شاہی بازار گوادر کی پرانی عمارتیں۔۔سلیمان ہاشم

یہ بات درست ہے کہ پرانی عمارتوں کو جدید بنانے کی ضرورت ضرور ہے تاکہ وہ کھنڈرات میں تبدیل نہ ہوں لیکن ان کی اصل بناوٹ کو تبدیل نہ کیا جائے۔

پرانی عمارتوں کی آرائش ایک ایسا مسئلہ ہے جو ہر بڑے شہر میں رہنے والے بیشتر لوگوں کو درپیش ہے۔ بہت سی پُرانی عمارتیں سلطنت آف عمان اور برطانوی دور کی ہیں اور ایک خاص طرزِ تعمیر پر مبنی ہیں اسی لیے بہت مقبول بھی ہیں۔ یہ عمارتیں پرانے طرزِ تعمیر کی عکاس ہیں اور اس دور کی یاد دلاتی ہیں۔ اس کے علاوہ ان عمارتوں کی ایک خاص تاریخی اہمیت بھی ہے۔ تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی، لوگوں کی ایک کثیر تعداد میں نقل مکانی اور شہروں کی ترقی کی وجہ سے نئی عمارتیں پرانی عمارتوں کی جگہ لیتی جا رہی ہیں۔

تاہم ابھی بھی پرانی عمارتوں کی اہمیت اپنی جگہ قائم ہے اور یہ لوگوں میں خاصی مقبول بھی ہیں۔ اگر ہم ان کے طرزِتعمیر کا جائزہ لیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ یہ سادہ تھیں اور کام کرنے والے طبقے کی سہولت کو مدِنظر رکھ کر بنائی گئی تھیں۔ زیادہ تر شیشم کی خوبصورت نقش و نگار والی لکڑی استعمال کی گئی ہے۔

ایک اور بات جو پتہ چلتی ہے وہ یہ ہے کہ ان سب کا ڈیزائن ایک مخصوص طرزِ تعمیر سے ہے۔ دیواریں چکنی مٹی سے بنائی گئیں جو موٹی ہوا کرتی تھیں۔ چوں کہ جدید دور کے تقاضے مختلف ہیں اس لیے ان کو آج کل کے زمانے کے حساب سے بنانا ضروری ہے۔ تاہم ہماری خواہش ہے کہ ان خوبصورت عمارتوں کی ازسرِنو آرائش اس انداز میں کی جائے کہ ان کی خوبصورتی اور کشش عمارت کو نئےانداز سے بنانے میں مشکل پیدا نہ کرے۔

یہ کمرے پرانے زمانے میں بیڈ روم ہوا کرتے تھے۔ یہ کئی سال پہلے تعمیر ہوئےتھے لیکن ان کا اندازِ تعمیر ان کے شاندار محراب نما ڈیزائن سے ہوا کرتا ہے۔ ان کو ہوا دار بنانے کے لیے ان میں بڑی اور خوبصورت کھڑکیاں بنائی جاتی تھیں۔ کھڑکیوں پر گہرے سرمئی اور گلابی رنگ کے پردے لگائے جاتے تھے۔ ان کمروں میں سب سے گہرے، طاقتور اور خوبصورت رنگ بہت گرمجوش اور خوشگوار تاثرات دے رہے ہوتے ہیں۔

ایک اور چیز جو اس کمرے میں کی جاتی تھی کہ پرانے زمانے کے انداز کی بنی اس چھت سے فائدہ اٹھایا جاتا تھا، گرمیوں میں لکڑی کی خوبصورت سیڑھیوں سے چڑھ کر چھت پر جاتے تھے، وہیں شام کی چائے پیتے تھے اور سمندر کا نظارہ بھی کیا جاتا تھا اور شبنمی راتوں کو چھت پر سوتے تو آسمان پر چاند اور تاروں کی روشنی اور ٹھنڈی ہوا سے لطف اندوز ہوتے تھے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ گوادر کے شاہی بازار کی ان قدیم اور شاندار عمارتوں کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔

حال حوال
حال حوال
یہ تحریر بشکریہ حال حوال شائع کی جا رہی ہے۔ "مکالمہ" اور "حال حوال" ایک دوسرے پر شائع ہونے والی اچھی تحاریر اپنے قارئین کیلیے مشترکہ شائع کریں گے تاکہ بلوچستان کے دوستوں کے مسائل، خیالات اور فکر سے باقی قوموں کو بھی آگاہی ہو۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *