سعودی عرب میں نئے قائم ہونے والے عجائب گھر۔۔ندیم منصور

سعودی محکمہ سیاحت و قومی ورثے کے مطابق سعودی وژن 2030 کے تصور کی تکمیل کے لئے جو منصوبے سیاحت اور ثقافت کے حوالے سے بنائے گئے ہیں ان میں کئی تاریخی اور بڑے شہروں میں عجائب گھر کے قیام کے منصوبے بھی شامل ہیں، جن میں دنیا کا سب سے بڑا عجائب گھر مکہ المکرمہ میں ” الحرمین عجائب گھر” اور مدینہ منورہ کا “بصری عجائب خانہ” کے علاوہ عسیر، حائل، تبوک اور الجوف کے تاریخی مقامات پر بھی نئے عجائب گھر قائم کردیے گئے ہیں جن کا افتتاح جلد ہوگا۔ صرف عسیر، حائل، تبوک اور الجوف کے زیر تکمیل عجائب گھروں پر 22.4 کروڑ ریال لاگت آئی ہے۔

یہ تمام نئے عجائب گھر ایک طرف تو داخلی اور غیر ملکیوں کے لیے سیاحت کے فروغ میں مدد گار ثابت ہوں گے۔ دوسری جانب سعودی شہریوں، مقیم غیر ملکیوں اور سیاحوں کو حج کے تاریخی مقامات ، مدینہ شہر اور ریاست مدینہ کا تاریخی تصور اس کے علاوہ عسیر، حائل، تبوک اور الجوف شہروں کی قدیم تاریخ کو مجسم شکل میں دیکھنے کا موقع ملے گا۔

مکہ المکرمہ کا الحرمین عجائب گھر :

دنیا کے سب سے بڑے الحرمین عجائب گھر میں نوادر جمع کرنے کیلئے سعودی محکمہ آثار قدیمہ نے 40 کمیٹیاں تشکیل دی ہیں۔ یہ عجائب گھر نہ صرف یہ کہ اسلامی طرز تعمیر کا نمائندہ ہوگا بلکہ یہ سعودی عرب سب کے مقامی میں اور بیرونی دنیا کو اسلامی دنیا سے تعلق رکھنے والے نوادرات کا انتخاب منفرد طریقے سے پیش کرے گا۔ اس مقصد کیلئے 40کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں جو ماہرین آثار قدیمہ پر مشتمل ہیں۔ یہ ایسی سلطنتوں اور تمدنوں کے نوادر جمع کرنے پر مامورہیں جن میں سے بعض کی تاریخ 30ہزار قبل مسیح پرانی ہے۔ عجائب گھر شائقین کو دنیا کے آغاز سے لیکر اب تک ہونے والی تبدیلیوں سے عصر بہ عصر متعارف کروائے گا۔ سعودی وژن 2030کے مطابق اسلامی عجائب گھر عالمی معیار کا ہوگا۔ نوادر جمع کرنے ان کی حفاظت ، ترتیب اور پیشکش میں جدید ترین وسائل سے فائدہ اٹھایا جائیگا۔ عجائب گھر کے تشکیلی عناصر عہد بہ عہد متعلقہ ماحول سے مطابقت رکھتے ہونگے۔ الحرمین عجائب گھر کو اس لیے بھی منفرد کہا جا سکتا ہے ہے کہ اسے اصولی طور پر کسی بھی غیر ممالک میں آج کے کے میوزیم یا عجائب گھروں سے بالکل الگ طرز پر مقامی شکل میں پیش کیا جائے گا یعنی عالمی عجائب گھروں سے نوادرات خریدنے کا کوئی بھی منصوبہ نہیں۔ بلکہ سعودی عرب کے مقامی مختلف علاقوں کے بنی نوع انسان کی تاریخ کے محور سے متعلقہ نوادرات رکھی جائیں گی ۔

مدینہ کا بصری عجائب خانہ:

سعودی حکام نے مدینہ منورہ میں پہلا بصری عجائب گھر قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ اپنی نوعیت کا پہلا تجربہ ہوگا جس کی تیاریاں جاری ہیں کیونکہ سعودی عرب آنے والوں کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ اسلامی تاریخ کی پہلی ریاست ’مدینہ منورہ‘ کے خدوخال سے آگاہی حاصل کریں۔ مدینہ منورہ کے اس پہلے بصری عجائب گھر میں سیرت طیبہ اور مسجد نبوی کی کہانی نئے انداز سے پیش کی جائے گی۔ اس کا عنوان ’شنیدہ کے بود مانند دیدہ‘ (سنا ہوا دیکھے ہوئے کی مانند کیسے ہوسکتا ہے) ہو گا۔

منصوبے کے مطابق عجائب گھر کا افتتاح 2020 کے شروع میں متوقع تھا مگر کرونا کے باعث تاخیر کاسبب بن گیا ہے ۔ منصوبے کے مطابق اس میں ابتدا میں سیرت طیبہ کے واقعات پر مشتمل آٹھ فلمیں پیش کی جانی ہیں۔ بصری عجائب گھر اپنی نوعیت کا پہلا عجائب گھر ہوگا۔ جہاں سینما سکرین کے ذریعے تھری ڈی ٹیکنالوجی اور ڈی ایٹ ساؤنڈ ٹیکنالوجی کی مدد سے آٹھ زبانوں میں سیرت طیبہ کے مناظر زائرین کو دکھائے جائیں گے۔
’اس بات کا خیال رکھا جائے گا کہ مسلم دنیا میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والی زبانوں کا انتخاب کیا جائے۔
بصری عجائب گھر میں ’مقام کا قصہ‘ خاص انداز میں پیش کیا جائے گا۔ سیرت طیبہ کے ماہرین کی مدد سے اس کے مضامین کا انتخاب ہوگا۔ نظر ثانی سیرت طیبہ کے سکالرز کے ذریعے کرائی جائے گی۔
اسکالرز کی کوشش ہے کہ عجائب گھر میں پیش کی جانے والی تاریخ بے حد مستند ہو اور کسی بھی طرح کے اختلاف سے بالا تر ہو مضامین ایسے ہوں جن سے زائرین فیض یاب ہوسکیں۔‘
عجائب گھر مسجد نبوی شریف کے قریب قائم کیا جائے گا تاکہ زائرین پیدل آئیں اور واپس جا سکیں۔ ’ابتدائی منصوبے کے مطابق عربی، انگریزی، فرانسیسی، ترکی، ہندی، اردو، ملیشیائی اور انڈونیشی زبانوں میں تمام مضامین پیش کیے جائیں گے۔‘

‘بصری عجائب گھر عمرہ، حج اور مسجد نبوی شریف کی زیارت کے لیے آنے والوں کے ساتھ سعودی شہریوں اور مقیم غیر ملکیوں کے بھی ہوگا۔‘اس میں سیرت طیبہ کے موضوعات کا اسلوب پرکشش ہو گا۔ زائرین کو احساس ہوگا کہ مدینہ منورہ میں حیات طیبہ کا یہی انداز رہا ہو گا۔زائرین اسلام کے ابتدائی دور کی تاریخ اور مدینہ منورہ میں پیش آنے والے واقعات کا مشاہدہ کرسکیں گے۔

الجوف کا عجائب گھر:

یہ 12 ہزار مربع میٹر کے رقبے پر قائم کیا گیا ہے۔ اس کی تعمیر اور ڈیزائن کے اخراجات چھ کروڑ 13 لاکھ 43 ہزار 595 ریال آئے ہیں۔ عجائب گھر دومتہ الجندل میں منفرد اسٹراٹیجک مقام پربنایا گیا ہے۔
یہ اہم تاریخی علاقے میں ہے جہاں قلعہ مارد اور مسجد عمر واقع ہیں۔ اس کے برابر میں النویصر عجائب گھر ہے۔ الجوف کے کئی قابل دید مقامات نظر آتے ہیں۔

عسیر کا عجائب گھر :

یہ سات ہزار مربع میٹر سے زیادہ کے رقبے پر ابہا شہر کے سینٹر میں قائم کیا گیا ہے۔ اسکے برابر میں عسیر گورنر ہاؤس اور شہر کے کئی اہم قابل دید مقامات واقع ہیں۔ اس پر تین کروڑ 12 لاکھ 28 ہزار 503 ریال لاگت آئی ہے۔

حائل کا عجائب گھر :

یہ 11 ہزارمربع میٹر کے رقبے پر چھ کروڑ 66 لاکھ 13 ہزار 906 ریال میں تعمیر کیا گیا ہے۔ عجائب گھر کا محل وقوع بڑا منفرد ہے۔ اس کے برابر میں امیر سلطان کلچرل سینٹر قائم ہے۔

تبوک کا عجائب گھر :

یہ 12 ہزار آٹھ سو 54 مربع میٹر کے رقبے پر قائم کیا گیا ہے۔ اس پر چھ کروڑ 56 لاکھ 73 ہزار 806 ریال لاگت آئی ہے۔ عجائب گھر تبوک شہر کے سینٹر میں تاریخی ریلوے سٹیشن کی جگہ قائم کیا گیا ہے۔

سعودی عرب کے محکمہ سیاحت کے مطابق عسیر، حائل، تبوک اور الجوف کے چاروں نئے عجائب گھروں کو ایک ہی منصوبے کے ساتھ بنایا جارہا ہے اور اس سے ایک ہزار سے زیادہ لوگوں کو روزگار ملے گا۔ محکمہ سیاحت کے حوالے سے مزید بتایا گیا کہ ہرعجائب گھر میں آٹھ ہال بنائے گئے ہیں۔ پہلا استقبالیہ ہال ہے۔ دوسرا آثار قدیمہ اور متعلقہ علاقے کے تاریخی ورثے، نوادر اور اس کی طبعی تاریخ پر مشتمل ہے۔ تیسرا ہال ماقبل تاریخ کے دور سے تعلق رکھتا ہے۔ چوتھا ہال اسلام سے پہلے کے دور کی تاریخ کا آئینہ دار ہے۔ پانچواں ہال اسلام کی آمد کے بعد خطے کی تاریخ کا عکاس ہے۔ چھٹا ہال جدید دور کی بابت ہے۔ ساتواں ہال عوامی ورثے کے لیے مخصوص کیا گیا ہے۔ آٹھواں ہال مختلف عجائب گھروں کے نوادر پیش کرنے کے لیے مقرر کیاگیا ہے۔

دمام کا پہلا زیر آب عجائب گھر :

سعودی عرب میں پہلا زیر آب عجائب گھر ضلع شرقی کے دارالحکومت دمام میں ہاف مون ساحل پر بنایا گیا ہے جو بلاشبہ سعودی غوطہ خوروں نے اپنی نوعیت کا منفرد کارنامہ انجام دیا ہے ۔

سعودی غوطہ خور لڑکے اور لڑکیوں نے خلیجی ممالک کے قابل دید مقامات سمندر کی تہہ میں اتر کر تیار کئے ہیں ان میں خلیفہ ٹاور ، کنگ ٹاور اور کویت ٹاورز قابل ذکر ہیں ۔ یہ زیر آب عجائب گھر بیحد پر کشش اور نوادرات پر مشتمل ہے ۔اس کی بدولت ہاف مون ساحل جسے عربی میں شاطیٔ نصف القمر کہتے ہیں۔ سیاحوں میں بیحد مقبول ہوگیا ہے ۔

مقامی شہری  اور غیرملکی کثیر تعداد میں یہ عجائب گھر دیکھنے کیلئے جا رہے ہیں ۔ یہ سعودی عرب کا پہلا زیر آب عجائب گھر ہے ۔سمندر کی تہہ میں ایک شہربسایا گیا ہے  جو  بہت سارے مجسموں پر مشتمل ہے ۔سمندر کی دنیا کو بھی اس میں سمو دیا گیا ہے ۔اس عجائب گھر کو دیکھنے کے لئے غوطہ خوری سیکھنا ضروری ہے ۔مقامی نوجوان لڑکے اور لڑکیاں اسے دیکھنے کیلئے غوطہ خوری سیکھنے لگے ہیں ۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *