پرسرار غار کا پانی ۔ وائرس (1) ۔۔وہاراامباکر

میکسیکو کے شہر چیواوا سے پچاس میل دور خشک بنجر پہاڑیوں کا سلسلہ سیئرا ڈی نایکا ہے۔ سن 2000 میں پہاڑوں کے نیچے غاروں کے سلسلے میں کھدائی کرتے کانکنوں کو زمین سے ایک ہزار فٹ نیچے ایک عجیب ہی دنیا نظر آئی۔ وہ ایک غار میں پہنچ گئے تھے جو تیس فٹ چوڑا اور نوے فٹ لمبا تھا۔ اس کی چھت، دیواریں اور فرش جپسم کے ملائم اور شفاف کرسٹلز پر مشتمل تھا۔ کئی غاروں میں ایسے کرسٹلز نظر آئے ہیں لیکن اس جگہ جیسے نہیں۔ یہ چھتیس فٹ لمبائی تک کے تھے اور پچپن ٹن وزنی۔

کرسٹلز کے غار تک چند سائنسدانوں کو جانے کی اجازت ملی۔ ہوان گارسیا روئیز جو جیولوجسٹ تھے، یہاں گئے اور پتا لگا کہ 26 ملین سال پہلے کے آتش فشانوں کے بننے کے دوران زیرِ زمین چیمبر تشکیل پائے اور معدنیات سے بھرے گرم پانی سے بھرے تھے۔ آتش فشانی میگما کی وجہ سے پانی کا درجہ حرارت 58 ڈگری سینٹی گریڈ تھا۔ یہ درجہ حرارت پرفیکٹ ہے جس پر معدنیات پانی سے باہر بیٹھ جاتے ہیں اور کرسٹل بنا دیتے ہیں۔ کسی طرح پانی اسی درجہ حرارت پر لاکھوں سال سے تھا۔ اس وجہ سے یہ کرسٹل ناقابلِ یقین سائز کے ہو گئے تھے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ایک اور سائنسدان کرٹس سٹل اس غار میں 2009 میں اپنے ساتھیوں سمیت گئے۔ انہوں نے یہاں کے تالابوں سے کچھ پانی لیا اور واپس یونیورسٹی آف برٹش کولمبیا کی لیبارٹری میں تجزیے کے لئے لے آئے۔ اگر سٹل کا کام کرنے کا شعبہ دیکھا جائے تو یہ بے کار کا سفر لگے گا۔ سٹل کا کام کرسٹلز، معدنیات یا چٹانوں کے بارے میں نہیں تھا۔ سٹل کی تحقیق وائرس پر تھی۔

کرسٹل کے غار میں کوئی انسان نہیں تھے جن کو وائرس انفیکٹ کر سکیں۔ کوئی مچھلی نہیں تھے۔ یہ باہر کی دنیا کی بائیولوجی سے کئی ملین سال قبل کٹ چکا تھا۔ لیکن سٹل کا یہ ٹرپ فائدہ مند رہا۔ پانی کے اس سیمپل کو انہوں نے مائیکروسکوپ کے نیچے رکھا اور پروٹین کے خول میں لپٹا جینیاتی میٹیریل انہیں مل گیا۔ ہر قطرے میں کروڑوں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سائنسدان جس جگہ پر بھی دیکھتے ہیں ۔۔۔ زمین کے نیچے گہرائی میں، صحارا سے اڑنے والی ریت کے ذرے میں، انٹارٹیکا کی میلوں برف تلے، وائرس ملتے ہیں۔ اور جب وہ پہلے سے معلوم جگہوں پر دیکھتے ہیں تو وہاں پر بھی نئے وائرس ملتے ہیں۔ 2009 میں سین ڈیگو یونیورسٹی کی محقق ڈینا ولنر نے انسانی جسم کے اندر وائرس کے شکار کی مہم کی قیادت کی۔ پانچ تندرست اور پانچ سسٹک فائبروسس کا شکار لوگوں سے بلغم اکٹھا کر کے ڈی این اے نکالنا شروع کیا۔ اس کا موازنہ سائنس میں معلوم کروڑوں جینز سے کرنے لگے۔ ولنر کی اس تحقیق سے پہلے خیال تھا کہ صحتمند لوگوں کے پھیپھڑے وائرس سے پاک ہوتے ہیں لیکن اس ٹیم کو تمام لوگوں کے پھیپھڑوں میں وائرس کے جنگل ملے۔ اوسطاً ہر شخص کے پھیپھڑے میں 174 انواع تھیں۔ ان میں سے صرف دس فیصد ایسی تھیں جن کا پہلے سے علم تھا۔ نوے فیصد اتنی ہی اجنبی تھیں جیسا کرسٹل کے غار میں موجود کوئی چیز۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وائرس کو “پروٹین میں لپٹی بُری خبر” کہا جاتا ہے۔ یہ انسانوں کو ایذا پہنچاتے رہے ہیں۔ لوگوں کے زندگیاں تباہ کرتے رہے ہیں۔ چیچک کا وائرس انسانیت کا بدترین قاتل رہا ہے۔ تاوقتیکہ کہ انسانوں نے اس قاتل کو ختم کر دیا۔ نئے وائرس، جیسا کہ ایچ آئی وی، ایبولا، انفلوئنزا، کرونا نئے خطرات اور چیلنج لے کر آتے رہے ہیں۔

لیکن یہ اس سے کہیں بڑھ کر ہیں۔ زمین کی ایکولوجی کے ان دیکھے اور اہم کھلاڑی۔ یہ انواع کے درمیان ڈی این اے کا تبادلہ کرواتے ہیں، ارتقا کو نیا جینیاتی مواد فراہم کرتے ہیں، جانداروں کی آبادی کی ریگولیشن کرتے ہیں۔ خواہ ننھا سا مائیکروب ہو یا عظیم الجثہ ممالیہ، ہر جاندار پر وائرس اثرانداز ہوتے ہیں۔ اور وائرس کا اپنا اثر انواع پر کئے جانے والے اثر تک محدود نہیں۔ یہ موسم، مٹی، سمندر اور تازہ پانی کو متاثر کرتے ہیں۔ اور جب اپ یہ دیکھیں کہ ہر جانور، پودا اور مائیکروب ارتقا سے تشکیل کردہ ہے اور ارتقا پر وائرس نے اپنا گہرا اثر ڈالا ہے تو پھر ان ننھی اور طاقتور اشیاء کے اثر کا اندازہ ہوتا ہے جن کے ساتھ ہم اپنا سیارہ شئیر کرتے ہیں۔

وائرولوجی کی سائنس ابھی اپنے ابتدائی دنوں میں ہے۔ ہم ان کے بارے میں اس سے زیادہ تیزی سے دریافت کر رہے ہیں جتنا تیزی سے ان کو سمجھ سکتے ہیں۔ ہزاروں سالوں سے ہم انہیں بالواسطہ طریقے سے جانتے ہیں۔ ان کے اثرات کے ذریعے، بیماری اور موت کے ذریعے۔ اب ہم ان اثرات اور ان وجوہات کے نقطے جوڑنا شروع ہوئے ہیں اور اس تلاش میں ان کے بارے میں ہم بہت کچھ اور جاننا شروع ہو رہے ہیں۔ ان کی چھوٹی سی دنیا کا سفر بڑے راز آشکار کرتا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ساتھ لگی تصویر نائیکا کے غار کی ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *