تاریخی سائنس (7)۔۔وہاراامباکر

جس چیز کو تجربے کے ساتھ ثابت نہ کیا جا سکے، وہ غیرسائنسی ہے۔ کوئی بھی سائنس تاریخی نہیں ہو سکتی”۔ یہ عجیب رائے لکھنے والے کوئی اور نہیں “نیچر” جریدے کے ایڈیٹر ہنری جی تھے۔ اگر جی درست تھے تو انہوں نے اپنی جنبشِ قلم سے سائنس کے بہت سے شعبوں کو سائنس کے دائرہ کار سے بے دخل کر دیا تھا۔ میوزم آف نیچرل ہسٹری کو غیرسائنسی قرار دے دیا تھا اور نیچر کے اپنے بہت سے مضامین کو سائنس سے نکال دیا تھا۔ جی غلط تھے اور بہت ہی غلط تھے۔ لیکن ان کا فقرہ ہمیں یہ بتاتا ہے کہ سائنس کئی اقسام کی ہے اور سائنسی طریقہ بھی کئی اقسام کا ہے۔
سائنس کرنے کا مطلب کیا ہے؟ اس پر کئی غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں۔ (کئی بار سائنسدانوں میں بھی)۔ آپ کو سائنس میں تجربات کرنے کی ضرورت نہیں۔ ہو سکتا ہے کہ یہ دعویٰ عجیب لگے لیکن درست ہے۔ آسٹرونومر تجربات نہیں کرتے۔ لیکن آسٹرونومی سائنس کا حصہ سمجھی جاتی ہے،آرٹس کا نہیں۔ کیوں؟ اس لئے کہ آسٹرونومر دو کام کرتے ہیں جو انہیں سائنس بناتا ہے۔ ایک طریقے اور احتیاط سے مشاہدات۔ اور دوسرا ہائپوتھیسس بنانا اور ان کو ٹیسٹ کرنا۔ مثلاً، آسٹرونومی کی ایک شاخ کاسمولوجی میں بیسویں صدی میں ایک بڑی کامیابی اس بات کی تصدیق تھی کہ کائنات کا نکتہ آغاز ہے۔ بگ بینگ جس نے پراسس کی وہ لڑی شروع کی جس سے ہم اس دنیا تک پہنچے جس کو آج جانتے ہیں۔ لیکن اس خیال کو ٹیسٹ کیسے کیا جائے؟ کیسے پتا لگے کہ کہ کائنات ہمیشہ سے موجود نہیں تھی؟ اس کے مدِمقابل تھیوری بھی موجود تھی۔ بگ بینگ کے حق میں اہم ایویڈنس 1964 میں بیل لیبارٹری میں دریافت ہونے والی کاسمک بیک گراونڈ ریڈی ایشن تھی۔ یہ بیگ بینگ تھیوری کی پیشگوئی کے مطابق تھی۔ کئی مزید شواہد ہیں جو بگ بینگ کو سپورٹ کرتے ہیں اور ایک ہی نتیجے کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ چودہ ارب سال قبل ہونے والی بینگ نے یہ پارٹی شروع کی تھی۔ اور یہ وجہ ہے کہ تاریخی سائنسز سائنس کی انٹرپرائز کے اچھے ممبران ہیں۔ تجربے کرنا شرط نہیں۔

اس کی ایک اور مشہور مثال: یہ تھیوری کہ ڈائنوسارز کی معدومیت کی وجہ (یا کم از کم بڑی وجہ) ساڑھے چھ کروڑ سال قبل زمین سے ٹکرانے والا بڑا شہابیہ تھا جو دو ارضی ادوار کو جدا کرتا ہے۔ (اس کو کے ٹی باونڈری کہتے ہیں)۔ یہ 1980 تک کئی ممکنہ وضاحتوں میں سے ایک تھی۔ اس سال باپ بیٹے کی ٹیم لوئی الواریز اور والٹر الواریز (ایک فزسسٹ اور دوسرے جیولوجسٹ) نے پتھروں کی تہوں میں اریڈیم کی ایک غیرمعمولی تہہ دریافت کی۔ اس کی اہمیت کی دو وجوات تھیں۔ ایک تو یہ کہ یہ تہہ دنیا بھر میں کئی جگہ پر ویسے ہی پائی گئی۔ اس کا مطلب یہ نکلا کہ یہ کسی مقامی واقعے کے باعث نہیں تھی۔ دوسرا یہ کہ اریڈیم زمین پر نایاب ہے لیکن ایک خاص قسم کے شہابیوں میں وافر مقدار میں ہے۔ اس دریافت نے انتہائی شاندار طریقے سے تصدیق کر دی کہ آسمانی آفت سے معدومیت کا خیال درست تھا۔ نہ صرف ڈائنوسار بلکہ زندگی کی اقسام میں سے بڑا حصہ اس واقعے سے معدومیت کا شکار ہوا۔

tripako tours pakistan

لیکن ایک مسئلہ ابھی باقی تھا۔ ایسے کسی تصادم کی وجہ سے زمین پر اڑھائی سو کلومیٹر بڑا گڑھا بن جانا چاہیے تھا۔ یہ کہاں تھا؟ اور یہ ہمیں 1990 میں میکسیکو کے ساخل کے قریب جزیرہ نمائے یوکاٹان میں مل گیا۔ نہ صرف یہ درست سائز کا تھا بلکہ ماہرینِ ارضیات نے اس کی مدد سے تصادم کا زاویہ بھی معلوم کر لیا۔ یہ ایسا تھا کہ اس کی وجہ سے بہت بڑے سونامی آئے ہوں گے۔ جب سائنسدانوں کو یہ معلوم ہو گیا کہ کہاں پر کیا دیکھنا ہے تو سونامی کے اچھے شواہد بھی مل گئے۔ اور اس کی تاریخ بھی اسی وقت کی تھی جو کے ٹی باونڈری کا وقت تھا۔ اور اگر یہی تو اچھی سائنس ہے۔
یہ اور ایسی بہت سی دوسری مثالیں ثابت کرتی ہیں کہ سائنس کرنے کے لئے مشاہداتی ایویڈنس کا ذہانت سے استعمال ضروری ہے۔ اور دوسرا یہ کہ سائنس کرنے کے کئی طریقے ہیں جن کا انحصار زیرِ مطالعہ سوال کی نیچر اور اس شعبے کے طریقوں پر ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تاریخی سائنسز کے ساتھ ایک اور اہم فرق ہے۔ اس کو سائنس کے فلسفے میں “asymmetry of over determination” کہا جاتا ہے۔ یہ ایک بہت اہم تصور ہے۔ اس کا بنیادی خیال سادہ ہے۔ سائنسی تفتیش میں ماضی اور حال کا آپسی تعلق ماضی اور مستقبل کے تعلق سے بہت مختلف ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو سائنسدان ماضی کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں (آسٹرونومر، پیلینٹیولوجسٹ، ایولیوشنری بائیولوجسٹ)، ان کے مسائل ان سائنسدانوں کے مقابلے میں بہت مختلف ہیں جو تجربات کے نتائج پر انحصار کرتے ہیں (فزسسٹ، کیمسٹ، مالیکیولر بائیولوجسٹ)۔
جاسوسی ناول یا فلم میں جب کوئی جرم کرتا ہے تو سراغ رساں اس کے پیچھے چھوڑے گئے سراغوں سے جرم کا منظر تشکیل دینے کی کوشش کرتے ہیں اور مجرم تک جا پہنچتے ہیں۔ کہیں انگلی کا نشان، کہیں بال یا خون۔ کوئی فون کا یا کریڈٹ کارڈ کا بل۔ کوئی گواہ، خواہ وہ جرم کا نہ ہو بلکہ کسی اہم کڑی کا ہو جو جرم تک لے کر جاتی ہو۔ ماضی کے تمام نشان مٹا دینا انتہائی مشکل ہے۔ اچھے سراغ رساں جرم کو حل کر لیتے ہیں۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ تمام جرائم حل ہو جائیں گے۔ کیونکہ سراغ رساں کی اپنی کمزوریاں ہو سکتی ہیں۔ وقت کے ساتھ سراغ خراب ہوتے ہیں۔ جرم کا پتا لگانا زیادہ مشکل ہوتا ہے۔ نکتہ یہ ہے کہ کچھ کیس آسان ہوں گے۔ چند سراغوں سے پتا لگ جائے گا۔ لیکن دوسری طرف، یہ پیشگوئی کرنا ناممکن ہے کہ مستقبل میں جرم کب اور کیسے ہو گا۔ وجہ کیا ہے؟ جرم کا پتا لگانے کیلئے تمام ویری ایبلز کی مکمل معلومات کا پتا لگانا لازمی نہیں ہے۔ ان فیکٹرز میں سے ہر ایک کو ایک ترتیب کے ساتھ رونما ہونا تھا۔ کسی کے پاس ایسا کرنے کی وجہ ہونی تھی۔ اس کو پلان کیا جانا تھا۔ حالات اس کے مطابق ہونے تھے اور پھر جرم کامیابی سے کرنے کیلئے ایکشن لئے جانے تھے۔ ان میں سے کوئی بھی ایک کام نہ ہوتا یا غلط ہو جاتا تو جرم ہی رونما نہ ہوتا۔

اس کو مزید سمجھنے کیلئے کلیلینڈ کی دی گئی مثال: فرض کیجئے کہ ایک گھر آتشزدگی کی وجہ سے تباہ ہو گیا۔ ایک بار اس کے رونما ہو جانے کے بعد یہ جاننا آسان ہے کہ وجہ کیا بنی۔ فرض کیجئے کہ ہمیں معلوم ہو گیا کہ اس کی وجہ برقی سرکٹ میں شارٹ ہو جانا تھی۔ تکنیکی طور پر تو یہ ایک خاص واقعے میں درست ہے لیکن “کاز” کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ پہلی تو اس برقی سرکٹ کا موجود ہونا ہی تھا۔ ایک اور وجہ اس کے قریب لکڑی کا ہونا تھا۔ اس میں آتشزدگی سے بچاوٗ کے لئے سپرنکل سسٹم کا نصب نہ ہونا تھا۔ یہ بھی وجہ تھی کہ اس وقت گھر میں کوئی فرد نہیں تھا۔۔۔۔ اور یوں ان بہت سے فیکٹرز میں سے اگر ایک بھی موجود نہ ہوتا تو آتشزدگی کا واقعہ پیش نہ آتا۔ یا کم از کم گھر تباہ نہ ہوتا۔ اور اس وجہ سے ہم واقعہ ہونے کے بعد تو کاز طے کر لیتے ہیں۔ یہ پیشگوئی ناممکن ہے کہ آئندہ کیا اور کب ہو گا۔

اس کو ہم کاز کی سمٹری کا نہ ہونا کہتے ہیں۔ یعنی حال سے ماضی تک پہنچنا آسان ہے لیکن حال سے مستقبل تک نہیں۔ یہ وجہ ہے کہ پیلینٹولوجسٹ ان شواہدات کو تو ڈھونڈ لیتے ہیں جن سے ساڑھے چھ کروڑ سال قبل شہابیے کا گرنا معلوم ہو جائے لیکن کسی بھی سائنسدان، خواہ وہ کسی بھی شعبے کا ہو، کے لئے یہ پیشگوئی کرنا ناممکن ہے کہ کیا اگلے ساڑھے چھ کروڑ سال میں ایسا واقعہ رونما ہو گا یا نہیں۔ تو پھر سائنس کے کچھ شعبے ہیں (مثلاً پارٹیکل فزکس) ایسے کیوں ہیں جہاں پر مستقبل کی پیشگوئی انتہائی ایکوریٹ طریقے سے کی جا سکتی ہے؟ مثال کے طور پر کسی تجربے کے نتائج کی؟ اس کا جواب یہ کہ زیادہ تر معاملات میں تجربات کا اپنا ڈیزائن اسے ممکن کرتا ہے۔ مثال کے طور پر کوانٹم مکینکس کے تجربات لیبارٹری کی بہت ہی کنٹرولڈ اور خاص حالت میں کیے جاتے ہیں۔ اس میں سائنسدانوں کو چند ایک کے سوال باقی تمام کازل فیکٹر ختم کر دینے پر کنٹرول ہوتا ہے۔ اور ان آئیڈیل حالات میں بھی تجربات کو بہت احتیاط سے دہرانا پڑتا ہے تا کہ پیمائش کی غلطی کو دور کیا جا سکے۔ (تجرباتی فزکس میں تجربات کا ڈیزائن ایک بڑا چیلنج ہے)۔
اور یہ ہمیں دکھاتا ہے کہ سافٹ اور ہارڈ سائنس میں فرق کازل فیکٹرز سے پیدا ہونے والے مسائل کا ہے۔ اور اس وجہ سے سائنس کے ہر شعبے میں اپنے طریقے ہیں، اپنے چیلنج اور اپنی حدود۔ تاریخی سائنسز کو فائدہ یہ ہے کہ ماضی کے واقعے سے ملنے والے چھوٹے سے ٹریس سے ہم ہاپئوتھیسس کی تصدیق کر سکتے ہیں۔ لیکن جب ان کی مدد سے مستقبل کی پیشگوئی کرنے کی کوشش کریں گے تو ہمارا ریکارڈ اچھا نہیں ہو گا۔ اس کے مقابلے میں تجرباتی سائنسز میں بہت ہی اچھی پریسیژن کی پیمائش کی وجہ سے ہم کنٹرولڈ تجربات میں نتائج کی حیران کن ایکوریسی سے پیشگوئی کر سکتے ہیں۔ لیکن جب ویری ایبل زیادہ ہوں تو ایکوریسی کم ہوتی جاتی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہم یہ معقول نتیجہ نکال سکتے ہیں کہ سائنس مختلف شعبوں کا طریقہ متنوع ہے۔ اس کی مدد سے ہم کئی زاویوں سے فطرت کی تفتیش کرتے ہیں۔ ان میں مشترک چیز احتیاط سے ایمپیریکل ڈیٹا کو اکٹھا کرنا ہے (یہ تجربات بھی ہو سکتے ہیں یا مشاہدات بھی)۔ ہائپوتھیسس بنانا اور اس کو اس ڈیٹا سے پرکھنا ضروری ہے۔ اور مختلف مسائل میں کامیابی کا تناسب اور امکان یکساں نہیں۔ یہ ویری ایشن رینڈم نہیں بلکہ اس کی اپنی وجوہات ہیں۔ تاریخ سے معاملہ کرنے کا اپنا طریقہ ہے۔ جہاں مقابلتاً آسان سسٹمز (جیسا کہ فزکس اور کیمسٹری) سے واسطہ ہو، وہاں سٹرونگ انفرنس استعمال کیا جا سکتا ہے۔ جہاں پیچیدگی زیادہ ہو، وہاں شماریاتی طریقہ ضروری ہو جاتا ہے۔ ان سب کا تعلق ان سوالات کی نیچر سے ہے جو زیرِ مطالعہ ہیں۔
اگر ہم ٹھیک سمت میں ہوں تو جواب converge ہوتے رہتے ہیں۔
جہاں پر ایسا نہیں ہوتا، خواہ وہ علمِ نجوم ہو، الکیمیا، زمین کی مرکزیت، خلائی پروگراموں کے سازشی خیالات، پانی سے چلنے والی گاڑیاں، روشنی، رنگ یا خوشبو سے علاج، اڑن طشتریاں، علم الاعداد، کری ایشنزم، ٹیلی کائنیسس یا اس قسم کے درجنوں خیالات۔۔ غلط ہونے کے سبب سنجیدہ مکالموں سے خارج ہو جاتے ہیں۔ کیونکہ نہ ہی ان میں وضاحتی ہوتی ہے اور نہ ہی یہ حقیقت سے ٹکرانے پر کامیابی دکھا پاتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لیکن غلط سائنس سے پہلے ایک پڑاوٗ درمیان کے میدان میں۔ جسے ہم تقریباً سائنس کہہ سکتے ہیں۔ سائنس اور غیرسائنس کے درمیان کا یہ دھندلا علاقہ سائنس کی نیچر کو سمجھنے کے لئے ایک بہت دلچسپ علاقہ ہے۔
(جاری ہے)

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *