کریں ذکر شیخ و براہمن کا ۔۔عاصم کلیار

دوستو!
حقیقت افسانے سے بھی عجیب ہوتی ہے یہ تذکرہ کسی اور کا نہیں بلکہ گوہر جان کلکتہ والی کا ہے جس کے عشوے اور غمزے کے سامنے وائسراۓ ہند بھی ہمیں مجبور نظر آتا ہے اور مہاتما گاندھی جیسے باشعور اور چالاک لیڈر کی بھی گوہر جان کے سامنے کوئی دلیل معتبر نہ ٹھہر سکی۔
آج سے پندرہ بیس برس قبل گوہر جان سے میرے اولین تعارف کا باعث تو قرۃ العین حیدر کا ناول گردش رنگ چمن بنا جس میں عینی آپا نے گوہر جان اور اس کی والدہ ملکہ جان کے کرداروں کو کمال خوبصورتی کے ساتھ بیان کرتے ہوۓ ملکہ جان کے دیوان کے سرورق کی تصویر لگا کر ناول کو نیم دستاویزی بنا دیا.
وکرم سمپتھ کی گوہر جان کے بارے انگریزی کتاب مجھے اب پڑھنے کا اتفاق ہوا ہے گوہر جان کو فرد واحد قرار دینا شائد بد دیانتی ہی ہو وہ ایک عہد،تہذیب،شان و شوکت کی افسانوی داستان بھی تھی اور کسمپرسی کا مجسم احوال بھی تھی وہ طنطنہ،تکبر اور رعب کی مثال بھی تھی اور مجبوری،بےبسی اور لاچاری کی علامت بھی تھی.
یہ واقعہ کلکتہ کا ہے جو سرکار برطانیہ کا دارلخلافہ تھا گورنر بنگال فٹن پر بیٹھ کر شام کے وقت سیر کو جا رہے تھے گورنر موصوف کیا دیکھتے ہیں کہ سامنے سے ایک بگھی کو چھ عربی نسل کے گھوڑے کھینچتے ہوۓ آ رہے ہیں بگھی میں ایک دلفریب عورت چہرے پر مسکراہٹ سجاۓ سونے کے کام والی ساڑھی اور ہاتھوں میں ہیروں کی چوڑیاں پہنے کچھ اس انداز سے نشست رکھے ہوۓ تھی کہ راہگیر اس کو دیکھ کر گرتے ہوۓ سنبھلتے یوں گمان ہوتا کہ ہما اس کے سر پر سایہ فگن کیے  ہوۓ ہے گورنر کی فٹن جب اس کی بگھی کے قریب آئی تو گورنر نے سر سے ہیٹ اتار کر عورت کو سلام کیا خاتون نے شانِ بے نیازی سے ہاتھ کو ہلاتے ہوۓ اور سر کو ذرا سی جنبش دیتے ہوۓ سلام کا جواب دیا گورنر نے دفتر جا کر پوچھا کہ بگھی کس ریاست کے مہاراجہ کی تھی کیونکہ برٹش راج کے زمانے میں چھ گھوڑوں والی بگھی پر کسی ریاست کا شاہی خاندان یا کوئی انگریز افسر ہی سواری کر سکتا تھا عملے کے افراد نے جواب دیا کہ حضور وہ سواری کسی اور کی نہیں بلکہ کلکتہ کی مشہور طوائف گوہر جان کی ہے جس کی تصاویر آسٹریا میں بننے والی ماچس کی ڈبی پر چھپتی ہیں اور لوگ گوہر جان کی تصویر والے پوسٹ کارڈ دوگنی قیمت پر خریدتے ہیں گورنر نے قانون کی خلاف ورزی کرنے پر گوہر جان کو ایک ہزار روپے جرمانے کا نوٹس ارسال کیا انگریز بہادر کو قانون کی پاسداری عزیز تھی گوہر جان کو اپنی امارات اور طنطنہ عزیز تھا وہ روز چھ گھوڑوں کی بگھی پر سیر کرتی اور یومیہ ہزار روپے جرمانے کے طور پر ادا کر دیتی لاٹ صاحب قانون بدلنے سے گریزاں تھے تو گوہر جان بھلا اپنی خُو کیوں چھوڑتی.


گوہر جان کلکتہ کی مشہور عطریات کی دوکان سے خریداری کر رہی تھی اتفاقاً نواب حامد علی خان آف رام پور بھی اسی دوکان سے کچھ عطر خریدنے آ گۓ کسی نے سر گوشی کرتے ہوۓ گوہر جان سے کہا کہ یہ ریاست کے نواب صاحب ہیں گوہر جان نے با آواز بلند کہا کہ جس ریاست کے بھی نواب صاحب ہوں ہمارے گانے سے کیسے واقف نہ ہوں گے حامد علی خان صاحب اسی شام گوہر جان کے بالا خانے پر گۓ اور ریاست آنے کی دعوت دی گوہر جان اس کے بعد کئی  بار رام پور گئی  اور ہر بار وہ زنان خانے میں قیام کرتی ایک بار وائس راۓ ہند لارڈ آئیرون Lord Irwin رام پور ریاست کے دورے پر گۓ گوہر جان بھی اتفاق سے رام پور میں موجود تھی وائس راۓ ہند نے گوہر جان کے بارے بہت کچھ سن رکھا تھا اس رات گوہر جان نے کچھ اس انداز سے گایا کہ وائس راۓ پرٹوکول کے سارے اصولوں کو توڑتے ہوۓ گوہر جان کی ساڑھی پر سجے وہ تمام تمغے دیکھنے سٹیج پر گیا جو اس کی شاندار فنی زندگی کے عکاس تھے.
جارج پنجم کی ہندونستان آمد پر 1911 میں دہلی دربار منعقد ہوا جس کی سج دھج آج پریوں کی کہانیوں جیسی لگتی ہے جارج پنجم کو ایک سو ایک توپوں کی سلامی پیش کی گئی، ملکہ میری کے دوسرے قیمتی پتھر و نگینوں کا تو ذکر چھوڑیے وہ چھ ہزار چار سو انیس جڑواں ہیروں کے زیورات پہن کر سلامی کے چبوترے پر بادشاہ حضور کے ساتھ پہنچیں والیان ریاست،راجے،مہاراجے،نوابین،تعلقہ داروں اور دیگر اسی ہزار عمائدین برصغیر پاک و ہند نے دہلی دربار میں شرکت کی سلطنت برطانیہ کا شاہی دربار شہر دہلی میں ہو اور محفل موسیقی کے بغیر  بھلا یہ کیسے ممکن تھا اس یاد گار جلسے میں گوہر جان کی سنگت جانکی بائی نے کی گوہر نے فنِ موسیقی کے وہ کمالات پیش کیۓ کہ اسی ہزار عمائدین کے ساتھ ولی عہدِ تاجِ برطانیہ محو حیرت تھے گوہر جان نے آخر میں لہک لہک کر فن موسیقی کی تمام باریکیوں کے ساتھ حضور جارج پنجم کو مخاطب کرتے ہوۓ یہ گانا گایا.
یہ جلسہ تاجپوشی کا
مبارک ہو ، مبارک ہو
جارج پنجم نے سو اشرفیاں گوہر جان کی نذر کیں گوہر جان گوہر پیا کے نام سے بندشیں بھی خود لکھا کرتی تھیں.
مدھیا پردیش کی ایک چھوٹی ریاست دتیہ کے نواب صاحب نے گوہر جان کو ریاست آنے کی دعوت دی گوہر جان نے ایلچی کو کہا کہ ریاست نامور ہے نہ میری نواب سے براہ راست واقفیت ہے سو میرا وہاں جانا محال ہے نواب صاحب نے گوہر جان کا یہ ٹکا سا جواب سننے کے بعد کلکتہ کا سفر اختیار کیا وہاں گورنر بنگال سے ملاقات کی اور گوہر جان سے سفارش کی درخواست کی گوہر جان نے گورنر صاحب کی سفارش کے بعد دتیہ جانے کے لۓ رضا مندی کا اظہار تو کیا مگر کچھ شرائط منوانے کے بعد گوہر جان کلکتہ سے دتیہ کے لۓ گیارہ بوگیوں کی سپیشل ٹرین پر شہزادیوں کی طرح مع اپنے گھوڑوں اور ایک سو گیارہ ذاتی ملازمین کے طائفے کے ساتھ سفر پر روانہ ہوئی.
گوہر جان کی بلی کی شادی ہر کم و بیش بیس ہزار خرچ ہوۓ وہ بلی بھی تو اسی گوہر جان کی تھی کہ جس کے لۓ بہرام پور کے ایک زمیندار نے کرنسی نوٹوں کو جلا کر چاۓ بنائی تھی.
مہاراجہ اِندور کے ہاں محفل موسیقی تھی گوہر جان بطور آخری گائیکہ سٹیج پر جلوہ افروز ہوئی راگ دیس کو اس خوبصورتی کے ساتھ گایا کہ مہاراجہ اِندور نے دوسرے گائیکوں کو انعام و اکرام دینے کے بعد گوہر جان سے کہا کہ سٹیج تمھارا ہوا مہاراجہ کے ملازموں نے اطلس و کمخواب کے گاؤ تکیوں کو ہٹاتے ہوۓ جب سٹیج پر بچھی سفید چادروں کو سرکایا تو ان کے نیچے ایک لاکھ روپے کی اشرفیاں ترتیب سے رکھی ہوئی تھیں گوہر جان نے شانِ بے نیازی سے اشرفیوں کو دیکھتے ہوۓ اپنے سازندوں سے کہا غربا اور مساکین کو خیرات کر دینا.
کانگریس کے لۓ گاندھی جی نے گوہر جان کو ٹکٹ شو کرنے کے لۓ لکھ بھیجا گوہر جان نے اس شرط کے ساتھ رضا مندی کا اظہار کرتے ہوۓ جواب لکھا کہ مہاتما گاندھی بطور سامع خود محفل میں شرکت کریں گے چوبیس ہزار کی ٹکٹیں گوہر جان کے نام پر فروخت ہوئیں گاندھی جی مصروفیات کی وجہ محفل میں شریک نہ ہو سکے ان کی جگہ مولانا شوکت علی چندے کی رقم وصول کرنے پہنچے محفل کے اختتام پر گوہر جان نے مولانا کو مخاطب کرتے ہوۓ کہا ٹکٹوں سے آمدن تو چوبیس ہزار ہوئی مگر باپو کو کہنا انہوں نے اپنے پورے وعہدہ کا پاس نہیں کیا سو میں بھی رقم کا نصف بارہ ہزار دوں گی مولانا کے پاس خاموشی کے سوا کوئی جواب نہ تھا کچھ عرصے بعد گاندھی جی نے اپنا نمائندہِ خصوصی گوہر جان کے پاس بھیجا کہ اس کی آواز کی تحریکِ آزادی کو ضرورت ہے گوہر جان نے مسکراتے ہوۓ جواب دیا حجاموں سے حکیموں والا کام لے کر آزادی کا حصول ممکن نہیں.
گراموفون کی ایجاد فن موسیقی کے لۓ ایک سنگ میل ثابت ہوئی برصغیر پاک و ہند کی پہلی باقاعدہ ریکارڈ شدہ آواز گوہر جان کے سوا بھلا کس کی ہو سکتی تھی کمپنی کے انگریز مالکان نہ صرف گوہر جان کی شہرت سے آگاہ تھے بلکہ اس کی جاوداں آواز ریکارڈنگ کے لۓ بھی موزوں ترین تھی گوہر کو بھی اپنی قدر و قیمت کا اندازہ تھا اس نے ریکارڈنگ کے معاہدے پر دستخط کرتے ہوۓ تین ہزار کی خطیر رقم تحریر کی گوہر جان فارسی،اردو،ہندی اور بنگلہ کے علاوہ انگریزی،پشتو اور فرانسیسی زبان پر بھی مہارت رکھتی تھی بشمول ان زبانوں کے اس کے مجموعی طور بیس زبانوں میں گانوں کا ریکارڈ دستیاب ہے کتاب میں موجود اس کے انگریزی میں تحریر کیۓ ہوۓ خطوط اس کی ذہانت اور انگریزی زبان پر اس کی مہارت کے گواہ ہیں.
اعظم گڑھ میں اینگلو انڈین وکٹوریہ نامی دلکش عورت اور خوبرو ولیم یی ورڈ انگریز نوجوان کے ہاں 1873 میں ایک بچی نے جنم لیا جس کا نام ایلن انجلینا ورڈ رکھا گیا قسمت کی بازی کیسے پانسے پلٹتی ہے چشم فلک تماشے رچاتی ہے دیکھنے والے دیکھتے ہیں اور کچھ عبرت بھی حاصل کرتے ہیں وکٹوریہ کو شاعری کے شوق نے ولیم سے دور کر دیا بات طلاق پر کہاں ختم ہوئی وکٹوریہ ننھی ایلن کے ساتھ اعظم گڑھ سے شہر بنارس پہنچی شکم کی آگ نے جب زور پکڑا تو وکٹوریہ سے ملکہ جان بننے تک کا سفر مذہب کی تبدیلی سمیت چند لمحموں میں طے ہو گیا صاحب بہادر ولیم کی بیگم رہنے والی وکٹوریہ اب ملکہ جان طوائف ہے اور ننھی ایلن گوہر جان کے نام سے رقص و موسیقی کی دنیا میں کچھ برسوں بعد درخشاں ستارے کی مانند چمکنے والی ہے جس کے جسمانی قرب کے لۓ والیان ریاست سمیت کئ نوابین دیوانگی کی حدود کو عبور کریں گے جس کی شہرت ملکی سرحدوں کو پامال کر کے رکھ دے گی جس کی اداؤں پر مرنے والے اس کے نام کی تسبیح پڑھتے ہوۓ دیار فانی سے گوہر گوہر پکارتے ہوۓ کوچ کر جائیں گے مگر جب اکبر الہٰ آبادی ان اشعار کی صورت گوہر سے یوں مخاطب ہوتا ہے کہ
ادا ہے حسن ہے سن ہے سبھی جوہر ہے گوہر
مگر یہ اک کمی ہے کہ تو رکھتی نہیں شوہر
آج اکبر کون ہے دنیا میں گوہر کے سوا
سب کچھ خدا نے دے رکھا ہے اسے اک شوہر کے سوا
تو پھر گوہر جان نے اپنے ایک کمسن پٹھان ملازم عباس سے شادی کر لی عباس سے شادی کے بعد جوانی بھی گئ ناموری بھی گئ اور مال و زر بھی جب ختم ہونے کو آیا تو بات عدالت تک جا پہنچی جو کچھ باقی تھا وہ مقدمے کی نظر ہوا.
بڑھاپے نے گوہر کی دہلیز پر پہلا قدم ہی رکھ تھا کہ آواز کی چھنکار سب پہلے رخصت ہوئی مہاراجہ میسور نے دل کش نامی کاٹج گوہر جان کو رہنے کے لۓ دی پانچ سو روپے ماہانہ وظیفہ مقرر کیا تنہائی اور کسمپرسی نے گوہر جان کو کچھ زیادہ دن جینے نہ دیا وہ جو کشمیر،اِندور،رامپور،حیدرآباد اور دربنگہ جیسی ریاستوں میں بطور شاہی مہمان ٹھہرتی تھی وہ دو ملازمین کے ساتھ دل کش کاٹج میں زندہ رہتی بھی تو کیوں رہتی گوہر جان کا انتقال میسور کے ہسپتال میں 1930 میں ہوا اس کے انتقال کے بعد کئ لوگوں نے اس کے وارث ہونے کا دعوٰی کیا مگر وارثت کے لۓ تھا ہی کیا جو ان جھوٹے وارثین میں تقسیم ہوتا گوہر جان کے مرنے کے بعد مہاراجہ آف میسور نے کچھ سو چند روپے اور آٹھ دس آنوں کا گوہر جان کا قرض ایک دوا فروش اور پرچون کی دوکان پر ادا کر کے فن کے قدر دان ہونے کی گواہی دی گوہر جان کی آخری آرام گاہ کلکتہ میں بنائی گئ جہاں وہ مہارانیوں کی طرح رہتی تھی اور کئ منزلہ عمارتوں کی بلا شرکت غیر مالک تھی یا میسور میں ہی دفنایا گیا اس بارے داستان خاموش ہے اور راوی بے بس نظر آتا ہے .
نکل آئی دہر و حرم سے ملکہ
کریں ذکر شیخ و براہمن کس کا
(ملکہ جان)

tripako tours pakistan

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *