ترنگ۔۔سلیم مرزا

میری یاداشت اتنی شاندار ہے کہ میں نہ صرف لوگوں کے نام ہی بھول جاتا ہوں بلکہ،چہرے بھی یاد نہیں رہتے ۔جس مفکر نے کہا تھا کہ ” انسان ہونے کیلئے نسیان کا ہونا اشد ضروری ہے “میں اس کانام بھی بھول گیا ہوں ۔

میرے بھولنے کی عادت کا اب یہ حال ہے  کہ کریانے والا ہر دوسرے دن بے عزت کرنے آجاتا ہے کہ آپ نے میرا بقایا نہیں دیا اور میں گھنٹوں بیٹھ کر سوچتا ہوں کہ میں نے بھی کسی سے کچھ لینا ہے ؟

اب کل مالک مکان کے ساتھ اعداد و شمار کے معمولی سے فرق پہ ایک گھنٹہ بحٹ ہوتی رہی۔ اس کے حساب سے میں نے آٹھ ماہ کا کرایہ نہیں دیا تھا اور میری یاداشت کہہ رہی تھی کہ سات ماہ کا بقایا ہے ۔ اچانک بیگم نے دروازے کی اوٹ سے واٹس اپ کیا کہ “آپ کون سا چھیاسی ہزار لئے کھڑے ہو ،جو حساب کے چکر میں پڑے ہو ۔؟پورا محلہ سن رہا ہے ۔اسے ہاتھ پیر جوڑ کے چلتا کریں ۔”
جلدی میں ہاتھ پیر جوڑ کی جگہ “توڑ”لکھا گیا تھا ۔

شکر ہے میری ذہانت نے بچا لیا ورنہ پانچ مرلے کے مکان مالک کے گھونسے سے میں دس مرلے دور سے ملتا ۔

آج گھر میں پکانے کو بھی کچھ نہیں ۔ذہن میں خیال آیا کہ قریبی پٹرول پمپ والے کے پاس جاکر کہتا ہوں کہ بھائی یہ جو تین سو ارب کا پٹرول کا ٹیکہ لگایا ہے ۔میرے حصے کے چودہ سو روپے مجھے دیدو ۔کیونکہ میرے پاس نہ تو موٹر سائیکل ہے اور نہ ہی کار ۔میں بیکار ہوں ۔

اچانک میری حب الوطنی جاگ اٹھی ۔ یاد آگیا کہ یہ پیسے کون سے حکومت گھر لے گئی ہوگی ۔خالی بجٹ میں دفاع کی ویکسینیشن کا خرچہ کہاں پورا ہوتا ہوگا؟۔
اس کیلئے اس ڈھیٹ قوم کو ایکسٹرا ٹیکے لگانے پڑتے ہیں ۔
مہنگائی اتنی ہے نہیں جتنی محسوس ہورہی ہے ۔
جیسے کرونا کا خوف زیادہ ہے ۔

بڑا بیٹا ریحان گھر میں ٹک کر نہیں بیٹھتا۔اسے سمجھایا ہے پتر میں تم سے بھی دلیر ہوں ، مجھے کرونا کے ہاتھوں مرنے سے ڈر نہیں لگتا ۔بس علاج معالجہ مہنگا ہے۔
جب بھی باہر جاؤ،ماسک پہنا کرو ،سینیٹائزر لگا کر جایا کرو ۔

اللہ کا شکر ہے اپنے ابن فاضل (سلیم صاحب ) کی فیکٹری سے لیٹر بھر سینیٹائزر مفت مل گیا تھا ۔میں نے کہا بھی کہ دو لیٹر الکحل دیدیں ۔میں گھر جاکر خود بنا لوں گا ۔
مانے ہی نہیں ۔کہنے لگے اسٹیبلشمنٹ جہاج گراؤنڈ کرنے کے چکر میں ہے ۔تمہیں اڑتا دیکھ لیا تو میرا لائسنس منسوخ ہوجائے گا ۔

ایک بات ہے ان حالات میں بیگم کی صلاحیتیں کھل کر سامنے آئی ہیں ۔قسمت پڑی جیسے چائے کے ساشے اور دودھ کے چھوٹے ڈبے سے چھ کپ چائے بنانے لگی ہیں ۔
چائے پینے کے بعد ترنگ میں آکر ڈبہ پھاڑنے کا الگ سواد ہے ۔
پیک دودھ کا  بھی اپنا ہی مزہ ہے ۔کھلے دودھ والے دودھی کو بتایا بھی تھا کہ سوا ارب ڈالر مدد ملی ہے ۔اسٹیٹ بینک سے کامونکی آنے میں دیر کتنی لگتی ہے ۔؟
اس کو گولڈ لیف کے پیکٹ سے کپتان کا سگریٹ بھی پلایا ۔اور سمجھایا کہ چاہے مجھ سے چیک لے لو ۔جیسے ہی میرے موبائل پہ بینک کا میسج آئے گا ۔تم کو بتا دوں گا ۔
گھٹیا آدمی چیک نہیں لیکر گیا ۔موبائل ہی لے گیا ۔

سوچ رہا ہوں اسے میسج کیسے آئے گا ۔؟
سم تو میرے پاس ہے ۔؟

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *