کھتارسس/اسٹیٹ ایجنٹ کا تنقیہ نفس/فارمی معیشت۔۔اعظم معراج

مجھے دیہات میں رہنے کا اتفاق کم ہوا ہے,لیکن بچپن کی جو یادیں ذہین میں ہیں ،ان میں ایک فارمی فصلوں کے بارے میں کسانوں کا رویہ تھا۔ ساٹھ کی دہائی میں آنے والے  سبز زرعی انقلاب پر اکثر بزرگ ستر کی دہائی کے شروع میں بھی کوئی بہت خوش نہیں تھے۔ مثلاً  پونا گنا نہ چوستے بلکہ دیسی کماد کے گن گاتے،اسی طرح دیسی گندم پر اصرار کرتے اور نئے بیجوں کی گندم پر ناک منہ چڑھاتے مختصر آئین ِ نو سے ڈرنے کا رویہ اپناتے،گو کہ ان بیجوں کی بدولت فصلوں کی مقدار میں بے پناہ اضافہ ہوا لیکن کسان اس کے باوجود اسے حقارت سے فارمی فصلیں کہتے۔حالانکہ اس فارمی معیشت کی بدولت ان کی صدیوں کے قحطوں اور بھوک افلاس سے جان چھوٹی تھی۔اسی طرح دو دہائیاں پہلے جب فارمی رئیل اسٹیٹ شروع ہوئی توطرزِ  کوہن پر اُڑنے والوں کو اس میں اخلاقی اور قانونی برائیاں نظر آتیں  کہ  جواء  ہے، پلاٹ ہوتا نہیں فارم بِک رہے ہیں۔ملکی معیشت تباہ ہوجائے گی، معاشی دہشتگردوں کی چاندی ہوگی معاشرے کا تاروپور پھٹ جائے گا، غلیظ کیڑے و کینچوے اژدھے اور عفریت بن کر ریاست کو کھوکھلا کر دیں گے۔ریاستی ستون گھن زدہ ہوجائیں گے۔اس گھن کے فضلے سے چیونٹیاں بدمست ہاتھی بن جائیں گی ، بدمعاشیہ اشرافیہ بن جائے گی۔ لیکن یہ سب بیکار باتیں تھیں ۔اس سے معیشت بدلی  21 کروڑ کے وسائل تھوڑے تھوڑےلوٹے گئے، لاکھوں جوئے میں ہارے، لیکن سینکڑوں کھرب، ارب اور کروڑ پتی ہوئے اور ظاہر ہے ملکی معیشت سینکڑوں چلاتے ہیں۔جواء  چند ہی جیتتے ہیں۔ فیکٹریاں چند لوگ لگاتے  ہیں باقی سب تو معیشت کا ایندھن ہوتے ہیں، یہ کتابی باتیں ہیں۔۔کہ طاقت اور دولتِ انسانی معاشروں میں جائز ذرائع سے اگر چند گھرانوں میں تھم جائے، تو معاشرے کو جھٹکے لگتے ہیں اور ناجائز ذرائع والا معاملہ ہو تو پھر تو معاشرے  میں  موت کی نیند سو جاتے ہیں ،اور  جھٹکا بھی نہیں لگتا،جیسے انسانی جسم میں خون جم جائے تو رکاوٹ پیدا ہونے کی صورت میں فالج اور ہارٹ اٹیک ہوتا ہے۔

یہ وہی فضول باتیں ہیں جو فارمی فصلوں پر لوگ کرتے تھے۔جیسے فارمی زراعت نے معاشرہ بدلا تھا۔ایسے ہی اس فارمی رئیل اسٹیٹ نے بھی معیشت بدلی ہ،لیکن لگتا ہے، نیب والے اس ترقی کرتی معیشت  کو روکنا چاہتے ہیں۔ جو انہوں نے فضائیہ والے جیئنس (ذہین )لوگوں کو پکڑ رکھا ہے۔ اور آج کے ڈان اخبار کی خبر کے مطابق وہ فضائیہ سکینڈل کے بڑے دو گرفتار ملزمان کے ایک سو ستر ساتھیوں کی تلاش میں ہے۔مجھے ڈرہے،کہ کہیں ان  170 میں وہ ذہین اسٹیٹ ایجنٹ بھی ان کے ریڈار پر نہ ہوں،جنہوں نے اس فارمی رئیل اسٹیٹ سے اس معاشی طور پر کمزور ملک کی معیشت کو مضبوط کرنے میں دن رات ایک کرکے لوگوں سے چند چند لاکھ محنت اور ذہانت سے کما کر اس ملک کی سیاہ معیشت کا حجم بڑھایا ہے،اور اب اسے سرمئی سے سفیدی کی طرف بھی لے ہی جائیں گے۔

tripako tours pakistan

کچھ دن پہلے کی اخباری خبر کے مطابق بحریہ والوں کو بھی نیب نےبلایا تھا۔حالانکہ ریاست اور حکومتِ  پاکستان کو چاہیے ان ذہین لوگوں کو نیب میں ڈرائی کلین کرکے معاشرے اور ملکی سلامتی کی خاطر معاشرے میں قابل احترام مقام دلوانے میں اپنا کردار ادا کرے ،تاکہ جیسے ماضی میں فارمی زراعت نے اس ملک کی زراعت میں انقلاب برپا کیا تھا۔اسی طرح فارمی رئیل اسٹیٹ بھی انشاللہ اس ملک کی معیشت میں انقلاب برپا کرے گی۔موجودہ حکومت کو چاہیے کہ جس طرح ماضی کی حکومتوں اور ریاستی اداروں نے ایسے ذہین لوگوں کی پشت پناہی کی ہے،اسی طرح یہ حکومت بھی ان ذہین ایمان دار انسانوں کے لئے درد دل رکھنے والوں کا دست ِ بازو  بنے اور ہوسکے تو قبرستانوں، پارکوں، ہسپتالوں اور جنگلی حیات کے لئے مخصوص زمین انھیں مفت یا پھر کوڑیوں کے مول دے۔اور ہاؤسنگ  سکیم کی بکنگ کے فارموں کو ملک بھر کی سٹاک مارکیٹ میں ٹریڈنگ کا بندوست کروائے۔

اور قدر کریں ان چند اعلیٰ دماغ اور صاحب ِ کردار لوگوں کی، یہ دنیا میں کسی ملک میں ایک آدھ پیدا ہوتے ہیں، ہمارے حکمرانوں اور ریاستی اداروں کے ذمہ داروں کی بشری کمزوریوں ہوس زر و اقتدار کی بدولت ہمیں یہ تھوک میں دستیاب ہیں ۔تو ان کی قدر کرو یہ ہی تمہاری نسلوں کے مقدر بدلیں گے ،نکلو  کتابی باتوں سےاور انھیں بُرا بھلا کہنا چھوڑو،حقیقت کو مانو ، ارے نادانوں، اور یہ ہی دنیاوی حقیقت ہے۔
” باپ بڑا نہ بھیا سب سے بڑا روپیہ۔”

تعارف:اعظم معراج پیشے کے اعتبار سے اسٹیٹ ایجنٹ ہیں ۔15 کتابوں کے مصنف ہیںِ نمایاں  تابوں میں پاکستان میں رئیل اسٹیٹ کا کاروبار، دھرتی جائے کیوں، شناخت نامہ، کئی خط ایک متن پاکستان کے مسیحی معمار ،شان سبز وسفید شامل ہیں۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *