• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • ممکنہ چیئرمین سینیٹ کون؟؟ سنجرانی یا گیلانی؟ جماعت اسلامی کا فیصلہ کُن ووٹ ۔۔احمد وڑائچ

ممکنہ چیئرمین سینیٹ کون؟؟ سنجرانی یا گیلانی؟ جماعت اسلامی کا فیصلہ کُن ووٹ ۔۔احمد وڑائچ

سینٹ انتخاب اور وزیراعظم کے اعتماد کا ہنگامہ تھم چکا، حکومت اور اپوزیشن کا اگلا محاذ ’چیئرمین سینٹ‘ کے انتخاب پر بارہ مارچ کو لگے گا، دونوں اطراف سے ممکنہ امیدواروں کے نام بھی سامنے آ چکے ہیں، صادق سنجرانی اور یوسف رضا گیلانی  میں معرکے کا  میدان سجے گا۔

سب سے پہلے سینٹ میں موجود نمبرز گیم کا جائزہ لیتے ہیں ، 100رُکنی ایوان میں حکومت کو 44، اپوزیشن کو 49ارکان کی حمایت حاصل ہے، جبکہ چھ سینیٹرز آزاد حیثیت میں جیت کر ایوانِ بالا پہنچے۔ جماعت اسلامی کا ایک سینیٹر کیا فیصلہ کرے گا، ابھی تک معلوم نہیں۔

tripako tours pakistan

حکومتی اتحاد کو دیکھیں تو تحریک انصاف کے 26، بلوچستان عوامی پارٹی کے 13، ایم کیو ایم کے 3 اور ق لیگ اور فکنشنل لیگ کا ایک ایک سینیٹر ہے۔

اپوزیشن اتحاد میں پیپلز پارٹی 20، نون لیگ 18، جے یو آئی 5، اے این پی 2، نیشنل پارٹی 2، اور بی این  پی مینگل اور پی کے میپ کا ایک ایک سینیٹر ہے۔۔ جماعت اسلامی کا بھی ایک سینیٹر ہے۔

چھ آزاد ارکان میں سے چار کا تعلق فاٹا سے ہے، جن میں سے سینیٹر شمیم آفریدی پیپلز پارٹی میں شامل ہو چکے ہیں، جبکہ باقی تین سینیٹر مرزا محمد آفریدی، ہدایت اللہ اور ہلال الرحمان تحریک انصاف کے حامی ہیں، بلوچستان سے منتخب عبدالقادر حکومتی اتحاد کے ساتھ ہیں، جبکہ نسیمہ احسان بی این پی مینگل (اپوزیشن) کی حمایت سے جیتی ہیں۔

آزاد ارکان کے رجحان کے بعد حکومت کو 48اور اپوزیشن کو 51ارکان کی حمایت حاصل ہے۔ جماعت اسلامی کا ایک سینیٹر ذہن میں رکھیے گا۔۔۔

اب بات کرتے ہیں چیئرمین سینیٹ کے الیکشن میں ممکنہ صورتحال کیا ہو گی، مسلم لیگ ن کے اسحاق ڈار لندن سے واپس نہ آئے تو اپوزیشن کی ایک سیٹ کم ہو گی، ن لیگ کے ہی ایک سینیٹر دلاور خان ماضی میں صادق سنجرانی کو ووٹ دے چکے ہیں، انہوں نے پارٹی کے شوکاز نوٹس کا آج تک جواب نہیں دیا۔۔۔ ان دو سینیٹرز کو مائنس کریں تو اپوزیشن کے سینیٹرز 49رہ جائیں گے۔ دلاور خان پھر صادق سنجرانی کے ساتھ گئے تو حکومتی سینیٹرز بھی 49ہو جائیں گے،یاد رہے نواز شریف کی بطور پارٹی صدر نااہلی کے بعد سینیٹر دلاور خان آزاد حیثیت میں جیتے تھے۔

اسحاق ڈار واپس نہ آئے تو بارہ مارچ کو 99سینیٹر چیئرمین سینیٹ کے انتحاب میں حصہ لیں گے، جیت کیلئے 50ارکان درکار ہوں گے ، دونوں اطراف کو انچاس انچاس سینیٹرز کی حمایت حاصل ہے۔

چیئرمین سینیٹ کون ہو گا اس کیلئے جماعتِ اسلامی کا ایک ووٹ انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔۔۔

اگر جماعت اسلامی نے قومی اسمبلی کی طرح انتخاب میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ کیا، اور یوسف رضا گیلانی اور صادق سنجرانی کو برابر ووٹ ملے تو صادق سنجرانی ہی بطور چیئرمین سینیٹ کام کرنا جاری رکھیں گے۔

ایک اور دلچسپ چیز بلوچستان سے اے این پی کے جیتنے والے سینیٹر ارباب عمر فاروق کاسی ہیں، اے این پی بلوچستان میں سنجرانی کی ’باپ‘ پارٹی کے ساتھ حکومت میں شامل ہے، اور ارباب عمر بلوچستان عوامی پارٹی کی حمایت سے ہی سینیٹر منتخب ہوئے۔

دیکھنا ہو گا کہ  12مارچ کو زرداری کارڈ چلتا ہے یا بلوچستان کارڈ!

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *