• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • صدر میکرون فرانس کا مستقبل طے کر رہے ہیں۔۔ثاقب اکبر

صدر میکرون فرانس کا مستقبل طے کر رہے ہیں۔۔ثاقب اکبر

SHOPPING

بظاہر تو صدر میکرون مسلمانوں کے بارے میں فیصلے کر رہے ہیں لیکن ہماری رائے یہ ہے کہ وہ فرانس کا مستقبل طے کر رہے ہیں، جس کے اثرات باقی یورپ پر بھی پڑیں گے۔ ان کے فیصلے ایک شدت پسند اور تنگ نظر فرانس کو جنم دیں گے۔ ایسا فرانس جو اپنے آپ کو سیکولر کہتا ہے لیکن یہ وہ سیکولرازم ہے جسے خود ایک فرانسیسی دانشور محترمہ نحات ولید نے Militant Secularity یعنی عسکری سیکولرازم دوسرے لفظوں میں سیکولر شدت پسندی قرار دیا ہے۔ فرانس میں مسلمانوں کی آبادی تقریباً 6 ملین نفوس پر مشتمل ہے جبکہ کل آبادی 67 ملین ہے۔ مسلمان فرانس کی سب سے بڑی اقلیت ہیں، اس طرح مسلمانوں کی آبادی کا تناسب 8.8 فیصد ہے۔ یہ تناسب تمام یورپی ممالک میں سب سے زیادہ ہے۔ مسلمانوں پر عرصۂ حیات ایک عرصہ سے مختلف حیلوں، بہانوں اور مختلف طریقوں سے تنگ کیا جا رہا ہے۔ فرانس کے صدر امونوئل میکرون نے اب مسلمانوں کے خلاف ایک نیا قانون بنانے کا ارادہ کیا ہے۔ ان کے نزدیک وہ یہ سب کچھ Islamic Separatism کے خلاف کرنے جا رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ فرانس ایک سیکولر ملک ہے، یہاں مسلمان انتہاء پسندوں کو متوازی معاشرہ بنانے کی قطعی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ فرانسیسی اقدار سے متصادم کسی رسم و رواج یا ثقافت کی یہاں کوئی گنجائش نہیں۔

فرانسیسی صدر نے اعلان کیا ہے کہ گلی کوچوں کی سطحوں تک پہنچ جانے والی مسلم انتہاء پسندی کے استحصال کے لیے حکومت ایک نیا قانون لا رہی ہے، جس کے ذریعے مذہبی اور سماجی تنظیموں کے مالی معاملات کی کڑی نگرانی کی جائے گی۔ انتہاء پسندی پھیلانے والی مساجد و مدارس کے خلاف کارروائی ہوگی اور مذہب کے نام پر بچوں اور خواتین پر قدغنیں لگانے کی حوصلہ شکنی کی جائے گی۔ پردے اور اسکارف پر پابندی کو سخت بنانے کے لیے نئے قانون میں سرکاری سکول و جامعات، دفاتر، ساحل سمندر، پارک اور تفریحی مقامات کے ساتھ نجی اداروں میں سر ڈھانکنے پر پابندی ہوگی۔ اس نئے قانون میں فرانس میں موجود اسلامک سنٹرز اور اسلامک آرگنائزیشنز کی تعلیمی سرگرمیوں کو بہت زیادہ محدود کر دیا جائے گا۔ مزید برآں، اس نئے قانون کی روشنی میں امام جماعت اور مبلغین کی تعلیم حاصل کرنے والے افراد کے تعلیمی عمل پر حکومت کی نگرانی کی جائے گی اور اس کی تعلیم کے لیے یہ افراد فرانس سے باہر نہیں جا سکیں گے۔ اسی طرح اسلامی مراکز اور تنظیموں کو ملنے والی مالی امداد کی بھی مکمل تحقیق کی جائے گی۔

مسلم ثقافت کے مظاہر کے خلاف پہلے بھی فرانس میں قوانین موجود ہیں اور اسلامی مقدسات کی توہین کا سلسلہ بھی سرکاری سرپرستی میں جاری ہے۔ بدنام زمانہ میگزین چارلی ایبڈو مختلف مواقع پر مسلمانوں کی سب سے محبوب شخصیت پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے توہین آمیز کارٹون شائع کر رہا ہے۔ اس کے خلاف فرانس کے علاوہ پوری دنیا میں مسلمانوں نے احتجاج کیا ہے۔ بعض افراد نے ماضی میں اس میگزین کے دفتر پر حملہ بھی کیا ہے، جس کے نتیجے میں کئی افراد اور میگزین کے دفتر کے کارکن ہلاک ہوچکے ہیں۔ گذشتہ دنوں پھر اس میگزین نے اپنی اس حرکت کا تکرار کیا ہے، جس کے بعد پوری دنیا میں ردعمل دیکھنے میں آیا۔

اسی اثناء میں فرانس میں ایک ٹیچر نے کلاس روم میں چارلی ایبڈو کے گستاخانہ خاکے کلاس کے تمام طلبہ کو دکھائے اور انھیں ترغیب دی کہ وہ بھی ایسے کارٹون بنائیں۔ اصولی طور پر اس استاد کے سبجیکٹ سے اس کا کوئی لینا دینا نہیں تھا۔ اس کے اس عمل سے مسلمان شہریوں میں شدید غم و غصہ پیدا ہوگیا۔ فرانس کے مسلمان شہریوں نے سکول انتظامیہ سے اس کی شکایت بھی کی، لیکن اس نے اس پر کوئی توجہ نہ کی۔ اس کے بعد اچانک ایک جوان نے چھریوں کے وار کرکے اس شخص کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ اس استاد کو فرانس میں ایک قومی ہیرو کا درجہ دیا جا رہا ہے اور حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ چند اہم ترین سرکاری عمارات پر ان گستاخانہ کارٹونوں کو آویزاں کیا جائے گا۔ گذشتہ جمعہ 23 اکتوبر 2020ء کو صدر میکرون نے اپنے ایک خطاب میں کہا کہ اسلام اس وقت دنیا میں ایک بحران کی شکل اختیار کرچکا ہے۔ اس کے ردعمل میں ترک صدر اردگان نے صدر میکرون کو دماغی علاج کا مشورہ دیا ہے۔ انھوں نے عالم عرب سے اپیل کی ہے کہ فرانسیسی مصنوعات کا بائیکاٹ کریں۔ ردعمل کے طور پر فرانس نے ترکی سے اپنا سفیر واپس بلا لیا ہے۔ فرانسیسی صدر کے ایسے بیانات اور مجوزہ اقدامات کے خلاف جہاں فرانس کے مسلمانوں میں شدید تشویش پائی جاتی ہے، وہاں پوری دنیا میں ردعمل دیکھنے میں آرہا ہے۔

پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹویٹر پر پیغمبر اسلامؐ کی توہین پر مبنی خاکوں پر فرانسیسی صدر کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے متعدد ٹویٹس کی ہیں، جن میں ان کا کہنا ہے کہ ایسے وقت میں کہ جب فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون انتہاء پسندوں کو مواقع فراہم کرنے کی بجائے مرہم رکھ سکتے تھے، یہ بدقسمتی ہے کہ انھوں نے اسلامو فوبیا کو فروغ دینے کا انتخاب کیا۔ انھوں نے کہا کہ میکرون نے تشدد کی راہ اپنانے والے دہشت گردوں، چاہے وہ مسلمان ہوں، سفید فام نسل پرست ہوں یا نازی نظریات کے حامی، ان پر حملہ کرنے کے بجائے اسلام پر حملہ کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ افسوس کی بات ہے کہ صدر میکرون نے دانستہ طور پر مسلمانوں بشمول اپنے شہریوں کو اشتعال دلایا ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ ایک اچھے راہنماء کی نشانی یہ ہوتی ہے کہ وہ لوگوں کو تقسیم کرنے کے بجائے متحد کرتا ہے جیسا کہ منڈیلا نے کیا۔

ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف کا کہنا ہے کہ میکرون شدت پسندی کو ہوا دے رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ مسلمان بنیادی طور پر شدت پسندی کا شکار ہیں، جو (فرانس کی) استعماری رجیم کی پیدا کردہ نفرت کا نتیجہ ہے، جو 1.9 ارب مسلمانوں اور ان کے مقدسات کی توہین کا سبب ہے اور اس کے باعث شدت پسندی کو ہی فروغ حاصل ہوگا۔ فرانس سمیت کئی مغربی ممالک میں حجاب کے خلاف جو نفرت پیدا ہوچکی ہے، وہ عالمی سطح پر دانشوروں کی تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے۔ ایک طرف مغربی دانشوروں کو حجاب کے ہونے پر تشویش ہے اور دوسری طرف سیکولرازم کے اس شدت پسندانہ تصور کے بارے میں تشویش پائی جاتی ہے۔ ایک تجزیہ نگار کا کہنا ہے کہ مغربی دانشوروں کی تشویش سے تاثر ابھرتا ہے کہ معصوم لڑکیوں کے سر پر بندھا اسکارف وہ مہلک میزائل ہے، جس سے پوری مغربی تہذیب بھسم ہوسکتی ہے۔

وہ مزید لکھتے ہیں کہ یورپ میں ایک عرصے سے سیکولرازم کے نام پر اسلامی عقائد اور معاشرت، خاص طور سے حجاب کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ایران کے روحانی پیشوا امام خمینی نے جامعہ تہران میں طالبات سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ”دشمن ہمارے بموں اور میزائلوں سے اتنا نہیں ڈرتا، جتنا تمھارے سروں پر پڑی چادروں سے خوف زدہ ہے۔“ مسلم بچیوں کے اسکارف سے مغربی دنیا کی بے چینی و پریشانی بلکہ خوف دیکھ کر خمینی صاحب کی بات درست محسوس ہوتی ہے۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ دلچسپ بات یہ ہے کہ اسلامی ثقافت کے حوالے سے امامِ آزادی و جمہوریت فرانس اور مطلق العنان اشتراکی چین ہم مشرب و ہم خیال نظر آتے ہیں۔ چینی کمیونسٹ پارٹی کا کہنا ہے کہ بطور عقیدہ اسلام عظیم مذہب ہے، لیکن چینی ثقافت کے متوازی اقدار و رسوم کی یہاں کوئی گنجائش نہیں۔ کمیونسٹ پارٹی نے خوراک، لباس اور رسوم و عبادات، حتیٰ کہ چینی زبان کے سوا کسی اور زبان میں روزمرہ تہنیتی الفاظ کو بھی ”ثقافتی آلودگی“ قرار دیتے ہوئے تطہیرِ افکار و خیالات کے لیے لاکھوں اویغور مسلمانوں کو بیگار کیمپ نما ”تربیتی مراکز“ میں داخل کر دیا ہے۔

فرانس میں اس کے علاوہ بھی کئی طرح کی پابندیاں لگائی جا رہی ہیں۔ ایسی فلمیں بھی بنائی جا رہی ہیں، جن سے مغرب کی مادر پدر آزاد خیالی کو ترویج دی جاسکے۔ جسے میکرون سیکولر روشن خیالی قرار دیتے ہیں۔ شدت پسندی کی موجودہ لہر بظاہر مسلمانوں کے خلاف ہے، لیکن انتہائی دائیں بازو کے افکار کو ترویج دے کر صدر میکرون اپنے معاشرے کو شدت پسند بنا رہے ہیں۔ اس کی مثال موجودہ بھارت سے دی جاسکتی ہے، جہاں مسلمانوں سے نفرت پیدا کرکے خود بھارت کے عوام کو شدت پسندی اور نتیجتاً علیحدگی پسندی کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔ بہت سے تجزیہ کاروں کی رائے میں بی جے پی کی قیادت نے بھارت کی وحدت میں دراڑیں ڈال دی ہیں۔ اس طرح کے طرز عمل کا نتیجہ فرانس میں مختلف نہیں نکل سکتا۔

آج اگر مسلمانوں کو دبا بھی لیا جائے، اگرچہ اتنا آسان بھی نہیں، لیکن اس کا باقی فرانسیسی عوام پر کیا اثر ہوگا، اس کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ ہمیں یہ بھی پیش نظر رکھنا چاہیے کہ تمام یورپی ممالک نے وہ طرز عمل اختیار نہیں کیا جو فرانس کی حکومت اختیار کیے ہوئے ہے۔ شدت پسندی ملکوں کو مضبوط نہیں بلکہ کمزور کرتی ہے۔ یہ ایک خاص طرح کا مزاج بنا دیتی ہے، جو پھر کسی بھی صورت میں ظاہر ہوسکتا ہے۔ یورپی قیادت کو نیوزی لینڈ کی باشعور، با ہمت اور ہمدرد لیڈر جیسنڈا آرڈن کی مثال کو سامنے رکھنا چاہیے کہ جس نے اپنی اقلیت کے زخموں پر مرہم رکھ کر اپنے عوام کے دلوں کو آپس میں جوڑ دیا اور آج وہ پہلے سے زیادہ مقبولیت کے ساتھ منتخب ہو کر حکومت میں آئی ہیں۔ اچھی مثالیں بیان کرنے کے لیے نہیں ہوتیں بلکہ اپنانے کے لیے ہوتی ہیں جبکہ بری مثالیں عبرت آموزی کے لیے ہوتی ہیں۔ “فَاعْتَبِرُوا يَا أُولِي الْأَبْصَارِ۔”

SHOPPING

بشکریہ اسلام ٹائمز

SHOPPING

مہمان تحریر
مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں