وقت کے سکیل (34)۔۔وہاراامباکر

کسی تہذیب کو سمجھنے کے لئے آپ کو ایک ہی وقت میں مختلف رفتار پر ہوتی تبدیلیوں کی تہوں کو دیکھنا ہو گا۔ فیشن تیزی سے بدلتے ہیں جبکہ کسی قسم کے بزنس میں تبدیلی اتنی تیزی سے نہیں۔ عمارتوں اور سڑکوں کی تبدیلی اس سے کم رفتار میں۔ قوانین اور ضابطے اس سے بھی آہستہ۔ یہ وقت کی بدلتی ہوا میں چیزوں کو باندھ کر رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ کلچر میں تبدیلی اپنے سست رفتار ٹائم ٹیبل سے آتی ہے۔ اور اس کی اپنی گہری جڑیں روایات میں ہیں۔ اور اس سے سست رفتار نیچر کی ہے جو صدیوں اور ہزاروں سالوں کے سکیل ہیں۔ (یہ سٹیورٹ برینڈ کا تجویز کردہ ماڈل ہے جو ساتھ تصویر میں لگا ہے)۔
اگرچہ اس کو نوٹ نہیں کیا جاتا لیکن یہ سکیل ایک دوسرے سے آزاد نہیں۔ ایک دوسرے سے انٹرایکٹ کرتے ہیں۔ تیز رفتار بدلتی تہیں سست رفتار تہوں کی تبدیلی میں راہنمائی کرتی ہیں۔ سست رفتار تہیں تیز رفتار کو بے قابو ہونے سے بچاتی ہیں اور سٹرکچر فراہم کرتی ہیں۔ کلچر کی طاقت اور دیرپا ہونا کسی ایک لیول سے نہیں بلکہ ان سب آپسی تعاملات سے ابھرتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رفتار کا یہ اصول دماغ کے بارے میں سوچنے کے لئے بھی راہنمائی کرتا ہے۔ فیشن سے حکومت سے نیچر تک کی طرح، دماغ کی تبدیلیوں کی رفتار تیزرفتار بائیولوجیکل کاسکیڈ سے لے کر جین ایکسپریشن تک پھیلی ہے۔ سائناپس تبدیل ہوتے ہیں اور بہت سے دوسرے پیرامیٹر بھی۔ (زیادہ تفصیل: یہ چینل ٹائپ، چینل ڈسٹریبیوشن، فاسفولرائشن سٹیٹ، نیورائٹ کی شکلیں، آئیون ٹرانسپورٹ کی رفتار، نائیٹرک آکسائیڈ بننے کی رفتار، بائیوکیمیکل کاسکیڈ، انزائم کی جگہ پر ترتیب اور جین ایکسپریشن ہیں)۔ اگر ان کا ٹھیک تال میل ہو تو وقتی واقعہ دیرپا نشان چھوڑ سکتا ہے کیونکہ تیزرفتار تہہ سست رفتار تہہ کو اثرانداز کرے گی۔ سست رفتار پراسس گہری اور دیرپا تبدیلی لانے کا موجب بن سکتے ہیں۔ یہ سب وقت کے سپیکٹرم پر بکھرا ہوا ہے۔ ہر تہہ ایک دوسرے سے تعاملات کر رہی ہے اور اس کے نظام کی طاقت ان الگ تہوں کے آپس میں ملکر اپنے طریقوں سے کام کرنے کی سبب ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فرض کیجئے کہ آپ کو کسی ایسے شخص سے محبت ہو گئی جو سماعت سے محروم ہے۔ آپ نے اشاروں کی زبان سیکھی۔ جب اس زبان سے اپنا مافی الضمیر ٹھیک بیان کر دیتے تو ایک دلکش مسکراہٹ سے ملنے والا جواب انعام کے طور پر ملتا۔ آپ اس میں اچھے ہوتے گئے۔ اس زبان کو اچھی طرح سے بولنے لگے لیکن پھر ۔۔۔ وہ شخص ہی شہر چھوڑ گیا۔ وہ ناطہ ٹوٹ گیا۔ اب اپنی انگلیوں سے نشان بنانے کے لئے کوئی ترغیب نہیں۔ آپ یہ زبان رفتہ رفتہ بھول گئے۔
ایسا لگتا ہے کہ کہانی یہاں پر ختم ہو گئی لیکن تین سال بعد بستی میں کسی اور کی آمد ہوئی۔ اس کا مسئلہ بھی سماعت کا تھا۔ شاید یادِ ماضی کی کشش تھی یا کچھ اور، یہ اجنبی بھی من کو بھا گیا۔ آپ نے دوبارہ اشاروں کی زبان کی کوشش کی۔ لیکن آپ اس کو یاد نہیں تھی۔ انگلیوں کو اب وہ یاد ہی نہیں رہا۔پچھلی بار دو ماہ لگا کر اس کو سیکھا تھا لیکن اب دریافت کیا کہ صرف تین روز میں ہی اس نئے آنے والے سے اشاروں میں فلرٹ کرنے لگے۔ آپ کا خیال تھا کہ سب کچھ بھول چکے تھے لیکن ایسا تو نہیں تھا۔
دوسری بار سیکھنے میں وقت کی بچت کا مطلب یہ ہے کہ دماغ میں انفارمیشن کسی سطح پر پائی جاتی تھی۔ تنہائی کے برسوں میں پریکٹس نہیں کرنے کے باوجود بھی۔ یہ وہ سست رفتار تبدیلیاں تھیں جو سسٹم کی گہری تہوں میں ہوئی تھیں۔ پہلی محبت کے دنوں میں تیزرفتار حصوں نے یہ فن سیکھا تھا۔ اور یہ تبدیلیاں گہرے حصوں پر اثرانداز ہوئی تھیں۔ جب ناطہ ٹوٹا تھا تو تیزرفتار تہوں نے خود کو جلد ایڈجسٹ کر لیا تھا لیکن گہرے حصے ابھی تبدیلی سے گریزاں تھے۔ طویل اور سست لرننگ میں کی گئی سرمایہ کاری کو چھوڑنا نہیں چاہ رہے تھے۔ اور جب دوسرے شخص سے تعلق بنا تو یہ گہری تہیں تیار تھیں۔ انہیں دوبارہ حالت نہیں بدلنا پڑی۔ دوسری بار جلد سیکھ جانے کی یہ وجہ تھی۔ آپ کا خیال تھا کہ جو فن بھول چکے ہیں، وہ ابھی باقی تھا۔ نیورل سرکٹری میں گہرائی میں دفن تھا۔
اس قسم کی بچت ہمیں کئی مواقع اور سیٹنگز میں نظر آتی ہے۔ خلابازوں میں بھی۔
جب ایک خلاباز طویل سفر سے لوٹتا ہے تو ایسا نہیں کہ وہ اتر کر کیپسول سے نکل کر سیدھا کسی اچھے ریسٹورنٹ کا رخ کرتا ہے۔ سب سے پہلے اسے سیکھنا پڑتا ہے کہ زمین کی گریویٹی میں چلتے کیسے ہیں۔ اس میں وقت لگتا ہے لیکن اتنا نہیں جتنا پہلی بار لگا تھا۔ یہ بھولا ہوا فن جلد واپس آ جاتا ہے۔ اپنے سفر کے بعد اسکی پرفارمنس ہمیں گہرائی کی وجہ سے بچت کا مظاہرہ دکھا دیتی ہے۔
آٹومیٹک اور گئیر والی گاڑی کی عادت کے بدلنے بھی یہی اصول کارفرما ہے۔ مختصر مدت کی لرننگ دوسرے کے اوپر نہیں لکھ دیتی۔ الگ مہارتوں کے اصولوں کے سیٹ ہم کئی اور جگہوں پر دیکھ سکتے ہیں۔ حالیہ تناظر کے مطابق ٹھیک راستے کا انتخاب نیٹورک میں ہو جاتا ہے۔
اور سب سے آخر میں، سب سے زیادہ مفید پروگرام جاندار کی سب سے گہری سطح تک پہنچ جاتے ہیں جو کہ ڈی این اے ہے۔ نوزائیدہ بچے کو جبلتیں سیکھنے کی ضرورت نہیں۔ یہ پلاسٹسٹی کا بہت ہی سست ٹائم سکیل ہے جو انواع کی پلاسٹسٹی ہے۔ نیچرل سلیکشن ہزاروں برس میں ان جبلتوں کو چنتی جاتی ہے جو زندگی کو برقرار رکھنے اور پھلنے پھولنے میں کارآمد ہوں۔ سیکنڈوں سے لے کر اربوں سالوں کے ٹائم سکیل پر جاندار اجسام اور ان کے ماحول کے انفارمیشن کے آپس میں الجھے جال ۔۔۔ نئی کہانیاں بُنتے رہتے ہیں۔
(جاری ہے)

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *