حقائق سے کُشتی۔۔وہاراامباکر

یہ ایک حقیقت ہے کہ حقیقت سے اختلاف سے رکھنا زیادہ مشکل نہیں۔ اس سے انکار کے گُر۔
فلاں شے پر اختلاف ہے؟ چلو جی، کام بن گیا
اس کے لئے پہلے سائنس کی ایک چیز کو سمجھنا پڑے گا۔ جب سائنس ترقی کرتی ہے تو ہم باریک سے باریک تر تفصیلات میں جاتے ہیں کہ نیچر کام کیسے کرتی ہے۔ مثلاً، ہمیں زمانہ قدیم سے یہ تو پتا ہے کہ بچے والدین سے خاصیتیں وراثت میں لیتے ہیں۔ کیسے؟ اس کا معلوم نہیں تھا۔

مینڈیل نے جین دریافت کی لیکن یہ معلوم نہیں تھا کہ یہ انفارمیشن کہاں پر ہوتی ہے۔ کچھ سائنسدانوں کا خیال تھا کہ یہ کوئی پروٹین ہے لیکن بعد میں پتا لگا کہ یہ ڈی این اے کا مالیکیول ہے۔

ڈی این اے وراثت کی انفارمیشن رکھتا ہے، اب یہ بہت اچھی طرح معلوم ہو چکا ہے۔ ہم نے جینیاتی کوڈ معلوم کر لیا۔ یہ کوڈ کیسے پروٹین میں تبدیل ہوتا ہے اور ڈی این اے کے فنکشن کی ریگولیشن کیسے ہوتی ہے۔ لیکن ابھی اس کے بارے میں بہت کچھ جاننا باقی ہے۔

لیکن اہم نکتہ یہ ہے کہ ہمیں مزید گہرائی میں جو بھی معلوم ہو جائے، یہ بنیادی نکتہ تبدیل نہیں ہو گا کہ ڈی این اے وراثت کا پرائمری مالیکیول ہے۔ جین ریگولیشن کے مباحث ہوں یا جینیاتی کوڈ کے ارتقا کی تفصیلات پر اختلافات، وہ سب اپنی جگہ لیکن بنیادی فیکٹ تبدیل نہیں ہو گا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اتفاق کا انکار
تقریباً تمام سائنسدان متفق ہیں کہ زمین کا درجہ حرارت بلند ہو رہا ہے اور اس میں انسانی سرگرمیوں کا ہاتھ ہے۔ تقریباً تمام سائنسدان متفق ہیں کہ بائیوٹیکنالوجی سے جینیاتی طور پر تبدیل شدہ اجناس محفوظ ہیں۔

انکار کرنے والوں کا یہاں پر دو طرح کا حربہ ہوتا ہے۔ یا تو سائنسی اتفاق سے انکار کر دینا یا کہنا کہ اتفاق سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نیت ٹھیک نہیں
اس حربے میں سائنسدانوں کی نیت کے بارے میں شک کا اظہار کیا جاتا ہے۔ یہ غیرجانبدار نہیں، یہ کرپٹ ہیں۔

ظاہر ہے کہ سائنس انسان ہی کرتے ہیں اور اس میں تعصب اور کرپشن بھی ہوتی ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ جو آپ کو پسند نہیں، اس کو کرپشن کہہ کر ایک طرف کر دیں۔ البتہ، انکار کرنے والے بالکل ایسا ہی کرتے ہیں۔

“تمام دنیا کے سائنسدان اپنے فنڈ لینے کے چکر میں گلوبل وارمنگ کا ہوا کھڑا کر رہے ہیں”۔ اس استدلال کی مثال ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نتیجے سے دلیل
گلوبل وارمنگ کے دعووں کا مطلب یہ نکلے گا کہ حکومت کی اداروں پر ریگولیشن بڑھ جائے گی۔ اکانومی کا کیا ہو گا؟ لہذا یہ غلط ہے۔
ارتقا سے مجھے لگتا ہے کہ اخلاقیات متاثر ہوں گی۔ معاشرے کا کیا ہو گا؟ لہذا اس کی دھجیاں اڑا دینا ضروری ہے۔ یہ غلط ہے۔

یہاں پر سائنس ثانوی ہے۔ انکار کا مقصد کچھ اور ہے۔ اور یہاں پر دو غلطیاں ہیں۔ اول تو نتیجے سے خوف کسی چیز کو غلط کہنے کی دلیل نہیں۔ دوسرا اکانومی اور اخلاقیات کی خرابی کا دعویٰ خود ہی غلط ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگر نتیجے سے دلیل کی وجہ سے انکار ا طریقہ آپ استعمال کرتے ہیں تو ذرا کان قریب لے آئیں، آپ کو چپکے سے ایک بات کہنی ہے۔ آپ حکمتِ عملی بڑی کمزور ہے۔ اگر آپ کسی بھی معاملے میں اپنی اخلاقی یا ایتھیکل پوزیشن کی پرواہ کرتے ہیں اور اس کی وکالت کرنا چاہتے ہیں تو جو بدترین حکمتِ عملی آپ اپنا سکتے ہیں، وہ یہ کہ اپنی پوزیشن کو غلط سائنس کے ساتھ باندھ لیں۔ ایسا کرنے کا مطلب یہ ہے کہ آپ کی پوزیشن کو غلط ثابت کرنا بہت آسان ہو گیا۔ آپ کے مخالف آپ کی اخلاقی پوزیشن کو غلط ثابت کرنے کے لئے آپ کی سوڈوسائنس پر حملہ کریں گے۔ اور پھر، اگر آپ کی سائنس غلط ہے تو آپ کی اخلاقی پوزیشن بھی غلط ہے۔ اس سے کہیں بہتر حکمتِ عملی یہ ہے کہ سائنس کو تسلیم کر لیں اور اخلاقی پوزیشن کی وکالت اخلاقی میدان میں کریں۔ اسی طرح اگر آپ آزاد مارکیٹ کے حق میں ہیں۔ گلوبل وارمنگ کا انکار مت کریں، اس کے لئے فری مارکیٹ کے حل پیش کریں۔ (نہ ہی یہ اتنا مشکل ہے اور کیا مضبوط پوزیشن سے دلائل زیادہ موثر نہیں ہوں گے؟)۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حقیقت پسندی جرات کا تقاضا کرتی ہے۔ حقیقت کا سامنا کرنے کی جرات اور نتائج تسلیم کرنے کی جرات، خواہ ہمیں پسند آئیں یا نہیں۔ انکار پسندی ایسا کرنے میں ناکامی ہے۔ اور اس پر تنقید لوگوں پر نہیں، رویے پر تنقید ہے۔ اور ایسا کوئی بھی رویہ سب سے زیادہ ہمیں خود میں دیکھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *