مشرقی ،مغربی پاکستان اور صوبہ پنجاب۔اسلم ملک

غیر منقسم ہندوستان میں 500 سے زیادہ ریاستیں تھیں، جہاں راجے مہاراجے، نواب، امیر، میر، مہتر، جام، والی وغیرہ حکومت کرتے تھے۔1947 میں آزادی ملنے پر انہیں اختیار دیا گیا تھا کہ وہ چاہیں تواپنا علیحدہ وجود برقرار رکھیں یا پھر پاکستان یا بھارت ، جس میں چاہیں شامل ہو جائیں۔پاکستان کے علاقے میں بہاولپور، قلات، مکران، خاران، لسبیلہ، چترال، خیر پور، امب وغیرہ موجود تھیں۔

ان ریاستوں میں سے سب سے پہلے بہاولپور پاکستان میں شامل ہوئی۔ اس کا رقبہ بلجئیم، ڈنمارک سمیت اقوام متحدہ کے موجودہ 100 سے زیادہ ملکوں سے زیادہ تھا۔ بہاولپور کے وزیر اعظم مشتاق احمد گورمانی نے 16 اگست 1947 کو ہی قائد اعظم کو الحاق کی درخواست پیش کر دی۔ باقاعدہ الحاق اکتوبر 1947 میں ہوا۔قائد اعظم اور امیر بہاولپور صادق محمد خان عباسی خامس میں دوستانہ تعلقات تھے جن کا آغاز شائد وکیل اور موکل کے رشتے سے ہوا تھا۔ قائد اعظم نے انہیں سندھ کا گورنر بنانا چاہا تھا لیکن نواب نے یہ کہہ کر معذرت کرلی کہ وہ اپنے لوگوں میں رہنا چاہتے ہیں۔ بھارت کی طرف سے پنڈت نہرو اور سردار پٹیل نے انہیں بہت پر کشش پیشکش کی تھیں کہ ان کی ریاست برقرار رہے گی بلکہ بیکانیر وغیرہ ارد گرد کے علاقے بھی اس میں شامل کردیں گے۔ لیکن نواب صادق نے کہا کہ پاکستان میرے گھر کے سامنے ہے اور بھارت پچھواڑے۔ شریف آدمی سامنے کے راستےسے ہی گھر جاتا ہے۔

فرض کیجیے بہاولپور بھارت میں شمولیت کا فیصلہ کرتا تو ہو سکتا ہے نواب سے وعدے پورے نہ کیے جاتے لیکن مغربی پاکستان تقریبا‘‘ دو حصوں میں تقسیم ہو جاتا، ریل کا رابطہ ختم ہو جاتا ۔ ریل کے جس راستے ’’وایا بٹھنڈہ‘‘ پاکستان کے اثاثےاور ریکارڈ دہلی سے کراچی آئے۔ وہ بھی بہاولپور سے گزرتا ہے۔کہا جاتا ہے کہ نواب بہاولپور نے حکومت پاکستان کو ملازمین کی کئی ماہ کی تنخواہیں ، خزانے کے لیےبڑی مقدار میں سونا بھی دیا۔ ان کی رولز رائس گاڑی قائدِ اعظم کے زیر استعمال رہی قائد اعظم اور محترمہ فاطمہ جناح ملیرکراچی میں نواب بہاولپور کے شمس پیلس میں مقیم رہے۔
یہ تصویر دیکھیے ۔۔۔ قائد اعظم کو اتنا خوش اور بے تکلفی کے انداز میں کم ہی دیکھا ہوگا۔

1949 میں بہاولپور کی فوج پاکستان کو پیش کر دی تو نواب نےاخراجات کے لیے سوا کروڑ روپے بھی دیے۔اپریل 1954 کے آخر میں بھاولپور کو صوبے کی حیثیت دی گئی۔ بہاولپور کی علیحدہ اسمبلی، ہائی کورٹ، سیکریڑیٹ، بنک ، پبلک سروس کمیشن سب کچھہ تھا۔ نواب رسمی سربراہ رہے۔ قائداعظم کے بعد آنے والوں نے ان کی بہن کا خیال نہیں رکھا تو ان کے دوست صادق محمد خان کا کیا خیال رکھتے۔ نواب کے اختیارات اور اندرونی خود مختاری آہستہ آہستہ کم کی جاتی رہی اور بالآخر انہیں بے دخل کردیا۔ حالانکہ سوات ، دیر اور چترال پر 28 جولائی 1969 تک ان کے سابق حکمران برقرار رہے۔ وجہ یہ بھی تھی کہ سوات کے والی کی طاقتور ترین شخصیت ایوب خان سے رشتہ داری ہوگئی تھی۔

سوات کو اب تک ٹیکسوں کی چھوٹ حاصل ہے۔ وہاں آپ کو کروڑوں کی گاڑیاں بلا ٹیکس چلتی نظر آتی ہیں۔انڈسٹری کو بھی ٹیکسوں کی چھوٹ ہے۔ جس سے فائدہ اٹھانے کے لیے کراچی کے صنعت کاروں نے بھی وہاں کارخانے لگائے۔ بہت سی چیزوں پر آپ نے’’میڈ ان سوات‘‘ پڑھا ہوگا۔ اس کے مقابلے میں بہاول پور کو کچھ نہیں ملا۔۔

مشرقی پاکستان کی آبادی، مغربی پاکستان کے صوبوں اور ریاستوں سے زیادہ تھی ، ظاہر ہے کہ اسمبلی میں اس کی نشستیں بھی زیادہ ہونی چاہئیں تھیں۔۔ لیکن مغربی پاکستان کے مقتدر جاگیر طبقے کو یہ قبول نہیں تھا،۔کیونکہ مشرقی پاکستان میں جاگیرداری تھی ہی نہیں ۔ اس لیے انہوں نے یہاں بھی ختم کر دینا تھی۔۔ اس لیےمشرقی حصے کی اکژیت کا خاتمہ کرنے کے لیے parity (مساوات ) کے معصومانہ نام سے سازش کی گئی کہ مغربی حصے کےصوبوں اور ریاستوں کو اکٹھا کرکے ون یونٹ بنایا جائے اور مشرقی اور مغربی دونوں حصوں کی اسمبلی میں برابر نشستیں ہوں۔

14 اکتوبر 1955 کو ون یونٹ قائم ہوا اور بہاولپور بھی مغربی پاکستان کے نئے صوبے میں ضم کر دیا گیا۔ بہاولپور کے لوگوں کو شکایت ہے کہ یکم جولائی 1970 کو جب ون یونٹ ختم کیا گیا تو بہاولپور کی ون یونٹ سے پہلے کی علیحدہ حیثیت بحال کرنے کی بجائے اسے پنجاب میں ضم کردیا گیا۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *