نیچرل فلسفے سے سائنس تک (14)۔۔وہاراامباکر

رچرڈ فائنمین کا کہنا ہے کہ “سائنس کا فلسفہ سائنسدانوں کے لئے اتنا ہی ضروری ہے جتنا کہ پرندوں کے لئے آرنیتھولوجی (پرندوں کی سائنس)”۔ اگر رچرڈ فائنمین درست ہیں تو اس سے نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ پرندوں کو یہ ضرورت نہیں کہ آرنیتھولوجسٹ انہیں بتائیں کہ انہوں نے کیسے اڑنا ہے، کیسے زندگی گزارنی ہے اور کیا کرنا ہے۔ یہ آرنیتھولوجسٹ کا دردِ سر ہے کہ وہ دریافت کرتا رہے کہ پرندے کیا ہیں اور کیا کرتے ہیں۔
کیا رچرڈ فائنمین درست ہیں؟ جی، بڑی حد تک۔ سائنس کرنے کیلئے فلسفے کی ضرورت نہیں ویسے ہی جیسے پرندوں کو ماہرین کی ضرورت نہیں۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ان ماہرین کی اہمیت نہیں۔ دونوں کا اپنا کام ہے اور ہمیں دونوں سے دلچسپی ہے۔ تاہم، ان کا آپس کا رشتہ اس سے زیادہ پیچیدہ ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ڈیکارٹ کے بعد یہ فلسفہ اور سائنس الگ راہیں لے چکے تھے۔ (اور ڈیکارٹ کا اس علیحدگی میں اہم کردار ہے)۔ لیکن سائنسدان کا لفظ 1830 کی دہائی میں استعمال ہونا عام ہوا۔ اس کو آرٹسٹ سے تفریق کرنے کیلئے استعمال کیا جاتا تھا۔ گلیلیو خود کو ریاضی دان اور فلسفی کہتے تھے۔ گلیلیو اپنے وقت کے روایتی ورلڈ ویو کو چیلنج کرنے والی اہم شخصیت ہیں۔ زمین کی مرکزیت کا خاتمہ، زمین اور آسمان کی الگ فزکس کے تصور کا خاتمہ ان کی بڑی کنٹریبیوشن ہیں۔ اس کے نتیجے میں زیرِعتاب آئے، 1633 میں مقدمہ چل کر سزا پائی۔
ارسطو کی فزکس کے تصور کو چیلنج کرنے کیلئے گلیلیو کا ایک خوبصورت تجربہ سوچ کا تجربہ تھا۔ ارسطو کا دعوٰی تھا کہ اجسام کے زمین پر گرنے کی رفتار کا تعلق ان کے وزن سے ہوتا ہے۔ بھاری جسم زیادہ رفتار سے گرے گا۔ ہلکا جسم کم رفتار سے۔
گلیلیو نے اس پر لکھا کہ فرض کیجئے کہ ہم دو اشیاء لیتے ہیں۔ ایک ہلکی اور ایک بھاری۔ ان دونوں کو دھاگے سے باندھ دیتے ہیں اور پھر نیچے گراتے ہیں۔
“اگر ان کی قدرتی رفتار مختلف تھی تو یہ واضح ہے کہ ان دونوں کو اکٹھا کر دینے سے زیادہ تیزی سے گرنے والا جسم باندھے جانے کے بعد سست پڑ جائے گا اور کم رفتار سے گرنے والا تیزرفتار ہو جائے گا۔ فرض کر لیں کہ بھاری پتھر کی رفتار آٹھ ہے اور ہلکے کی چار۔ ان دونوں کو اگر باندھ دیا جائے تو اس سسٹم کی اپنی رفتار چار سے آٹھ کے درمیان ہو گی۔
لیکن دوسری طرف جب ہم نے ان دونوں کو باندھا تو اس کا کل وزن بھاری والے پتھر سے زیادہ ہو گیا۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ اگر اس کی رفتار آٹھ سے کم ہو تو یہ ہمارے سب سے پہلے قائم کردہ تصور کی نفی کر دے گا”۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہاں پر پتے کی بات کیا ہے؟ وہ یہ کہ پہلی پیشگوئی کا دوسری پیشگوئی سے منطقی تضاد ہے۔ یہ دونوں بیک وقت درست نہیں ہو سکتیں۔ یہ دکھاتا ہے کہیں پر کچھ مسئلہ ہے اور اگر ارسطو ہوتے تو تسلیم کرتے کہ یہ دونوں نتائج ان کے اجسام اور رفتار کے قائم کردہ تصورات کا ہی منطقی نتیجہ ہیں۔ اس لئے غلطی ان کے تصور میں ہے۔ ہم تصور کر سکتے ہیں کہ اس آرگومنٹ کو اگر قدیم یونانی ماسٹر سنتے تو اس اطالوی سائنسدان کے جینئیس پر اپنا سر ہلاتے ہوئے اپنی شکست تسلیم کر لیتے۔
عام کہانی ہے کہ گلیلیو نے اچھے سائنسدان کا ثبوت دیتے ہوئے پیسا کے ٹاور سے مختلف وزن گرا کر اس کو ٹیسٹ بھی کیا تھا لیکن نہ ہی گلیلیو نے اس کا کہیں ذکر کیا ہے اور زیادہ تر مورخ بھی ایسا نہیں سمجھتے کہ ایسا اصل میں کیا بھی گیا تھا۔ یہ تجربہ اپالو 15 کے کمانڈر سکاٹ نے چاند پر کیا تھا لیکن یہ اس وقت کچھ ثابت کرنے کیلئے نہیں بلکہ صرف ایک دلچسپ مظاہرہ تھا۔
گلیلیو کی یہ اہم انتہائی اہم دریافت تھی اور یہ مثال ہمیں ایک بار پھر بتاتی ہے کہ انکوائری کا محض کوئی ایک طریقہ نہیں۔
گلیلیو کی کتابوں پر پابندی 1846 میں ختم ہوئی۔ 1968 میں ان پر چلایا جانے والے مقدمے کو دوبارہ زیرِغور لایا گیا۔ یہاں پر دلچسپ بات یہ ہے کہ اس پر نظرثانی کیلئے ایک صاحب نے اعتراض کیا جو کارڈینل جوزف راٹزنگر تھے۔ (یہ بعد میں پوپ بینیڈکٹ سولہ بنے)۔ ان کا کہنا تھا کہ گلیلیو پر مقدمہ معقول تھا اور فیصلہ منصفانہ تھا۔ اس کے حق میں کارڈینل نے مشہور سائنس مخالف انقلابی فلسفی پائل فائیرابنڈ کی کتاب کا حوالہ دیا۔ آخر کار پوپ جان پال دوئم نے 1992 میں گلیلیو کو سرکاری طور پر معاف کر دیا۔ 359 سال کی تاخیر کے بعد لئے گئے اس فیصلے تک دنیا بہت بدل چکی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نیوٹن سائنس کی تاریخ کی ایک اہم ترین اور بہت پیچیدہ شخصیت ہیں۔ وہ بجا طور پر اپنی شہرت کے مستحق ہیں۔ اگرچہ وہ ایک خوشگوار شخصیت نہیں تھے۔ ایسے بالکل نہیں جن کو ہم دوست بنانا پسند کریں۔ لیکن ہم ان انہوں نے جدید فزکس کو ڈیفائن کیا۔ ان کی کتاب پرنسیپا سائنس کا بڑا سنگِ میل تھا اور صرف ان کی پیشکردہ گریویٹی کی تھیوری ہی انہیں تاریخ کے عظیم ترین مفکرین کی صف میں لانے کیلئے کافی ہوتی۔
سائنس کے فلسفے اور سائنسی طریقے میں بھی ان کی کنٹریبیوشن ہے۔ انہوں نے اپنے سائنس کے طریقے کے چار نکات بتائے۔
۱۔ کسی غیرضروری وضاحت کو شامل نہ کرو۔
۲۔ جتنا بڑا ایفکٹ ہو گا، اتنی ہی بڑی کاز ہو گی۔
۳۔ ایسی خاصیتیں جو مختلف اجسام میں ایک ہی ہوں، یونیورسل ہوں گی۔
۴۔ جن نتائج پر منطق اور تجربات کی مدد سے پہنچ جایا جائے، اسے تب تک سچ مانا جائے گا جب تک اس کے خلاف نہیں دکھا دیا جاتا۔
سولہویں اور سترہویں صدی میں سائنس فلسفے سے الگ ہوتی گئی۔ نیچرل فلاسفی سائنس میں ڈھل گئی اور کئی جگہ پر ان کے تعلقات کشیدہ ہونے لگے۔
(جاری ہے)

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *