فیثاغورث (20)۔۔وہاراامباکر

کہا جاتا ہے کہ“کچھ لوگوں کا اپنا وقت یہ سمجھنے میں وقت صرف کرتے ہیں کہ کائنات کیسے کام کرتی ہے جبکہ باقی لوگوں کو الجبرا میں مہارت نہیں ہوتی”۔ لیکن تھیلس کے وقت میں یہ دونوں گروپ ایک ہی تھے۔ جس الجبرا اور ریاضی سے ہم واقف ہیں، وہ ابھی ایجاد نہیں ہوئی تھی۔

آج کے سائنسدان کے لئے مساوات کے بغیر نیچر کو سمجھنا ویسا ہی ہے جیسا اپنے شریکِ حیات کے جذبات کو سمجھنا جب چہرہ کچھ اور بتا رہا ہو اور وہ کہے کہ “سب ٹھیک ہے”۔ ریاضی سائنس کے الفاظ ہیں اور تھیوریٹیکل خیالات کے رابطے کا طریقہ۔ سائنسدان اپنے ذاتی جذبات بیان کرنے میں اچھے ہوں نہ ہوں، اپنی تھیوریوں کو ریاضی کے ذریعے بیان کرنے میں مہارت رکھتے ہیں۔ ریاضی کی زبان نے سائنس کو تھیوریوں کی گہرائی میں غوطہ زن کرنا ممکن کیا اور اس نئی زبان میں وہ پریسیژن اور بصیرت موجود تھی جو روزمرہ کی گفتگو کی زبان میں نہیں۔ یہ زبان منطق اور ریزن کی زبان تھی جو معنی کو وسیع کرتی جاتی ہے۔ اور کئی بار بہت غیرمتوقع چیزوں کا پتا دے دیتی ہے۔

شاعر اپنے مشاہدات کو لفظوں میں بیان کرتے ہیں، فزسٹ ریاضی میں۔ جب ایک شاعر نظم ختم کر لیتا ہے تو اس کا کام ختم ہو جاتا ہے، فزسٹ جب اپنی ریاضیاتی نظم ختم کر لیتا ہے تو کام شروع ہوتا ہے۔ ریاضی کے قوانین اور تھیورم کا اطلاق کر کے، فزسٹ نظم کو نئے طریقے سے لکھتا ہے اور اس سے فطرت کے وہ سبق آشکار ہوتے ہیں جو اس کے لکھنے والے نے تصور بھی نہ کئے تھے۔ مساوات نہ صرف خیالات کو مجسم کرتی ہیں بلکہ ان خیالات کے نتائج کوئی بھی مہارت رکھنے والا اور محنت کرنے والا اخذ کر سکتا ہے۔ یہ وہ کام ہے جو ریاضی کی زبان ممکن بناتی ہے۔ فزیکل اصولوں کو بیان کرنے کی زبان ان اصولوں کے تعلقات پر بھی روشنی ڈالتی ہے اور انسانی عقل کی راہنمائی بھی کرتی ہے۔

آج تو ہمیں یہ معلوم ہے لیکن چھٹی صدی قبلِ مسیح میں کسی کو بھی یہ علم نہ تھا۔ نوعِ انسانی کی وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ ریاضی ہمیں سکھائے گی کہ فطرت کام کیسے کرتی ہے۔ یہ تو لین دین کا حساب کتاب رکھنے کا اوزار تھا!! 570 قبلِ مسیح میں پیدا ہونے والے فیثاغورث یونانی ریاضی کے بانی تھے۔ فلسفے کی اصطلاح کے موجد بھی۔

فیثاغورث کے حوالے سے آنے والی کہانیاں قابلِ اعتبار نہیں۔ ان سے منسوب بہت سا کام ان کا نہیں۔ لیکن ہم اتنا جانتے ہیں کہ ان کا تعلق ساموس سے تھا اور ان کی ملاقات تھیلس سے جب ہوئی تھی تو ان کی عمر اٹھارہ سے بیس سال کے درمیان تھی۔ اس وقت تک تھیلس بہت معمر ہو چکے تھے۔ تھیلس نے انہیں کیا بتایا؟ معلوم نہیں لیکن فیثاغورث ان سے متاثر ہوئے اور بعد میں بھی ان کی تعریف کرتے رہے۔

تھیلس کی طرح فیثاغورث نے بھی بہت سفر کئے۔ مصر، بابل اور فونیشیا گئے۔ ساموس انہوں نے جزیرے کے سخت گیر ڈکٹیٹر پولیکریٹس کی وجہ سے چھوڑ دیا اور کروٹون چلے گئے جو اب جنوبی اٹلی میں ہے۔ یہاں پر ان کے بہت سے پیروکار تھے۔ اور یہیں پر انہیں یہ خیال وارد ہوا تھا کہ فزیکل دنیا کی ترتیب ریاضیاتی ہے۔

کسی کو معلوم نہیں کہ عام گفتگو کی زبان سب سے پہلے کب ڈویلپ ہوئی۔ ریاضی کی بطور سائنس کی زبان کے آغاز کے بارے میں بھی زیادہ علم نہیں لیکن کم از کم ایک قصہ ہے۔ اس کے مطابق فیثاغورث لوہار کی دکان کے پاس سے گزر رہے تھے اور ہتھوڑے کے آواز کے پیٹرن کے بارے میں سوچنے لگے کہ ہتھوڑے کے لوہے سے ٹکرانے کی آواز کیسے آتی ہے۔ اس کا تجزبہ کیا تو معلوم ہوا کہ آواز کی ٹون کا تعلق فورس سے نہیں، نہ ہتھوڑے کی شکل سے ہے بلکہ اس کے وزن سے ہے۔

گھر آ کر انہوں نے تجربہ جاری رکھا لیکن ہتھوڑوں پر نہیں۔ فیثاغورث کی موسیقی میں تربیت ہوئی تھی۔ انہوں نے بانسری اور اکتارے کو استعمال کیا۔ کچھ اندازے، کچھ تجربہ، کچھ وجدان۔ فیثاغورث نے تار کی لمبائی اور نکلنے والے سُر کے درمیان ربط نکال لیا۔ (آج ہم اس کو ریاضی کے فارمولے میں بیان کرتے ہیں کہ سُر کی فریکوئنسی تار کے لمبائی کے معکوس تناسب سے ہے)۔

کیا ایسا ہی ہوا تھا؟ ہمیں معلوم نہیں۔ لیکن فیثاغورث کا اصل معرکہ کوئی خاص قانون بنانا نہیں بلکہ یہ آئیڈیا پروموٹ کرنا تھا کہ کاسموس کا سٹرکچر اعداد کے تعلق سے ہے۔ انہوں نے ریاضی کو تجارت اور دوسرے عملی کاموں سے مستعار لے کر اس کا رخ اشیاء اور کائنات کے behavior کی طرف کر دیا۔

تھیلس نے کہا تھا کہ نیچر باقاعدہ قوانین کی پیروی کرتی ہے۔ فیثاغورث نے اس سے ایک قدم آگے جا کر کہا کہ فطرت “ریاضیاتی” قوانین کی پیروی کرتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ریاضی کے قوانین کائنات کے بنیادی سچ ہیں۔ اعداد حقیت کی روح ہیں۔

فیثاغورث کے خیالات کا بعد میں آنے والے یونانی مفکرین پر بہت اثر ہوا۔ خاص طور پر افلاطون پر۔ اور پھر سائنسدانوں اور فلسفیوں پر۔ لیکن یونان میں ریزن کے چیمپیئن اور وہ تمام سکالر جو یہ یقین رکھتے تھے کہ فطرت کو ریشنل تجزیے سے سمجھا جا سکتا ہے، ان میں سب سے زیادہ بااثر نہ ہی تھیلس تھے جو اس اپروچ کے بانی تھے۔ نہ ہی فیثاغورث جو اس میں ریاضی لے کر آئے تھے۔ اور نہ ہی افلاطون۔ بلکہ وہ افلاطون کے ایک شاگرد تھے جو بعد میں سکندرِ اعظم کے استاد بنے۔

یہ مفکر ارسطو تھے۔

(جاری ہے)

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *