ایاز صادق اور سیکرٹ سروس ایکٹ ۱۹۲۳ ۔۔۔ شریف اللہ محمد

SHOPPING

تکلف کے  طور پر ہم نے غلامی کا طوق 1947 میں اتار پھینکا تھا لیکن ایسے تمام قوانین جو مخالفین کو الٹا لٹکانے کے کام آسکتے تھے اور ریاست اور اسکے عمل داروں کی سیاہ کاریوں پر پردہ ڈالے رکھ سکتے تھے وہ باقی رکھے گئے۔ ان میں سے ایک 1923 کا آفیشل سیکرٹ سروس ایکٹ بھی ہے۔

اس ملک میں نافذ قدامت اور ابہام کے اس شاہکار قانون کے تحت معلومات کے تقریبا ہر ٹکڑے کو کسی قسم کی وضاحت کے بغیر خفیہ یا Classified قرار دیا جاسکتا ہے ، اگر چہ یہ شہریوں کی معلومات تک رسائی کے بینادی اور آئینی حق کے منافی ہی کیوں نہ ہو۔

حکومت (اصل حکومت) کسی بھی قسم کی  معلومات کو ”خفیہ“ قرار دینے کے لئے آزاد ہے کیونکہ اس ایکٹ میں اسکے لاگو کرنے کے حوالے سے کسی بھی قسم  کی گائیڈ لائنز موجود نہیں ہیں۔ کسی دستاویز کو سیکرٹ یا کانفیڈینشل کب، کیوں اور کس نے قراد دیا ہے اسکی تفصیل کا تقاضا بھی غیر موجود ہے۔

یہاں تک کہ اگر سیکشن آفیسر کسی دستاویز پر لفظ “خفیہ” لکھتا ہے تو ، اس کاغذ  کو کلاسیفائیڈ سمجھا جائے گا۔ مزید یہ کہ پارلیمنٹ کو بھی اس ایکٹ کے ذریعے کسی بھی عام معلومات تک رسائی سے روکا جاسکتا ہے۔

غالبا اسی سال فروری میں فرحت اللہ بابر نے اس ایکٹ میں ترمیم کا مطالبہ کرتے ہوئے ایک قرار داد منظور کی تھی ۔ لیکن آج تک اس ایکٹ میں ترمیم یا تبدیلی نہیں کی گئی اور نہ کوئی کارورائ کئے جانے کے آثآر ہیں۔

اگر کوئی شخص غلطی سے بھی کسی ایسے احاطے میں داخل ہوتا ہے جہاں ” Prohibited یا ممنوعہ” لکھا ہوا ہو تو اسے 14 سال تک قید کی سزا دی جاسکتی ہے ۔ ایکٹ کے سیکشن 3 کے مطابق ، اگر کوئی فرد “Prohibited یا ممنوعہ” علاقے تک پہنچ جاتا ہے یا اسے دیکھتا یا معائنہ کرتا ہے یا اس کا خاکہ یا (تصویر) بھی بناتا ہے تو اس پر جرمانہ عائد کیا جاسکتا ہے۔

مزید یہ کہ ، اگر کوئی بھی کسی دوسرے فرد سے ، کسی خفیہ آفیشل کوڈ یا پاس ورڈ ، یا کسی خاکے ، منصوبے ، آرٹیکل یا نوٹ کو حاصل ، جمع ، ریکارڈ یا شائع یا کسی سے شئر بھی کرتا ہے جو کسی دوسرے ملک (دشمن) کے لئے بالواسطہ یا بلاواسطہ مفید ہوسکتا ہے، تو اس شخص کو اسی جرم میں دھرا جاسکتا ہے۔ بعض صورتوں میں اسکی سزا موت ہے۔

اسی سیکشن کی اگلی شق میں کہا گیا ہے کہ کسی فرد پر صرف شبہ ہونے پر بھی یہی چارج لگایا جاسکتا ہے اور یہی الزام عائد کیا جاسکتا ہے۔ اگر کسی پر  یہ الزام ثابت نہ بھی ہو تب بھی اسے اس قانون کی خلاف ورزی پر سزا یافتہ قرار دیا جاسکتا ہے، چاہے ماضی میں اس پر اس قسم کا کوئی الزام موجود ہی نہ ہو۔ اس سے یہی سمجھا جاسکتا ہے کہ اس قانون کا مقصد صرف ریاست کے مفاد کا تحفظ ہے ۔

اسی طرح ، اس قانون میں اور بھی بہت ساری مبہم شقیں موجود ہیں جو آئین میں دیئے گئے شہریوں کے بنیادی انسانی حقوق سے واضح طور پر متصادم ہیں۔

اسی ایکٹ کا چوتھا سیکشن اور اسکی ذیلی شق اور بھی زیادہ دلچسپ اور معنی خیز ہے یعنی کسی غیر ملکی یا غیر ملکی سفارت کار سے آپ کی ملاقات آپ کو جیل پہنچا سکتی ہے۔ سیکشن 4 غیر ملکی ایجنٹوں کے ساتھ رابطے سے متعلق ہے ، جو ریاست کے خلاف ایک سنگین جرم سمجھا جاتا ہے کیونکہ یہ اندیشہ بہرحال موجود رہیگا کہ کوئی فرد کسی غیر ملکی (ایجنٹ) کے رابطے میں آسکتا ہے اگر وہ پاکستان کے اندر یا پاکستان سے باہر اس سے ملنے جاتا ہے یا اس کے رابطے میں آتا ہے۔ اگر ایسے شخص کے قبضے سے کسی غیر ملکی سے متعلق مواد، اسکا نام یا پتہ یا کوئی اور معلومات اس کے قبضے سے اگر ملیں تو ایسا شخص اس ایکٹ کی زد میں آسکتا ہے۔

غیر ملکی ایجنٹ کسی بھی ایسے شخص کو کہا جاسکتا ہے جس پر شبہ ظاہر کرنےکی مناسب بنیاد موجود ہو یا وہ براہ راست یا بالواسطہ کسی غیر ملکی طاقت، ادارے یا کسی ایسے شخص کے لئے ملازمت کر رہا ہو۔ اس تعریف کے تحت تقریبا ہر سفارت کار یا کسی غیر ملکی کمپنی کے ملازم کو غیر ملکی ایجنٹ سمجھا جاسکتا ہے۔یہاں تک کہ اگر کسی شخص کے قبضے  سے غیر ملکی سفارت کار کا وزٹنگ کارڈ بھی برآمد ہو تو اس قانون کے تحت اس شخص پر فرد جرم عائد کی جاسکتی ہے۔

اس قانون کی خلاف ورزی آئی بی چیف مسعود شریف اور آئی ایس آئی چیف اسد درانی نے مڈ نائٹ جیکال کیس میں کی۔

اسد درانی کی کتاب دی سپائے کرونکیلز میں دیئے گئے انکشافات ملٹری کوڈ آف کنڈکٹ اور آفیشل سیکریٹ سروس ایکٹ صریح خلاف ورزی تھی۔ پرویزمشرف کی کتاب ان دا    لائن آف فائر آفیشل سیکریٹ ایکٹ کی خلاف ورزی تھی۔ایاز صادق نے اسمبلی میں جو بیان دیا تھا وہ بھی اسکی زد میں اتا ہے۔ اور آج کی خبر کے مطابق سرسید تھانہ کراچی میں امین خٹک نامی شخص نے ایاز صادق کے خلاف غداری کا مقدمہ درج کرلیا ہے۔ ہم میں سے ہر ایک یہ بات جانتا ہے کہ اسکی زد میں آنیوالے افراد ممکنہ طور پر کون ہوسکتے ہیں۔

افیشل سیکرٹ سروس ایکٹ کی دستاویز یہاں سے ڈاونلوڈ کرسکتےہیں۔

SHOPPING

https://bit.ly/3jI498M

SHOPPING

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *