جائیں تو کدھر جائیں۔۔محمد اسلم خان

ملک میں اس وقت افواہوں کا سیزن عروج پہ ے۔ حکومت کو گھر بھیجنے والے آس لگائے بیٹھے ہیں۔ روز ایک نئے جذبے اور ولولے کے ساتھ نئی امنگیں سجائے حکومت کو گھر بھیجنے کی خواہش لیے بیدار ہوتے ہیں لیکن رات کو چھوڑا ہوا منظر نامہ صبح ہوتے ہی تبدیل ہو چکا ہوتا ہے۔

آج کل کچھ ایسی ہی صورتحال ہے۔ معاملہ ففٹی ففٹی پہ ہے۔ اپوزیشن کو لگتا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ اور حکومت کے مابین رسہ کشی جاری ہے اور ماضی کی طرح اسی رسہ کشی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے   شب خون  مار لیں گے۔
جبکہ حکومت کو لگتا ہے کہ وہ تمام معاملات کو سیٹل ڈاؤن کرنے کی بہترین پوزیشن میں ہیں لیکن ترازو روزانہ ہچکولے کھاتا ہے کبھی ادھر کبھی اْدھر۔۔

میاں شہباز شریف صاحب کی مصالحتی سیاست نے بھی اپنا رنگ دکھانا شروع کر دیا ہے۔ اسٹیبلشمنٹ سے قربت پیدا ہو رہی ہے ورنہ نیب کے ہاتھوں گرفتاری کے دن اعلیٰ  شخصیت انہیں فون کر کے ان کا حال احوال نہ پوچھتی۔۔۔ وہ فون کال دراصل ایک خیر سگالی کا پیغام تھی۔

میاں شہباز شریف صاحب کی بدقسمتی یہ ہے کہ ن لیگ کی اندرونی رسہ کشی انہیں ڈبو رہی ہے۔ورنہ وہ کب کے کامیاب ہو چکے ہوتے۔ اس بار وہ اپنوں کے ہاتھوں شکست کھا رہے ہیں۔
سارا جھگڑا لیڈر شپ کا ہے ۔ مریم صاحبہ جارحانہ پوزیشن اختیار کرنا چاہتی ھے جبکہ شہباز شریف صاحب یہ بات اچھی طرح جانتے ہیں کہ ن لیگ  پرو اسٹیبلشمنٹ پارٹی   ہے اور اس کے بغیر ان کا کوئی مستقبل نہیں۔ مریم بی بی کی جارہانہ پالیسی میاں شہباز شریف کی ناکامی کا سبب بنتی جارہی ہے ورنہ وہ اب تک ناؤ کو کسی کنارے لگا چکے ہوتے۔

چلیں حکومت کی تبدیلی نہ سہی۔۔ کم از کم   این آر او   لے کے ایک فرینڈلی اپوزیشن کا کردار ادا کر رہے ہوتے۔
اوپر سے میاں نوازشریف صاحب نے ملک سے جانے کے بعد ایگریمنٹ کی خلاف ورزی کی۔ جاتے ہی امریکن فرموں کو لابنگ کیلئے ہائیر کیا اور سیاست شروع کر دی جبکہ انہوں نے خاموش رہنے کا وعدہ کیا تھا۔ یہ بات بھی ارباب اختیار کو ناگوار گزری ورنہ اب تک مریم صاحبہ بھی وطن سے دور ڈیرے لگا چکی ہوتیں۔ میاں صاحب کی معاہدے توڑنے کی ایک روایت ہے اور اس بار بھی انہوں نے اپنی روایت برقرار رکھی اور اسی وجہ سے ن لیگ بکھری بکھری سی پریشان نظر آتی ہے۔انہیں سمجھ ہی نہیں آرہی کہ اپنا وزن  ” ووٹ کو عزت دو ” والے پلڑے میں ڈالیں یا شہباز شریف کی مصالتی پالیسی کو اپناتے ہوئے آنکھیں بند کر کے وقت کا انتظار کریں ۔ یہی وجہ ہے کہ ن لیگ پوری طاقت رکھنے کے باوجود بھی بالکل ناتواں اور خمیدہ کمر نظر آتی ہے۔۔۔۔الیکڈ لوگوں کی سمجھ میں نہیں آرہا کہ ” جائیں تو کدھر جائیں “۔

عمران خان کی طرف دیکھا جائے تو وہ اس وقت ن لیگ کے اندرونی انتشار کا بھرپور فائدہ اٹھا رہا ہے۔شاید اسے اندازہ ہو گیا ہے کہ انکی آپسی لڑائیاں ختم ہونے والی نہیں ہیں اسی لئے تو اس نے یہ نعرہ لگایا کہ اب کوئی اور  چوائس   نہیں۔

اس بات کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے وہ اکثریت نہ ہونے کے باوجود بھی حکومت کر رہا ہے ورنہ یہ ممکن ہی نہیں تھا کہ 160 سیٹیں رکھنے والا شخص اتنے پراعتماد اور پرفیکٹ باڈی لینگویج کے ساتھ سینہ تان کے ڈنکے کی چوٹ پہ حکومت کرے ۔

عمران خان سمجھ گیا ہے کہ ن لیگ کی ناکامی ہی عمران خان کی کامیابی ہے اور ناکامی کا یہ اونٹ ن لیگ کے گلے کا ہار بنتا جا رہا ہے ۔ میاں شہباز شریف صاحب پارٹی کو اپنی ملکیت سمجھتے ہیں اور اس میں وہ حق بجانب بھی ہیں جبکہ مریم صاحبہ کسی بھی قیمت پہ پرائم منسٹر بننا چاہتی ہیں چاہے اس کیلئے کوئی بھی قربانی دینی پڑے ۔وہ پرائم منسٹر شپ کیلئے میاں نواز شریف صاحب کی قربانی دینے کو بھی تیار ہیں لیکن ان کے باغیانہ رویے کی وجہ سے اسٹیبلشمنٹ کےلیے وہ کسی صورت قابل قبول نہیں اور ایسا ممکن بھی نہیں کہ   پرو اسٹیبلشمنٹ پارٹی   اچانک اپنے ماضی کی روش ترک کر کے اپنے پیروں پہ کھڑے ہونے کی کوشش کرے اس لیئے لگتا یہی ہے کہ تینوں فریق اپنے موقف پہ ڈٹے رہیں گے اور حکومت اسی طرح چلتی رہے گی ۔

عمران خان اچھا شکاری بھی رہا ہے۔ پرندوں کی نفسیات جانتا ہے ۔ اس وقت پرندے اڑان بھر کے طوفانی ہواؤں میں گھونسلوں کی تلاش میں مارے مارے پھر رہے ہیں لیکن کوئی گھونسلہ مل نہیں رہا ہے۔ وہ پرندوں کو تھکا رہا ہے کہ ذرا ہوا تھم جائے تو خود ھی گھونسلے میں لوٹ آئیں گے۔

اس وقت ن لیگ اور پی ٹی آئی دونوں کے ممبران میں فرسٹریشن پیدا ہو رہی ہے کیونکہ وقت کم ہے  ،فاصلہ زیادہ ہے اور اوپر سے عادتیں بھی بگڑی ہوئی ہیں۔ مستقبل کے لالے پڑے ہوئے ہیں۔ واپس جا کر اپنے ووٹرز کا بھی سامنا کرنا ہے۔۔۔ عمران خان پلیئر پرسن ہے لوگوں کے اعصاب سے کھیلنے کے گْر جانتا ہے۔اسے پتہ ہے کہ تھک ہار کے واپس اپنے گھونسلے میں ہی آئیں گے۔

ویسے تو یہ حقیقت ہے کہ عمران خان کی  ” تبدیلی ” دم توڑ رہی  ہے لیکن جاتے جاتے یہ بیانیہ کچھ اور تبدیل کر سکے یا نہ کر سکے کم از کم اس نے بکنے والے   گھوڑوں   کو اصطبل میں بند کر دیا ہے اب خریدار  نسلی ہسٹری   جاننے کے باوجود بھی خریدنے میں ہچکچاہٹ کا شکار ہیں کہ پتہ نہیں یہ ریس میں کام آئے گا یا نہیں۔ گھوڑے بھی فرسٹریشن کا شکار ہیں کہ کبھی تو ہیلی کاپٹر اشارہ ابرو کے منتظر رھتے تھے اور اب کوئی پرسان حال ھی نہیں۔

اگلے 5 ماہ بہت اہم ہیں ۔فیصلہ کن راؤنڈ شروع ہے ۔ اگر ن لیگ کی اندرونی چپقلش ختم نہ ہوئی تو پرندے واپس اپنے گھونسلوں میں پناہ لینے کی کوشش کریں گے اور کچھ اڑان بھی بھریں گے ۔جس سے حکومت اور مضبوط ہو گی۔۔۔

معیشت کی تباھی, ملکی اداروں کی تباہی کے باوجود عمران خان کی طلسماتی شخصیت کا حصار ابھی باقی ہے اور یہ بات بھی سچ ہے کہ ملکی معیشت کی حالت اتنی بری بھی نہیں کہ موجودہ حکومت کو ناکام قرار دیا جائے۔
انٹرنیشنل آرگنائزیشنز کے مطابق پاکستانی معیشت کو پچھلے سالوں کی نسبت حوصلہ افزا قرار دیا گیا ہے۔

یہ الگ بات ھے کہ اگر پاکستانی میڈیا کی بات پہ دھیان جائے تو ملک اس وقت * بینانا ریپبلک * نظر آتا ہے جبکہ حقیقت کچھ اور ہے ۔ ملکی ادارے کام کر رھے ہیں۔ انفراسٹرکچر بہتر ہو رہا ہے۔ خسارے کم ہو رہے ہیں۔ دن بدن حالات بہتری کی جانب گامزن ہیں۔ کورونا کی وجہ سے حالات میں بگاڑ پیدا ہوا لیکن اب معیشت سنبھل رہی ہے مہنگائی کا طوفان تھمتا جارہا ہے۔ سٹاک مارکیٹ دن بدن بہتری کی جانب گامزن ہے۔ملکی زرمبادلہ کے ذخائر ساڑھے چار ارب ڈالر سے 13۔70 ارب ڈالر پہ پہنچ گئے ہیں۔ ایکسپورٹ پچھلی حکومتوں کی نسبت بہتر ہو رھی ہیں۔ امید ھے کہ اگلے 6 ماہ میں اچھے نتائج آنا شروع ہو جائیں گے۔

بکھری ہوئی اخلاقی طور پہ کمزور اپوزیشن اور موجودہ ملکی حالات کو دیکھ کے یوں لگتا ہے کہ حکومت اپنی مدت پوری کرے گی اور ملکی حالات آئندہ دو سالوں میں تیزی سے بدلنا شروع ہو جائیں گے۔ البتہ صوبائی سطح پہ ممکن ھے کہ ان ہاؤس تبدیلی آجائے۔ اس کا فیصلہ آنے والے تین ماہ کریں گے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *