• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • فرانز کافکا : وجودی، لایعنی کیفیتوں اور خوابوں کی تھکاوٹ کا فکشن نگار(حصّہ اوّل)۔۔احمد سہیل

فرانز کافکا : وجودی، لایعنی کیفیتوں اور خوابوں کی تھکاوٹ کا فکشن نگار(حصّہ اوّل)۔۔احمد سہیل

“میرا ‘خوف’ میرا جوہر ہےاور شاید میرا بہترین حصہ ” ( فرانز کافکا)
فرانز کافکا (Franz Kafka) عالمی فکش کا ایک ایسا فنکار ہے جو اپنے افسانوی متن میں فرد کو تلاش کرتا رہا جو اس کو نہ مل سکا۔ اور قنوطیت کا شکار ہو کر اس نے اپنی تحریروں کو سپرد آتش کردیا ۔”دوراڈئمنٹ” نے کافکا کی  20 یادداشتوں کو جلا دیا اور کافکا اپنے بستر پر لیٹا لیٹا اس منظر کو دیکھتا رہا۔

کافکا اپنی تحریروں میں وجودی اور لایعنی رویوں کی “سیاہ” منظر کشی کرتا  ہے۔ جس میں بنیادی تصوارات، بیگانگی، مغائرت اور اقتداری طبقے کے استبداد کا اذیت ناک   اظہار ملتا ہے۔ ان کا یہ جملہ ان کے تصور زیست کو بیان کردیتا ہےکہ جو انہوں  نے کچھ یوں بیان کیا۔

tripako tours pakistan

” میں بچے سے ایک دم بوڑھا ہوگیا ہوں میں نے جوانی دیکھی ہی نہیں۔”

قاری کو چونکا دیتا ہے۔

کافکا کی زندگی افسانوں کا افسانہ ہے  ، جسے 20 ویں صدی کی پریشانیوں، اعصابی تناو،مغائرت اور انسان کے میکانی اور بے روح ہونے کا احساس تین دہائیوں قبل ہوگیا تھا۔ اس وقت جو ادب تخلیق ہورہا تھا وہ فرانز وفریلاور{ Franz Werfel}اور پراگ میں جرمن کمیونٹی سے الگ تھلگ نوعیت کا تھا اور انہوں نے شہری تجدید اور تعمیرِ  نو سے قبل یہودی بستی کے بارے میں لکھا تھا

“ہم سب میں یہ زندہ ہے ۔ تاریک کونے ، خفیہ گلیوں ، شٹرڈ کھڑکیاں ، سکول کے آنگن ، ناگوار پبس { شراب خانے}، اشوب اینز۔ “

کافکا کو یہودی برادری میں اس کے والدین کی غیر اخلاقی مذہبی رواج اور کم سے کم معاشرتی رسم و رواج کی وجہ سے بھی ان کے اپنے ورثے سے کافکا کو اپنے آپ سے الگ رکھنا پڑا ، حالانکہ کافکا کا انداز اور اثر و رسوخ کبھی کبھی یہودی لوگوں کے مذہب سے بھی منسوب کیا جاتا ہے۔ کافکا نے بالآخر اپنے آپ کو سوشلسٹ ملحد ، اسپینوزا ، ڈارون اور نِطشے کے کچھ اثرات کی قبولت کا اظہار بھی کیا۔

کافکا کا موقف ہے ہم خود کو باہمی سمجھ سے باہر ہونے کی حیثیت سے محسوس کریں ، کہ عام طور پر اہمیت کے  سیاق و سباق جس کو ہم “زبان” کہتے ہیں وہ ہمیں ناکام بناسکتے ہیں ، اور ہمیں پوری طرح تنہا چھوڑ دیتے ہیں – شاید کافکا کے” مقدمہ” {The Trial} کی سب سے زیادہ انتباہ ہے۔ کافکا نے اپنے دن کی ذمہ داریاں اور دفتر شاہی / بیوروکریسی میں جو وسیع شناخت ظاہر کی تھی وہ ختم نہیں ہوئی ہے۔ ہمارا ڈیجیٹلائزڈ ، انفارمیشن سیوچرڈ ، سرویلنس{, information-saturated, surveillance}، پر مبنی ماحول اس ناول کی عدالت سے شاید ہی کم غیر سنجیدہ ہو۔

میں نے کافکا کے دوبارہ مطالعے سے جو سوال اٹھایا ہے وہ یہ ہے کہ ہمارے ٹھوس ، ناقابل تلافی اور کمزور انسانوں کے طور پر کھڑے ہونے والے فیصلے کو غیر متزلزل تقریر اور علامت کے اس حملے سے کیسے بچایا جاسکتا ہے؟ کافکا کی یہ سوچ خاصی حد تک عمرانیاتی ہے شاید اس  سبب   سے جدید عمرانیات دان میکس ویبر سے گہری دوستی کا نتیجہ تھی۔ اور ان کے نظریات کے کافکا پر گہرے اثرات تھے ۔ یاد رہے میکس ویبر نے” عینی یا مثالی دفتر شاہی” کا عمرانیاتی نظریہ پیش کیا تھا۔

جس سال کارل مارکس کا انتقال ہوا اسی سال کافکا کی پیدائش ہوئی۔ کافکا کی زندگی کے مختصر حقائق یہ ہیں۔
ولادت: 3 جولائی 1883
جائے پیدائش: پراگ، چیکوسلوکیہ
تعلیم : قانون میں ڈاکٹریٹ کی سند حاصل کی۔
زبانین ؛ چیک،جرمن اور فرانسیسی (واجبی)
انتقال: 3 جون، 1924
موت کا مقام: کرلینگ (Kierling)، ویانا، آسٹریا
موت کی وجہ: تپ دق
نئے یہودی قبرستان، پراگ، چیلوسلوکیہ، میں سبرد خاک ھوئے۔
مذہب: یہودی
نسل: سفید فام
ملازمت: ناول نگار ، بیمہ کمپنی میں کلرک
قومیت: آسٹریا
گرلز فرینڈز : فلس بور (Flice Bauer) ڈورا ڈے ماؤنٹ ( Dora Dymant)
داشتائیں: گریٹ بلواچ (Grete Bloch) ملینا جنسکا ۔ پولک (Milena jesenska. Pollak)۔
کافکا کی تیں بہنیں (3)دوسری جنگ عظیم کے دوران نازی کیمپوں میں  فوت ہوئیں۔

کافکا نے اپنی ادبی زندگی کا آغاز 1909 میں  پراگ کے ایک جریدے میں ان کی ایک کہانی کی اشاعت کے بعد ہوا۔

اس کے بعد ان کی دلچسپی تھیٹر میں ہوئی۔ اور انہوں نے عبرانی زبان میں کئی ڈرامے لکھے۔۔ اسی دوران ان کی دوستی ایک فنکار اسحاق لوئی سے ہوئی۔ جس کا اظہار کافکا نے اپنی مختصر حکایت ” موسیقار کے کتے” میں کیا ہے۔ جو انہوں نے اپنی کہانی ” کتے کی تفتیش” کا حصہ بنا یا،جو اصل میں ان کی تمثالی خود نوشت کا حصہ ہے۔اس کہانی میں کتے کو علامت بناتے ہوئے اس دور کے انسانوں پر بھرپور طنز کیا گیا ہے۔ جو اس دورکے مغالطوں، نفسانفسی، مغائرت، مہملیت، اعصابی تناؤ،لایعنیت، سیاسی بحران،کو بھرپور طنزیہ انداز میں پیش کیا ہے۔ جو آج کے دور میں بھی محسوس کیا جاسکتا ہے۔ انکی تحریروں پر شدید تنقید بھی ہوئی۔ خاص کر مارکسی نقاد لوکاچ/ لوکاش نے کافکا کی تحریروں میں  ” جدیدیت” کی بُو سونگھ لی تھی۔ لوکاچ کی کافکائی تحریروں کے بارے میں جو بھی خیالات تھے۔ وہ تضادات سے بھرے ہوئے ہیں۔ وہ ایک طرف تو ان کی عظمت کا اعتراف تو کرتے ہیں تو دوسری جانب ان کی تحریروں سے اپنی بیزاری کا بھی اظہار کیا تھا۔کیونکہ وہ جدیدیت سے نالاں تھے ۔ لیکن لوکاش اس بات کا بھی اعتراف کرتے ہیں ان کا کہنا تھا ” کافکا ہوف مین کے معاملے میں زیادہ سیکولر ہیں۔

ان کے جسمانی وجود روز مرہ کی زندگی سے تعلق رکھتے تھے۔ کیونکہ زندگی پہلے خود ہی غیر حقیقی ہے۔ اس لیے اس میں ہوف مین کے مافوق الفطرت بھوتوں  کی گنجائش نہیں”۔ کافکا کی بہت سی تحریروں کو جرمنی کی نازی خفیہ پولیس اور “گسٹاپو” نے ضبط کر کے جلادیا تھا۔ انکی تحروں میں چھپے ہوئے کئی نفسیاتی، سیاسی،مذہبی، فلسفیانہ اور عمرانیاتی مفاہیم اور رموز پوشیدہ تھے۔ کافکا کو اپنے باپ سے غیر صحت مندانہ نفسیاتی لگاؤ (Father Fixation) تھا۔ جو اصل میں مایوسی، بیزاری، تنہائیت، اعصابی تناؤ، سیاسی بے چینی یا SOLITARY NEOROTION کے کرب تھے۔وہ سفاکانہ آتشی تباہ کاریوں کا پیامبر تھا۔۔ وہ الوہی فصل (Divine Grace) کو مفسر تھا لہذا کافکا کو وجودی اور لایعنی فکشن نگار کے شناخت کیا جاتا ہے۔ان کی تخلیقات کو یورپی اور بالخصوص فرانسیسی یساریت پسندوں اور امریکی عیسائیوں کی جانب سے شدید مزاحمت اور تنقید کا نشانہ بنا گیا۔مگر کافکا کو پسند کرنے والوں کی ایک بڑی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ کافکا کے اثرات ارجنٹائن کے ادیب لوئی خورخے بورخس، ابرٹ کامیو، یوژن آئنسکو، بیکٹ، ایربیل، سال بیلو۔ جوزف ہیلر ،جے ایم کوٹیس، ایڈورڈ ایلبیی، ژان پال سارتر، جے ڈی سیلرنگر، جارج اروریل اور بریڈ  بیری کی تحریروں پر ہوا۔” زندگی کی ترجمانی فرانز کافکا نے بھی اپنی کہانیوں و ناولوں میں کی ہے۔ بلکہ کافکا کو اپنے دور میں اتنی پذیرائی حاصل نہ ہو سکی، کیونکہ اس کی تحریر کی جدت کو اس کی موت کے کئی سالوں بعد سمجھا گیا۔

کافکا کی حساسیت تکلیف دہ تھی۔ پراگ کا رہائشی، جرمن زبان کا یہ ادیب کئی سال پیچیدہ بیماری کا شکار رہا۔ وہ اس بیماری سے محظوظ ہوتا رہا اور اسے طوالت دیتا رہا۔ کافکا کو قانون، ضابطے سے نفرت تھی کیونکہ یہ نفرت و خوف کو جنم دیتے ہیں۔ کافکا کے سوانحی خطوط اہمیت کے حامل ہیں۔ وہ اختیار اور حاکمیت کو ناپسند کرتا تھا۔ یہ فطری اظہار کے دشمن ہیں۔ اس کے فن نے دبے ہوئے غصے کی مزاحمت سے جنم لیا۔ کافکا اور اس کی محبوبہ فیلائس کے خطوط ادبی شہ پارے ہیں۔ جو کافکا کی احساس محرومی، دکھوں، ذہنی شش و پنج، وہم، گمان، احساس و خوابوں کی آنکھ مچولی پر مشتمل ہیں۔ ” { ‘روزن زنداں’، شبنم گل، ایکسپریس نیوز، جمعرات 10 دسمبر 2015}۔

Advertisements
merkit.pk

جاری ہے

  • merkit.pk
  • merkit.pk

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply