جانے یہ سب کدھر گئے ۔۔سیّد مہدی بخاری

سکول کے باہر ٹھیلے پر ایک بڑا سا جستی دیگچہ دھرا رہتا جس میں تخمِ ملنگ کا برفیلا شربت ٹھاٹھیں مارتا۔یہ تخم چھوٹے چھوٹے سیاہ بیج سے ہوتے جو مچھلی کے نوزائیدہ بچوں کی طرح شربت میں تیرتے رہتے۔ اتنے ملائم کہ دانتوں تلے آ کر پھسل پھسل جائیں مگر 2 روپے کا گلاس بھر شربت تپتی دوپہر میں معدے کو ائیرکنڈیشنڈ کر دیتا۔
تخمِ ملنگ والے کی بغل میں فالودے والا براجمان ہوتا۔وہ ایک یخ مٹکے میں دھرے ٹین کے چھوٹے چھوٹے سانچے نکالتا اور سانچے کے اوپر منڈھے ربڑ کو اتار کے پلاسٹک کے پیالے میں قلفی ٹپکا دیتا پھر رندے پر برف کا بڑا سا ٹکڑا کھڑچ کھڑچ کرکے برفیلا چورا پیالے میں ڈالتا اور ریڑھی کے دوسرے کونے پر بنے کھانچوں میں اٹکی گاڑھے شربت کی سبز ، پیلی اور سرخ بوتلوں کو پیالے پر چھڑکتا اور مٹی کی چاٹی میں سے فالودے کے بڑے بڑے مرمریں لچھے نکال کے پیالہ لبالب کردیتا۔جوں ہی یہ ٹھنڈا فالودہ گرم تالو سے لگتا۔ سورہِ رحمان کے معنی جھٹ سے پلے پڑ جاتے جنہیں سمجھانے کے لیے دینیات کے ماسٹر عنایت حسین نے ڈنڈا اور بچوں کی چمڑی ایک کر رکھی تھی۔’’ اور تم خدا کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے ‘‘۔
جو بچے یہ فالودی پیالا افورڈ نہیں کرسکتے تھے، وہ پھر فالودے والے کیکڑچ کڑچ والے رندے پر برف کڑچوا کر گولہ گنڈا بنوا لیتے۔ ٹھیلے والے کے پاس ڈیزائنر گولہ گنڈا بنانے کے تین جستی سانچے تھے۔ان سانچوں میں برف کا چورا ٹھونس کر اور بیچ میں سرکنڈے کا کانہ کھوب کر پھول ، گنبد یا دل کی شکل کا گنڈا باہر نکال کر اس پے گاڑھا ترنگا شربت چھڑکا جاتا تو بچوں کی باچھیں ندیدے پن سے کھلتی ہی چلی جاتیں اور ہم دیر تلک 1 روپے کے اس رنگین برفیلے طلسم میں کھوئے رہتے۔
فالودے والے کے برابر میں کھوئے والی قلفی کی تین پہیوں والی ریڑھی جمی ہوتی۔اس پرایک تین فٹ اونچی موٹی جستی قلفی کا سفید ماڈل ہوتا اور آزو بازو چھ آٹھ آہنی قلفیاں نصب ہوتیں۔ بڑی قلفی 2 روپے کی اور چھوٹی ایک روپے کی۔ قلفی پر ابھرے منجمد دودھیا دانوں سے بخوبی اندازہ ہو جاتا کہ قلفی میں اصلی کھوئے کی مقدار کتنی ہے اور دودھ کی کتنی۔
قلفی والے کے بالمقابل ایک شخص تیز دھوپ سے بچنے کے لیے ڈبی دار صافہ سر پر منڈھے دو ٹانگوں والے فولڈنگ چوبی اسٹینڈ پر ایک پرات رکھ کے ڈنڈے سے بندھا کپڑا جھلتا رہتا۔ پرات کے نصف حصے پر لال املی والے گیلے چورن کی پہاڑی چاندی کے اوراق سے ڈھنپی ہوتی۔ آٹھ آنے میں خریدا گیا کھٹا میٹھا چٹخاری چورن زبان لال کرنے کے لئے بہت ہوتا۔
چورن والے سے قدرے فاصلے پر نکڑ میں ایک صاحب ایک ہاتھ سے پیتل کی چھوٹی سی گھنٹی بجاتے رہتے اور دوسرے ہاتھ سے بانس تھامے رہتے جس پر چیونگم کی مانند لچکدار شوخ رنگ گچک لپٹی ہوتی۔برابر میں دھرے اسٹول پر گھی کے استعمال شدہ ڈبے میں بھری سرکنڈوں کی موٹی تیلیوں میں سے ایک عندالطلب نکالی جاتی اور بانس پر لپٹی گچک پٹی میں سے تھوڑی سی چیونگم نما گچک توڑ کے اس کا مرغا ، طوطا یا پھول بنا کر تیلی میں اٹکا کے پیش کیا جاتا۔ بچے سے آٹھ آنے لیتے وقت چیونگم صاحب مسکراتے ہوئے کہتے “انجوائے یور سویٹ مائی سن”…
اسکول کی چھٹی کے دس پندرہ منٹ بعد یہ چٹپٹا میٹھا پہیوں اور چوبی اسٹینڈز پر دھرا بازار اپنے کرداروں سمیت اگلی صبح تک غائب ہوجاتا۔بچے گھروں کو لوٹ جاتے ، کھانا کھاتے اور سو جاتے اور پھر سہ پہر کے بعد فٹ بال گراؤنڈ کے اندر اور بار ایک نئی دنیا ابھرتی۔
دو ٹھیلے ٹھیک چار بجے کہیں سے نمودار ہوتے اور گراؤنڈ کے کنارے پر کھڑے ہوجاتے۔دونوں ٹھیلوں پر برف کا ایک ایک بڑا بلوریں بلاک دھرا ہوتا۔ بلاک کو اندر سے کھوکھلا کر کے اس میں موسم کے مطابق کبھی کٹے تربوز یا آم کی موٹی موٹی قاشیں تو کبھی مالٹے ، موسمی وغیرہ بھری ہوتیں۔برف کے بلاکوں کے اندر سے جھانکتے پھلوں کا یخ منظر للچانے کے لیے اتنا کافی ہوتا کہ ان ٹھیلے والوں کو خریدار جمع کرنے کے لیے کبھی کسی نے آواز لگاتے نہیں سنا ۔
سبز مٹھوں کے موسم میں ایک تیسرا برفیلا ٹھیلا بھی گراؤنڈ سے متصل چوک میں آن کھڑا ہوتا۔ مگر مٹھوں کو کٹوانے کے فوراً بعدچوسنا پڑتا ورنہ ان میں کڑواہٹ پیدا ہونے لگتی۔انسدادِ کڑواہٹ کے لیے مٹھے کے ہر ٹکڑے پر کالی مرچ کا چھڑکاؤ گاہک خود ہی کر لیتا۔ ( مٹھے کا ترجمہ ممکن نہیں۔بس مالٹے کا دور باہر کا ہریالا کزن سمجھ لیں جو سال میں چند دنوں کے لیے جھلک دکھلاتا ہے )۔
روزانہ دو ملنگ عموماً مغرب کے قریب شام کے پھیلتے سایوں کے ساتھ نمودار ہوتے۔نابینا ملنگ ایک ہاتھ بینا ملنگ کے کندھے پر دھرے رہتا اور دوسرے ہاتھ میں پکڑا ڈنڈا وقفے وقفے سے زمین پر مارتا چلتا ۔ قطاری انداز میں رواں سریلا جوڑا ہر گلی کے نکڑ پر دو تین منٹ رک کر نعت ، حمد یا منقبت کا کوئی بند کورس میں گاتا اور آگے بڑھ جاتا۔آواز ایسی دردیلی اور طرز ایسی سریلی کہ تقریباً ہر گھر کا پٹ کھلتا اور کوئی نہ کوئی بچہ نابینا ملنگ کے ہاتھ میں سکہ خاموشی سے دھر کے پٹ بند کر لیتا۔ملنگوں کی جوڑی اپنا نغمگی کرب پیچھے چھوڑ جاتی جو اگر بتی کے دھوئیں کی طرح دھیرے دھیرے معدوم ہوتا جاتا۔
مائی آمنہ آ کھے حلیمہ نوں
ستے لیکھ جگا لے چپ کر کے…
ہفتے میں ایک بار مغرب کے فوری بعد مسجد کے مولوی صاحب کبھی خود آتے یا کبھی اپنے چھ بچوں میں سے کسی کو بھیج دیتے۔ دروازے پر بیل نہیں دیا کرتے تھے۔ بس صدا لگاتے “جمعرات دی نیاز” ۔ اماں فوری گرم روٹیاں توے سے اتارتی اور تازہ سالن کے ساتھ انہیں دے دیتیں۔
یونہی شام سمے گھر کی گیلری میں بیٹھے بیٹھے اک تازہ ہوا کا جھونکا آیا تو ذہن ماضی کے دریچوں کو کھولنے لگا۔ کیسے کیسے آشنا چہرے سورج کی مانند ابھرے اور پھر غروب ہوتے گئے۔ وہ عمر بتائے سال ہوئے۔ وہ لوگ مٹی اوڑھے کب کے سو چکے۔ دھیان ٹوٹا تو آسمان پر پہلا تارہ طلوع ہو چکا تھا۔ آل اطراف میں اداسی سائیں سائیں کر رہی تھی۔
شام ہے کتنی بے تپاک، شہر ہے کتنا سہم ناک
ہم نفسو ! کہاں ہو تم ؟ جانے یہ سب کدھر گئے

  • merkit.pk
  • merkit.pk

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply