ایک پہلو یہ بھی ہے۔۔۔ربیعہ فاطمہ بخاری

آپ 25 سے 26 سال کے ہوگئے ہیں، ایم اے یا ایم ایس سی کر لیا ہے، تو کیا خیال ہے کہ آپ شادی کے قابل ہو گئے، ہرگز نہیں۔ اگر آپ بیوی کی ضروریات کا خیال نہیں رکھ سکتے، اس کے اخراجات، اس کا لباس، گھر کے معاملات پورے کرنے کے قابل نہیں، تو مت شادی کریں۔ اگر بیوی کے کردار پر شک کرنے کی بیماری میں مبتلا ہیں تو شادی کرنے کی زحمت نہ کیجیے۔ اگر آپ اپنے سسرال کے ساتھ خوشی، غمی میں دینے دلانے کے قابل نہیں تو آپ شادی کے قابل بھی نہیں۔ آپ کو بیوی کے ہر طرح کے معاملات، اخراجات، حمل سے لے کر ڈلیوری تک اور عام بیماری سے لے کر خدانخواستہ کسی بڑی بیماری کی صورت میں ہر طرح کے اخراجات اٹھانے ہیں۔ آپ کا فرض ہے کہ اپنے بچوں کی تعلیم پر اٹھنے والے سارے اخراجات برداشت کریں، اگر آپ نہیں کر سکتے تو آپ کو کوئی حق نہیں کہ آپ کسی کی بیٹی کو گھر لا کر ذلیل کریں۔

میرے تلخ لہجے کے باوجود کتنے لوگ ہیں جنہیں میری ان باتوں پر اعتراض ہے یا وہ انہیں غلط سمجھتے ہیں؟ میرا خیال ہے کہ کوئی ایک بھی مرد یا عورت ان میں سے کسی بھی بات سے اختلاف نہیں کرے گا کہ جب تک مرد اپنی ہمہ قسم ذمہ داریاں بحسن و خوبی نبھانے کے قابل نہیں ہو جاتا تو بہتر ہے کہ اس پر وہ ذمہ داری نہ ڈالی جائے، جس کا وہ اہل نہیں۔ اگر اسی طرح کی کچھ باتیں، کچھ فرائض کی یاددہانی اور کچھ ذمہ داریاں عورت کو مسز خان نامی خاتون نے یاد دلادیں تو کون سی قیامت ٹوٹ پڑی ہے کہ ہر کوئی لٹھ لے کے اس بیچاری کے پیچھے پڑ گیا ہے۔ ہاں ان کا لہجہ اور انداز بالکل نامناسب تھا ورنہ انہوں نے کونسی انہونی کہہ دی ہے؟۔۔۔ یہی کہا ہے کہ گھر بسانے کے لئے عورت کو اپنی زبان پر قابو رکھنا چاہیے، گھر کے کام، سسرال کے گھر اور گھر والوں کو اپنا سمجھ کے ذمہ داری سے گھر سنبھالنا چاہیے۔ شوہر جس وقت اپنے کام سے واپس آئے اس کو تازہ روٹی، کھانا دے ،اس کی چیزوں جیسے لباس جوتا وغیرہ کا خیال رکھے اور اگر وہ یہ سب نہیں کرسکتی تو بہتر ہے کہ شادی نہ کرے۔ اس سب میں غلط کیا ہے۔ غلط بنیادی طور پر ہماری آج کی ماڈرن نوجوان لڑکی کی سوچ ہے جسے یہ تو یاد رہتا ہے کہ سسرال والوں کے کام کرنا اس پر شرعاً فرض نہیں لیکن وہ یہ بھول جاتی ہے کہ والدین کا احترام اور ان کی دیکھ بھال، ان سے حسنِ سلوک کرنا اس کے ساس، سسر کے بیٹے یعنی اس کے شوہر پرشرعاً فرض ہے۔ تو کیا یہ ممکن ہے کہ ان کا بیٹا یعنی آپ کا شوہر اپنی ملازمت اور ذمہ داریاں چھوڑ چھاڑ کے، گھر بیٹھ کے والدین کی خدمت کرے، ظاہر ہے کہ یہ ممکن نہیں تو کیا ایک ایسے وقت میں جب ان کا بیٹا اپنی بیوی ، بچوں کیلئے محنت اور مشقت میں مصروف ہے تو شوہر پر عائد کردہ ایک فرض کی انجام دہی میں اس کا ہاتھ بٹانا بیوی کا فرض نہیں؟

ان نوجوان لڑکیوں کو زبان چلانے کا حق تو چاہیے لیکن یہ اپنی “عزت نفس” پر حملہ برداشت نہیں کر سکتیں۔ اور ہمہ وقت زبان کے نشتر سہنے کے نتیجے میں اگر مرد غصے اور جذبات میں آکر ہاتھ اٹھا لے تو قیامت صغرٰی تو برپا ہوہی جاتی ہے۔ انہیں یہ تو یاد ہے کہ الگ گھر لے کے رہنا ان کا حق ہے لیکن یہ یاد نہیں کہ وہ جو کولہو کے بیل کی طرح دن رات ان کی ضروریات کے ساتھ ساتھ آسائشات وتعیشات کے لیے خوار ہو رہا ہے، کیا وہ مالی طور پر اس قابل بھی ہے کہ والدین کو ایک الگ گھر میں رکھ کر ان کی ضروریات پوری کرے اور بیوی کے لیے ایک الگ گھر کا نظام چلائے اور بالفرض مالی مسائل نہ بھی ہوں تب بھی کیا والدین کو ادھیڑ عمری اور بڑھاپے میں بچوں کی جذباتی اور عملی سہارے کی ضرورت نہیں ہوتی۔؟

اگر والدین نے اس کے شوہر کو پیدا ہوتے ہی پیسوں کے ڈھیر پہ اکیلا چھوڑ دیا ہوتا تو کیا وہ اس قابل ہوپاتا کہ اس کی زندگی پُر آسائش بنا سکتا؟۔۔۔ بالکل یہی معاملہ والدین کے ساتھ ہوتا ہے کہ اولاد عموماً یہ سمجھتی ہے کہ ہم والدین کے لیے ملازم رکھ کے یا ان کو ایک بڑی رقم دے کر اپنے فرائض سے سبکدوش ہوجائیں گے، ہرگز نہیں۔ آخری عمر میں والدین کو مالی مدد سے زیادہ جذباتی سہارے کی ضرورت ہوتی ہے۔۔

شوہر پر بیوی کی محض ضروریات زندگی کا پورا کرنا فرض ہے اور یاد رہے کہ فریج، ٹی وی، واشنگ مشین، مہنگے موبائل فون، ہفتہ بھر کے فیملی ٹورز بیوی کے بھتیجوں بھانجوں کی سالگرہوں، ان کے بہن بھائیوں کی شادیوں پر دی گئی رقوم ان میں سے کچھ بھی “ضروریات زندگی” میں شامل نہیں، یہ سب آسائشات ہیں اور ان میں سے کچھ محض فروعات۔ مگر آفرین ہے اس مرد نامی مخلوق پر جو اپنا سکھ، آرام اور آسائش تج کے، دن رات خود کو مشین بنا کے اپنی آمدن میں اضافے کی کوشش کرتا ہے کہ اس کے بیوی اور بچوں کے پاس دنیا کا ہر آرام، آسائش اور سہولت میسر ہو اور اس کا خاندان ایک پُرسکون زندگی گزار سکے، تو کیا اس مرد کا اتنا بھی حق نہیں کہ جب وہ تھکا ماندہ گھر آئے تو اسے بیوی ڈھنگ سے، گھر کا پکا ہوااور صاف ستھرا کھانا کھلائے۔ مانا کہ نوجوان نسل میں لڑکیاں بھی ایک بڑی تعداد میں ملازمت کر کے پیسہ کمارہی ہیں۔ لیکن یہ حقیقت ہے کہ عورت کی کمائی چاہے جتنی بھی ہو، گھر کے تمام معاملات کا ذمہ دار صرف اور صرف مرد ہوتا ہے۔

میرے مشاہدے کے مطابق عورت پر جب تک مرد کا سائبان رہتا ہے چاہے وہ باپ کی شکل میں ہو یا شوہر کی، وہ اپنی کمائی کو گھر کے معاملات پر خرچ کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتی ۔ گھر چلانا، راشن، دوائیں، بچوں کی فیسیں، دودھ، گوشت، مہمانداری، کھانا پکانے کے لئے ایندھن، گھر بنانے کے لیے زمین خریدنا، مکان بنانا What not and what not۔ یہ سب اور اس کے علاوہ اور بے شمار معاملات ہیں جو مرد نے ہی سرانجام دینا ہوتے ہیں تو اس کی ضروریات کا خیال اگربیوی رکھ لے گی تو کوئی قیامت نہیں ٹوٹ پڑے گی۔ جیسے عورت کی بنیادی ضروریات سے لے کر آسائشات اور فر وعات تک مرد ہر ہر طرح کی ذمہ داری نبھاتا ہے اسی طرح جواباً شوہر کا خیال رکھنا، اس سے محبت سے پیش آنا، اس کی خوراک، لباس وغیرہ کا خیال رکھنا، بچوں کو سنبھالنا، گھر کے معاملات کو دیکھنا اور خوش اسلوبی سے سنبھالنا، شوہر کے گھر والوں کے ساتھ حسنِ سلوک کرنا، اس کے والدین کی خدمت کرنا بھی بیوی کی اخلاقی ذمہ داری ہے۔

خدارا اس رشتے کو ایک تماشا اور گھر کو ایک اکھاڑا نہ بنائیں، نہ تو شوہر مردانگی کے زعم میں “مرد” بنتے بنتے انسانیت کے درجے سے ہی گرجائے اور نہ ہی عورت اپنی ڈگری، تعلیم اور “شعور” کو اپنے سر پر اس طرح سوار کرلے کہ اسے باقی سب لوگ بشمول اپنے خاوندکے حقیر اور گھٹیا محسوس ہوں اور زبان چلاتے چلاتے اسے اپنی سلطنت اور اپنی راجدھانی سے خدانخواستہ دیس نکالا ہی نہ مل جائے۔ عورت چاہے جتنی بھی دولتمند ہو ،اپنے گھر کے بغیر نہ اس کی عزت ہے نہ اسکا وقار اور نہ ہی زندگی کا سکون۔

یاد رکھیں کہ رب کائنات نے میاں بیوی کے رشتے میں جو محبت، مودت اور احساس رکھ چھوڑا ہے یہ دنیا کے کسی اور رشتے میں موجود نہیں۔ زندگی میں جس مقام پر شوہر اپنی بیوی کے یا بیوی اپنے شوہر کے کام آ سکتی ہے وہاں اپنی اولاد بھی کام نہیں آ سکتی اور نہ ہی کوئی اور رشتہ۔ یہی رشتہ آدمؑ و حوا کے وقت کائنات ارضی کی بنیاد بنا اور آج بھی معاشرے کو خوبصورتی اور رنگ عطا کرنے کے لیے اس رشتے میں احساس محبت اور جذبہ قربانی از حد ضروری ہے۔اس رشتے کو عورت بمقابلہ مرد، یا برتر بمقابلہ کمتر نہ بنائیں۔ اسے محبت اور عزت سے سنواریں۔ تا کہ آپ کی آئندہ نسل سنور جائے۔

ربیعہ فاطمہ بخاری
ربیعہ فاطمہ بخاری
لاہور کی رہائشی ربیعہ فاطمہ بخاری پنجاب یونیورسٹی سے کمیونی کیشن سٹڈیز میں ماسٹرز ہیں۔ تدریس کے شعبے سے وابستہ رہی ہیں لیکن اب ایک خاتونِ خانہ کے طور پر زندگی گزار رہی ہوں۔ لکھنے کی صلاحیت پرانی ہے لیکن قلم آزمانے کا وقت اب آیا ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *