• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • منگھو پیر:جدید دنیا میں ہزاروں برس قدیم روایات۔۔شاہد محمود ایڈووکیٹ

منگھو پیر:جدید دنیا میں ہزاروں برس قدیم روایات۔۔شاہد محمود ایڈووکیٹ

SHOPPING

منگھو پیر ۔۔۔ جدید دنیا میں ہزاروں برس قدیم مگر مچھوں، قدیم روایات، پر اسرار تاریخی رازوں، اور محبتوں کی امین سرزمین ہے۔

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کے شمال مشرق میں سولہ کلومیٹر کے فاصلے پر پہاڑی ٹیلوں اور جھاڑیوں کے جنگلات سے گھرا ہوا ’’منگھو پیر‘‘ کا قدیم قصبہ ہے جہاں ہزاروں سال پرانی قدیم تہذیب کے آثار پائے جاتے ہیں۔ یہاں پر حضرت منگھو پیر کا صدیوں پرانا دربار بھی ہے اور مگر مچھوں سے بھرا تالاب اور شفاء بخش گرم پانی کے چشمے بھی۔
آثار قدیمہ کے ماہرین منگھو پیر کی تہذیب کو کانسی کے دور سے بھی قدیم تہذیب قرار دیتے ہیں۔ قدیم آثار کے ماہرین کے مطابق یہاں سے ملنے والی ہڈیاں کانسی کے دور (3300-1200 قبلِ مسیح) سے تعلق رکھتی ہیں۔
ماہرین آثار قدیمہ کو یہاں کچھ پیتل کی قدیم چیزیں بھی ملی ہیں جن پر موجود نقش و نگار سے اس بات کا اندازہ لگایا گیا ہے کہ یہاں ہزاروں سال پہلے کانسی کے دور میں شہر آباد تھا جس کے رہنے والے لوگ مگر مچھ کو دیوتا مانتے اور اس کی عبادت کرتے تھے۔ یہ علاقہ کسی دور میں پر رونق تھا جو امتداد زمانہ کا شکار ہو گیا لیکن اس کے آثار اب بھی پائے جاتے ہیں۔ منگھو پیر کا علاقہ بند مراد کے ذریعے لسبیلہ سے ملا ہوا ہے۔

SHOPPING

اس کے ٹیلوں پر واقع قدیم چوکنڈی طرز کی منقش قبریں، مکانات، تالاب اور دیگر آثار اس کی تاریخی حیثیت کی گواہی دیتے ہیں۔ مورخین یہ بھی کہتے ہیں کہ زمانہ قدیم میں یہ علاقہ مکران اور ایران کے ساتھ تجارت کے لیے راہ داری کا کام دیتا تھا اور اسلام پھیلنے کے بعد یہاں عربوں کی آمد و رفت ایران اور مکران کے راستے ہوتی تھی، ان کے قافلے اسی راستے سے گزر کر اگلی منزل کی جانب عازم سفر ہوتے تھے۔ یہاں واقع قبریں جنگ شاہی پتھر سے تعمیر کی گئی ہیں جو تیز پیلے اور قریب قریب زرد رنگ سے ملتا جلتا ہے۔ یہاں ایسی قبریں بھی دیکھی گئیں جن پر تلوار بازی، گھڑ سواری اور آلات حرب کے نقوش بھی تھے جب کہ خواتین کی قبروں پر زیورات کنندہ کئے گئے تھے۔ کچھ خواتین کی قبروں پر ڈولی اور جنازے کی علامات بھی موجود تھیں جو ظاہر کرتی تھیں جنہیں شادی شدہ خواتین کی قبروں کی علامات مانا گیا۔ جب کہ مردوں کی قبروں پر کلاہ نما ڈیزائن، تلوار بازی، گھڑ سواری اور خنجر وغیرہ کے نقش و نگار بھی دریافت ہوئے۔ یہ قبریں فن تعمیر کا اعلیٰ نمونہ ہیں لیکن اس طرز کی زیادہ تر قبریں ناپید ہوچکی ہیں صرف دو قبریں منگھو پیر کے مزار کے سامنے موجود ہیں ان کی حالت بھی مخدوش ہے۔ ہندوستان کی تقسیم سے قبل منگھو پیر کا مقام “مگر پیر” کے نام سے بھی معروف تھا اور تقسیم سے قبل سندھ کی ہندو آبادی اور ہندوستان کے دیگر علاقوں سے ہندو یاتری اس علاقے میں اپنے مقدس مقامات کی زیارت کیلئے آتے تھے اور یہاں موجود تالاب میں موجود مگر مچھوں کی پوجا کرتے تھے۔ ہندو مگر مچھ کو ’’لالہ جراج‘‘ کا اوتار مانتے تھے۔ یاتری یہاں ایک پہاڑی کے دامن میں واقع گرم پانی کے چشمے پر نہانے کو متبرک اور بیماریوں سے پاک کرنے والا مانتے تھے اور یہ چشمے و عقیدہ آج بھی موجود ہے۔ خاص کر جلدی بیماریوں کے علاج کے لئے لوگ اس گرم پانی سے نہاتے ہیں۔ یہاں واقع حضرت منگھو پیر کا مزار صدیوں پرانا ہے۔ تاریخ میں صاحب مزار کا نام حصرت خواجہ حسن سخی سلطان رح المعروف منگھو پیر ملتا ہے۔ آپ کی بابت مختلف روایات ملتی ہیں۔ کچھ لوگوں کے مطابق یہ ایک نیک عبادت گزار بزرگ تھے جن سے ماہی گیر بہت عقیدت رکھتے تھے اور ان کی وفات کے بعد یہاں ان کا مزار بنا دیا گیا۔ کچھ لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ منگھو پیر حضرت بابا فرید گنج شکر رح کے مریدوں میں سے تھے اور مزار کے پاس واقع تالاب میں پائے جانے والے مگر مچھوں کو پیر صاحب کی کرامت سمجھتے ہیں۔ انگریز دور کی کتابوں میں بھی مزار، تالاب اور مگر مچھوں کا ذکر ملتا ہے بلکہ پرانی تصاویر بھی یہ ظاہر کرتی ہیں کہ انگریز بھی ان مگرمچھوں کو گوشت وغیرہ ڈالا کرتے تھے۔ دوسری طرف ماہرین کی رائے یہ ہے کہ اس جگہ یہ تالاب یا جھیل سینکڑوں سال سے موجود ہے جو کسی قدیم سیلاب کی وجہ سے معرض وجود میں آئی اور مگر مچھ بھی سیلاب کے ساتھ بہہ کر یہاں پہنچے۔ شیدی برادری خاص طور پر حضرت منگھو پیر کے دربار سے عقیدت رکھتی ہے اور عرس مبارک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی ہے۔ ان کا کہنا یہ ہے کہ یہ مگر مچھ پیر صاحب کی کرامت و برکت کی وجہ سے کسی انسان پر حملہ آور نہیں ہوتے اور مریدین ان مگر مچھوں کو بکرے، مرغیاں، گوشت اور مٹھائیاں حلوے تک کھلا دیتے ہیں جو یہ مگر مچھ شوق سے کھا جاتے ہیں اور میرا خیال ہے کہ روئے زمین پر یہ نابغہ روزگار مگر مچھوں کی قسم ہے جو مٹھائیاں، حلوے بھی کھاتی ہے۔ کچھ ماہرینِ کے مطابق یہاں سے مگر مچھوں کی ہزاروں سال پرانی باقیات بھی ملی ہیں جس سے اندازاہ ہوتا ہے کی یہ علاقہ ہزاروں سالوں سے مگر مچھوں کا مسکن چلا ا ریا ہے۔ اور مگر مچھ کبھی دیوتا کی حیثیت سے اور کبھی بزرگ کی کرامت کی حیثیت سے لوگوں میں مقدس مانے جاتے رہے ہیں اور انسان انہیں وافر گوشت و خوراک مہیا کرتے ہیں تو یہ مگر مچھ انسانوں سے مانوس ہو چکے ہیں اس لئے انسانوں پر حملہ نہیں کرتے۔ یہ مگر مچھ نایاب نسل سے ہیں اور نسل در نسل یہیں پر جنم لیتے، زندگی گذارتے اور مر جاتے ہیں۔ لیکن ان کی عمر بھی بہت لمبی ہوتی یے۔ ان مگر مچھوں نے کراچی گینگ وار و آپریشن کلین اپ اور پھر کرونا وائرس کے لاک ڈاون کے دوران بھوک بھی بہت کاٹی ہے لیکن چونکہ یہ پورا پورا بکرا کھا جاتے ہیں تو مشکل دنوں میں بھی بقا کا گر سیکھ گئے ہیں۔ ویسے بھی مگر مچھ دنیا کی قدیم ترین مخلوق میں سے ایک ہے۔ اس تالاب میں موجود ڈیڑھ دو سو مگر مچھوں میں سے کچھ مگر مچھوں کی عمر سو سال سے بھی زیادہ ہے۔ شیدی برادری منگھو پیر کے مزار پر جب عرس کا اہتمام کرتی ہے تو اس دوران ان مگر مچھوں کی بہت خصوصی خدمت کی جاتی یے۔ اس عرس کو ’’لعل شاہ واگو‘‘ یا ’’شیدی ‘‘میلہ کہا جاتا ہے۔ ’’واگو‘‘ مقامی زبان میں مگر مچھ کو کہتے ہیں، لعل شاہ مگر مچھوں کا سردار کہلاتا ہے۔ عرس کے دوران ایک بڑے مخصوص ڈھول جسے “مگر مان” کہا جاتا ہے، کی تھاپ پر دھمال بھی ڈالی جاتی ہے۔ مگر مان اور دھمال کی آوازوں سے لال شاہ واگو یعنی مگر مچھوں کا سردار جسے “مور نواب” بھی کہتے ہیں تالاب سے نکل کر کنارے پر آتا ہے تو مزار کے متولی ڈنڈوں کی مدد سے اس کا منہ کھول کر تازہ بکرا ذبح کر کے اس کے منہ میں ڈالتے ہیں اور اسی بکرے کے خون میں سیندور ملا کر اس کے سر پر ملتے ہیں جسے ٹیکہ لگانا کہا جاتا ہے۔ ٹیکے کی رسم کی ادائیگی کے بعد مگر مچھوں کو گوشت، مٹھائی و حلوہ کھلایا جاتا ہے۔ میلے / عرس کے شرکاء کی لنگر و شربت سے تواضع کی جاتی ہے۔ پھر مگر مان (بڑے ڈرم نما مخصوص ڈھول) پر دھمال ڈالتے ہوئے شیدی مرد اور خواتین پر وجدانی کیفیت طاری ہو جاتی ہے اور یہ مرد و خواتین کچھ مخصوص ورد دہراتے ہیں جو بزرگوں سے سینہ بہ سینہ چلے آ رہے ہیں جن کے متعلق ان کا کہنا ہے کہ یہ الفاظ سینکڑوں سال سے سینہ بہ سینہ ان کے بزرگوں سے منتقل ہوتے آ رہے ہیں۔ منگھو پیر جدید دنیا میں قدیم روایات اور محبتوں اور تاریخی رازوں کی امین سرزمین ہے جو تحقیق کی دعوت دیتی ہے۔۔

SHOPPING

شاہد محمود
شاہد محمود
میرج اینڈ لیگل کنسلٹنٹ ایڈووکیٹ ہائی کورٹ

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *