ہسپتالوں میں سر پٹختی بے بسی۔۔عاصمہ حسن

میرے خیال میں ہسپتال وہ واحد مقام ہے جہاں کوئی بھی شخص نہ صرف جانے سے گھبراتا ہے بلکہ اللّٰہ کے حضور دعا کرتا ہے کہ ایسی نوبت ہی نہ آئے کہ اسے ڈاکٹروں اور ہسپتالوں کا چکر لگانا پڑے ـ
ہسپتالوں میں اک الگ ہی دنیا آباد ہوتی ہے وہاں جا کر لوگوں کی تکالیف ‘ بیماریاں دیکھ کر احساس ہوتا ہے کہ صحت و تندرستی اللّٰہ کی عطا کردہ سب سے بڑی نعمت ہے جس کی ہم قدر نہیں کرتے ـیہ بھی ایک حقیقت ہے کہ وہاں موجود مریضوں کی تکلیف و پریشانی دیکھ کر ہم اپنی تکلیف بھول جاتے ہیں ـ
بیماری کی تکلیف تو پھر بھی برداشت ہو جاتی ہے لیکن ہسپتالوں میں موجود عملے کے سرد رویے سے جو تکلیف پہنچتی ہے وہ ناقابلِ برداشت ہوتی ہے ـ عملے میں ریسیپشنسٹ سے لے کر نرسز’ وارڈ بوائیز’ ڈٖاکڑز اور ان کے اسسٹنٹ سب شامل ہیں اکژ دیکھنے میں آتا ہے کہ ان کا رویہ انتہائی تکلیف دہ ہوتا ہے ـ
شاید ہر وقت’ ہر لمحہ ہر روز وہ مریضوں کو اور ان کی تکالیف کو سن اور دیکھ کر عادی ہو جاتے ہیں بلکہ یوں کہنا چاہئیے کہ بے حس ہو جاتے ہیں ‘ ان کا دل مر جاتا ہے اور ان کے جزبات دم توڑ دیتے ہیں اسی لئے ان کو احساس نہیں ہوتا کہ آنے والے مریض اور ان کے گھر والے کس ذہنی اور جسمانی اذیت سے گزر رہے ہوتے ہیں یہ بھی بالکل صحیح کہا گیا ہے کہ کسی دوسرے کی تکلیف کا احساس اس وقت تک نہیں ہوتا جب تک وہ خود اس تکلیف سے نہ گزرے ـ
مسیحائی کے شعبہ سے منسلک ہونے سے قبل بڑے خواب ہوتے ہیں کہ انسانیت کی بے لوث خدمت کریں گے پھر ایسا کیا ہو جاتا ہے کہ مسیحا بدل جاتا ہے اس کے احساسات و جذبات بدل جاتے ہیں ـ جیسے جیسے تجربہ حاصل کرتے جاتے ہیں اسی طرح جزبات سے عاری ہوتے چلے جاتے ہیں اور لہجے میں اتنی رعونت کیسے آ جاتی ہے کہ وہ مریض کو اس کی پریشانی کو سننا بھی گوارا نہیں کرتے اس تکلیف کی جڑ تک پہنچنے کا سوچتے تک نہیں بس سوچتے ہیں تو یہ کہ اس سے پیسے کیسے بنائیں جائیں کونسے ٹیسٹ لکھے جائیں کونسی لیبارٹری میں بھیجا جائے جس سے ان کو بھی فائدہ پہنچے ـ
جب ایک مریض کسی ڈاکڑ کا سنتا ہے اس سے وقت لیتا ہے تو بڑی امید کے ساتھ پوری فیس ادا کر کے انتظار کی گھڑیاں طے کر کے اس کے پاس جاتا ہے اور دل میں سوچتا ہے کہ اب اس کو آرام مل جائے گا اس کی تکلیف ختم ہو جائے گی لیکن اب ڈاکڑ اور ان کے عملے کا رویہ اسکی وہ امید توڑ دیتا ہے ـ حالانکہ شفا تو اللّٰہ کے ہاتھ میں ہے اس ذات نے تو بس کسی کو وسلیہ بنانا ہے کسی کی لکھی دوا کام کر جاتی ہے تو ہم کہتے ہیں کہ فلاں ڈاکٹر کے ہاتھ میں بڑی شفا ہے حالانکہ شفا دینے والی تو اللہ کی ذات ہے ـ جب ہمیں معلوم ہے کہ سب اللّٰہ کے ہاتھ میں ہے تو ہم میں اتنی اکڑ اور رعونت کیوں آجاتی ہے ہم ان لاچار و مجبور لوگوں کی تکلیف کو اپنے لب و لہجے کی مٹھاس سے کم کرنے کی کوشش کیوں نہیں کرتے دوا تو اپنا بعد میں اثر دکھائے گی پہلے تو ہمارا رویہ ہے بات کرنے کا طریقہ ہے جو ان کی تکلیف کو لمحہ بھر کے لئے ہی صحیح کچھ کم کر دے گی ـ مسیحا یہ کیسے بھول جاتے ہیں کہ اللّٰہ نے ان کو اس خاص مقصد کے لئے چنا ہے پھر کیسے وہ اپنی ذمہ داریوں سے منہ موڑ لیتے ہیں کیوں بھول جاتے ہیں کہ انھوں نے اپنے قول و فعل کا اللّٰہ کو حساب دینا ہے ـ
ہسپتال چاہے سرکاری ہو یا پرائیویٹ اگر عملہ اچھا ہے پیار سے مسکرا کر مدد کرنے کو تیار رہتا ہے تو مریض کی آدھی تکلیف ختم ہو جاتی ہے اور اسے دہرے عذاب سے گزرنا نہیں پڑتا ـ پرائیویٹ ہسپتالوں کے حالات پھر قدرے بہتر ہیں لیکن ان کی فیسیں عام انسان کی پہنچ سے باہر ہوتی جا رہی ہیں کئی سرکاری ہسپتالوں میں بنیادی سہولیات تک میسر نہیں ہوتی حتی کہ بیڈ حاصل کرنے کے لئے بھی اونچی سفارش کروانی پڑتی ہے کہا جاتا ہے کہ اگر کسی کا کوئی ڈاکڑ جاننے والا نہ ہو تو علاج کروانا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے اس کے برعکس اگر کوئی جاننے والا ہو تو پروٹوکول مل جاتا ہے اور کام آسانی سے ہو جاتا ہے یعنی یہاں بھی دو نمبری چلتی ہے ٹیسٹ کروانے کے لئے ایک لیب سے دوسرے لیب کے چکر’ اکثر دوسرے ہسپتال جانا پڑتا ہے جو کہ ایک مریض کے لئے انتہائی صبر آزما کام ہے یعنی مریض اپنی بیماری سے تو بعد میں مرے گا لیکن پہلے ہسپتال کے عملے کے رویے سے ہی مر جاتا ہے ـ
چائیے تو یہ کہ ایسا نظام ہونا چاہئیے کہ جب مریض ہسپتال میں داخل ہو تو اس کی پوری طرح رہنمائی کیا جائے کہ اس نے کس ڈاکٹر کے پاس اور کہاں سے اور کیسےجانا ہے بجائے اس کے کہ وہ پوچھ پوچھ کر چکر لگا لگا کر ہلکان ہو جائے ـ
عملے کی خاص ٹریننگ کی جائے کہ انھوں نے کیسے مریضوں کے ساتھ پیش آنا ہے ـانسانیت کے جزبے کو فروغ دیا جائے ـ
انتظار کرنے کے وقت کو کم کیا جائے تاکہ مریض کو انتظار کرنے کی اذیت سے نہ گزرنا پڑے ـ ادویات سستی اور معیاری ہسپتال کے اندر ہی مہیا ہونی چاہئیے تاکہ کسی مشکل کا سامنا نہ ہو ـ ٹیسٹوں کی سہولت بھی ایک ہی جگہ میسر ہو تاکہ ادھر سے ادھر جانے کی اذیت کم ہو سکے ـ
کم از کم ہسپتالوں میں سفارش کا سسٹم نہیں ہونا چاہئیے سارے مریض ایک جیسے ہوتے ہیں کسی کو کسی دوسرے پر فوقیت نہ دی جائے ہر ایک کو ایسے ہی علاج کی سہولیات ملنی چاہئیے جیسے کہ کسی ڈاکٹر کے جاننے والے کو ملتی ہیں تاکہ کسی کی حق تلفی اور نا انصافی نہ ہو اور علاج کی سہولت سب کو یکساں میسر ہوـ عملے کی ٹریننگ اور ورکشاپ باقاعدگی سے ہونی چاہئیے جس میں ان کے ایمان کو تازہ کیا جائے اور ان کو سکھایا جائے کہ کیسے انھوں نے اپنے رویے سے اپنے عمل سے آنے والے مریضوں کی تکلیف کم کرنی ہے شفا تو اللّٰہ کے ہاتھ میں ہے ہم صرف وسیلے ہیں یہ ہرگز نہیں بھولنا چایئیےـ

  • julia rana solicitors london
  • merkit.pk
  • julia rana solicitors

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply