مولوی صادق سے مکالمہ۔۔سعید چیمہ

مولوی صادق میرے بچپن کا دوست ہے، پانچویں کلاس تک ہم دونوں  ٹاٹ  پر بیٹھ کر اکٹھے ہی گورنمنٹ سکول میں پڑھے، مولوی صادق کا ابا مُلّا صدیق چونکہ گاؤں کی مسجد کا امام تھا ، اس لیے پانچویں کا امتحان پاس کرنے کے بعد صادق کو دینی تعلیم کے لیے مدرسے داخل کروا دیا گیا، صادق کو مدرسے میں بھیجنے کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ اس کا باپ جب جہانِ فانی سے کوچ کرے گا تو امامت کا منصب اسے سنبھالنا ہو گا، مولوی صادق اب گاؤں کی مسجد کا امام ہے اور  میں دنیا کے معاملات میں الجھا ہوا ایک حریص شخص، صادق ہمیشہ مجھ سے بیزار رہتا ہے کیوں کہ دنیا دار بندے اسے بھاتے نہیں، لیکن پھر بھی صادق مجھ سے بات چیت بہت اچھے سے کرتا ہے شاید یہ بچپن کی رفاقت کا اثر ہے، گزشتہ دنوں مولوی صادق عصر کی نماز پڑھا کر گھر واپس آ رہا تھا کہ رستے میں اس سے ملاقات ہو گئی، حالانکہ ہم نے تیر کھایا تھا اور نہ ہی کمیں گاہ کی طرف دیکھا تھا،  روایتی علیک سلیک کے بعد گفتگو کسی اور ڈگر پر چل نکلی، پہلے تو صادق اس فرقے کے فضائل بیان کرتا رہا جس سے خود اس کا تعلق ہے، صادق کی سوئی اب بھی وہیں اٹکی ہوئی ہے کہ فلاں فرقہ گستاخ ہے اور فلاں میں یہ خرابی ہے، نجات پانے والا اگر کوئی فرقہ ہے تو وہی ہے جس کی نمائندگی وہ خود کرتا ہے، جلد ہی صادق کی گفتگو سے اکتاہٹ محسوس ہونے لگی، اس لیے عرض کیا کہ ہم گناہگاروں کو فرقوں کے قلعوں میں نظر بند  کرنے کی کوشش نہ کیجیئے، کیوں کہ پہلے ہی اعمال ایسے نہیں کہ جو نجات کا سبب بن سکیں اور اب اگر فرقہ واریت کی دلدل میں پھنس گئے تو کیا خبر کہ ہلاکت یقینی ہو جائے، مولوی صادق شاید یہ بھانپ گیا تھا کہ مرغا بار بار ہاتھ نہیں آئے گا، اس لیے وعظ و نصیحت کے سارے جام آج ہی چھلکائے جائیں، مولوی صادق گفتگو کو مشرق سے مغرب کی طرف موڑتے ہوئے گویا ہوا کہ دیکھو ملک میں بے حیائی کسی وبا کی طرح بڑھتی جا رہی ہے، شرم و حیا کے سارے لباس اتارے جا رہے ہیں، مگر کسی کو فکر نہیں، اب چلتے چلتے یہ بھی سن لیجیئے کہ عورتوں کا چہرے کا پردہ نہ کرنا بھی مولوی صادق کے نزدیک بے حیائی ہے، گفتگو کے دوران میں نے ٹہوکا دیا کہ مولوی صاحب آپ کے فرقے کے اکابر علما تو کہتے ہیں کہ عورت اگر چہرے کا پردہ کر لے تو بہتر ہے وگرنہ چہرے کا پردہ نہ کرنے والی عورت گناہگار نہیں ہو گی، مولوی صادق مجھ سے اس جواب کی توقع نہیں کر رہا تھا، لہذا جواب سنتے ہی مولوی کے چہرے پر نا گواری کے اثرات عیاں ہوئے، اب مولوی صادق نے گفتگو کا رخ تیسری طرف موڑ دیا، مولوی کہنے لگا کہ ایک فرقہ جسے 1973ء کے آئین میں غیر مسلم قرار دیا جا چکا ہے وہ ہر وقت اسلام اور پاکستان کے خلاف سازشوں کے محاذ پر سر گرم رہتا ہے، اسی گروہ سے تعلق رکھنے والے ایک ماہرِ معیشت کا بڑا چرچا ہے، جو آج کل امریکہ میں مقیم ہے، ابھی پچھلے دنوں خبر آئی تھی کہ کراچی کی  یونیورسٹی نے ایک سیمینار منعقد کرنا ہےجس میں اس ماہرِ معیشت نے گفتگو کرنا تھی، لیکن سلام ہے ان اسلام پسندوں کو جنہوں نے بروقت آواز اٹھاتے ہوئے انتظامیہ کو بے بس کر دیا کہ وہ یہ سیمینار کینسل کریں،میں نے سوال کیا کہ کیا ایک سلامی ریاست میں غیر مسلم اس ریاست کی ترقی کے لیے کام نہیں کر سکتے،؟ بالکل کر سکتے ہیں،مولوی صادق نے جواب دیا، میں پھر گویا ہوا کہ جس گروہ سے اس ماہرِ معیشت کا تعلق ہے وہ بھی تو آئین کے مطابق غیر مسلم ہے،تو پھر اس گروہ سے تعلق رکھنے والے پاکستان کی ترقی کے لیے اپنا کردار کیوں نہیں ادا کر سکتے،  جب راقم الخروف نے دیکھا کہ مولوی صادق کے پاس کوئی جواب نہیں ہے تو لوہا گرم دیکھ کر ہتھوڑے کے وار جاری رکھتے ہوئے کہا کہ اسلامی تاریخ کے سب سے عظیم حکمران سیدنا عمر تو ایک مجوسی سے چکی بنوانا چاہتے تھے، تو پھر آپ لوگوں کے ایمان کو خطرات کیوں لاحق ہو جاتے ہیں جب ریاست کسی غیر مسلم سے خدمات لینے کا فیصلہ کرتی ہے، ریاست کمزور ہے اس لیے اپنے کیے ہوئے فیصلے پر زیادہ دیر قائم نہیں رہتی اور گھٹنے ٹیکتے ہوئے آپ کے پریشر میں آ کر اپنا کیا ہوا فیصلہ واپس لے لیتی ہے،  راقم الخروف کی گفتگو کے بعد مولوی صادق اپنے روایتی انداز پر اتر آیا، مولوی کہنے لگا کہ اگر تجھے اس گروہ سے اتنی ہی ہمدردیاں ہیں تو اس گروہ میں شامل کیوں نہیں ہو جاتا، مگر مولوی صاحب میں تو ان کے عقائد کو درست نہیں سمجھتا تو پھر اس گروہ میں کیوں کر شامل ہو جاؤں، کیوں کہ تو ان سے ہمدردی جو رکھتا ہے، مگر مولوی صاحب میں تو کچھ اور بات کر رہا ہوں، جس سے آپ جان بوجھ کر کنی کتراتے ہوئے گفتگو کا رخ دوسری طرف موڑ دیتے ہیں، اس سے پہلے گفتگو کو جاری رکھنے کے لیے مولوی میری بات کا جواب دیتا، میں نے مولوی صاحب کی توجہ اس طرف مبذول کروائی کہ حضور سورج غروب ہونے والا ہے اور مغرب کا وقت شروع ہوا چاہتا ہے، مولوی جو عصر کی نماز پڑھا کر گھر واپس آ رہا تھا، اب وقت کی قلت کے باعث گھر نہ جا سکا اور مغرب کی نماز پڑھانے کے لیے دوبارہ مسجد چلا گیا۔

  • merkit.pk
  • merkit.pk