ویلنٹائن ڈے کیوں منائیں؟۔۔منصور ندیم

آج ۱۴ فروری ، یوم الحب ، ویلنٹائن ڈے کے نام سے پوری دنیا میں منایا جاتا ہے، پاکستان میں بھی یہ دن منایا جارہا ہے، ہم نے یہ طے کردیا ہے کہ چونکہ ہماری روایات میں اس کی جگہ نہیں ہے، اس لئے ہم اسے نہیں منانے والے ، چلیں ویلنٹائن ڈے کی ہماری روایت میں اگر جگہ نہیں ہے تو ہماری روایات و ثقافت میں خوشیوں کے لئے کوئی جگہ بھی ہے کہ نہیں ؟

پوری دنیا میں لوگ سب سے زیادہ اگر باخبر ہیں تو تہوار جو بطور یوم سب سے زیادہ معروف مقبول ہیں۔ان میں سے ایک یہی ویلنٹائن ڈے اور دوسرا مدر ڈے ہے ، یوں تو فادرز ڈے بھی ہے لیکن ہماری ثقافت می ویسے وہ کیسے منایا جاتا ہے یہ تو ہم سب کو ہی پتہ ہے ، ہم میں سے زیادہ تر کو تو یاد ہی نہیں رہتا اور باقی آدھے کچھ اس طرح سے فادرز ڈے کی مبارک باد دیتے ہیں کہ بقول سنہء ۲۰۱۸ کے وسعت اللہ خان کے کالم کے مصداق ’’ اچھا ابا تجھے بھی یہ دن مبارک ہو’’۔۔۔۔

tripako tours pakistan

مدرز ڈے کا آغاز بھی سنہء ۱۹۰۵ میں امریکا کی ریاست  ورجینیا سے ہوا تھا، ایک خاتون نے اپنی ماں کی برسی پر اس دن کو ہر سال منانے اوران کے کاموں کو بڑھانے کا عہد کیا تھا، اس پر پھر تھریک چلی اور بالآخر ریاست ورجینیا میں سنہء ۱۹۰۸ سے مدرز ڈے کی چھٹی ہونے لگی اور پورے امریکہ میں ہر سال مئی کے دوسرے اتوار کو مدرز ڈے سنہء ۱۹۱۴ سے منانا طے پایا گیا۔ بہرحال ماں کےلئے ہماری معاشرت میں بہت جگہ موجود ہے، برصغیر کی معاشرت میں بیویوں کے حقوق کی ضرورت کبھی محسوس بھی نہیں کی گئی، ہمیں مغرب پر جہاں بہت اعتراضات ہیں وہیں یہ بات بھی ہمیں سمجھنی ہی چاہئے کہ مغرب کے برعکس مشرق میں مائیں آج بھی اپنی اولاد کے مستقبل کے فیصلے کررہی ہیں ۔ شادی دو فریقین نے نہیں بلکہ ماں چچا خالو اور پھوپھیوں کی رضامندی سے طے ہوتی ہے، اور جہاں ایسی سینکڑوں روزمرہ مثالیں ہوں وہاں حیرت ہے کہ پھر بھی مدرز ڈے الگ سے منانے کا رواج کیسے پڑ گیا۔

ویلنٹائن کی تاریخ کیا ہے؟ اس کے پیچھے سازشیں کیا ہیں؟ اس سے قطعہ نظر اگر یہ دیکھا جائے کہ اس کی مخالفت آخر ہمارے برصغیر میں ہی کیوں ہے؟ سنہء ۲۰۱۹ میں پڑوسی ملک ہندوستان میں ضلع گجرات میں حلف برداری کی تقریب جلد منعقد ہوئی تھی جس میں گجرات کے تقریباً 10ہزار نوجوان والدین کی مرضی کیخلاف شادی نہ کرنے کا حلف اٹھایا تھا۔ اس تقریب کا اہتمام’’ ویلنٹائن ڈے ‘‘کے موقع پر ہی کیا گیا تھا۔ ہندوستان میں ’’ہاسمے جیتے‘‘کے لافٹر تھراپسٹ کمال مسالا والا نے اس انوکھے پروگرام کا انعقاد کیا تھا، سورت کے 12 اسکولوں میں جہاں مخلوط تعلیمی نظام رائج تھیں، وہاں حلف برداری کی تقریب منعقد ہوئی تھیں اور نوجوانوں کو حلف دلایا گیا کہ اگر ان کی پسند کی شادی کو والدین ناپسند کرتے ہیں یا اعتراض کررہے ہوں تو وہ ان کی مرضی کے خلاف قطعا شادی نہیں کریں گے۔منتظمین کا کہنا تھا کہ جب والدین ’’پسند کی شادی‘‘کی مخالفت کرتے ہیں تو بیٹا جھگڑے پر آمادہ ہوجاتا ہے، حلف برداری کے بعد طلبہ و طالبات اور نوجوان مستقبل میں والدین کے جذبات کا احترام کریں گے۔

چونکہ میں سعودی عرب میں گزشتہ ۱۲ برس سے رہ رہا ہوں اب تو سعودی عرب میں بھی کچھ عرصہ پہلے تک ’حرام‘ سمجھا جانے والا ویلنٹائن ڈے منایا جا رہا ہے۔لگ بھگ تین سال پہلے تک سعودی عرب میں ویلنٹائن منانے کے بارے میں کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔ لیکن اب محبت کا موسم ہے اور ہر طرف دل اور پھول دکھائی دے رہے ہیں۔ ورنہ اس سے پہلے سعودی عرب کی مذہبی پولیس ’کمیشن فار پروموشن آف ورچو اینڈ پروینشن آف وائس‘ کے ڈر سے کاروباری حضرات اپنے سرخ گلاب اور دل کی شکل والے چاکلیٹس چھپا لیتے تھے۔ حتیٰ کہ ملک میں ریستوران مالکان نے گرفتاری کے خوف سے 14 فروری کو سالگرہ یا برسی کی تقریبات پر بھی پابندی عائد کر رکھی تھی۔سنہء ۲۰۱۸ میں اس معاملے پر پیش رفت اس وقت ہوئی تھی جب مکہ میں مذکورہ کمیشن کے سابق صدر شیخ احمد قاسم الغامدی نے اعلان کیا تھا کہ ویلنٹائن ڈے اسلامی تعلیمات یا نظریات کے منافی نہیں ہے۔اور مسلمان بھی محبت کا جشن منا سکتے ہیں اور یہ صرف غیر مسلموں تک ہی محدود نہیں۔

حالانکہ اس ویلنٹائن ڈے کے موقع پر دنیا بھر میں جوش و خروش کورونا وائرس کے باعث خاصا ماند ہے لیکن سعودی عرب کے شہری یہ دن بھرپور انداز میں منا رہے ہیں۔ ویلنٹائن کے دن پھولوں کی دکانوں، چاکلیٹ سٹورز اور ریستورانوں کے کاروبار میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ یہاں تک کہ جو ریستوران صرف فوڈ ڈیلیور کر رہے ہیں ان کی بھی اس موقع پر چاندی ہو گئی ہے۔ اس دن کی مناسبت سے لوگ محبت کا اظہار کرتے ہوئے ایک دوسرے کو پھول اور چاکلیٹس ضرور دیتے ہیں۔ پچھلے سالوں میں ریستورانوں نے بھی سرخ رنگ کی اشیا سے سجاوٹ کی ہوئی ہوتی ہے، جن میں سرخ دل والے غبارے نمایاں ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ اکثر ریستورانوں نے لنچ اور ڈنر کے لیے خصوصی اہتمام بھی کیا ہوتا تھا، چونکہ کرونا کی وجہ سے سعودی عرب میں ريستوران کے اندر کھانے پر تو پابندی عائد کی گئی ہے لیکن چند ریستوران اس دن کی مناسبت سے خصوصی ڈیلیوری کر رہے ہیں جس میں دو لوگوں کے کھانے کی آفر دی گئی ہے، اس کے علاوہ کئی مقامی برانڈز نے ویلنٹائن کے لئے اپنے مخصوص تحائف کے پروڈکٹس تک متعارف کئے ہیں۔ پچھلے کچھ ماہ سے پھول کی دکانوں کے۔ شمس شدید ابتری کا شکار تھے لیکن ویلنٹائن ڈے کے موقع پر پھولوں کی فروخت دگنی ہو گئی ہے۔ اب جبکہ پوری دنیا میں ویلنٹائن ڈے منایا جا رہا ہے تو سعودی شہری بھی اپنے پیاروں کے لیے تحائف، پھول، رنگ برنگے غبارے اور بھالو خرید رہے ہیں۔

ہاں مسلہ ہمارا ہے کہ ہم سال کا آغاز بھی رونے دھونے سے کرتے ہیں ، اور اختتام تک ہم خوشیوں کے کسی تہوار کو قبول نہیں کرنا چاہتے، نہ ہمارے پاس تہوار ہیں ، جو لوگ ویلنٹائن ڈے اور کسی بھی قسم کے تہوار کو نہیں منانا چاہتے اور وہ شادیوں جیسے فیصلوں کو بھی لڑکا لڑکی سے زیادہ پھوپھا خالو، ماموں اور چاچا کے فیصلوں پر فوقیت دیتے ہیں، میری ان کو صلاح ہے کہ وہ آج پھوپھا ڈے، ماموں ڈے اور خالو ڈے ہی منا لیں۔