• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • یومِ خواتین اورعورت مارچ کی اُلٹی چکی میں پستی پاکستانی عورت (حصہ اوّل) ۔۔ بلال شوکت آزاد

یومِ خواتین اورعورت مارچ کی اُلٹی چکی میں پستی پاکستانی عورت (حصہ اوّل) ۔۔ بلال شوکت آزاد

SHOPPING
SHOPPING

آج عالمی یوم خواتین ہے, ایک ایسا دن جس دن ہم اسے خالص خواتین کے نام سے مناتے ہیں۔ دنیا کا تو اس دن کو منانے کا ایک الگ نظریہ اور عمل ہے پر پاکستان میں اس دن کو منانے کے تین الگ طریقے ہیں یا ہم کہہ سکتے ہیں کہ اس دن کو منانے والے تین دھڑوں میں تقسیم ہیں۔

اوّل وہ جو اس دن کی مناسبت سے خواتین کی حقیقی نمائندگی کرکے ان کے حقوق کی آواز بلند کرتے ہیں, دوم وہ جو اس دن کی مناسبت سے ان خواتین کو یاد کرتے اور ان کی خدمات کا اعتراف کرتے ہیں جو تاریخ کا حصہ بن چکی ہیں اور سوم وہ لوگ ہیں جو اپنی انا کی تسکین, سفلی جذبات کی تکمیل اور بیرونی ایجنڈے پر عمل کی خاطر مادر پدر آزاد معاشرے کی بنیاد رکھنے کے درپے ہیں۔

میری تحریر میں آج ہم زیادہ تذکرہ آخر الذکر افراد کا کریں گے کہ حالیہ تین چار سال میں ان چند مٹھی بھر افراد یا سادہ لفظوں میں کہوں تو چند انتہا درجے کی شاطر اور شتر بے مہار خواتین نے ایک عجیب سی ہڑبونگ اور افرا تفری مچا رکھی ہے۔

میں آگے بڑھوں اور تفصیل سے بات کروں اس سے پہلے واضح کردوں کہ آج میری تحریر کا انداز بیاں سوال جواب کی صورت ہوگا مطلب موجودہ صورتحال میں میری تحریر ان سوالوں کا جواب دیتی نظر آئے گی جن سے ہماری اکثریت یا تو نابلد ہے یا لاپرواہ۔

جن سوالوں کے جواب کی تلاش میں ہم آج علم و عمل کے سمندر میں غوطہ زن ہونگے ان میں چند سوال یہ ہیں۔

1-فیمنزم کی تعریف اور تاریخ کیا ہے؟

2-مادر سری اور پدر سری معاشرے کی تعریف اور بنیادی فرق کیا ہے؟

3-“میرا جسم, میری مرضی” کیا محض ایک تحریکی نعرہ ہے یا پوری تحریک؟

4-عورت کے حل طلب مسائل کیا ہیں؟

5-عالمی عورت کے حل طلب مسائل کیا ہیں؟

6-مسلمان عورت کے حل طلب مسائل کیا ہیں؟

7-پاکستانی عورتوں کے حل طلب مسائل کیا ہیں؟

8-“عورت مارچ” یا پاکستانی “میرا جسم, میری مرضی” تحریک کے مطالبات اور اعتراضات کیا ہیں؟

9-مغربی فیمنزم اور مشرقی فیمنزم میں کیا فرق ہے؟

10-مغربی میرا جسم میری مرضی تحریک اور مشرقی میرا جسم میری مرضی تحریک میں کیا بنیادی فرق ہے؟

11-کیا اسلام ایک سیمی فیمنسٹ دین نہیں؟

12-انسانیت میں عورتوں کے بنیادی انسانی حقوق کیا ہیں؟

13-انسانیت میں عورتوں کے بنیادی انسانی فرائض کیا ہیں؟

14-اسلام میں عورتوں کے بنیادی شریعی حقوق کیا ہیں؟

15-اسلام میں عورتوں کے بنیادی شریعی فرائض کیا ہیں؟

16-پاکستان میں عورتوں کے بنیادی آئینی حقوق کیا ہیں؟

17-پاکستان میں عورتوں کے بنیادی آئینی فرائض کیا ہیں؟

18-پاکستان میں عورتوں کے بنیادی معاشرتی و سماجی حقوق کیا ہیں؟

19-پاکستان میں عورتوں کے بنیادی معاشرتی و سماجی فرائض کیا ہیں؟

20-پاکستان میں فیمنزم اور میرا جسم میری مرضی کا مستقبل کیا ہے؟

یہ بیس سوالات وہ ہیں جن کا علم ہرکس و ناکس کو لازمی ہونا چاہیے ورنہ ان سوالات کے جواب جانے بغیر خوامخواہ کی زنانہ و مردانہ تحاریک چلانے کا قطعی کوئی فائدہ اور دانشمندی نہیں۔

سب سے پہلے سوال مطلب “فیمنزم کی تعریف اور تاریخ کیا ہے؟” کا جواب یہ ہے کہ فیمنزم کی اصطلاح خواتین کو قانونی طور پر سیاسی, ثقافتی اور معاشی و اقتصادی فورمز پر برابر کے حق دینے اور جملہ فورمز میں خواتین کی پورے حق سے شمولیت کو یقینی بنانے کے لیے مستعمل ہے کیونکہ فیمنزم میں معاشرتی تھیوریز اور فلسفیانہ دلچسپی کے عناصر شامل ہیں اس لیے ان معاملات میں جہاں مرد و زن کی واضح تفریق اور تقسیم موجود ہے وہاں فیمنزم ایسے معاملات میں خواتین کے مساویانہ حقوق کی جنگ لڑنے کے مترادف ہے جہاں خواتین کی جنگ, خواتین کی جانب سے, خواتین کے لیے اور خالص خواتین کے اعلی مقاصد کی خاطر لڑی جاتی ہے۔

الغرض فیمنزم دراصل صنفی امتیاز کے خاتمے اور صنفی برابری کی ایک عالمگیر جانبدار تحریک ہے جس کا اولین مقصد پوری دنیا میں مرد و زن میں صنفی برابری قائم کرنا اور مرد شاہی یا پدر سری معاشرے کا خاتمہ ہے۔

یہاں یہ امر قابل غور ہے کہ 1970ء تک یہ اصطلاح “فیمنزم یا فیمنسٹ” کسی صورت دنیا میں خاص توجہ حاصل نہیں کرپائی تھی لیکن برسبیل تذکرہ بتاتا چلوں کہ اس اصطلاح “فیمنزم یا فیمنسٹ” کا پہلی دفعہ اظہار مشہور زمانہ فلمی ہیروئین “کیتھرائن ہیپ برن” نے ایک فلمی مکالمے میں “فیمنسٹ موومنٹ” کہہ کر 1942ء میں فلم “ایئر آف وومن” مطلب “عورتوں کا سال” میں کیا۔

میگی ہمم اور ریبیکا واکر کے مطابق ہم فیمنزم کو تین لہروں میں تقسیم کرسکتے ہیں۔

اولین فیمنزم لہر انیسویں صدی کے اواخر اور بیسیویں صدی کے اوائل میں چلی تھی, دوئم فیمنزم لہر 1960ء سے 1970ء میں چلی اور اب موجودہ اور سوئم فیمنزم لہر 1990ء میں چلی اور اس وقت پوری دنیا میں جاری و ساری ہے۔

فیمنسٹ تھیوریز کا ارتقاء ان تین لہروں میں وقتاً وفوقتاً تکمیل کی جانب رواں دواں ہے بلکہ ان تین لہروں میں جاری موومنٹس کا آپس میں اختلاط ہی موجودہ فیمنزم تحریک کی بنیاد اور حقیقت ہے۔

فیمنزم کی تینوں تاریخی لہروں کا حاصل نتیجہ اور اختلاط اب ورائٹیز میں منظم ہوکر فیمنسٹ منشور بن گیا ہے جو ان سبجیکٹس پر مشتمل ہے, جیسے کہ فیمنسٹ جیوگرافی, فیمنسٹ ہسٹری اور فیمنسٹ لٹریری کرٹسزم وغیرہ۔

فیمنزم نے ارتقائی و نظریاتی سفر کے دوران اپنا منشور اور ظاہری وضع قطع واضح کرلی ہے جس میں بشمول مغرب تمام مذاہب اور اقوام پر مشتمل ممالک کی خواتین کی وسیع تعداد شامل ہوچکی ہے جس میں تمام متعلقہ معاشرے, درجات و طبقات اور جہات شامل ہیں جن سے فیمنزم کی قانونی و اظہاراتی جنگ اور ٹکراؤ جاری ہے۔

فیمنسٹ ایکٹیوسٹس سارا سال اور مخصوص ایام بلخصوص عالمی یومِ خواتین کی مناسبت سے مختلف کیمپینیز اور ٹرینڈز لانچ کرتی ہیں جن کا بنیادی اور اہم مقصد خواتین کے حقوق (Rights to Contract, Property Rights, Voting Rights) کی جنگ, اس بات کی یقین دہانی ہوتا ہے کہ خواتین کو ان کی صنف مطلب جسمانی ساخت اور نظریاتی وقار کے تحت اسقاط حمل اور پیدائش کا حق (including access to contraception and quality parental care) ملے, خواتین کی سکیوریٹی اینڈ سیفٹی کا بندوبست ہو کہ وہ گھریلو تشدد, جنسی حراسانی اور جنسی زیادتی کا شکار نہ ہوں اور ورک پلیس رائٹس بشمول میٹرنٹی لیو ود فل سکیل پے ایکوئیل ٹو مینز اور صنفی امتیاز و ناانصافی اور دیگر صنفی تقسیم و تفریق کے خلاف بند باندھنا شامل ہے۔

فیمنزم کی تاریخ میں اکثریت مغرب سے بلخصوص مغربی یورپ اور شمالی امریکی خواتین کی ہے جو مڈل کلاس طبقے سے اٹھیں اور فیمنزم کی موومنٹ چلانے میں پیش پیش رہیں۔

فیمنزم کی تاریخ پر اتنی تفصیل ہی کافی ہے کہ اس موضوع پر پوری کتاب لکھی جائے تو وہ بھی کم پڑ جائے البتہ آپ احباب کو فیمنزم کی تعریف اور تاریخ سے مختصراً متعارف کروانے کی اصل وجہ یہی ہے کہ ہم مکالمے کی طرف ایک مثبت قدم اٹھا سکیں جہاں ہمارے پاس فقط تنقید برائے تنقید یا تنقید برائے تضحیک کا ہی آپشن نہ رہے بلکہ ہم علمی و قلمی بنیادوں پر دلیل سے رد اور اتفاق کرسکیں۔

جاری ہے۔

نوٹ: تحریر کی ضخامت اور طوالت کے پیش نظر میں تحریر کو قسط وار شائع کررہا ہوں تاکہ تمام احباب کو پڑھنے, سمجھنے اور یاد رکھنے میں آسانی رہے۔

SHOPPING

جاری ہے

SHOPPING

بلال شوکت آزاد
بلال شوکت آزاد
بلال شوکت آزاد نام ہے۔ آزاد تخلص اور آزادیات قلمی عنوان ہے۔ شاعری, نثر, مزاحیات, تحقیق, کالم نگاری اور بلاگنگ کی اصناف پر عبور حاصل ہے ۔ ایک فوجی, تعلیمی اور سلجھے ہوئے خاندان سے تعلق ہے۔ مطالعہ کتب اور دوست بنانے کا شوق ہے۔ سیاحت سے بہت شغف ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *