انتہائے عقل۔۔رؤف الحسن

ایک عرصے سے کچھ سوال ذہن میں تھے:
(ا) انسانی عقل کی معراج کیا ہے؟
(ب) نظریہ سازی کے عمل میں عقل اور جذبات کا کیا مقام ہے؟

خود سے کیے گئے ان سوالات کے جواب میں ،مَیں نے جو کچھ سوچا اور سمجھا, آپ کی خدمت میں حاضر ہے۔۔

یہ بہت ضروری ہے کہ انسان کے اپنے نظریات و خیالات ہوں۔ لیکن اس سے بھی زیادہ ضروری یہ ہے کہ ان نظریات کی بنیاد حقیقت پسندی اور logics پر رکھی گئی ہو۔
بلا شبہ سوچ و افکار انسان کے لیے مشعل کی طرح ہیں۔ نظریات جہاں ذہن سازی کے عمل میں کردار ادا کرتے ہیں, وہیں زندگی کی راہ بھی متعین کرتے ہیں۔ چنانچہ فکر و نظر کی اساس جتنی مضبوط بنیادوں پر استوار ہوگی, راہ زیست اتنی ہی روشن و تابندہ ہوگی۔ اس کے برعکس جن نظریات پر جذبات کی چھاپ گہری ہو, وہ شاخ ناپائیدار کی طرح ہوتے ہیں۔ ایسے نظریات کی سب سے بڑی کمزوری وہ جذبہ ہے کہ جس کے زیر اثر اس نظریے نے پرورش حاصل کی۔

جذبات کی بنیاد پر بنائے گئے نظریات کی ایک بہت بڑی تعداد مذہب یا وطنیت سے متعلق ہے۔ اور ایسے نظریات کی شرح شعوری طور پر نابالغ معاشروں میں بہت زیادہ ہے۔ ایسا کیوں ہے؟ شاید اس لیے کیوں کہ ہم ان دونوں معاملات میں عقلی دلائل پر جذباتی نعروں کو ترجیح دیتے آئے ہیں۔ المیہ یہ رہا ہے کہ ہم مذہب اور وطن سے متعلق کوئی بھی بات سننے سے قبل عقل کے روشن دروازوں کو بند کر لیتے ہیں اور جذبات کی پیچیدہ راہوں پر چل نکلتے ہیں۔ پھر انہی راہوں پر کیے گئے فیصلے کبھی اپنے لیے اور کبھی معاشرے کے لیے بوجھ ثابت ہوتے ہیں۔

صاحبو! یہاں سوال اٹھتا ہے کہ کیا مذہب کے بنیادی عقائد پر عمل کرتے ہوئے بھی عقل و دانش کے مروجہ اصولوں پر اعتماد کیا جائے؟ مذہب کی بات کرتے ہوئے یہاں یہ بات ضروری ہے کہ ہم عقائد اور نظریات کو الگ الگ زایوں سے سمجھیں۔ عقیدہ جامد جب کہ نظریہ متحرک ہوتا ہے۔ وقت اور حالات کی تبدیلی کے ساتھ نظریات میں بھی تبدیلی آ سکتی ہے۔ لیکن عقیدہ ہر صورت میں اپنی خالص حالت برقرار رکھتا ہے۔

اس بات میں بھی کوئی شک نہیں کہ انسانی عقل و شعور ایک خاص حد سے آگے جواب دینے سے قاصر ہیں۔ بہت سے ایسے معاملات ہیں جہاں انسانی عقل کو سرنگوں ہونا پڑتا ہے اور مذہب سے مدد طلب کرنی پڑتی ہے۔ مذہب کی خوبصورتی یہ ہے کہ ایسے معاملات میں اس نے انسان کو تنہا نہیں چھوڑا بلکہ اسے وہ راہ بتلائی ہے جو قرین از عقل ہے۔ اور شاید یہی عقل انسانی کی معراج ہے کہ وہ ممکن حد تک افکارات و نظریات کی تشکیل میں معاون ثابت ہو اور اپنی انتہا کو پہنچنے کے بعد خود کو ان فیصلوں کے تابع کردے جو اس کے مذہب نے اس کے لیے متعین کر دیے ہیں۔

خرد مندوں سے کیا پوچھوں کہ میری ابتدا کیا ہے
کہ میں اس فکر میں رہتا ہوں میری انتہا کیا ہے!

Rauf Ul Hassan
Rauf Ul Hassan
I do not consider myself a writer. Instead, I am a player. As one of my friend s said: "You play with words. " He was right. I play, and play it beautifully.

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *