انھیں نیند کیسے آتی ہوگی۔۔۔۔علی اختر

برسوں پہلے میں نے مشہور مصنف “ہیرالڈ لیمب ” کی کتاب “tamerlane the earth shaker” (تیمور لنگ جس نے دنیا ہلا دی ) پڑھی تھی۔ اس کتاب میں جا بجا تزک تیموری یعنی تیمور کی سوانح حیات کے حوالے موجود تھے ۔ تیمور کے اپنے تجربات خود اسی کی زبانی پڑھنے کا اپنا ہی لطف تھا ۔ آج کی انٹرنیٹ اور گوگل کی دنیا سے بالکل الگ ۔ وہ برفیلی وادیوں اور ریگستانوں میں گھومتا، موسموں کی سختی ، الگ الگ تہذیبوں کلچرکے حامل لوگوں سے ملنا، دشمنوں سے مدبھیڑ ، سیاست و حکومت کے معاملات، مشہور شخصیات جیسے “حافظ شیراز” سے ملاقات وغیرہ۔ ان سب کے ساتھ ساتھ ایک اور بات جو میری دلچسپی کا باعث  تھی وہ جنگی مہمات کے دوران پیش  آنے والی  صورتحال کی منظر کشی تھی ۔ جس میں دشمن کے لشکر کی پوزیشن ، میدان جنگ کا نقشہ ، جنگ کی حکمت عملی ، دشمن کی کمزوری سے فائد ہ اٹھانا، بارود کا استعمال اور دشمن اور اپنی فوج کے زیر استعمال اسلحہ کی تفصیلات بھی شامل تھیں ۔ جنگ میں سب سے آگے خود رہنا ، دونوں ہاتھوں سے تلوار چلانے کی صلاحیت اسے ایک ماہر جنگجو اور بہادر انسان ثابت کرتی ہے۔ ساتھ ہی دونوں ہاتھوں سے لکھنے کی صلاحیت، علم و فن کے ماہرین کی قدر، حافظ قرآن ہونا لشکر کے ساتھ چلتی پھرتی مسجد بھی رکھنا ایک کریٹو اور صاحب ذوق ذہین حکمران کا امیج بھی بناتا ہے۔

اگر با ت یہیں تک ہی رہتی تو تیمور کا امیج ایک مدبر، فنون اور فنکاروں کے قدردان اور بہادرمہہم جو کا ہوتا ۔ لیکن اس کے  برعکس کتاب میں کچھ ایسا بھی تھا جو لکھ کر تیمور نے خود اپنے ہاتھ سے ہی سینے میں دل رکھنے والے لوگوں کی نظر میں اپنا امیج ایک ایسے ظالم کا بنا دیا جو زمین ، دولت اور حکمرانی کی ہوس کے لیے بے رحمی کی ہر حد تک جا سکتا تھا۔ جیسے ایک جگہ غالبا  ً ایران کے کیسی شہر میں جب بہت عرصہ کے محاصرہ کے بعد شہر فتح ہوا تو  وہ خود لکھتا ہے  کہ “شہر میں ایک عورت تلوار لے کر میرے گھوڑے کی جانب بڑھی اور میرے وار کے باعث جب زمین پر گری تو اسکے کندھے پر موجود گٹھڑی سے بچے کے رونے کی  آواز آ رہی تھی”۔ ایک اور جگہ الفاظ کچھ اس طرح ہیں ۔ “شہر کے محاصرے کے باعث شہر میں کھانے کا ذخیرہ بالکل ختم تھاؕ۔ شہریوں کے پیٹ چاک کرنے پر اندر سے صرف پتے بر آمد ہوتے،” کہیں کہتا ہے کہ  “فتح کے اگلے روز میں شہر کے دورے پر نکلا تو قتل عام ابھی تک کچھ علاقوں میں جاری تھا۔ گھروں کے دروازوں کے نیچے سے بہتا تازہ خون اس بات کا اشارہ تھا”۔

چلیے مقابلہ پر آئی  مسلح فوج کی بات الگ ہے لیکن میرا ذہن اشرف المخلوقات کی اس تسکین کا ادراک کرنے سے قاصر تھا جو بے بس ، نہتے لوگوں کا خون بہا کر حاصل ہوتی ہے۔ ایک انسان جسکا آپ سے کبھی سامنا نہ ہوا، کوئی  دشمنی بھی نہیں، اسکا تعلق پولیس، فوج یا کسی سرکاری ادارے سے تعلق بھی نہیں محض رنگ، نسل، مذہب، فرقہ، خطے کی بنیاد پر آپکے نزدیک واجب القتل ہو جاتا ہے۔ حیرت مجھے اس بات پر ہوتی کہ یہ مزاج ایک اکیلےانسان کا نہیں بلکہ پوری فوج ہوتی ایسا ہی مزاج اور سوچ رکھتی ہے۔ اس قتل عام کے بعد لوٹ کا مال اور لونڈی غلام وغیرہ کی تقسیم ، جشن شراب ، رقص اور واپسی کا سفر سب کچھ نہایت آرام و سکون سے انجام دیا جاتا ۔

مجھے حیرت ہوتی ہے کہ  بے قصور انسانوں کا قتل ، بچوں کو یتیم، خاندانوں کو تباہ کر کے بھی کوئی  اتنے سکون سے سمرقند کے محلات میں کیسے سو سکتا ہوگا ۔ کیا اسے ان بچوں کی سسکیاں سنائی نہیں دیتی ہونگی جنہیں اس نے یتیم کر کے دربدر کر دیا ۔ کیا ان عورتوں کے بین سے اسکا دماغ نہیں پھٹ جاتا ہوگا جن کے پیارے انکے سامنے کاٹ دیئے جاتے ہوں گے ۔ یہ سب اتنے اطمینان سے کیسے ہوجاتا تھا ؟ ۔ میں اس برداشت، اس بے حسی ، اس خود غرض سنگدلی پر حیران ہوتا ۔

لیکن آج جب اپنے ملک میں یکے بعد دیگرے بم دھماکوں میں، منظم کاروائیوں میں بے قصور لوگوں کو محض رنگ ، نسل ، مذہب، فرقوں کی بنیاد پر مرتے دیکھتا ہوں اور پھر اپنے ملک کے حکومتی اور ریاستی عہدے داروں کا اطمینان دیکھتا ہوں تو برسوں پہلے کے سوال و حیرانی ایک بار پھر تازہ ہو جاتے ہیں ۔

کوئٹہ میں ہزارہ برادری کو آج ایک بار پھر نشانہ بنایا گیا، بیس لوگ جان سے گئے، عام لوگ ، سبزی بیچنے والے ، مزدوری کرنے والے ، روتے ہوئے بزرگ کی دھاڑیں مار کر روتی تصویر دیکھتا ہوں تو کلیجا منہ کو آتا ہے ۔ اجتماعی قبریں کھودتے انکے لواحقین جانے کس دل سے یہ کام کر رہے ہونگے  ،حکومتی عہدہ دار کس منہ سے انکے پاس بار بار جا کر تعزیت کرتے ہیں ۔ کبھی بسوں سے اتار کر چن چن کر انہیں مارا جاتا ہے تو کبھی بم دھماکے میں سینکڑوں چراغ بجھا دیئے جاتے ہیں۔ بلواسطہ یا بلاواسطہ زمہ دار کیسے چین کی نیند سوتے ہونگے ۔ میں حیران ہوں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *