ہم اس کائنات میں تنہا نہیں۔۔ سید ثمر احمد

سقراط نے کہا تھا کیا یہ ممکن ہے کہ زمین کے وسیع قطعے (جیسے سو ایکٹر)پربیج بکھیرے جائیں اور صرف ایک ہی زمین کا سینہ شق کرکے برآمد ہو؟ یعنی کیا یہ عجیب نہیں لگتا کہ لامحدود کائنات میں صرف ایک جگہ زندگی موجود ہو باقی سب ویران ہو؟ اندازے کے مطابق ہماری کائنات میں 2ارب کہکشائیں ہیں۔ ہر کہکشاں میں اوسطاََ ایک کھرب ستارے ہیں۔ ہماری کہکشاں آکاش گنگا (ملکی وے) ایک چھوٹی کہکشاں ہیں اور اس میں 30ارب ستارے ہیں۔ جن میں سے 18000پہ سائنس دانوں کو یقین ہے کہ انسانوں جیسی یا ان سے کم/ زیادہ ترقی یافتہ مخلوق بستی ہے۔ لیکن کائناتی فاصلے اتنے زیادہ ہیں کہ ہم تاحال ان کو پاٹ نہیں سکے۔ ہمیں لائٹ سپیڈ چاہیے جس کے فی الحال ہم عام طور پہ قابل نہیں ہوپائے۔

ہم کائنات میں تنہا نہیں، یہ یقین رکھنے والوں میں سائنس دانوں سے لے کے سیاستدانوں تک، دانشوروں سے لے کے موسیقاروں تک زندگی کے مختلف گوشوں کے اہم نام موجود ہیں۔ ان میں شامل ہیں اسٹیفن ہاکنگ، رونالڈو ریگن، جمی کارٹر،میخائل گورباچوف، رچرڈ نکسن، بل کلنٹن، باراک اوباما، دیمتری مینڈویو جیسے اہم لوگ۔ بعض امریکی صدور نے اس موضوع پہ باقاعدہ بیانات بھی جاری کیے۔ جمی کارٹر کا بیان بہت غور طلب ہے۔ جمی نے 1976میں اپنی انتخابی مہم کے دوران اعتراف کیا کہ میں نے 1969میں ایک اجنبی (Alien)کو دیکھا ہے، میں اس وقت جارجیا کا موسمیاتی گورنر تھا۔ جمی کارٹر نے نیو کلیر فزکس میں بیچلرز ڈگری حاصل کی تھی۔انہوں نے اعلان کیا کہ اگر میں صدر بن گیا تو ’اجنبیوں‘ سے متعلق معلومات کو سائنس دانوں اور عوام دونوں کے لیے کھول دوں گا۔کچھ رپورٹس کے مطابق یہ ’اجنبی‘ لیبارٹریز میں انسانوں کے ساتھ مختلف پراجیکٹس میں کام بھی کررہے ہیں

اسٹیٹ آف دی یونین کا خطاب امریکہ  میں سب سے زیادہ اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ بل کلنٹن نے 1996میں اس خطاب کے دوران اعلان کیا کہ ناسا نے زمین سے باہر زندگی کا ثبوت حاصل کرلیا ہے۔ مشہور ملحد رچرڈ ڈاکنز نے حال ہی میں زمین پہ زندگی کے آغاز کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ہوسکتا ہے ابتدائی خلیہ اس سیارے پہ کسی ایسی مخلوق کی طرف سے بچارہ گیا ہو جس نے کبھی یہاں وِزٹ کیا ہو۔ انہوں نے یہ بات کس جواب میں کہی اس سے قطعِ نظر ثابت یہ ہواکہ دنیا کے گویا سب سے بڑے ملحد بھی ’اجنبیوں‘ پر یقین رکھتے ہیں۔اسی طرح باراک اوباما اور ہیلری کلنٹن نے یو ایف اوز(Unidentified flying objects) پہ جمی کِممل کو انٹرویوز دیے جو یوٹیوب پہ موجود ہیں۔رونالڈو ریگن نے UN and National Strategy Forumسے اپنے ایک خطاب میں زمین کو ’اجنبی خطرے‘ کا ذکر کیا اور اسی موضوع پر گوربا چوف سے گفتگو بھی کی۔روس کے عظیم خلائی تحقیق کار نکولائی کْرداچوف بھی ان یقین رکھنے والوں میں شامل ہیں۔ انہوں نے خلائی تہذیبوں کو تین سطحوں میں تقسیم کرتے ہوئے اپنے مضامین میں تفصیلی بحث کی ہے۔

یہ مضمون تفصیلات کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ کیا نہایت عجیب نہیں لگتا کہ خالقِ کائنات نے اپنے ہدایت نامے کا پہلا جملہ ہی معجزاتی ارشاد فرمایا ہے۔
الحمد للہ رب العالمین!
بڑی وضاحت سے کہا کہ ہم صرف تمھارے عالَم کے مالک نہیں بلکہ سب عالَموں کے رب ہیں۔ خدا کے الفاظ کو اپنے معنیٰ نہ پہنائے جائیں تویہ کلام انسان کو کائناتی سوچ اور شعور عطا کرتا ہے۔ صرف ایک اور آیت پیش کرتا ہوں۔
الذّی خلق سبع سموٰت طباقا والارض مثلھن۔ ویتنزل الامر بینھن
کہا، ہم نے سات آسمانوں کے طبقات بنائے۔ پھر بات یہاں ختم نہیں کی، مزید کہا اس زمین کی طرح کی زمینیں بھی رکھیں۔ یہاں بھی نہیں رکا گیا بلکہ فرمایا گیا کہ ان میں ہمارا اَمَر بھی نازل ہوتا ہے۔حضرت عبداللہ بن عباس نے آیت کی تشریح میں فرمایا کہ جیسے تمہارے آدم و موسٰی ہیں ویسے ان (خلائی مخلوقات) کے بھی ہیں،اگر میں اس کے معانی کھول دوں تو تم لڑکھڑا جاؤ۔ اس دور میں علم اتنا آگے نہیں گیا تھا لہذٰا بات ویسے ہی سمجھائی جیسی اس وقت میں سمجھ آسکتی ہے۔ امام غزالی ان ’اجنبی مخلوقات‘ کے بارے میں فرماتے ہیں (یہ اتنی ترقی یافتہ ہیں کہ)آپس میں نامہ پیامہ بھی کرتی ہیں۔

کئی مسلمان سائنس دان یقین رکھتے ہیں کہ وہ وقت قریب آن لگا ہے جس کے بارے میں خدا نے نشانیاں دکھانے سے متعلق ارشاد فرمایا ہے۔ امید ہے 2025تک انسان پہلی دفعہ اپنے قریبی ہمسایہ سیارے مریخ پہ قدم رکھ دے گا اور ایک نئے دور کا آغاز ہوگا۔ بے پناہ معاشی امکانات زمینی انسان کے لیے ظاہر ہوچکے ہیں۔ جو معدنیات سے لے کے توانائی تک ہزاروں سالوں کی ضروریات کے لیے کافی ہیں۔راستے اور وسائل طے کیے جارہے ہیں۔ ’اجنبیوں‘ کے ساتھ معاملات کس طور بیٹھیں گے آنے والا وقت بتائے گا۔لیکن یہ بات قریباََ طے شدہ لگتی ہے کہ مستقبل کی زمینی لیڈرز اور طاقتیں وہی ہوں گی جو خلائی تحقیقات میں امام ہوں گی۔
سنریھم ایٰتنا فی الآفاق وفی انفسھم حتٰی یتبین لھم انہ الحق!

 

سید ثمر احمد
سید ثمر احمد
سید ثمر احمد (کمیونی کولوجسٹ، موٹیوٹر، ٹرینر،مصنف، انرجی ہیلر) syyedsahib321@gmail.com

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *