• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • جنرل(ریٹائرڈ )راحیل شریف کو زمین کی الاٹمنٹ …مغالطہ اور اسکا تدارک

جنرل(ریٹائرڈ )راحیل شریف کو زمین کی الاٹمنٹ …مغالطہ اور اسکا تدارک

ہماری فیملی کے بہت سے لوگ آرمی ہیں بریگیڈیر کے رینک تک ہیں کچھ ریٹائرڈ آفیسرز بھی سو مجھے آرمی رولز کا کچھ کچھ علم ہے
میرے ایک قریبی عزیز صوبیدار میجر (آنریری لیفٹین) ریٹائرڈ ہوئے انہیں فورٹ عباس (بہاولنگر)میں ایک مربع زرعی زمین الاٹ ہوئی دوسری مراعات علیحدہ ہیں
جیسا کہ اہلِ علم جانتے ہیں صوبیدار میجر نان کمیشن پرموشنل رینک ہے سویلین پے سکیل کے مطابق16 واں اور آنریری لیفٹیننٹ 17 ویں سکیل کے برابر ہے
اور لیفٹنٹ جنرل کا رینک سول 22 ویں سکیل کے برابر ہے جو ہائیسٹ ترین سکیل ہے سوال یہ ہے کہ اگر آرمی میں16ویں سکیل کے آفیسرز کو ریٹائرمنٹ پہ ایک مربع زمین ملتی ہے تو لیفٹنٹ جنرل جو آرمی چیف بھی ہو اسے 4مربع زمین الاٹ ہونا حیران کن کیوں؟ صوبیدار میجر اور لیفٹنٹ جنرل کے عہدوں کا موازنہ کیا جائے ان میں زمین آسمان کا فرق ہے تو اسی طرح مراعات میں بھی یہی تناسب ہوگا
یہ مثال سہل انداز میں سمجھانے کے لئیے دی ہے
جنرل (ریٹائرڈ )راحیل شریف کو زمین کی الاٹمنٹ معمول کے مطابق ہے یہ آؤٹ آف وے نہیں ہوئی آرمی رولز اور پاکستان کی سروسز رولز کے مطابق ہوئی ہے آئین کے 148 شق ریٹائرمنٹ پہ سول و آرمی آفیسرز کو یہ حق دیتی ہے۔۔۔
آرمی آفیسرز کو ریٹائرمنٹ پہ دو طرح کی زمین کی الاٹمنٹس ہوتی ہیں
ایک زرعی اراضی جو بین الاقوامی سرحد سے آٹھ کلومیٹر میں ہوتی ہے وہ صرف زرعی مقاصد کے لئیے استعمال ہو سکتی ہے اسے کمرشل استعمال میں نہیں لایا جا سکتا حتیٰ کہ اس پہ رہائشی تعمیرات بھی نہیں ہو سکتیں کہ جنگ کے دوران مسائل پیدا نہ ہوں
دوسری قسم کی الاٹمنٹس غیر آباد علاقے میں ہوتیں ہیں جسے آباد کرنے اور قابلِ استعمال بنانے کے لئیے الاٹی کو خود اخراجات کرنے ہوتے ہیں
اسطرح جنرل راحیل شریف کو لاہور کے جس علاقے میں زمین الاٹ ہوئی وہ سرحدی ایریا میں ہے لہذا وہ کمرشل استعمال میں آ ہی نہیں سکتا اسطرح اسکی مارکیٹ ویلیو زرعی رقبے کے برابر ہوگی اب جو پروپیگنڈہ کیا جا رہا ہے کہ اس زمین کی مالیت ڈیڑھ ارب روپے ہے یہ کمرشل زمین کی ایسٹیمیٹڈ مالیت (کمرشل مارکیٹ ویلیو کو سامنے رکھ کے اندازہ لگایا گیا)ہے جب وہ زمین کمرشل ہو ہی نہیں سکتی تو یہ مالیت چہ معنی؟
اب آتے ہیں کہ صوبائی حکومت نے 2014 میں الاٹ کیوں کی جب راحیل شریف ریٹائرڈ نہیں ہوئے تھے
یہ بھی کوئی اچنبھے کی بات نہیں آرمی میں درجہ بدرجہ الاٹمنٹس ہوسکتی ہیں 2014 میں راحیل شریف لیفٹنٹ جنرل بن چکے تھے لہٰذا یہ انکا استحقاق تھا جو اسی وقت انہیں دے دیا گیا اس سے پہلے آرمی میں اس قسم کی الاٹمنٹس کی مثالیں موجود ہیں اس تمام معاملے میں کرپشن یا بے قاعدگی نہیں ہوئی یہ سب پروپیگنڈہ ہے
ہاں اس پہ بحث ہو سکتی ہے کہ فوجی افسران کو اس قسم کی مراعات دینا مناسب ہے یا نہیں اسکے لئیے پارلیمنٹ میں بحث ہو آئین میں ترمیم کی جائے.
یہ سلسلہ کب تک چلے گا اگر اسطرح اراضی تقسیم ہونے لگی تو ایک وقت آئے گا کہ ملک میں زرعی اراضی کی قلت ہو جائے گی سول اور آرمی سروسز رولز میں اس درجہ تفاوت کو ختم ہونا چاہئیے۔۔۔۔

گل ساج
گل ساج
محمد ساجد قلمی نام "گل ساج" مظفر گڑھ جنوبی پنجاب ۔۔۔۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *