• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • کھلا خط بنام چیف جسٹس برائے اصلاح ِ تعلیمِ قانون۔۔۔محمد علی جعفری

کھلا خط بنام چیف جسٹس برائے اصلاح ِ تعلیمِ قانون۔۔۔محمد علی جعفری

عرضداشت برائے اصلاحات در تعلیمِ قانون

بشرفِ نگاہ،

عزت ماب جسٹس ،میاں ثاقب نثار مدظلہ العالی،

قاضی القضا(چیف جسٹس)اسلامی جمہوریہ پاکستان،

اسلام آباد،

پاکستان۔

جنابِ عالی!

بندہ متوسط طبقے(مڈل کلاس گھرانے) سے تعلق رکھتا ہے اورمحنت کش خاندان کا فرد ہے جس کے سربراہ،یعنی میرے پدر بزرگوار نے اپنی ہر اولاد کو،چاہے پسر ہو کہ دختر،تحصیل ِعلم کا حکم دے رکھا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ،”علم روح کی روشنی ہے۔”

جنابِ والا،میں حضور کومملکتِ خداداد میں عدل کا علم بلند رکھنے اورمعدلت کی راہ پر ڈٹے رہنے پر سلام پیش کرتا ہوں اور ہدیہ تبریک بھی۔یہ فریاد جناب !،جو دل فگاری کے عالم میں سپردِ قرطاس کر رہا ہوں،سرکار کی نگاہِ کرم کی مشتاق ہے، یہ خط عالی جاہ،قانون کی تعلیمی حالت کی زبوں حالی کا منظر پیش کرتا ہے اور نظام کی تباہی پر نوحہ کناں ہے جو صوبۂ سندھ،علی الخصوص کراچی میں بلا روک ٹوک جاری و ساری ہے۔

جب میرے ہم جماعت خود کو انجنیئر اور ڈاکٹر متصور کرتے تھے،حقیر وکالت کرنےکے خواب دیکھا کرتا تھا،اور یہ راستہ بھی کیسا راستہ تھا بھلا،دور دور تک کوئی نہیں،نہ کوئی قطرہ،نہ قلزم ،نہ تارہ مددے۔خیر، 2011میں انٹر پاس کرکے میں نےایس ایم لاکالج میں قانون کے 5 سالہ ڈگری پروگرام میں داخلی لے ہی لیا،اس کالج کی تعریف کیا بیان کی جائے کہ یہ ادارہ 1940 سے قانونی ماہرین کی مادرِ علمی رہا ہے جو پورے پاکستان میں اپنی قابلیت کی بنا پر جانے جاتے ہیں اور ہم وکالت و منصبِ قضاوت،دونوںمیں مثبت کردار ادا کرتے ہوئےپائے جاتے ہیں۔

داخلے کے کچھ عرصے بعد آشکار ہوا کہ ہم طالبِ علم تو کالج کے ہیں لیکن ڈگری کراچی یونیورسٹی جاری کرے گی۔پہلے پہل تو اس بات سے کوئی پریشانی نہیں ہوئی، لیکن جب زندگی کے چھ قیمتی ترین سال گزرگئے تو اندازہ ہواکہ ،وہ منزل ابھی نہیں آئی اور وکالت کرنا ابھی بھی ایک خواب سراب ہے۔

والعصر،ان الانسان لفی خسر۔اسی لئے جنابِ والا کا وقت ضائع کیے  بنا تفصیلات گوش گزار کرتا چلوں،دامنِ وقت میں تنگی کے باعث ان مشکلات کا تذکرہ بے سود رہے گا جن سے اس نظام نے طالبِ علموں کو دوچار کیا ہے اور خود بھی اپنے معیار کا سودا کیا ہے۔شکوے،شکایات،منت،سماجات کے باوجود بھی جب کوئی امید بر اور کوئی صورت نظر نہ آئی تو عدل گستری کے لئے اگر ناچار عدالتِ عالیہ سندھ کی طرف داد رسی کے لئے نہ دیکھتے تو اور کیا کرتے۔سو کانسٹیٹیوشنل پیٹیشن(آئینی عرضداشت)نمبری 2017/1937دائر کی اور تماشائے اہلِ عدل دیکھا کیے ۔بنچ نے نہ صرف معروضات توجہ سے سنے بلکہ کالج و یونیورسٹی انتظامیہ کوان پر خاطر خواہ کاروائی کا حکم بھی صادر فرمایا۔سابقہ پرنسپل کو فارغ کردیا گیا اور غیر مستقل پرنسپل متعین ہوگئے،پروانۂ امتحانات جاری ہوا اورمستقبل سے مایوس طلبا کو اپنے دن پھرتے ہوئے نظر آئے۔مگر ابھی بھی مصیبت و آلام ختم نہ ہوئے۔

امتحانات کا شیڈول جاری ہوااور پیٹیشنر طلبا امتحان میں بیٹھ تو گئے لیکن اس کو شاید  معرکہ سمجھ لیا گیا اور وہ طلبا بھی میدانِ امتحان میں زخموں سے چور چور ہو کر ناکام ہوئے جنہوں نے پوری زندگی بہترین تعلیمی قابلیت کامظاہرہ کیا۔ہم کو ستم عزیز،ستمگر کو ہم عزیز، اور محنتی طلبا کے سخن ہائے گفتنی،

فسادِ خلق کے باعث ناگفتہ رہے گئے اور ان کے خواب جیسے جوڈیشل امتحانات اور سی ایس ایس کرنا ہنوز شرمندہ تعبیر ہونا باقی ہیں، کہ اب تک ڈگری جو نہ مل پائی۔

یہ صعوبتیں تو سعادتیں ہیں سرکار،ہم مثلِ مرغِ بسمل تڑپ رہے ہیں اب تک ،کس واسطے کہ ایک مدت تک تو ہمیں یہ ہی معلوم نہ ہوا کہ جس کورس میں ہم نے داخلہ لے رکھا ہے وہ تو ہائر ایجوکیشن کمیشن سے منظور شدہ ہی نہیں ہے،جس کی وجہ سے امتحانات میں رخنہ اندازی ہونے لگی،جس سے مہ و سال ، ٹھیک سے اندازہ لگاؤں توامتحانات میں15 ماہ کا تعطل آگیا۔ اور جب خدا خدا کر کے کفر ٹوٹا توجبراً زیادہ فیس وصول کی گئی،اور اس کے بعد آئے جو عذاب آئے۔لیٹ امتحانات،لیٹ نتیجہ،اور ان سب کا نتیجہ؟ناکام ہونے والوں کی امیدوں کا جنازہ جو بڑے دھوم سے نکلا۔

یقین کیجئے گا عالی جاہ!کہ اس دگر گوں صورتحال میں کسے وکیل کریں کس سے منصفی چاہیں؟لگتا ہے کہ ہر دو اداروں کی انتظامیہ بھی باقی سرکاری اداروں جیسی کارکردگی دکھا رہی ہے جس پر شاید کسی بھٹکتی روح کا سایہ ہو۔حتیٰ کے پاکستان بار کونسل کے جاری کردہ اصول و ضوابط اور یونیورسٹی رولز اینڈ ریگولیشنز کو بھی پس پشت ڈال دیا گیا ہےجو اس نظام کے لئے اساسی درجہ رکھتے ہیں۔

قانونی کہاوت ہے کہ”ہرمرض کی دوا موجودہوتی ہے”، لیکن فی الحال تو میرے سرکار،امتحانات اور نتیجے کا انتظار تو پلاسی کی جنگ کا نقشہ کھینچ دیتا ہے جس سے پورے نظام کی تباہی کی بنیاد پڑی تھی۔اے سبحان اللہ !کہ انصاف کی فراہمی یقینی بنانے والے خود منتظرِ انصاف ہوں اور اپنے ہی ادارے کے ہاتھوں یرغمال بنا دیئے جائیں۔اور تو اور ہر دو اداروں کی انتظامیہ عدالتی احکامات کو بیک بینی و دو گوش سن کر ایسے ہی محو کردیتی ہے جیسے یہود  نے انبیاکی نصیحت کو ان سنا کردیا تھا۔اور اس عالمِ بلا میں حضور پر نور کو طلبا کی بے چارگی اور مایوسی کا ادراک تو ہوگا ہی۔آپ سے بہتردردمند کون ہوگا یہاں؟

“عدل میں دیر کرنا ،عدل نہ کرنے کے مترادف ہے”،یہاں ایک اور مقولہ عرض کرتا چلوں۔”امتحان میں دیریعنی نتیجے میں دیر، جس سے ڈگری میں دیر، جس سے پیشہ ورانہ زندگی میں دیر،بالآخر پیشہ ورانہ زندگی نہ ہونامعاشرے میں عزت میں کمی یا نہ ہونے کے مترادف ہے۔”

خداوندِمتعال آپ کا اقبال بلند کرے، جناب نے بجا فرمایا تھاکہ،”ایسے وکیل نہیں چاہتے جو دن میں پان بیچیں اورشام میں قانون پڑھیں۔”لیکن جناب میں تو اس اسیری میں بھی آتش زیرِ پا ہوں اور ایسی حالت میں ہوں کہ “خس خانہ و برفاب کہاں سے لاؤں؟”،حتی کہ پان بیچنے کا یارا بھی نہیں ہے۔

امید کا قلعہ زمیں بوس ہوچکا ہے لیکن آپ کے ہوتے ہوئے یقین ہے کہ ناانصافی زیادہ عرصے نہ ہوپائےگی۔آپ نے جو گلشن کے تحفظ کی قسم کھائی ہے اور جیسے اس آئین کی حفاظت کا بیڑہ اٹھایا ہے،تو آپ ہی ہمارا مرکزِ رجاء ہیں۔

آپ نے اس 2018 کے سال کو تحفطِ حقوقِ انسانی کا سال کہا ہے اور تعلیم اور صحت کے شعبوں پر خصوصی ارتکاز کیا ہے۔(وگرنہ)نظامِ تعلیمِ قانون کا مرثیہ تو لکھا جاچکا ہے،بس ماتم بپا ہونا باقی ہے۔آپ کا یہ ادنی سا خادم دست بستہ فریاد کناں ہے کہ اس نظام کو سہارہ دیجئے،زمانہ منتظر ہے پھر نئی شیرازہ بندی کا؛ حکم صادر فرمایئے تاکہ:

(الف)امتحانات اور نتیجہ جات کا ایک کارآمد نظام وضع کیا جاوے۔

(ب)لا ءکالج اصول و ضوابط کو پامال نہ کریں اور ان کو ملحوظ رکھا جاوے

حضور کا یہ اقدام، مبنی بر حق وفراہمئ عدل میں مددگارثابت ہوگا۔

احقر ،

محمد علی جعفری

کراچی،پاکستان!

محمد علی
محمد علی
علم کو خونِ رگِِِ جاں بنانا چاہتاہوں اور آسمان اوڑھ کے سوتا ہوں ماسٹرز کر رہا ہوں قانون میں اور خونچکاں خامہ فرسا ہوں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست 4 تبصرے برائے تحریر ”کھلا خط بنام چیف جسٹس برائے اصلاح ِ تعلیمِ قانون۔۔۔محمد علی جعفری

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *