کراچی جہاز حادثہ،ساٹھ سیکنڈز۔۔بنتِ مہر

تکلیف کا وہ لمحہ جسے ہم اپنے خواب میں بھی جگہ نہیں دیں اگر وہی ایک لمحہ ہمیشہ کے لیے زندگی کا حصہ بن جائے تو کیسا لگتا ہے۔؟
گھڑی میں سوئیاں اسی رفتار سے دوڑتی رہتی ہیں مگر وقت وہیں تھم جاتا ہے۔
سائرہ آج بھی گھڑی پر نظریں لگائے اس ایک منٹ کا حساب جوڑ رہی ہے جو مکمل ہی نہیں ہوتا۔۔۔
ایک ایک سیکنڈ کا سفر طے کرنے والی سوئی ہر ساٹھ سیکنڈ کے بعد بھی اس ایک منٹ کو مکمل نہیں کرپاتی ،جو اب ہمیشہ کے لیے اس کی زندگی کا حصہ بن چکاہے۔
ان ساٹھ سیکنڈز کے حساب میں الجھی سائرہ کی سیاہ آنکھیں خاموشی میں ٹک ٹک کرتی سوئی کے تعاقب میں پھر اسی آواز سے ٹکرا جاتی ہیں ۔

ہاں بھئی مانتا ہوں۔۔۔ ہمیشہ دیر کردیتا ہوں میں۔
مگر اس بار ایسا نہیں ہوگا اس بار میں لیٹ نہیں ہونے والا۔۔

فون کے دوسری طرف اس کا چھوٹا بھائی رضا تھا جسے وہ اپنے کمرے کی دیوار پر لگی گھڑی میں دیکھتے ہوئے وقت پر آنے کی ہدایت جاری کررہی تھی۔۔۔ وہ پہلی بار اس کے سسرال آرہا تھا۔۔ اور وہ جانتی تھی کہ اسکا لاڈلہ بھائی کس قدر لاپروا ہے وہ ہمیشہ کی طرح آنے میں دیر کردے گا۔

“تم تو رہنے ہی دو۔۔۔ یہاں لوگ بہنوں کے سسرال میں وقت سے پہلے پہنچ جاتے ہیں اور تم وقت پر بھی آجاؤ تو بڑی بات ہے۔

“وقت سے پہلے؟۔۔ارے نہیں آپی،”
رضا نے اپنے مخصوص شرارتی انداز میں باتیں بنانا شروع کردیں ۔۔۔
“آپی، وقت سے پہلے آنا جان لیوا ہوسکتا ہے۔۔۔ اگر جلدی آگیا تو اس گرمی میں اپنے مسافر روزے دار بھائی سے جانے کتنے ہی کام کرواؤگی اور۔۔۔۔ ”

سائرہ بھی اس کی ہی بہن تھی درمیان سے ہی بات کاٹ کر رعب دار لہجے میں کہا

“لیکن اگر تم میرے گھر دیر سے آئے تو میں۔۔ تمہاری جان لے لوں گی۔

سائرہ کی آواز کا والیوم بڑھتے ہی رضا نے دھیمی آواز میں کہا

” میں تو ڈر ہی گیا۔۔۔ اب تو جلدی ہی آنا ہوگا۔

سائرہ اپنے چھوٹے بھائی کے شرارتی لہجے سے خوب واقف تھی۔
” اب زیادہ باتیں نہ بناؤ اور بتاؤ کتنا جلدی آؤگے۔؟

فون کے دوسری جانب سے کچھ توقف کے بعد جواب آیا
“پورے ساٹھ سیکنڈز پہلے۔۔

رضا کے اس جواب پر فون کے دونوں طرف مسکراہٹیں اب قہقہوں میں بدل گئی تھیں۔

” ساٹھ سیکنڈز۔۔۔ یعنی ایک منٹ۔۔ اتنی جلدی ی ی۔۔” سائرہ نے   ہر لفظ پر زور دیتے ہوئے کہا۔۔

“جی آپی پورے ایک منٹ پہلے آؤں گا۔۔۔” رضا سنجیدگی سے اپنی بات پر قائم تھا

“اتنی جلدی آکر کیا کروگے بھائی۔۔۔
آرام سے گھنٹہ ڈیڑھ گھنٹہ بعد آجانا ،اذان ہوجائے جماعت کھڑی  جائے، مغرب پڑھ کر آجانا”
رضا کی ان شرارتی مسکراہٹ بھری باتوں سے سائرہ کا موڈ بھی خوشگوار ہوچکا تھا

“ہاہاہا۔۔۔ نہیں آپی اب تو گھڑی بھی سیٹ کرلی ہے ٹھیک ایک منٹ پہلے پہنچنا ہے۔۔۔ ”

فضا میں موجود ان قہقہوں کی گونج ابھی ختم نہ ہوئی تھی کہ نیوز روم سے آتی ہوئی آواز کی لہروں نے سارے منظر کو آگ اور دھوئیں سے بھر دیا۔۔۔

“لاہور سے کراچی آنیوالا طیارہ لینڈنگ سے ٹھیک ایک منٹ پہلے گر کر تباہ ہوگیا۔۔

سوگ کے اس عالم میں چیخ و پکار سے دور اپنے کمرے میں خاموش بیٹھی سائرہ کی نظریں  کمرے کی دیوار سے لگی گھڑی میں ان ساٹھ سیکنڈز کو تلاش کرتے ہوئے رضا کے اس شرارتی جملے پر اٹک گئی تھی۔۔

آپی، وقت سے پہلے آنا جان لیوا ہوسکتا ہے۔

بنت الہدی
بنت الہدی
کراچی سے تعلق ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *