جینئس (Genius) لوگ کون ہوتے ہیں؟۔۔عدیل ایزد

SHOPPING

جینئس وہ لفظ ہے جو ہم سب چاہتے ہیں ہمارے نام کے ساتھ جڑے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ تاریخ میں کچھ گنے چنے لوگ ہیں جو اس مقام کو حاصل کر پائے ۔ جب ہم جینئس بولتے ہیں تو کچھ گنے چنے چہرے ہی ہمارے سامنے آتے ہیں جیسے البرٹ آئنسٹائن، لیونارڈو ڈاونچی،عبدالسلام اور کچھ دو چارسائنسدان ہیں، تخلیق کار ہیں ، موسیقار ہیں جنہیں جینئس کا درجہ دیا جاتاہے۔ پر سوچنے کی بات یہ کہ کیا عقلمندی انہی تک محدود ہے؟ اور اس سے بھی اہم سوال یہ ہے کہ کیا جینئس لوگ پیدائشی طور پر ہی اتنے تیز ہوتے ہیں؟ کیا ہم میں سے کوئی جینئس نہیں بن سکتا؟ تو دوستوں آج بات کریں گے کچھ انہی ان سلجھے سوالوں پر اور جانیں گے جینئس ہونے کاراز۔

کچھ لوگوں کو لگتا ہے سٹیوجابز (معروف کاروباری شخصیت، ایپل کمپنی کے بانی ) بھی جینئس تھا۔ نہیں وہ جینئس نہیں تھا۔ وہ ٹیلنٹڈ / باصلاحیت بزنس مین تھا۔ اور نہ ہی الون مسک (سپیس ایکس اورٹیسلا موٹرزمیں سی ای او، سولر سٹی کا چیئرمین اور پے پال، زپ 2 کا شریک بانی) جینئس ہے۔ یہاں ایک اہم چیز سمجھیے آپ، ٹیلنٹڈ / باصلاحیت آدمی اور جینئس میں فرق کیا ہوتا ہے؟ جینئس کسی بھی چیز کی شروعات کرتا ہے اور ٹیلنٹڈ اسے انجام دیتا ہے۔ مثال کے طور پر جینئس وہ ہو ا جس نے سمال پاکس ویکسین بنائی۔ ٹیلنٹڈ وہ ہوا جس نے اس ویکسین کے دم پر ایک میڈیکل فرم کھڑی کی  اور اسے لوگوں میں تقسیم کی ۔ اور ایک بے حد کامیاب کاروبار بنایا۔ جینئس ہمیشہ نئے آئیڈیاز کو جنم دیتا ہے / اورجینیٹ کرتاہے، ایکدم منفرد۔ پر ایسانہیں ہے کہ ان کی ایجاد صرف ان کے آئیڈیاز کے دم پر ہوتی ہے۔چاہے آپ جینئس ہی کیوں نہ ہو ، آپ کو پرانے آئیڈیاز، پرانے قوانین کی مدد لینی ہی پڑتی ہے کچھ نیا بنانے کے لیے۔ جب آئنسٹائن نے نظریہء اضافیت (تھیوری آف ریلیٹویٹی) دیا تھا اس میں بھی ایسے کئی پرانےقوانین اور نظریے موجود تھے جن کو استعمال کرتے ہوئے وہ اس تھیوری تک پہنچا۔ ہاں پھر بھی تھیوری آف ریلیٹویٹی اپنے آپ میں ایک نیا تصور تھا جس نے علم سائنس کی دنیا کو ہلا کے رکھ دیا۔ جینئس لوگ اپنی ایجادات سے ایک نیا مقام دیتے ہیں انسانیت کو، ایک نیا معیار دیتے ہیں۔ تو جینئس مطلب یہ نہیں کہ آپ دوسروں کے خیالات کی مدد نہ لیں بلکہ دوسروں کے آئیڈیاز کی مدد لیتے ہوئے ایک نئی ایجاد کرو۔


ایک اور غلط فہمی جو جینئس لوگوں کو لے کر لوگوں کے ذہنوں میں ہے وہ یہ کہ اگر آپ کا انٹیلجس کوشنٹ / مقیاس ذہانت (یہ وہ اسکور ہوتا ہے جو انسانی ذہانت جانچنے کیلئے کئی معیاری ٹیسٹ سے اخذ کیا جاتا ہے) زیادہ ہے تو آپ جینئس بن جائیں گے۔ نہیں ۔۔ایک دم غلط۔ حالانکہ یہ درست ہے کہ جینئس لوگوں کی مقیاس ذہانت ، عام لوگوں کی نسبت کافی زیادہ ہوتا ہے۔ عام لوگوں کا مقیاس ذہانت قریباً 85 سے 114 تک ہوتا ہے اور جینئس لوگوں کا مقیاس ذہانت 145 سے 159 کے درمیان ہوتا ہے۔ پر ایسے بہت لوگ ہوتے ہیں جن کا مقیاس ذہانت عام لوگوں کے مقیاس ذہانت سے زیادہ ہوتا ہے مگر پھر بھی وہ اوسط درجے کے کام ہی کرتے ہیں۔ کینیڈا میں ایک تحقیق کے نتیجہ میں یہ معلوم ہو ا کہ انٹیلجس کوشنٹ / مقیاس ذہانت کا کامیابی سے کوئی تعلق ہی نہیں ہے۔ آپکا انٹیلجس کوشنٹ / مقیاس ذہانت زیادہ ہو سکتا ہے پر ضروری نہیں آپ کامیاب ہوں۔ اور اسی طرح کم انٹیلجس کوشنٹ / مقیاس ذہانت ہونے کے باوجود آپ اپنی زندگی میں آگے بڑھ سکتے ہیں۔ رچرڈ برنسن ( ورجن کمپنی کا بانی) ڈائلکسک تھا، کہتا ہے کہ اگر کوئی میرا انٹیلجنس ٹیسٹ لے، تو مجھے ڈر ہے میں فیل ہو جاؤں گا۔ لیکن وہ آج 400 کمپنیز کے مالک ہیں اور دنیا کی صف اول کی کاروباری شخصیات میں شمار ہوتے ہیں۔ تو جینئس، آدمی اپنے مقیاس ذہانت کے دم پر نہیں بنتا۔

دوسرا سوال یہ دماغ میں آتا ہے کہ پھر شاید جینئس لوگ کافی محنتی ہوتے ہوں گے۔ تو بھئ محنت تو ایک گدھا بھی کرتا ہے، ایک چیونٹی بھی کرتی ہے۔ محنت کوئی فیکٹر نہیں ہے جینئس ہونے کے لیے ۔ محنت کے بغیر آپ کبھی کامیاب ہو ہی نہیں سکتے۔ محنت کرنی ہی ہے اس کا کوئی متبادل نہیں ہے۔ اس لئے سب کامیاب لوگو ں کی طرح، جینئس لوگ بھی محنتی ہوتے ہیں۔
تو پھر ایسی کونسی چیز ہے جو جینئس کو عام لوگوں سے الگ کرتی ہے؟ ایسا کیا ہوتا ہے ان میں جو عام لوگوں میں نہیں ہوتا؟ ۔۔۔۔۔۔ وہ چیز ہے تجسس۔ جی ہاں تجسس۔ ہر جینئس کی سوانح عمری پڑھ لیں آپ ، ان کی زندگی پر فلمائی گئی مویز دیکھ لیں یہ چیز آپکو ان سب کی زندگی میں مشترک ملے گی۔ وہ لوگ بے حد تجسس میں مبتلا ہوتے ہیں۔ جب لیونارڈو ڈارونچی پرندوں کو اڑتے ہوئے دیکھتا تھا تو وہ سوچنے لگتا تھا کہ وہ اڑ کیسے رہے ہیں۔ کیا انسان اسطرح سے اڑ نہیں سکتا؟ جب آئنسٹائن ریل گاڑی کو چلتے ہوئے دیکھتا تھا تو وہ یہ سوچنے لگتا تھا کہ کیا ہم کبھی اسی طرح وقت میں پیچھے جا سکتے ہیں؟ جینئس دماغ کے لیے کوئی چیز معمولی نہیں ہوتی۔ ہر چیز ہی سنسنی خیز اور دلچسپ ہوتی ہے مٹی کے ایک ذرے سے بڑےبڑے گلیکسیز تک ۔

SHOPPING

اب آپ کے ذہن میں یہ سوال اٹھ رہا ہو گا کہ اتنا تجسس کہاں سے لایا جائے؟ زندگی میں اتنی سنسنی کہاں سے لائی جائے؟ اور اس کا جواب ہے ہم سب تجسس کے ساتھ ہی پیدا ہوتے ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ جیسے جیسے ہم بڑے ہوتے ہیں ویسے ویسے اپنی دنیا کے لیے تجسس کھوتے جاتے ہیں۔ آپکو کبھی موقع ملے تو ایک چھوٹے بچے کے ساتھ ایک دن گزاریے ، آپ حیران رہ جائیں گے کہ وہ ہر چیز کے لیے، ہر چیز کے بارے میں جاننے کے لیے کتنا پرجوش رہتاہے۔ اس کے دماغ میں بس سوال ہی ہوتے ہیں یہ کیسے ہو رہا ہے؟ وہ کیسے ہو رہا ہے؟ یہ کیا ہے؟ ان میں تجسس ہوتا ہے ہر چیز کے بارے میں جاننے کا۔ اس کے برعکس آپ کبھی پندرہ سال کے بچے سے ملیے اس کو بس کلاس روم میں جتنا پڑھایا جا تاہے وہ اتنے میں ہی خوش رہنے لگتا ہے۔ تو اس پندرہ سال میں ہمارے اندرایسی کونسی تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں جو ہم اپنا تجسس کھو کر بالکل سست ہو جاتے ہیں؟ جہاں تک میں اس سوال کا جواب تلاش کرتے ہوئے پہنچا ہوں وہ ہے سیلف کونشیشنس (Self-consciousness)۔ ہم غلطی کرنے سے ڈرنے لگتے ہیں، ہم سوال پوچھنے سے کترانے لگتے ہیں، ہمیں ڈر لگتا ہے کہ کوئی ہم پر ہنس نہ دے۔ معاشرہ، قوائد و قوانین، والدین کی امیدیں یہ سب مل کرہمارے تجسس کو صفر پر لا کھڑا کرتا ہے۔ اور ہم بھی سب کی طرح نوکری کے حصول کے لیے پڑھنے لگتے ہیں۔ ہم سب ہی جینئس پیدا ہوتے ہیں۔ مگر ہم میں سے جو لوگ اپنا تجسس، اپنی عمر کے ساتھ کھوتے نہیں ہیں وہی جینئس کہلاتے ہیں۔

SHOPPING

عدیل ایزد
عدیل ایزد
قاری اور عام سا لکھاری...شاگردِ نفسیات

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *