کہ بس پیسہ خرچ کرو اور شرپاؤں یا ہائی آلٹیٹیوڈ پورٹرز کی مدد سے کلائمبنگ رُوٹ پر رسّی کی مدد سے فکسڈ لائن نصب کرو اور مصنوعی آکسیجن کا استعمال کرتے ہُوئے شرپاؤں کی مدد سے بس چوٹی پر چڑھ جاؤ یہ سب اُسی طرح کی doping ہے جیسے ایتھلیٹکس میں سٹیرائیڈز کا استعمال ڈوپنگ ہے۔ بہرحال یہ ایک الگ بحث ہے۔ فی الحال بات ہو رہی ہے نیل جیسپر اور ہوگو آیاویری کی۔ ان دونوں کوہ پیماؤں نے K2 کو مصنوعی آکسیجن کے استعمال کے بغیر سر کرنے کے علاوہ ایک اور کارنامہ بھی سرانجام دیا ہے۔اور وہ ہے ڈبل ہیڈر Double Header
ڈبل ہیڈر دراصل ہے کیا چیز، آئیے اس بارے میں جانتے ہیں۔
دُنیا کے کُل 14 آٹھ ہزاری پہاڑوں میں سے کوئی سے بھی دو پہاڑ اگر ایک ہی کلائمبنگ سیزن میں 30 دن سے کم عرصہ کے دوران سر کر لیے جائیں تو یہ کارنامہ ڈبل ہیڈر کہلاتا ہے۔
پاکستان میں کُل 5 آٹھ ہزاری پہاڑوں میں سے 4 پہاڑ بالکل قریب قریب ایک ہی پہاڑی سلسلے یعنی قراقرم میں واقع ہیں لہذا ان پر ڈبل ہیڈر کارنامہ سرانجام دینا زیادہ آسان ہے۔ جبکہ پاکستان میں 1 آٹھ ہزاری پہاڑ یعنی نانگا پربت کوہِ ہمالیہ کے پہاڑی سلسلے میں واقع ہے۔ پاکستان میں گاشربروم ون اور گاشربروم ٹو پر ڈبل ہیڈر کرنا زیادہ آسان ہے کیونکہ دونوں پہاڑوں کا کلائمبنگ رُوٹ کیمپ 1 تک کامن ہے۔ کوہ پیما ایک ہی جگہ سے باری باری ایک ہی ایکلائماٹائزیشن کی مدد سے دونوں چوٹیوں کو سر کرلیتے ہیں۔ پاکستان میں Broad Peak اور K2 کا ڈبل ہیڈر بہت نایاب اور مُشکل کام سمجھا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کوہ پیمائی کی تاریخ میں آج تک یہ کارنامہ نیل جیسپر اور ہوگوآیاویری سے قبل صرف 8 کوہ پیما سرانجام دے سکے۔ ان دونوں کو ملا کر اب تک کوہ پیمائی کی تاریخ میں کُل محض 10 کوہ پیما ہی یہ عظیم کارنامہ سرانجام دے پائے ہیں۔
نیل جیسپر اور ہوگو آیاویری نے 18 جولائی 2021 کو Broad Peak اور 10 دن بعد 28 جولائی کو K2 کو بغیر مصنوعی آکسیجن کے استعمال کے سر کیا۔
حیرت انگیز بات یہ ہے کہ Broad Peak-K2 ڈبل ہیڈر کرنے والوں میں سے بلغارین کوہ پیما بویان پتروف کا نام بھی شامل ہے جو دراصل ایک کینسر سروائیور تھا اور اُسے ذیابیطس کا مرض بھی لاحق تھا لیکن اس کے باوجود اُس نے 10 دن کے اندر اندر ڈبل ہیڈر مُکمّل کیا تھا۔
اسی طرح بلغارین کوہ پیما سرگئی منگوٹے وہ واحد کوہ پیما ہے جس نے سب سے کم یعنی 7 دن کے اندر ڈبل ہیڈر مُکمّل کیا تھا۔
تاریخ میں پہلی بار Broad Peak-K2 ڈبل ہیڈر 5 جولائی 1986 کو سرانجام دیا گیا اور اُس ایک دن میں 5 کوہ پیماؤں نے ڈبل ہیڈر مکمل کیا تھا۔ آج کی تاریخ تک ڈبل ہیڈر مُکمّل کرنے والے 10 کوہ پیماؤں کے ناموں کی تفصیل ذیل ہے
1. Martino Moretti 1986
(B.P: 20-06-86, 5-07-86)
2. Soro Dorotei 1986
(B.P: 20-06-86, K2: 5-07-86)
3. Bede Fuster 1986
(B.P: 21-06-86, K2: 5-07-86)
4. Rolf Zemp 1986
(B.P: 21-06-86, K2: 5-07-86)
5. Josef Rakoncaj 1986 (B.P: 22-06-86, K2: 5-07-86)
6. Boyan Patrov 2014
(B.P: 23-7-14, K2: 31-07-14)
7. Sergi Mingote 2018
(B.P: 16-07-18, K2: 23-07-18)
8. Anja Blacha 2019
(B.P: 4-07-19, K2: 25-07-19)
9. Niels Jasper 2021
(B.P: 18-07-21, K2: 28-07-21)
10: Hugo Ayaviri 2021
(B.P: 18-07-21, K2: 28-07-21)
اگر پاکستانی کوہ پیماؤں کی بات کی جائے تو نذیر صابر وہ واحد پاکستانی کوہ پیما ہیں جنہوں نے 1982 میں رائنہولڈ میسنر کے ساتھ مل کر الپائن سٹائل میں محض 7 دن کے اندر G2-Braod Peak ڈبل ہیڈر مُکمّل کیا تھا۔
ابھی چند دن قبل 28 جولائی 2021 کو مشہور امریکی کوہ پیما اور ماؤنٹین گائیڈ گیرٹ میڈسن نے تیسری بار K2 سر کرنے کے بعد اپنے ایک انٹرویو میں عندیہ دیا ہے کہ مُمکن ہے وہ 2 اگست سے 6 اگست تک آنے والی نئی weather window میں Broad Peak کو سر کرنے کی کوشش کریں۔ اگر وہ ایسا کرنے میں کامیاب ہوگئے تو تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوگا کہ کسی کوہ پیما نے پہلے K2 سر کرنے کے بعد دیگر کسی آٹھ ہزاری چوٹی کو سر کر کے ڈبل ہیڈر کا کارنامہ سرانجام دیا ہو۔ مُجھے ذاتی طور پر اس عظیم کارنامے کا انتظار ہے کہ کوئی کوہ پیما K2 سر کرنے کے فوراً بعد اتنی ہمّت اور طاقت رکھتا ہو کہ وہ مزید ایک آٹھ ہزاری پہاڑ کی چوٹی تک پہنچ جائے۔
آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا۔۔۔

tripako tours pakistan
  • merkit.pk
  • merkit.pk

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply