بِد دا بیج۔۔ربیعہ سلیم مرزا

بد دا بیِج

بوا لاگ لینے کے چکرمیں ویہڑے میں شٹاپو کھیل رہی تھی ۔
” کیسی چاند سی دلہن ڈھونڈھی ہے میں نے۔اُچی لمی،
اب مانتی ہو نا،” بوا اٹھلا کر چار چوفیرے بیٹھی عورتوں سے بولی۔
“سویرے کھراچڑھائی کے لیےآجاؤں گی ۔پہلا غسل برکتاں والا ہوتا ہے ۔اوراگرجی متلائے تو بتا دینا۔پھیرے رکھوں گی۔”
رشیدہ کی نتھ درست کرتے بوا نے شرارتی لہجے میں کہا ۔
“نو کوہ دریا ، ستھن موڈھے تے ” رشیدہ نے سوچااور گھونگھٹ میں مزید سمٹ گئی۔
رشیدہ نمانی کو پتہ ہی نہ تھا کہ رفیق توپورا پنج کلیان ہے ۔کن کھڑے، پوچھل باہر ۔
ویسے بھی اس رحمت پورے والے گھر میں بڑی ہی برکت تھی ، رفیق کی تائی، چچی اور خود اس کی اپنی اماں کےآگےپیچھے پھرنے والے بچے اتنے سارے تھے کہ پرائمری اسکول لگتا۔
بوا اس سارے محلےکی دائی بھی تھی اور رشتوں کی وچولن بھی ۔
شادی کے دوسرے سال ہی بیٹے کا منہ دیکھے بنا شوہر چلتا بنا ۔بوا منہ متھے لگتی تھی لیکن دوسری شادی نہیں کی اپنا اور بچے کا پیٹ پالنے کو دائی بن گئی ۔بوا کی نیم حکیمی اور ٹوٹکے اس کے پیشے کی اضافی ڈگریوں کی طرح اسےبخودبخود آتے گئے ۔
دوسروں کی اترن پہن کر بھی آسمان پہ ٹاکی لگا آتی ،جی نہ متلانے سے لے کر نوزائیدہ کے ختنوں تک کے ہر مسئلے کا حل اس کے گھن چکر دماغ میں موجود رہتا۔
یوں تو برکت پورے کے کسی نہ کسی گھر میں بوا ہروقت آنے بہانے موجود ہوتی مگر اس کی کیکلی تب دیکھنے والی ہوتی جب اچھی بھلی جھاڑو پو نچھا کرتی، برتن مانجھتی کوئی بہو اچانک ہی ناجائز مال کی طرح گھر کے پچھواڑے والے کمرے میں غائب کر دی جاتی ۔پہلے لیبر روم سےبوا برآمد ہوتی اور چار چھ گھنٹے بعد مبینہ زچہ مال مسروقہ سنبھالے چولہے پہ روٹیاں سینک رہی ہوتی۔
زچگی والے گھر بوا مردوں کی تو بلائیں لیتی نہ تھکتی کہ وارے ہوئے پیسے ، صدقہ خیرات چاہئیے ہوتا ۔لیکن ادھر زچہ نے تڑپ کر آہ کی اور بوا کی گُھرکیاں اور طعنے شروع ۔بوا کی زبان تھی کہ کٹار،چاہے کپڑا کتر لو چاہے سپاری ، دھار سامنے والے کی کمزوری کے حساب سے رکھتی “خبردار ۔آواز نکالی تو ۔جولائی میں تجھے چاء چڑھے ہوئے تھے، اپریل میں اترنے تو تھے ۔
لپک جھپک بچہ لپیٹ لپاٹ ماں کے حوالے کرتی۔
“لے پھڑ ، بد دا بی ”
اس نئے ٹیگ پہ تو زچہ سٹپٹا ہی جاتی کہ اچھا بھلا حق حلال کا ہے ،کیا ہوا جو مہینہ بھر کمرے کی گھٹن سےگھبرا کر چھت پہ سوگئی تھی ۔پاس کھڑی درانیاں جیٹھانیاں پلو منہ میں دبائے کھی کھی کرتیں اور زچہ دردیں بھول کر چلو بھر پانی ڈھونڈھنے لگتی۔۔ہر پھیرے بوا کوآٹے کی پرات، چند گڑ کے ڈھیلے اور کچھ روپے بصد احترام دے کر رخصت کیاجاتا۔اورہر دفعہ بہوئیں کیتا کرایا گود میں لئے سوچتیں کہ دردزہ کی تکلیف زیادہ تھی کہ بوا کی باتوں کی،
۔بیچاریاں گزشتہ بستی بھول نہ پاتیں کہ ایک اور چن چڑھ جاتا۔یہی وجہ تھی کہ بوا جو مرضی کہتی لیبر روم کے باہر لگی لائین کی ہر بار بس ترتیب بدلتی ۔۔ترکیب وہی رہتی ۔ رشیدہ کا بوا سے پالا کچھ کم ہی پڑا تھا لیکن “بد دے بی” کا خطاب اس کے بچوں کو بھی مل چکا تھا ۔ دوسریوں کی طرح وہ بھی بس تلملا کر رہ گئی ، ٹوکنے یا پوچھنے کی ہمت کبھی نہ پڑی۔ساری بیبیاں، دل ہی دل میں بوا کی آنے والی بہو کی بحشش کی دعائیں ضرور مانگتی۔
پھر بوا دودھ گلاب سے گندھی بہو لے ہی آئی ،شہر بھر کی خاک چھان کر بوا کی آنکھ چن کا ٹوٹا ڈھونڈ لائی ۔
زلیخا اب بوا کے ساتھ ہی برکت پورے آتی جاتی ۔
بوا کی قینچی جیسی زبان کے دکھ کی سانجھ تھی، جلد ہی گھل مل گئی
۔بہوئیں بچا کھچا کھانا، اپنی اچھی خاصی اترنیں اب اسے دینے لگیں تھیں۔۔۔نئی نئی شادی اور مانگے تانگے کا رنگ برنگ کھانا، جوبن چار چوبارے چڑھ کر بولتا ۔
لیکن وہی بات روپ کی روئے کرم کی کھائے۔ بہو کو آئے سال بھر نہ ہوا کہ نظر کھاگئی ۔بوا کے بیٹے کی ہڈیاں شوگر کی وجہ سےخون کی بجائے پیشاب میں گھلنے لگیں۔سال دو اور گذرے تو بوا کی زبان بیٹے کے آگے پیچھے پھرتی بہو کی زندگی میں زہر گھولنے لگی۔
بلاجواز کت سیاپہ کرنے والی کو بانجھ پن کا جواز مل گیا
“خصم کو نہارنا چھوڑ، خالی پڑی باس مار رہی ہے کسی اور کام کے متھے لگ۔سارا دن زلیخا جیسے توپ کے منہ پہ رہتی

tripako tours pakistan

زلیخا کو دل کے ساتھ گھرکا آنگن اور سونا لگنے لگا تھا ۔اب وہ بھی بوا کی کان پڑی باتوں کو زیادہ تر سنی ان سنی کر دیتی۔لیکن کب تک ،
زلیخا نجانے کب وٹ کھا گئی۔
کسی کو پتہ ہی نہیں چلا۔
رشیدہ کی تیسری بار ہونے والی بے عزتی متوقع تھی کہ رفیق کا رنگ ڈھنگ بدلنے لگا۔
پہلے تو رشیدہ سنی سنائی سن کر اپنے ہی کان جھاڑ لیتی، مگر اب تو چھاچھ گھٹنوں میں بیٹھنے لگی تھی۔کئی کئی دن کنگھی پٹی کئے بغیر گزر جاتے۔دیکھنے والا تو کہیں اور دیکھ رہا تھا۔ خصم کی مزاج آشنا تھی اور سیانی بھی ،جی سنبھالے چپکی پڑی رہتی۔
پہلے بھی کبھی رفیق کے ساتھ کسی مرنے جینے پہ جانا ہوتا، تو راہ چلتی عورتوں کی بدلتی اٹھلاتی چال کو دیکھ کر تاڑ لیتی کہ کاریگروں نے ایک دوسرے کو پہچان لیا ہے۔
مگر اب کی بار تو سامنے کی بات تھی ۔
پھولے پیٹ سوچتی کہ یہ چولہا چوکا بھی کس کام کا ۔؟خصم تو بسترے کے مستری ہوتے ہیں
۔زلیخا کے نظر چرا کر بات کرنے سے جان گئی
اس کے نصیب کی بارشیں ۔۔آجکل کدھر برس رہی ہیں ۔
کیونکہ گھر میں پانی تو کیا ،گرج چمک بھی نہ رہی
۔عقلمند تھی چپ رہ کر سن گن لیتی رہی۔
بچے کے چار مہینے بعد ہی رفیق تھان پہ لوٹ آیا ۔ زلیخا کا آنا جانا بھی رک گیا ۔
رشیدہ کو نہ پہلے گلہ تھا نہ اب خوشی۔
ایک دن رفیق اپنے کزن کے ساتھ بیٹھک میں تھا جب وہ چائے کا پوچھنے اندر جانے لگی، زلیخا کا سن کر دروازے پہ ٹھٹک گئی ۔
“زلیخا کو کیوں چھوڑ دیا تم نے “رفیق کے کزن کی آواز تھی ۔
“اچھی لڑکی ہے، پر اب میں اسے منہ نہیں لگاتا ”

“بھلا وہ کیوں” ؟ رفیق کے کزن کا سوال گویا رشیدہ کے دل میں تھا۔
“عشق معشوقی کرتے بِی مانگنے لگی تھی سالی ” ۔
رفیق کے لہجے سے کمینہ پن صاف جھلک رہا تھا۔
رشیدہ جہاں تھی وہیں ششدر کھڑی رہ گئی، ایک ثانیہ لگا سنبھلنے میں ۔
تیزنفرت کی لہر اس کے پورے وجود میں تیر گئی ۔بیساختہ اس نے دل سے گالی دی ۔
“حرامزادہ، بد دا بی “اور کچن کی طرف پلٹ گئی ۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *